<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 17:38:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 17:38:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ: ملے جلے کاروبار کے بعد کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً ہموار سطح پر بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273722/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کے روز کاروبار کا ملا جلا رجحان دیکھا گیا جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن بھر اتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور بالاخر کاروبار کے اختتام پر کسی نمایاں تبدیلی کے بغیر تقریباً ہموار سطح پر بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری دن کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 122,903.34 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا تاہم بعد ازاں فروخت کے دباؤ کے باعث یہ 121,889.96 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آخری گھنٹوں میں محدود خریداری کے باعث مارکیٹ میں کچھ بحالی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ مثبت زون میں بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 81.79 پوائنٹس (0.07فیصد) کے معمولی اضافے کے ساتھ 122,225.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ انڈیکس میں اہمیت رکھنے والے اسٹاکس جیسے حبکو، ماری گیس، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، ایف ایف سی، یو بی ایل اور ایم سی بی مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے دوران، پی ایس ایکس نے ایک غیر یقینی صورتحال سے بھرپور ہفتہ گزارا، جہاں بجٹ سے جڑی امیدوں اور مانیٹری ایزنگ کی توقعات پر مبنی ایک تاریخی تیزی کا مشاہدہ کیا گیا، مگر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو منافع سمیٹنے اور محتاط حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری ہفتے کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، جہاں مارکیٹ نے مالی سال 26-2025 کے لیے پیش کیے گئے 17.3 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ کا خیرمقدم کیا۔ حکومت نے کیپیٹل مارکیٹ کے لیے کسی منفی مالیاتی اقدام کا اعلان نہیں کیا، بلکہ کیپیٹل گینز ٹیکس (سی جی ٹی) کی شقیں توقع سے بہتر نکلیں، جس نے میوچل فنڈز اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو حصص میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے ایس ای-100 انڈیکس 122,144 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار 0.4 فیصد یا 502 پوائنٹس کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی مارکیٹس نے پیر کے روز اپنے اعتماد کو برقرار رکھا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا کیونکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے، جس نے موجودہ معاشی مشکلات کے بیچ جغرافیائی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے ہفتے میں جب مرکزی بینکوں کی میٹنگز شیڈول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، سرمایہ کاروں میں گھبراہٹ کے آثار نہیں تھے۔ کرنسی مارکیٹس میں استحکام رہا اور وال اسٹریٹ کے اسٹاک فیوچرز ابتدائی گراوٹ کے بعد سنبھلتے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمت میں مزید 1 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو گزشتہ ہفتے کے 13 فیصد اضافے کے بعد آیا، اور یہ افراط زر میں اضافے کی لہر کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہ اضافہ برقرار رہا تو امریکی فیڈرل ریزرو کے لیے بدھ کو ہونے والی میٹنگ میں شرح سود میں کٹوتی کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیوچرز کے مطابق، موجودہ 4.25 فیصد سے 4.5 فیصد کی شرح سود میں کمی کا کوئی امکان نہیں، اور جولائی میں بھی ایسا ہونے کا امکان کم ہے۔ مارکیٹیں فیڈ کے ”ڈاٹ پلاٹ“ میں کسی تبدیلی پر خاص نظر رکھیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت تک، مارکیٹیں دسمبر تک دو بار شرح سود میں کمی پر شرط لگا رہی ہیں، اور ستمبر میں پہلی کمی کو سب سے زیادہ ممکنہ تصور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الوقت، سرمایہ کار پیش رفت کے منتظر ہیں، جبکہ ایم ایس سی آئی کا جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک حصص کا سب سے بڑا انڈیکس 0.1 فیصد بڑھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکیئی انڈیکس 0.8 فیصد اور جنوبی کوریا کے اسٹاکس 0.5 فیصد بڑھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی بلیو چپس 0.1 فیصد بڑھے کیونکہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مئی میں ریٹیل سیلز 6.4 فیصد بڑھی، جو اندازوں سے بہتر تھی، جبکہ صنعتی پیداوار توقعات کے مطابق رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.1 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز 0.2 فیصد بڑھے، جو ابتدائی گراوٹ سے بحال ہو رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/06/161835138ac998f.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کے روز کاروبار کا ملا جلا رجحان دیکھا گیا جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن بھر اتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور بالاخر کاروبار کے اختتام پر کسی نمایاں تبدیلی کے بغیر تقریباً ہموار سطح پر بند ہوا۔</strong></p>
