<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور امریکہ کے درمیان ٹیرف پر مذاکرات جاری، تجارتی معاہدہ جلد ہونے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273761/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی امور، خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ باہمی ٹیرف (ٹیکسوں) کے حوالے سے جاری بات چیت میں ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے پیر کے روز ورچوئل ملاقات کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آن لائن ملاقات پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکہ کے سیکریٹری آف کامرس ہاورڈ لٹنک کے درمیان ہوئی، جس میں دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بات کی  گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تجارتی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے بامقصد اور تعمیری مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ گفتگو کا محور باہمی طور پر فائدہ مند تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنا رہا، جبکہ طے پایا کہ آئندہ دنوں میں تکنیکی سطح پر تفصیلی بات چیت ایک متفقہ روڈمیپ کی بنیاد پر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، دونوں فریقین نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ مذاکرات کو جلد کامیابی سے ہمکنار کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر سے درآمدات پر وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرتے ہوئے پاکستان سمیت کئی اہم تجارتی شراکت داروں پر اضافی ٹیکس لگائے تھے، جس سے ایک ممکنہ طور پر خطرناک تجارتی جنگ کا آغاز ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ان دنوں امریکہ کے ساتھ تجارتی توازن کو بہتر بنانے اور ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 29 فیصد باہمی ٹیرف سے چھوٹ حاصل کرنے کے لیے واشنگٹن کو راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اضافی محصولات فی الوقت جولائی تک معطل ہیں، اور پاکستان آئندہ مہینوں میں ایک تجارتی وفد امریکہ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ معاملات کو سلجھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ، پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں 2024 میں پاکستانی برآمدات کا حجم 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ امریکہ سے پاکستان کی درآمدات تقریباً 2.1 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ سے مزید مصنوعات خریدنے اور نان ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے کا خواہاں ہے تاکہ ٹرمپ کے بھاری محصولات سے نجات حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی امور، خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ باہمی ٹیرف (ٹیکسوں) کے حوالے سے جاری بات چیت میں ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے پیر کے روز ورچوئل ملاقات کی۔</strong></p>
<p>یہ آن لائن ملاقات پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکہ کے سیکریٹری آف کامرس ہاورڈ لٹنک کے درمیان ہوئی، جس میں دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بات کی  گئی۔</p>
<p>وزارت خزانہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تجارتی معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے بامقصد اور تعمیری مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ گفتگو کا محور باہمی طور پر فائدہ مند تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنا رہا، جبکہ طے پایا کہ آئندہ دنوں میں تکنیکی سطح پر تفصیلی بات چیت ایک متفقہ روڈمیپ کی بنیاد پر کی جائے گی۔</p>
<p>بیان کے مطابق، دونوں فریقین نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ مذاکرات کو جلد کامیابی سے ہمکنار کیا جائے گا۔</p>
<p>یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر سے درآمدات پر وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرتے ہوئے پاکستان سمیت کئی اہم تجارتی شراکت داروں پر اضافی ٹیکس لگائے تھے، جس سے ایک ممکنہ طور پر خطرناک تجارتی جنگ کا آغاز ہوا۔</p>
<p>اسلام آباد ان دنوں امریکہ کے ساتھ تجارتی توازن کو بہتر بنانے اور ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 29 فیصد باہمی ٹیرف سے چھوٹ حاصل کرنے کے لیے واشنگٹن کو راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اضافی محصولات فی الوقت جولائی تک معطل ہیں، اور پاکستان آئندہ مہینوں میں ایک تجارتی وفد امریکہ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ معاملات کو سلجھایا جا سکے۔</p>
<p>امریکہ، پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں 2024 میں پاکستانی برآمدات کا حجم 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ امریکہ سے پاکستان کی درآمدات تقریباً 2.1 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ سے مزید مصنوعات خریدنے اور نان ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے کا خواہاں ہے تاکہ ٹرمپ کے بھاری محصولات سے نجات حاصل کی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273761</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Jun 2025 10:53:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/17105133d83c643.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/17105133d83c643.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
