<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک نے برآمدی ادائیگیوں کیلئے پی ایس ڈبلیو میں حلف نامے کا نیا فارمیٹ جاری کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273750/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدلتے ہوئے کاروباری تقاضوں اور حالیہ نظامی اپ گریڈیشن کے پیش نظر، پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) سسٹم میں برآمد کنندگان سے ادائیگیوں کی وصولی کے لیے مطلوبہ حلف نامے/ڈیکلیئریشن میں ترمیم کر دی ہے، جو مجاز ڈیلرز (اے ڈیز) کے ذریعے وصول کی جاتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارن ایکسچینج مینوئل  کے باب 12 (برآمدات) کی شق 5(ii) اور 15B(ii) کے تحت، برآمد کنندگان پر لازم ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات کے مطابق پی ایس ڈبلیو سسٹم میں ادائیگیوں کی وصولی کے لیے حلف نامہ/ڈیکلیئریشن داخل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے یہ حلف نامہ/ڈیکلیئریشن ”ای-فارم/الیکٹرانک فارم-ای“  کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ تاہم، موجودہ کاروباری حالات اور نظامی تبدیلیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے اس حلف نامے/ڈیکلیئریشن میں ترمیم کی ہے اور اس کا نیا فارمیٹ جاری کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے اے ڈیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر برآمدی لین دین کے آغاز پر پی اسی ڈبلیو سسٹم کے ذریعے برآمد کنندگان سے نیا ترمیم شدہ حلف نامہ/اعلان حاصل کریں۔ مزید برآں، ممکنہ قانونی خطرات سے بچنے کے لیے اے ڈیز کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ برآمد کنندگان سے یہی ترمیم شدہ حلف نامہ/ڈیکلیئریشن تحریری طور پر دستخط شدہ شکل میں بھی حاصل کر لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈیز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ ہدایات اپنے تمام متعلقہ صارفین کے علم میں لائیں اور ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ترمیم-شدہ-حلف-نامہڈیکلیئریشن" href="#ترمیم-شدہ-حلف-نامہڈیکلیئریشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ترمیم شدہ حلف نامہ/ڈیکلیئریشن:&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایک غلط ڈیکلیئریشن پاکستان پینل کوڈ 1860، فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947، کسٹمز ایکٹ 1969، اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم / میں اقرار کرتا / کرتے ہیں کہ ہم / میں ہی وہ بیچنے والے / بھیجنے والے / برآمد کنندگان ہیں، جن اشیاء کے حوالے سے یہ ڈیکلیئریشن دیا جا رہا ہے، اور مالیاتی دستاویزات میں دی گئی تمام تفصیلات درست ہیں۔ اگر فروخت باقاعدہ معاہدے کے تحت ہے تو مالیاتی دستاویزات میں ظاہر کردہ انوائس کی قیمت خریدار سے طے شدہ مکمل رقم ہے، اور اگر کھیپ پر مبنی فروخت  ہے تو وہ اشیاء کی منصفانہ قیمت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم / میں اس بات کا اقرار کرتا / کرتے ہیں کہ ہم / میں ان اشیاء کی برآمد سے حاصل شدہ غیر ملکی زرِ مبادلہ مجاز ڈیلر کو معاہدے میں طے شدہ مدت کے مطابق یا اسٹیٹ بینک کی مقرر کردہ کسی اور مدت کے اندر (شپمنٹ / روانگی کی تاریخ جو بھی پہلے ہو) فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر فروخت کھیپ کی بنیاد پر ہو تو، ہم / میں مجاز ڈیلر کو مکمل طور پر دستاویزی شدہ اکاؤنٹ سیل فراہم کرنے کا اقرار کرتے ہیں، جو درآمدی ملک کے قونصل یا چیمبر آف کامرس سے تصدیق شدہ ہو یا اسٹیٹ بینک کی مطلوبہ دیگر دستاویزات شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم / میں اقرار کرتے ہیں کہ کسی قسم کی اہم معلومات کو چھپایا نہیں گیا اور بیان کردہ تمام تفصیلات میرے / ہمارے علم اور یقین کے مطابق درست ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم / میں اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ شپمنٹ کے چودہ دن کے اندر اندر متعلقہ دستاویزات مجاز ڈیلر کو گفت و شنید کے لیے یا کلیکشن کے لیے بھجوانے کے لیے پیش کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم / میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو واضح طور پر اجازت دیتے ہیں کہ وہ ہماری برآمدی سرگرمیوں سے متعلق اوورڈیو معلومات اے ڈیز / بینکوں کے ساتھ شیئر کرے (چاہے وہ معلومات عدالت میں زیر سماعت ہو یا نہ ہو)۔ ہم / میں اے ڈیز / بینکوں کو اس امر کی بھی اجازت دیتے ہیں کہ وہ ایکسپورٹرز انفارمیشن پورٹل (ای آئی پی) پر دستیاب ہماری اوورڈیو معلومات تک رسائی حاصل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدلتے ہوئے کاروباری تقاضوں اور حالیہ نظامی اپ گریڈیشن کے پیش نظر، پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) سسٹم میں برآمد کنندگان سے ادائیگیوں کی وصولی کے لیے مطلوبہ حلف نامے/ڈیکلیئریشن میں ترمیم کر دی ہے، جو مجاز ڈیلرز (اے ڈیز) کے ذریعے وصول کی جاتی ہیں۔</strong></p>
