<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 21:35:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 21:35:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا، سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 547 ارب روپے مختص</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273655/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے لیے 547 ارب روپے کی ریکارڈ رقم مختص کی ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کل مختص رقم میں سے 195 ارب روپے صوبے کے سیٹلٹ ڈسٹرکٹ کے لیے رکھے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق، قبائلی اضلاع کے لیے 294 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جو جاری اخراجات اور ترقیاتی کاموں دونوں کو شامل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی ) میں 1342 جاری اور 810 نئی ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں۔ زراعت کے شعبے میں 46 اسکیموں — جن میں 28 جاری اور 18 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 7,251.442 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور کی 31 اسکیموں — جن میں 18 جاری اور 13 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 1,563.961 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، بورڈ آف ریونیو کی 31 اسکیموں — جن میں 21 جاری اور 11 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 1,631.997 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ضلعی اے ڈی پی کی چار اسکیموں کی تکمیل کے لیے 45,600 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینے کے صاف پانی اور صفائی کے شعبے میں 74 اسکیموں — جن میں 50 جاری اور 24 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 10,859.223 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام  کے تحت ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے میں 96 اسکیموں — جن میں 67 جاری اور 29 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 13,513.127 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح، توانائی و بجلی کے محکمے کی 59 اسکیموں — جن میں 41 جاری اور 18 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 4,797.802 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، ماحولیاتی تحفظ کے محکمے کی 5 اسکیموں — جن میں 3 جاری اور 2 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 93.261 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جبکہ اسٹیبلشمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کے محکموں کی 24 اسکیموں — جن میں 15 جاری اور 9 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 1,219.705 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، ایکسائز، ٹیکسیشن اور منشیات کنٹرول محکمہ کی 12 اسکیموں — جن میں 5 جاری اور 7 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 248.181 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈپارٹمنٹ کی 4 جاری اسکیموں کی تکمیل کے لیے 338 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ خوراک کے محکمہ کے لیے 6 جاری اور 2 نئی اسکیموں سمیت مجموعی طور پر8 منصوبوں کی تکمیل کے لیے 338.001 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ جنگلات کی 62 اسکیموں — جن میں 33 جاری اور 29 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 4,239.615 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ صحت کے لیے 182 منصوبوں — جن میں 89 جاری اور 93 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے خطیر رقم 27,240.244 ملین روپے مختص کی گئی ہے۔اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں 63 منصوبوں — جن میں 49 جاری اور 14 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کے لیے 6,274.241 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ محکمہ داخلہ کے 68 منصوبوں — جن میں 46 جاری اور 22 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کے لیے 6,997.224 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہاؤسنگ کی 16 اسکیموں — جن میں 11 جاری اور 5 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 817.463 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔جبکہ محکمہ صنعت کے لیے 40 اسکیموں — جن میں 18 جاری اور 22 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 2,853.865 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ اطلاعات کی چھ اسکیموں — جن میں چار جاری اور دو نئی شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 81 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔جبکہ محکمہ محنت (لیبر) کی چھ اسکیموں — جن میں تین جاری اور تین نئی شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 210.430 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ قانون و انصاف کی 42 اسکیموں — جن میں 32 جاری اور 10 نئی شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 6,460.661 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ لائیو اسٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ کے لیے 23 جاری اور 22 نئی اسکیموں کے لیے 4,078.87 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ بلدیات کے لیے 13 جاری اور 11 نئی اسکیموں کی تکمیل کے لیے 5,978.676 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔جبکہ محکمہ معدنیات و کان کنی (مائنز اینڈ منرلز ڈویلپمنٹ) کی پانچ جاری اور آٹھ نئی اسکیموں کے لیے 290.173 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیر شعبہ جاتی ترقی کے لیے 71 جاری اور 60 نئی اسکیموں کی تکمیل کے لیے 54,279.801 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔محکمہ بہبودِ آبادی  کی چار جاری اور چار نئی اسکیموں کے لیے 646.27 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایک جاری اسکیم کی تکمیل کے لیے 250 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام  کے تحت ریلیف اور بحالی کے شعبے میں 3,200.214 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جس سے 26 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی جن میں 22 جاری اور 4 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑکوں اور انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے مالی سال 2025-26 کے اے ڈی پی میں 53,641.613 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے 583 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی، جن میں 362 جاری اور 221 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائلٹی اور سیس ڈویلپمنٹ کے لیے مالی سال 2025-26 کے اے ڈی پی میں 6,500.84 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن سے 11 منصوبے مکمل کیے جائیں گے، جن میں 4 جاری اور 7 نئے منصوبے شامل ہیں۔اسی طرح سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے لیے 1,548.590 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ 22 اسکیمیں مکمل کی جا سکیں، جن میں 15 جاری اور 7 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے لیے مالی سال 2025-26 کے اے ڈی پی  میں 1,785.737 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن سے 32 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی، جن میں 24 جاری اور 8 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔اسی طرح اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے لیے 8,883 ملین روپے رکھے گئے ہیں تاکہ 51 منصوبے مکمل کیے جا سکیں، جن میں 32 جاری اور 19 نئے منصوبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے لیے 547 ارب روپے کی ریکارڈ رقم مختص کی ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</strong></p>
