<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مئی میں پاکستان کا ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ انڈیکس 97.81 پر آ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273768/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی کرنسی کی حقیقی قدر کو ظاہر کرنے والا پیمانہ ”ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ“ (آر ای ای آر) مئی 2025 میں کم ہو کر 97.81 پر آ گیا، جبکہ اپریل 2025 میں نظر ثانی شدہ شرح 99.31 تھی۔ یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کے روز جاری کیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اگر آر ای ای آر کا انڈیکس 100 سے اوپر ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ملک کی برآمدات مہنگی اور غیرمسابقتی بن جاتی ہیں جبکہ درآمدات سستی ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، جب آر ای ای آر 100 سے نیچے ہو تو برآمدات مسابقتی اور درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق، مئی 2025 میں آر ای ای آر کی قدر میں ماہانہ بنیادوں پر 1.51 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ سالانہ بنیاد پر مئی 2024 کے مقابلے میں، جب یہ شرح 100.69 تھی، آر ای ای آر میں 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی ہے کہ آر ای ای آر انڈیکس کی قدر 100 ہونا اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ یہ کرنسی کی توازن والی  شرح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے اپنی وضاحتی نوٹ میں کہا کہ آر ای ای آر کی 100 سے اوپر یا نیچے کی  مومنٹ محض 2010 کی اوسط قدر سے موازنہ ظاہر کرتی ہے اور اس کا توازن کی حقیقی قدر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، نومینل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (این ای ای آر) انڈیکس بھی مئی 2025 میں ماہانہ بنیاد پر 1.19 فیصد کم ہو کر 37.66 پر آ گیا، جو اپریل 2025 میں 38.12 تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیاد پر این ای ای آر انڈیکس مئی 2024 میں 39.20 تھا، جس کے مقابلے میں اس میں 3.92 فیصد کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آر ای ای آر کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق، ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (آر ای ای آر) ایک ایسا اشاریہ ہے جو کسی ملک میں اشیاء کے ایک متعین باسکٹ  کی قیمت کا موازنہ اُس کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں اُنہی اشیاء کی قیمتوں سے کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان قیمتوں کو ایک ہی کرنسی میں ظاہر کیا جاتا ہے، اور ہر ملک کی قیمت کو اس کے پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم کے مطابق وزن دیا جاتا ہے، جیسے کہ درآمدات، برآمدات یا مجموعی غیرملکی تجارت کی بنیاد پر۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی کرنسی کی حقیقی قدر کو ظاہر کرنے والا پیمانہ ”ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ“ (آر ای ای آر) مئی 2025 میں کم ہو کر 97.81 پر آ گیا، جبکہ اپریل 2025 میں نظر ثانی شدہ شرح 99.31 تھی۔ یہ اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کے روز جاری کیے۔</strong></p>
<p>یاد رہے کہ اگر آر ای ای آر کا انڈیکس 100 سے اوپر ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ملک کی برآمدات مہنگی اور غیرمسابقتی بن جاتی ہیں جبکہ درآمدات سستی ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، جب آر ای ای آر 100 سے نیچے ہو تو برآمدات مسابقتی اور درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق، مئی 2025 میں آر ای ای آر کی قدر میں ماہانہ بنیادوں پر 1.51 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>جبکہ سالانہ بنیاد پر مئی 2024 کے مقابلے میں، جب یہ شرح 100.69 تھی، آر ای ای آر میں 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی ہے کہ آر ای ای آر انڈیکس کی قدر 100 ہونا اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ یہ کرنسی کی توازن والی  شرح ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے اپنی وضاحتی نوٹ میں کہا کہ آر ای ای آر کی 100 سے اوپر یا نیچے کی  مومنٹ محض 2010 کی اوسط قدر سے موازنہ ظاہر کرتی ہے اور اس کا توازن کی حقیقی قدر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔</p>
<p>دوسری جانب، نومینل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (این ای ای آر) انڈیکس بھی مئی 2025 میں ماہانہ بنیاد پر 1.19 فیصد کم ہو کر 37.66 پر آ گیا، جو اپریل 2025 میں 38.12 تھا۔</p>
<p>سالانہ بنیاد پر این ای ای آر انڈیکس مئی 2024 میں 39.20 تھا، جس کے مقابلے میں اس میں 3.92 فیصد کمی واقع ہوئی۔</p>
<p><strong>آر ای ای آر کیا ہے؟</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق، ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (آر ای ای آر) ایک ایسا اشاریہ ہے جو کسی ملک میں اشیاء کے ایک متعین باسکٹ  کی قیمت کا موازنہ اُس کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں اُنہی اشیاء کی قیمتوں سے کرتا ہے۔</p>
<p>ان قیمتوں کو ایک ہی کرنسی میں ظاہر کیا جاتا ہے، اور ہر ملک کی قیمت کو اس کے پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم کے مطابق وزن دیا جاتا ہے، جیسے کہ درآمدات، برآمدات یا مجموعی غیرملکی تجارت کی بنیاد پر۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273768</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Jun 2025 13:39:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/17133816b249326.png" type="image/png" medium="image" height="677" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/17133816b249326.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
