<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 18 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273723/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کے روز پاکستانی روپے کی قدر میں 0.07 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد یہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 18 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 283.17 روپے پر بند ہوا، اس طرح  ڈالر کے مقابلے میں 21 پیسے کی کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپیہ اس سے قبل دسمبر 2023 میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 283 روپے کی سطح پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی ریسرچ ہیڈ ثنا توفیق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی کرنسی پر دباؤ درآمدی طلب میں اضافے اور قرضوں کی ادائیگیوں کے باعث بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے دوران روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوا، اور اس کی قدر میں 79 پیسے یا 0.28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق روپیہ ہفتے کے اختتام پر 282.96 روپے پر بند ہوا جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ 282.17 روپے پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر ڈالر پیر کے روز بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے وسیع تر علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے کے خدشے کے پیش نظر محفوظ سرمایہ کاری کا رخ کیا۔ اس کے علاوہ سرمایہ کار رواں ہفتے ہونے والے مختلف مرکزی بینکوں کے اجلاسوں کے لیے بھی تیاری کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ایران اور اسرائیل دونوں ہی اپنی جارحیت سے پیچھے ہٹنے کے کوئی آثار نہیں دکھا رہے، اس خدشے نے جنم لیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز – جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے – کو بند کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس ممکنہ اقدام سے مشرقِ وسطیٰ جیسے توانائی سے مالا مال خطے میں رسد میں خلل پڑنے کے باعث وسیع پیمانے پر معاشی خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے ایران پراچانک حملے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر طے شدہ اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.14 فیصد بڑھ کر 144.3 پر پہنچ گیا، جب کہ یورو 0.14 فیصد کم ہوکر 1.1534 ڈالر پر آگیا۔ ایشیا میں ابتدائی کاروباری اوقات کے دوران ڈالر سوئس فرانک کے مقابلے میں 0.81 پر مستحکم رہا جبکہ چھ دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کو جانچنے والا انڈیکس 98.25 پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کرنسیاں جو خطرے سے جڑی سرمایہ کاری کے ساتھ مثبت تعلق رکھتی ہیں، جیسے آسٹریلین ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر، معمولی حد تک بڑھ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں سرمایہ کاروں اور مرکزی بینکوں کے پالیسی سازوں کے لیے ایک تازہ چیلنج بن کر سامنے آئیں جو اس سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی تجارتی نظام کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے اقدام سے پیدا ہونے والی معاشی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ گزشتہ چند سیشنز میں  ڈالر کی مجموعی طور پر قدر میں اضافہ دیکھا گیا لیکن تجزیہ کار اس بات پر کم قائل نظر آئے کہ یہ رجحان جاری رہ سکتا ہے، جب تک کہ ٹیرف  معاملے پر مزید وضاحت سامنے نہ آ جائے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال اب تک کرنسی کی قدر میں 9 فیصد سے زیادہ کمی آچکی ہے، کیونکہ سرمایہ کار صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی معاہدوں کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے پریشان ہیں، جو تقریباً تین ہفتے میں پوری ہونے والی ہے جبکہ یورپی یونین اور جاپان جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ معاہدے ابھی تک طے نہیں پا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سرمایہ کاروں کی نظریں کینیڈا میں گروپ آف سیون (جی سیون) رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر امریکہ کے ساتھ کسی بھی دو طرفہ ملاقات میں ہونے والی پیش رفت پر مرکوز ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں، جو زرِمبادلہ کی قدر کا ایک اہم اشاریہ تصور کیا جاتا ہے،  میں اضافہ پیر کے روز بھی جاری رہا، جس نے جمعے کی تیزی کو مزید وسعت دی ہے۔ یہ پیش رفت اسرائیل اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام پر تازہ فضائی حملوں کے باعث سامنے آئی ہے، جن سے خدشہ بڑھ گیا ہے کہ یہ جنگ پورے خطے تک پھیل سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں سنگین خلل پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں 1.12 ڈالر (1.5 فیصد) اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 75.35 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیئٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت میں 1.10 ڈالر (1.5 فیصد) اضافہ ہوا، جو 74.08 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ ابتدائی تجارتی سیشن کے دوران ان قیمتوں میں 4 ڈالر سے زائد کا اضافہ بھی دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں بینچ مارک قیمتیں جمعے کے روز 7 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئیں جبکہ سیشن کے دوران ان میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو جنوری کے بعد سے بلند ترین سطح تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کے روز پاکستانی روپے کی قدر میں 0.07 