<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 05:31:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 05:31:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی اسمبلی کمیٹی کی خصوصی زونز میں ٹیکس چھوٹ محدود کرنے کی سفارش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273756/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے پیر کے روز حکومت کی بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی، جن میں خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای ڈیذز) اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز (ایس ٹی زیڈز) میں اداروں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کو محدود کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس تجویز کے مطابق ٹیکس چھوٹ کی مدت ٹیکس سال 2035 یا 10 سال مکمل ہونے تک، جو بھی پہلے ہو، ختم کر دی جائے گی۔ یہ اقدام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط کے تحت کیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قائمہ کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی زیر صدارت ہوا، جس میں 10 کروڑ روپے سے زائد پنشن آمدن پر 70 سال سے کم عمر افراد پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکس چھوٹ معاشی طور پر قابلِ برداشت نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای زیڈز جو پہلے سے یہ سہولت لے رہے تھے، وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ایس ای زیڈز اور ایس ٹی زیڈز کے لیے ”سن سیٹ کلاز“ کو فنانس بل میں شامل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ان زونز کی ٹیکس چھوٹ 2027 تک محدود کرنے کا دباؤ تھا، تاہم طویل مذاکرات کے بعد یہ مدت 2035 تک بڑھانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی ارکان نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ایک ڈالر کی سرمایہ کاری بھی ان زونز میں نہیں آئے گی۔ تاہم، انہیں بتایا گیا کہ یہ آئی ایم ایف کی شرط ہے اور اس پر عمل درآمد ضروری ہے، جس کے بعد کمیٹی نے اس کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ایک اور آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ تجویز کی بھی منظوری دے دی، جس کے تحت اب تمام نان پرافٹ تنظیموں (این پی او) پر یکساں ٹیکس شرائط لاگو ہوں گی تاکہ وہ 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ کے لیے اہل قرار پائیں۔ اس اقدام سے بہتر نگرانی، بے جا چھوٹ کے غلط استعمال میں کمی اور ٹیکس فوائد کو واضح ضوابط سے ہم آہنگ بنایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل ذرائع یا کیش آن ڈیلیوری کے ذریعے ادائیگی پر ٹیکس کٹوتی کی شرح سے متعلق، ایف بی آر نے بتایا کہ اس اقدام سے تقریباً 59 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔ تاہم، مختلف شرحوں (1 تا 2 فیصد) کی بجائے ایک متفقہ شرح تجویز کی جائے گی، جس پر مشاورت کے بعد کمیٹی کو آگاہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے 70 سال سے کم عمر پنشنرز کے لیے 10 کروڑ روپے سے زائد پنشن آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی تاکہ زیادہ آمدن والے پنشنرز سے ٹیکس وصولی کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے چیئرمین نے کمیٹی کو کابینہ سے منظور شدہ ایف بی آر اصلاحاتی منصوبے سے بھی آگاہ کیا، جس میں بغیر وسائل کے فائلرز و نان فائلرز کی بڑی مالی لین دین کی نگرانی، بھاری رقوم کی مالی تفصیلات کی شرط، مالیاتی رسائی کو ضوابط سے مشروط کرنا، ٹیکنالوجی کے استعمال سے عمل درآمد بہتر بنانا، ڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے رسک بیسڈ کارروائی اور خفیہ آڈٹ صلاحیت میں توسیع جیسے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے پیر کے روز حکومت کی بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی، جن میں خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای ڈیذز) اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز (ایس ٹی زیڈز) میں اداروں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کو محدود کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس تجویز کے مطابق ٹیکس چھوٹ کی مدت ٹیکس سال 2035 یا 10 سال مکمل ہونے تک، جو بھی پہلے ہو، ختم کر دی جائے گی۔ یہ اقدام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط کے تحت کیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>قائمہ کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی زیر صدارت ہوا، جس میں 10 کروڑ روپے سے زائد پنشن آمدن پر 70 سال سے کم عمر افراد پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی گئی۔</p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکس چھوٹ معاشی طور پر قابلِ برداشت نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای زیڈز جو پہلے سے یہ سہولت لے رہے تھے، وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔</p>
<p>چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ایس ای زیڈز اور ایس ٹی زیڈز کے لیے ”سن سیٹ کلاز“ کو فنانس بل میں شامل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ان زونز کی ٹیکس چھوٹ 2027 تک محدود کرنے کا دباؤ تھا، تاہم طویل مذاکرات کے بعد یہ مدت 2035 تک بڑھانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔</p>
<p>کمیٹی ارکان نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ایک ڈالر کی سرمایہ کاری بھی ان زونز میں نہیں آئے گی۔ تاہم، انہیں بتایا گیا کہ یہ آئی ایم ایف کی شرط ہے اور اس پر عمل درآمد ضروری ہے، جس کے بعد کمیٹی نے اس کی منظوری دے دی۔</p>
<p>کمیٹی نے ایک اور آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ تجویز کی بھی منظوری دے دی، جس کے تحت اب تمام نان پرافٹ تنظیموں (این پی او) پر یکساں ٹیکس شرائط لاگو ہوں گی تاکہ وہ 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ کے لیے اہل قرار پائیں۔ اس اقدام سے بہتر نگرانی، بے جا چھوٹ کے غلط استعمال میں کمی اور ٹیکس فوائد کو واضح ضوابط سے ہم آہنگ بنایا جا سکے گا۔</p>
<p>ڈیجیٹل ذرائع یا کیش آن ڈیلیوری کے ذریعے ادائیگی پر ٹیکس کٹوتی کی شرح سے متعلق، ایف بی آر نے بتایا کہ اس اقدام سے تقریباً 59 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔ تاہم، مختلف شرحوں (1 تا 2 فیصد) کی بجائے ایک متفقہ شرح تجویز کی جائے گی، جس پر مشاورت کے بعد کمیٹی کو آگاہ کیا جائے گا۔</p>
<p>کمیٹی نے 70 سال سے کم عمر پنشنرز کے لیے 10 کروڑ روپے سے زائد پنشن آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی تاکہ زیادہ آمدن والے پنشنرز سے ٹیکس وصولی کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکے۔</p>
<p>ایف بی آر کے چیئرمین نے کمیٹی کو کابینہ سے منظور شدہ ایف بی آر اصلاحاتی منصوبے سے بھی آگاہ کیا، جس میں بغیر وسائل کے فائلرز و نان فائلرز کی بڑی مالی لین دین کی نگرانی، بھاری رقوم کی مالی تفصیلات کی شرط، مالیاتی رسائی کو ضوابط سے مشروط کرنا، ٹیکنالوجی کے استعمال سے عمل درآمد بہتر بنانا، ڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے رسک بیسڈ کارروائی اور خفیہ آڈٹ صلاحیت میں توسیع جیسے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273756</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Jun 2025 09:25:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفرازطاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/170923487383a43.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1498" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/170923487383a43.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
