<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 17:36:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 17:36:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیمنٹ سیکٹر میں شمسی توانائی کی لہر جاری، غریبوال لمیٹڈ نے سولر توانائی کی صلاحیت بڑھالی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273729/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غریبوال سیمنٹ لمیٹڈ نے پائیدار توانائی کے استعمال کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنے پلانٹ پر اضافی 12.5 میگاواٹ شمسی توانائی کے نظام کو کامیابی سے فعال کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات سیمنٹ بنانے اور فروخت کرنے والی لسٹڈ کمپنی نے پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے ایک نوٹس کے ذریعے بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا کہ
ہم پی ایس ایکس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو خوشی سے آگاہ کرتے ہیں کہ غریبوال سیمنٹ لمیٹڈ نے اپنے پلانٹ پر اضافی 12.5 میگاواٹ کے شمسی توانائی نظام کی تنصیب اور کمیشننگ کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ یہ نئی صلاحیت اس کے پہلے سے نصب 12 میگاواٹ کے شمسی نظام میں شامل کر دی گئی ہے، جس کے بعد مجموعی نصب شدہ شمسی پیداواری صلاحیت 24.5 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس کے مطابق اضافی 12.5 میگاواٹ کا یہ نظام 16 جون 2025 سے کمرشل آپریشنز کا آغاز کر چکا ہے اور اب کمپنی کی اندرونی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ
یہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کمپنی کے پائیداری اہداف اور طویل المدتی توانائی لاگت میں کمی کی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ یہ قابل تجدید توانائی ذرائع پر انحصار میں اضافہ، فوسل فیولز پر انحصار میں کمی، اور ماحولیاتی تحفظ میں مدد دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان ایک کم آمدنی والا ملک ہے جو معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہے، مگر یہاں خاموشی سے ایک ’گرین انقلاب‘ آ رہا ہے اور جنوبی ایشیا کا یہ ملک دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شمسی مارکیٹوں میں شامل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے توانائی تھنک ٹینک ”ایمبر“ کی جاری کردہ &lt;em&gt;گلوبل الیکٹریسٹی ریویو 2025&lt;/em&gt; کے مطابق، پاکستان نے سال 2024 میں 17 گیگاواٹ شمسی پینلز درآمد کیے، جو اسے شمسی توانائی کے بڑے ممالک کی صف میں لے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رجحان نے پالیسی سازوں کو قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے کے حوالے سے چیلنج میں ڈال دیا ہے کیونکہ بجلی کی کھپت میں کوئی خاص اضافہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں، وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں درآمد شدہ شمسی پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ٹیکس کا مقصد مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب پاکستان میں شمسی توانائی کا رجحان عروج پر ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 225-2024 کے مطابق، 31 مارچ 2025 تک ملک میں نیٹ میٹرنگ کی مجموعی صلاحیت 2,813 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غریبوال سیمنٹ لمیٹڈ نے پائیدار توانائی کے استعمال کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنے پلانٹ پر اضافی 12.5 میگاواٹ شمسی توانائی کے نظام کو کامیابی سے فعال کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات سیمنٹ بنانے اور فروخت کرنے والی لسٹڈ کمپنی نے پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے ایک نوٹس کے ذریعے بتائی۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا کہ
ہم پی ایس ایکس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو خوشی سے آگاہ کرتے ہیں کہ غریبوال سیمنٹ لمیٹڈ نے اپنے پلانٹ پر اضافی 12.5 میگاواٹ کے شمسی توانائی نظام کی تنصیب اور کمیشننگ کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔</p>
<p>کمپنی نے بتایا کہ یہ نئی صلاحیت اس کے پہلے سے نصب 12 میگاواٹ کے شمسی نظام میں شامل کر دی گئی ہے، جس کے بعد مجموعی نصب شدہ شمسی پیداواری صلاحیت 24.5 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>نوٹس کے مطابق اضافی 12.5 میگاواٹ کا یہ نظام 16 جون 2025 سے کمرشل آپریشنز کا آغاز کر چکا ہے اور اب کمپنی کی اندرونی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ
یہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کمپنی کے پائیداری اہداف اور طویل المدتی توانائی لاگت میں کمی کی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ یہ قابل تجدید توانائی ذرائع پر انحصار میں اضافہ، فوسل فیولز پر انحصار میں کمی، اور ماحولیاتی تحفظ میں مدد دیتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان ایک کم آمدنی والا ملک ہے جو معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہے، مگر یہاں خاموشی سے ایک ’گرین انقلاب‘ آ رہا ہے اور جنوبی ایشیا کا یہ ملک دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شمسی مارکیٹوں میں شامل ہو چکا ہے۔</p>
<p>برطانیہ کے توانائی تھنک ٹینک ”ایمبر“ کی جاری کردہ <em>گلوبل الیکٹریسٹی ریویو 2025</em> کے مطابق، پاکستان نے سال 2024 میں 17 گیگاواٹ شمسی پینلز درآمد کیے، جو اسے شمسی توانائی کے بڑے ممالک کی صف میں لے آیا۔</p>
<p>اس رجحان نے پالیسی سازوں کو قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے کے حوالے سے چیلنج میں ڈال دیا ہے کیونکہ بجلی کی کھپت میں کوئی خاص اضافہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔</p>
<p>اسی تناظر میں، وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں درآمد شدہ شمسی پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ٹیکس کا مقصد مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب پاکستان میں شمسی توانائی کا رجحان عروج پر ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 225-2024 کے مطابق، 31 مارچ 2025 تک ملک میں نیٹ میٹرنگ کی مجموعی صلاحیت 2,813 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273729</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Jun 2025 11:49:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/16114931c8802b5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/16114931c8802b5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