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد یہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 18 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 283.17 روپے پر بند ہوا، اس طرح  ڈالر کے مقابلے میں 21 پیسے کی کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>روپیہ اس سے قبل دسمبر 2023 میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 283 روپے کی سطح پر تھا۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی ریسرچ ہیڈ ثنا توفیق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی کرنسی پر دباؤ درآمدی طلب میں اضافے اور قرضوں کی ادائیگیوں کے باعث بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے کے دوران روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوا، اور اس کی قدر میں 79 پیسے یا 0.28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق روپیہ ہفتے کے اختتام پر 282.96 روپے پر بند ہوا جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ 282.17 روپے پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر ڈالر پیر کے روز بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط ہوا کیونکہ سرمایہ کاروں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے وسیع تر علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے کے خدشے کے پیش نظر محفوظ سرمایہ کاری کا رخ کیا۔ اس کے علاوہ سرمایہ کار رواں ہفتے ہونے والے مختلف مرکزی بینکوں کے اجلاسوں کے لیے بھی تیاری کررہے ہیں۔</p>
<p>چونکہ ایران اور اسرائیل دونوں ہی اپنی جارحیت سے پیچھے ہٹنے کے کوئی آثار نہیں دکھا رہے، اس خدشے نے جنم لیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز – جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے – کو بند کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس ممکنہ اقدام سے مشرقِ وسطیٰ جیسے توانائی سے مالا مال خطے میں رسد میں خلل پڑنے کے باعث وسیع پیمانے پر معاشی خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>اسرائیل کے ایران پراچانک حملے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر طے شدہ اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔</p>
<p>پیر کو ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 0.14 فیصد بڑھ کر 144.3 پر پہنچ گیا، جب کہ یورو 0.14 فیصد کم ہوکر 1.1534 ڈالر پر آگیا۔ ایشیا میں ابتدائی کاروباری اوقات کے دوران ڈالر سوئس فرانک کے مقابلے میں 0.81 پر مستحکم رہا جبکہ چھ دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کو جانچنے والا انڈیکس 98.25 پر مستحکم رہا۔</p>
<p>وہ کرنسیاں جو خطرے سے جڑی سرمایہ کاری کے ساتھ مثبت تعلق رکھتی ہیں، جیسے آسٹریلین ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر، معمولی حد تک بڑھ گئیں۔</p>
<p>جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں سرمایہ کاروں اور مرکزی بینکوں کے پالیسی سازوں کے لیے ایک تازہ چیلنج بن کر سامنے آئیں جو اس سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی تجارتی نظام کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے اقدام سے پیدا ہونے والی معاشی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ گزشتہ چند سیشنز میں  ڈالر کی مجموعی طور پر قدر میں اضافہ دیکھا گیا لیکن تجزیہ کار اس بات پر کم قائل نظر آئے کہ یہ رجحان جاری رہ سکتا ہے، جب تک کہ ٹیرف  معاملے پر مزید وضاحت سامنے نہ آ جائے ۔</p>
<p>رواں سال اب تک کرنسی کی قدر میں 9 فیصد سے زیادہ کمی آچکی ہے، کیونکہ سرمایہ کار صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی معاہدوں کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے پریشان ہیں، جو تقریباً تین ہفتے میں پوری ہونے والی ہے جبکہ یورپی یونین اور جاپان جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ معاہدے ابھی تک طے نہیں پا سکے۔</p>
<p>اب سرمایہ کاروں کی نظریں کینیڈا میں گروپ آف سیون (جی سیون) رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر امریکہ کے ساتھ کسی بھی دو طرفہ ملاقات میں ہونے والی پیش رفت پر مرکوز ہوں گی۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں، جو زرِمبادلہ کی قدر کا ایک اہم اشاریہ تصور کیا جاتا ہے،  میں اضافہ پیر کے روز بھی جاری رہا، جس نے جمعے کی تیزی کو مزید وسعت دی ہے۔ یہ پیش رفت اسرائیل اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام پر تازہ فضائی حملوں کے باعث سامنے آئی ہے، جن سے خدشہ بڑھ گیا ہے کہ یہ جنگ پورے خطے تک پھیل سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں سنگین خلل پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں 1.12 ڈالر (1.5 فیصد) اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 75.35 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیئٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت میں 1.10 ڈالر (1.5 فیصد) اضافہ ہوا، جو 74.08 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ ابتدائی تجارتی سیشن کے دوران ان قیمتوں میں 4 ڈالر سے زائد کا اضافہ بھی دیکھا گیا۔</p>
<p>دونوں بینچ مارک قیمتیں جمعے کے روز 7 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئیں جبکہ سیشن کے دوران ان میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو جنوری کے بعد سے بلند ترین سطح تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273723</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Jun 2025 18:14:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/16103323eae7a1f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/16103323eae7a1f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
