<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 12:50:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 15 Aug 2026 12:50:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا اقوام متحدہ سے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت روکنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273667/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے آصف افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کو فوراً روکے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا روک ٹوک کارروائی کرنے سے باز رکھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی کھلی اشتعال انگیزیاں خطے کے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، جب کہ غزہ، شام، لبنان اور یمن میں اسرائیل کی کارروائیاں یک طرفہ عسکری جارحیت کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز اسرائیل نے ایران کے فوجی، جوہری تنصیبات اور میزائل فیکٹریوں پر مہلک حملے کیے، جن میں کئی فوجی کمانڈر اور اعلیٰ سائنس دان جاں بحق ہوئے۔ تہران نے ان حملوں کو ”اعلانِ جنگ“ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ایران نے جوابی حملے کیے، جن کی گونج دو بڑے شہروں یروشلم اور تل ابیب میں سنی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے 100 سے کم میزائل فائر کیے، جن میں سے بیشتر کو راستے میں ہی تباہ کر دیا گیا یا وہ اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے گر گئے۔ دو امریکی حکام کے مطابق امریکی فوج نے بھی اسرائیل کی جانب آنے والے ایرانی میزائلوں کو مار گرانے میں مدد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے آصف افتخار احمد نے اپنے خطاب میں تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنی اپنی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کریں اور کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے مشکل حالات میں بھی سفارتی روابط اور بات چیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایران کے جوہری مسئلے کے پُرامن حل، سفارتی کوششوں اور مسلسل مکالمے کی حمایت کے پاکستان کے موقف کا اعادہ بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے آصف افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کو فوراً روکے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا روک ٹوک کارروائی کرنے سے باز رکھے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی کھلی اشتعال انگیزیاں خطے کے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، جب کہ غزہ، شام، لبنان اور یمن میں اسرائیل کی کارروائیاں یک طرفہ عسکری جارحیت کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہیں۔</p>
<p>جمعے کے روز اسرائیل نے ایران کے فوجی، جوہری تنصیبات اور میزائل فیکٹریوں پر مہلک حملے کیے، جن میں کئی فوجی کمانڈر اور اعلیٰ سائنس دان جاں بحق ہوئے۔ تہران نے ان حملوں کو ”اعلانِ جنگ“ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>اس کے بعد ایران نے جوابی حملے کیے، جن کی گونج دو بڑے شہروں یروشلم اور تل ابیب میں سنی گئی ہے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے 100 سے کم میزائل فائر کیے، جن میں سے بیشتر کو راستے میں ہی تباہ کر دیا گیا یا وہ اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے گر گئے۔ دو امریکی حکام کے مطابق امریکی فوج نے بھی اسرائیل کی جانب آنے والے ایرانی میزائلوں کو مار گرانے میں مدد دی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے آصف افتخار احمد نے اپنے خطاب میں تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنی اپنی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کریں اور کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسے مشکل حالات میں بھی سفارتی روابط اور بات چیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے ایران کے جوہری مسئلے کے پُرامن حل، سفارتی کوششوں اور مسلسل مکالمے کی حمایت کے پاکستان کے موقف کا اعادہ بھی کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273667</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Jun 2025 17:06:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/14165806caa83df.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="533" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/14165806caa83df.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
