<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 17:21:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 17:21:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آخری گھنٹوں میں فروخت کا دباؤ، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 250 پوائنٹس کی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273765/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کے کاروباری روز اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن بھر اتار چڑھاؤ کا شکار رہنے کے بعد 254 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایس ای-100 انڈیکس نے کاروبار کا آغاز مثبت رجحان سے کیا جس کے بدولت یہ ایک وقت میں انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 122,891.61 پوائنٹس تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کاروبار کے دوسرے سیشن کے دوران  فروخت کا دباؤ بڑھنے کے سبب انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 121,815.39 پوائنٹس تک گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 254.32 پوائنٹس (یعنی 0.21 فیصد) کی کمی کے ساتھ 121,971.04 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں پورے کاروباری سیشن کے دوران مارکیٹ کسی واضح سمت کا تعین نہ کر سکی۔ مارکیٹ کا مزاج کمزور رہا کیونکہ سرمایہ کاروں کو کوئی مضبوط بنیاد نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس کے ہیوی اسٹاکس رکھنے والے شعبے یو بی ایل، ایچ بی ایل، ایس وائی ایس اور او جی ڈی سی میں مثبت رحجان رہا اور ان شعبوں نے انڈیکس میں مجموعی طور پر 219 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم پی کے جی پی، لکی سیمنٹ، اینگرو ہولڈنگز اور حب پاور کمپنی میں نقصانات نے ان مثبت اثرات کو زائل کر دیا اور ان اسٹاکس کی مجموعی مندی نے انڈیکس کو 291 پوائنٹس نیچے دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنریز کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس میں اہمیت رکھنے والے اسٹاکس جیسے کہ حبکو، اے آر ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ماری، پی او ایل اور پی پی ایل میں بھی مثبت  سرگرمیاں نظر آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کی توقعات کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مئی میں سالانہ بنیاد پر افراط زر 3.5 فیصد تک پہنچنا اس کی پیش گوئی کے مطابق تھا، جب کہ بنیادی افراط زر میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے پیر کے روز کا کاروباری سیشن مختلف انڈیکسز میں ملی جلی کارکردگی کے ساتھ مکمل کیا، جو سرمایہ کاروں کے متوازن رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز کے ایس ای-100 انڈیکس نے معمولی بہتری کے ساتھ 81.79 پوائنٹس یا 0.07 فیصد کا اضافہ کیا اور 122,225.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر، منگل کو امریکی اسٹاک فیوچرز میں کمی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران خالی کرنے کی اپیل اور ایران-اسرائیل جنگ کے پانچویں روز بڑھتے خدشات نے عالمی منڈیوں کو پریشان کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے گروپ آف سیون سربراہی اجلاس میں شرکت مختصر کرتے ہوئے قومی سلامتی کونسل کو ہنگامی طور پر تیار رہنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ایران کو وہ معاہدہ دستخط کرنا چاہیے تھا جو میں نے بتایا تھا، افسوسناک ہے کہ ایسا نہ ہوا۔ انسانی جانوں کا ضیاع بے معنی ہے۔ صاف لفظوں میں، ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حالیہ پیش رفت ایشیائی مارکیٹوں میں خطرے سے بچاؤ کی سوچ کو بڑھا گئی۔ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.46 فیصد، یورپی فیوچرز میں 0.69 فیصد کمی، جب کہ خام تیل کی قیمتوں میں ابتدائی طور پر 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز وال اسٹریٹ میں معمولی اضافہ ہوا جب ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے اسرائیل سے فوری جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی ثالثی کی درخواست کی ہے، جس سے خام تیل کی قیمتوں میں جاری تیزی کو بھی بریک لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور اسرائیل کے درمیان فضائی جنگ — جو دونوں دشمنوں کے درمیان اب تک کی سب سے بڑی جھڑپ ہے — پیر کو مزید شدت اختیار کر گئی، جب اسرائیل نے ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اور یورینیم افزودگی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے سونے جیسے محفوظ اثاثوں کا رخ کیا، جس کی قیمت میں 0.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ امریکی ٹریژری بانڈز کی خریداری بڑھنے سے شرحِ منافع میں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک 10 سالہ امریکی بانڈ کی یِیلڈ تقریباً 2 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.43 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر نے یورو، ین اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھی، کیونکہ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں اسے ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ محدود رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک کا وسیع تر شیئر انڈیکس قدرے مثبت رہا، جب کہ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس کو ٹریک کرنے والے فیوچرز میں بھی معمولی بہتری دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کے کاروباری روز اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن بھر اتار چڑھاؤ کا شکار رہنے کے بعد 254 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔</p>