<p>کل مختص رقم میں سے 195 ارب روپے صوبے کے سیٹلٹ ڈسٹرکٹ کے لیے رکھے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق، قبائلی اضلاع کے لیے 294 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جو جاری اخراجات اور ترقیاتی کاموں دونوں کو شامل کرتے ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی ) میں 1342 جاری اور 810 نئی ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں۔ زراعت کے شعبے میں 46 اسکیموں — جن میں 28 جاری اور 18 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 7,251.442 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور کی 31 اسکیموں — جن میں 18 جاری اور 13 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 1,563.961 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح، بورڈ آف ریونیو کی 31 اسکیموں — جن میں 21 جاری اور 11 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 1,631.997 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ضلعی اے ڈی پی کی چار اسکیموں کی تکمیل کے لیے 45,600 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>پینے کے صاف پانی اور صفائی کے شعبے میں 74 اسکیموں — جن میں 50 جاری اور 24 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 10,859.223 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام  کے تحت ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے میں 96 اسکیموں — جن میں 67 جاری اور 29 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 13,513.127 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح، توانائی و بجلی کے محکمے کی 59 اسکیموں — جن میں 41 جاری اور 18 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 4,797.802 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح، ماحولیاتی تحفظ کے محکمے کی 5 اسکیموں — جن میں 3 جاری اور 2 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 93.261 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جبکہ اسٹیبلشمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کے محکموں کی 24 اسکیموں — جن میں 15 جاری اور 9 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 1,219.705 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح، ایکسائز، ٹیکسیشن اور منشیات کنٹرول محکمہ کی 12 اسکیموں — جن میں 5 جاری اور 7 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 248.181 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>فنانس ڈپارٹمنٹ کی 4 جاری اسکیموں کی تکمیل کے لیے 338 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ خوراک کے محکمہ کے لیے 6 جاری اور 2 نئی اسکیموں سمیت مجموعی طور پر8 منصوبوں کی تکمیل کے لیے 338.001 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔</p>
<p>محکمہ جنگلات کی 62 اسکیموں — جن میں 33 جاری اور 29 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 4,239.615 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>محکمہ صحت کے لیے 182 منصوبوں — جن میں 89 جاری اور 93 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے خطیر رقم 27,240.244 ملین روپے مختص کی گئی ہے۔اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں 63 منصوبوں — جن میں 49 جاری اور 14 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کے لیے 6,274.241 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ محکمہ داخلہ کے 68 منصوبوں — جن میں 46 جاری اور 22 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کے لیے 6,997.224 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔</p>
<p>محکمہ ہاؤسنگ کی 16 اسکیموں — جن میں 11 جاری اور 5 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 817.463 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔جبکہ محکمہ صنعت کے لیے 40 اسکیموں — جن میں 18 جاری اور 22 نئی اسکیمیں شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 2,853.865 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>محکمہ اطلاعات کی چھ اسکیموں — جن میں چار جاری اور دو نئی شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 81 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔جبکہ محکمہ محنت (لیبر) کی چھ اسکیموں — جن میں تین جاری اور تین نئی شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 210.430 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>محکمہ قانون و انصاف کی 42 اسکیموں — جن میں 32 جاری اور 10 نئی شامل ہیں — کی تکمیل کے لیے 6,460.661 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ لائیو اسٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ کے لیے 23 جاری اور 22 نئی اسکیموں کے لیے 4,078.87 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔</p>
<p>محکمہ بلدیات کے لیے 13 جاری اور 11 نئی اسکیموں کی تکمیل کے لیے 5,978.676 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔جبکہ محکمہ معدنیات و کان کنی (مائنز اینڈ منرلز ڈویلپمنٹ) کی پانچ جاری اور آٹھ نئی اسکیموں کے لیے 290.173 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔</p>
<p>کثیر شعبہ جاتی ترقی کے لیے 71 جاری اور 60 نئی اسکیموں کی تکمیل کے لیے 54,279.801 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔محکمہ بہبودِ آبادی  کی چار جاری اور چار نئی اسکیموں کے لیے 646.27 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایک جاری اسکیم کی تکمیل کے لیے 250 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام  کے تحت ریلیف اور بحالی کے شعبے میں 3,200.214 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جس سے 26 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی جن میں 22 جاری اور 4 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔</p>
<p>سڑکوں اور انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے مالی سال 2025-26 کے اے ڈی پی میں 53,641.613 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے 583 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی، جن میں 362 جاری اور 221 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔</p>
<p>رائلٹی اور سیس ڈویلپمنٹ کے لیے مالی سال 2025-26 کے اے ڈی پی میں 6,500.84 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن سے 11 منصوبے مکمل کیے جائیں گے، جن میں 4 جاری اور 7 نئے منصوبے شامل ہیں۔اسی طرح سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے لیے 1,548.590 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ 22 اسکیمیں مکمل کی جا سکیں، جن میں 15 جاری اور 7 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔</p>
<p>سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے لیے مالی سال 2025-26 کے اے ڈی پی  میں 1,785.737 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن سے 32 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی، جن میں 24 جاری اور 8 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔اسی طرح اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے لیے 8,883 ملین روپے رکھے گئے ہیں تاکہ 51 منصوبے مکمل کیے جا سکیں، جن میں 32 جاری اور 19 نئے منصوبے شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273655</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Jun 2025 13:15:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/141313419558c7c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/141313419558c7c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