<p>فارن ایکسچینج مینوئل  کے باب 12 (برآمدات) کی شق 5(ii) اور 15B(ii) کے تحت، برآمد کنندگان پر لازم ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات کے مطابق پی ایس ڈبلیو سسٹم میں ادائیگیوں کی وصولی کے لیے حلف نامہ/ڈیکلیئریشن داخل کریں۔</p>
<p>پہلے یہ حلف نامہ/ڈیکلیئریشن ”ای-فارم/الیکٹرانک فارم-ای“  کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ تاہم، موجودہ کاروباری حالات اور نظامی تبدیلیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے اس حلف نامے/ڈیکلیئریشن میں ترمیم کی ہے اور اس کا نیا فارمیٹ جاری کر دیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے اے ڈیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر برآمدی لین دین کے آغاز پر پی اسی ڈبلیو سسٹم کے ذریعے برآمد کنندگان سے نیا ترمیم شدہ حلف نامہ/اعلان حاصل کریں۔ مزید برآں، ممکنہ قانونی خطرات سے بچنے کے لیے اے ڈیز کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ برآمد کنندگان سے یہی ترمیم شدہ حلف نامہ/ڈیکلیئریشن تحریری طور پر دستخط شدہ شکل میں بھی حاصل کر لیں۔</p>
<p>اے ڈیز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ ہدایات اپنے تمام متعلقہ صارفین کے علم میں لائیں اور ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔</p>
<h3><a id="ترمیم-شدہ-حلف-نامہڈیکلیئریشن" href="#ترمیم-شدہ-حلف-نامہڈیکلیئریشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ترمیم شدہ حلف نامہ/ڈیکلیئریشن:</h3>
<p>ایک غلط ڈیکلیئریشن پاکستان پینل کوڈ 1860، فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947، کسٹمز ایکٹ 1969، اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔</p>
<p>ہم / میں اقرار کرتا / کرتے ہیں کہ ہم / میں ہی وہ بیچنے والے / بھیجنے والے / برآمد کنندگان ہیں، جن اشیاء کے حوالے سے یہ ڈیکلیئریشن دیا جا رہا ہے، اور مالیاتی دستاویزات میں دی گئی تمام تفصیلات درست ہیں۔ اگر فروخت باقاعدہ معاہدے کے تحت ہے تو مالیاتی دستاویزات میں ظاہر کردہ انوائس کی قیمت خریدار سے طے شدہ مکمل رقم ہے، اور اگر کھیپ پر مبنی فروخت  ہے تو وہ اشیاء کی منصفانہ قیمت ہے۔</p>
<p>ہم / میں اس بات کا اقرار کرتا / کرتے ہیں کہ ہم / میں ان اشیاء کی برآمد سے حاصل شدہ غیر ملکی زرِ مبادلہ مجاز ڈیلر کو معاہدے میں طے شدہ مدت کے مطابق یا اسٹیٹ بینک کی مقرر کردہ کسی اور مدت کے اندر (شپمنٹ / روانگی کی تاریخ جو بھی پہلے ہو) فراہم کریں گے۔</p>
<p>اگر فروخت کھیپ کی بنیاد پر ہو تو، ہم / میں مجاز ڈیلر کو مکمل طور پر دستاویزی شدہ اکاؤنٹ سیل فراہم کرنے کا اقرار کرتے ہیں، جو درآمدی ملک کے قونصل یا چیمبر آف کامرس سے تصدیق شدہ ہو یا اسٹیٹ بینک کی مطلوبہ دیگر دستاویزات شامل ہوں۔</p>
<p>ہم / میں اقرار کرتے ہیں کہ کسی قسم کی اہم معلومات کو چھپایا نہیں گیا اور بیان کردہ تمام تفصیلات میرے / ہمارے علم اور یقین کے مطابق درست ہیں۔</p>
<p>ہم / میں اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ شپمنٹ کے چودہ دن کے اندر اندر متعلقہ دستاویزات مجاز ڈیلر کو گفت و شنید کے لیے یا کلیکشن کے لیے بھجوانے کے لیے پیش کی جائیں گی۔</p>
<p>ہم / میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو واضح طور پر اجازت دیتے ہیں کہ وہ ہماری برآمدی سرگرمیوں سے متعلق اوورڈیو معلومات اے ڈیز / بینکوں کے ساتھ شیئر کرے (چاہے وہ معلومات عدالت میں زیر سماعت ہو یا نہ ہو)۔ ہم / میں اے ڈیز / بینکوں کو اس امر کی بھی اجازت دیتے ہیں کہ وہ ایکسپورٹرز انفارمیشن پورٹل (ای آئی پی) پر دستیاب ہماری اوورڈیو معلومات تک رسائی حاصل کریں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273750</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Jun 2025 08:29:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/170827216dce3e1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/170827216dce3e1.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