<p>کے ایس ای-100 انڈیکس نے کاروبار کا آغاز مثبت رجحان سے کیا جس کے بدولت یہ ایک وقت میں انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 122,891.61 پوائنٹس تک جا پہنچا۔</p>
<p>تاہم کاروبار کے دوسرے سیشن کے دوران  فروخت کا دباؤ بڑھنے کے سبب انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 121,815.39 پوائنٹس تک گر گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 254.32 پوائنٹس (یعنی 0.21 فیصد) کی کمی کے ساتھ 121,971.04 پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں پورے کاروباری سیشن کے دوران مارکیٹ کسی واضح سمت کا تعین نہ کر سکی۔ مارکیٹ کا مزاج کمزور رہا کیونکہ سرمایہ کاروں کو کوئی مضبوط بنیاد نہیں ملی۔</p>
<p>ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس کے ہیوی اسٹاکس رکھنے والے شعبے یو بی ایل، ایچ بی ایل، ایس وائی ایس اور او جی ڈی سی میں مثبت رحجان رہا اور ان شعبوں نے انڈیکس میں مجموعی طور پر 219 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم پی کے جی پی، لکی سیمنٹ، اینگرو ہولڈنگز اور حب پاور کمپنی میں نقصانات نے ان مثبت اثرات کو زائل کر دیا اور ان اسٹاکس کی مجموعی مندی نے انڈیکس کو 291 پوائنٹس نیچے دھکیل دیا۔</p>
<p>کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنریز کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس میں اہمیت رکھنے والے اسٹاکس جیسے کہ حبکو، اے آر ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ماری، پی او ایل اور پی پی ایل میں بھی مثبت  سرگرمیاں نظر آئیں۔</p>
<p>مارکیٹ کی توقعات کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مئی میں سالانہ بنیاد پر افراط زر 3.5 فیصد تک پہنچنا اس کی پیش گوئی کے مطابق تھا، جب کہ بنیادی افراط زر میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے پیر کے روز کا کاروباری سیشن مختلف انڈیکسز میں ملی جلی کارکردگی کے ساتھ مکمل کیا، جو سرمایہ کاروں کے متوازن رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ روز کے ایس ای-100 انڈیکس نے معمولی بہتری کے ساتھ 81.79 پوائنٹس یا 0.07 فیصد کا اضافہ کیا اور 122,225.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر، منگل کو امریکی اسٹاک فیوچرز میں کمی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران خالی کرنے کی اپیل اور ایران-اسرائیل جنگ کے پانچویں روز بڑھتے خدشات نے عالمی منڈیوں کو پریشان کر دیا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے گروپ آف سیون سربراہی اجلاس میں شرکت مختصر کرتے ہوئے قومی سلامتی کونسل کو ہنگامی طور پر تیار رہنے کا حکم دیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ایران کو وہ معاہدہ دستخط کرنا چاہیے تھا جو میں نے بتایا تھا، افسوسناک ہے کہ ایسا نہ ہوا۔ انسانی جانوں کا ضیاع بے معنی ہے۔ صاف لفظوں میں، ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ سب کو فوری طور پر تہران چھوڑ دینا چاہیے۔</p>
<p>یہ حالیہ پیش رفت ایشیائی مارکیٹوں میں خطرے سے بچاؤ کی سوچ کو بڑھا گئی۔ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.46 فیصد، یورپی فیوچرز میں 0.69 فیصد کمی، جب کہ خام تیل کی قیمتوں میں ابتدائی طور پر 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔</p>
<p>پیر کے روز وال اسٹریٹ میں معمولی اضافہ ہوا جب ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے اسرائیل سے فوری جنگ بندی کے لیے ٹرمپ کی ثالثی کی درخواست کی ہے، جس سے خام تیل کی قیمتوں میں جاری تیزی کو بھی بریک لگا۔</p>
<p>ایران اور اسرائیل کے درمیان فضائی جنگ — جو دونوں دشمنوں کے درمیان اب تک کی سب سے بڑی جھڑپ ہے — پیر کو مزید شدت اختیار کر گئی، جب اسرائیل نے ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اور یورینیم افزودگی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>خطے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے سونے جیسے محفوظ اثاثوں کا رخ کیا، جس کی قیمت میں 0.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ امریکی ٹریژری بانڈز کی خریداری بڑھنے سے شرحِ منافع میں کمی آئی۔</p>
<p>بینچ مارک 10 سالہ امریکی بانڈ کی یِیلڈ تقریباً 2 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.43 فیصد رہی۔</p>
<p>امریکی ڈالر نے یورو، ین اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھی، کیونکہ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں اسے ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ محدود رہا۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک کا وسیع تر شیئر انڈیکس قدرے مثبت رہا، جب کہ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس کو ٹریک کرنے والے فیوچرز میں بھی معمولی بہتری دیکھی گئی۔</p>
<p>یہ ایک انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273765</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Jun 2025 20:29:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/17142356d3a7483.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/17142356d3a7483.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
