<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 18:11:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 18:11:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر کی اسلام آباد میں پہلی بڑی ’بے نامی جائیداد‘ ضبطی، ملک گیر کارروائی کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273668/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اینٹی بے نامی اقدام (اے بی آئی) نے بے نامی لین دین (ممانعت) ایکٹ 2017 کے تحت اسلام آباد میں پہلی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لی ہیں، جو پاکستان میں کالے دھن اور ٹیکس چوری کے خلاف مہم میں ایک اہم سنگ میل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کی پاکستان ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) میں واقع دو قیمتی پلاٹس، پلاٹ نمبر 168-اے (816 مربع گز) اور پلاٹ نمبر 174-اے (991 مربع گز) تحقیقات کے بعد ضبط کیے گئے ہیں۔ انکشاف ہوا کہ یہ جائیدادیں ایک مبینہ ”بے نامی دار“ کے نام پر رجسٹرڈ تھیں، جس کے قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کا غلط استعمال کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نامزد مالک نے جائیدادوں سے لاعلمی ظاہر کی اور وہ ایف بی آر میں رجسٹرڈ بھی نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلی تفتیش کے بعد مقدمہ بے نامی ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی، بنچ نمبر I، اسلام آباد میں پیش کیا گیا، جس نے فیصلہ ایف بی آر کے بے نامی زون-I اسلام آباد کے حق میں دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی نے ان جائیدادوں کی ضبطی کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے یہ جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام بے نامی اثاثوں کے خلاف حکومت کی سخت گیر مہم کا حصہ ہے، جس کا آغاز جولائی 2019 میں ملک بھر میں تین اینٹی بے نامی زونز کے قیام سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ زونز ڈائریکٹوریٹ جنرل اینٹی بے نامی انیشی ایٹو (اے بی آئی) کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں اور اب تک مختلف اقسام کے اثاثوں، جیسے کہ حصص، بینک اکاؤنٹس، گاڑیاں، زمینیں اور عمارتیں، پر مشتمل 187 سے زائد ریفرنسز دائر کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے بی آئی زون-1، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، سول ڈویژن راولپنڈی اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی اور تحقیقات میں سرگرم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پلاٹس کی کامیاب ضبطی حکومت کی بے نامی لین دین کے خاتمے، معیشت کی غیر دستاویزی سرگرمیوں کی روک تھام، ناجائز و غیر ٹیکس شدہ دولت کی نشاندہی، سفید کالر جرائم کے انسداد اور ریاست کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے کی جاری مہم میں ایک اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اینٹی بے نامی اقدام (اے بی آئی) نے بے نامی لین دین (ممانعت) ایکٹ 2017 کے تحت اسلام آباد میں پہلی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لی ہیں، جو پاکستان میں کالے دھن اور ٹیکس چوری کے خلاف مہم میں ایک اہم سنگ میل ہے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد کی پاکستان ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) میں واقع دو قیمتی پلاٹس، پلاٹ نمبر 168-اے (816 مربع گز) اور پلاٹ نمبر 174-اے (991 مربع گز) تحقیقات کے بعد ضبط کیے گئے ہیں۔ انکشاف ہوا کہ یہ جائیدادیں ایک مبینہ ”بے نامی دار“ کے نام پر رجسٹرڈ تھیں، جس کے قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کا غلط استعمال کیا گیا تھا۔</p>
<p>نامزد مالک نے جائیدادوں سے لاعلمی ظاہر کی اور وہ ایف بی آر میں رجسٹرڈ بھی نہیں تھا۔</p>
<p>تفصیلی تفتیش کے بعد مقدمہ بے نامی ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی، بنچ نمبر I، اسلام آباد میں پیش کیا گیا، جس نے فیصلہ ایف بی آر کے بے نامی زون-I اسلام آباد کے حق میں دیا ہے۔</p>
<p>مزید برآں ایڈجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی نے ان جائیدادوں کی ضبطی کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔</p>
<p>تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے یہ جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔</p>
<p>یہ اقدام بے نامی اثاثوں کے خلاف حکومت کی سخت گیر مہم کا حصہ ہے، جس کا آغاز جولائی 2019 میں ملک بھر میں تین اینٹی بے نامی زونز کے قیام سے ہوا۔</p>
<p>یہ زونز ڈائریکٹوریٹ جنرل اینٹی بے نامی انیشی ایٹو (اے بی آئی) کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں اور اب تک مختلف اقسام کے اثاثوں، جیسے کہ حصص، بینک اکاؤنٹس، گاڑیاں، زمینیں اور عمارتیں، پر مشتمل 187 سے زائد ریفرنسز دائر کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>اے بی آئی زون-1، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، سول ڈویژن راولپنڈی اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی اور تحقیقات میں سرگرم ہے۔</p>
<p>ان پلاٹس کی کامیاب ضبطی حکومت کی بے نامی لین دین کے خاتمے، معیشت کی غیر دستاویزی سرگرمیوں کی روک تھام، ناجائز و غیر ٹیکس شدہ دولت کی نشاندہی، سفید کالر جرائم کے انسداد اور ریاست کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے کی جاری مہم میں ایک اہم پیش رفت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273668</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Jun 2025 17:40:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/141729359a8128b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/141729359a8128b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