<p>کاروباری دن کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 122,903.34 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا تاہم بعد ازاں فروخت کے دباؤ کے باعث یہ 121,889.96 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔</p>
<p>تاہم آخری گھنٹوں میں محدود خریداری کے باعث مارکیٹ میں کچھ بحالی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ مثبت زون میں بند ہوا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 81.79 پوائنٹس (0.07فیصد) کے معمولی اضافے کے ساتھ 122,225.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ انڈیکس میں اہمیت رکھنے والے اسٹاکس جیسے حبکو، ماری گیس، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، ایف ایف سی، یو بی ایل اور ایم سی بی مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے کے دوران، پی ایس ایکس نے ایک غیر یقینی صورتحال سے بھرپور ہفتہ گزارا، جہاں بجٹ سے جڑی امیدوں اور مانیٹری ایزنگ کی توقعات پر مبنی ایک تاریخی تیزی کا مشاہدہ کیا گیا، مگر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو منافع سمیٹنے اور محتاط حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔</p>
<p>کاروباری ہفتے کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، جہاں مارکیٹ نے مالی سال 26-2025 کے لیے پیش کیے گئے 17.3 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ کا خیرمقدم کیا۔ حکومت نے کیپیٹل مارکیٹ کے لیے کسی منفی مالیاتی اقدام کا اعلان نہیں کیا، بلکہ کیپیٹل گینز ٹیکس (سی جی ٹی) کی شقیں توقع سے بہتر نکلیں، جس نے میوچل فنڈز اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو حصص میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔</p>
<p>کے ایس ای-100 انڈیکس 122,144 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار 0.4 فیصد یا 502 پوائنٹس کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی مارکیٹس نے پیر کے روز اپنے اعتماد کو برقرار رکھا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا کیونکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے، جس نے موجودہ معاشی مشکلات کے بیچ جغرافیائی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے ہفتے میں جب مرکزی بینکوں کی میٹنگز شیڈول ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود، سرمایہ کاروں میں گھبراہٹ کے آثار نہیں تھے۔ کرنسی مارکیٹس میں استحکام رہا اور وال اسٹریٹ کے اسٹاک فیوچرز ابتدائی گراوٹ کے بعد سنبھلتے دکھائی دیے۔</p>
<p>تیل کی قیمت میں مزید 1 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو گزشتہ ہفتے کے 13 فیصد اضافے کے بعد آیا، اور یہ افراط زر میں اضافے کی لہر کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہ اضافہ برقرار رہا تو امریکی فیڈرل ریزرو کے لیے بدھ کو ہونے والی میٹنگ میں شرح سود میں کٹوتی کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔</p>
<p>فیوچرز کے مطابق، موجودہ 4.25 فیصد سے 4.5 فیصد کی شرح سود میں کمی کا کوئی امکان نہیں، اور جولائی میں بھی ایسا ہونے کا امکان کم ہے۔ مارکیٹیں فیڈ کے ”ڈاٹ پلاٹ“ میں کسی تبدیلی پر خاص نظر رکھیں گی۔</p>
<p>اس وقت تک، مارکیٹیں دسمبر تک دو بار شرح سود میں کمی پر شرط لگا رہی ہیں، اور ستمبر میں پہلی کمی کو سب سے زیادہ ممکنہ تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>فی الوقت، سرمایہ کار پیش رفت کے منتظر ہیں، جبکہ ایم ایس سی آئی کا جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک حصص کا سب سے بڑا انڈیکس 0.1 فیصد بڑھا۔</p>
<p>جاپان کا نکیئی انڈیکس 0.8 فیصد اور جنوبی کوریا کے اسٹاکس 0.5 فیصد بڑھے۔</p>
<p>چینی بلیو چپس 0.1 فیصد بڑھے کیونکہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مئی میں ریٹیل سیلز 6.4 فیصد بڑھی، جو اندازوں سے بہتر تھی، جبکہ صنعتی پیداوار توقعات کے مطابق رہی۔</p>
<p>ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.1 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز 0.2 فیصد بڑھے، جو ابتدائی گراوٹ سے بحال ہو رہے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/06/161835138ac998f.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273722</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Jun 2025 19:22:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/161023076521cd4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1333" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/161023076521cd4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
