<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 18:32:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 18:32:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل-ایران کشیدگی: اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273626/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کا مرکزی بینک ممکنہ طور پر پیر کو اپنی پالیسی شرح سود برقرار رکھے گا کیونکہ اسرائیل کے ایران پر فوجی حملے کے بعد کئی تجزیہ کاروں نے شرح میں کمی کی اپنی سابقہ پیش گوئیاں واپس لے لی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کے خطرات بڑھ گئے ہیں جس سے شرح سود میں فوری کمی کا امکان کم ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے جمعہ کو کہا کہ اس نے ایران کی جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل فیکٹریوں اور فوجی کمانڈروں کو ایک حملے میں نشانہ بنایا ہے تاکہ تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر کئی بروکریج ہاؤسز نے شرح سود میں کمی کی توقع ظاہر کی تھی تاہم اسرائیلی حملوں کے بعد وسیع تر جنگ کے خدشات کے پیش نظر انہوں نے اپنی پیش گوئیاں تبدیل کردیں۔ کشیدگی میں اضافے سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جو پاکستان کے لیے تشویشناک ہے کیونکہ طویل تنازع اور خام تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹ درآمدی مہنگائی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک فوری سروے میں شامل 14 میں سے 11 شرکاء نے توقع ظاہر کی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان شرح سود 12 فیصد پر برقرار رکھے گا۔ دو نے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی جبکہ ایک نے 50 بیسس پوائنٹس کمی کا امکان ظاہر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے سینئر ماہر معاشیات احمد مبین نے کہا کہ  جغرافیائی کشیدگی کے تناظر میں عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے جو مہنگائی کے دباؤ کی واپسی کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں درآمدی بل میں اضافے کا امکان ہے جو بیرونی شعبے کی کارکردگی کو متاثر کرسکتا ہے اور روپے کے تبادلے کی شرح پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیائی ملک میں مہنگائی بڑھنے کی شرح گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل کم ہورہی ہے حالانکہ مئی 2023 میں یہ شرح تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم گزشتہ ماہ مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوا اور یہ 3.5 فیصد تک پہنچ گئی، جو کہ وزارت خزانہ کی 2 فیصد تک کی پیش گوئی سے زیادہ تھی۔ اس اضافے کی ایک وجہ سالانہ بنیاد پر اثرات کا کم ہونا بھی ہے۔ اسٹیٹ بینک رواں مالی سال جو جون میں ختم ہو رہا ہے کے لیے اوسط مہنگائی 5.5 فیصد سے 7.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے مارچ میں شرح سود میں کمی کے سلسلے کو عارضی طور پر روک دیا تھا جبکہ اس سے قبل ریکارڈ 22 فیصد کی بلند سطح سے مجموعی طور پر 1,000 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کی جاچکی تھی۔ مئی میں اس نے دوبارہ نرمی کا آغاز کرتے ہوئے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی اجلاس ایک سخت سالانہ بجٹ کے اجراء کے بعد ہو رہا ہے جس میں پاکستان نے دفاعی اخراجات میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ، تاہم مجموعی اخراجات میں 7 فیصد کی کمی کی گئی۔ بجٹ میں شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی 350 ارب ڈالر مالیت کی معیشت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کے تحت مستحکم ہو چکی ہے جس نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے بچانے میں مدد فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بعض تجزیہ کار حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرح نمو کے ہدف پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الحبیب کیپٹل مارکیٹس کے ریسرچ سربراہ عبدالعظیم، جنہوں نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی ہے کا کہنا تھا کہ کم شرح سود 4.2 فیصد کی شرح نمو کے ہدف کے حصول میں مدد دے سکتی ہے اور قرضوں کی مالیاتی لاگت کو بھی کم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کا مرکزی بینک ممکنہ طور پر پیر کو اپنی پالیسی شرح سود برقرار رکھے گا کیونکہ اسرائیل کے ایران پر فوجی حملے کے بعد کئی تجزیہ کاروں نے شرح میں کمی کی اپنی سابقہ پیش گوئیاں واپس لے لی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کے خطرات بڑھ گئے ہیں جس سے شرح سود میں فوری کمی کا امکان کم ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیل نے جمعہ کو کہا کہ اس نے ایران کی جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل فیکٹریوں اور فوجی کمانڈروں کو ایک حملے میں نشانہ بنایا ہے تاکہ تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔</p>
<p>ابتدائی طور پر کئی بروکریج ہاؤسز نے شرح سود میں کمی کی توقع ظاہر کی تھی تاہم اسرائیلی حملوں کے بعد وسیع تر جنگ کے خدشات کے پیش نظر انہوں نے اپنی پیش گوئیاں تبدیل کردیں۔ کشیدگی میں اضافے سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جو پاکستان کے لیے تشویشناک ہے کیونکہ طویل تنازع اور خام تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹ درآمدی مہنگائی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔</p>
<p>ایک فوری سروے میں شامل 14 میں سے 11 شرکاء نے توقع ظاہر کی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان شرح سود 12 فیصد پر برقرار رکھے گا۔ دو نے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی جبکہ ایک نے 50 بیسس پوائنٹس کمی کا امکان ظاہر کیا۔</p>
<p>ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے سینئر ماہر معاشیات احمد مبین نے کہا کہ  جغرافیائی کشیدگی کے تناظر میں عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے جو مہنگائی کے دباؤ کی واپسی کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں درآمدی بل میں اضافے کا امکان ہے جو بیرونی شعبے کی کارکردگی کو متاثر کرسکتا ہے اور روپے کے تبادلے کی شرح پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>جنوبی ایشیائی ملک میں مہنگائی بڑھنے کی شرح گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل کم ہورہی ہے حالانکہ مئی 2023 میں یہ شرح تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔</p>
<p>تاہم گزشتہ ماہ مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوا اور یہ 3.5 فیصد تک پہنچ گئی، جو کہ وزارت خزانہ کی 2 فیصد تک کی پیش گوئی سے زیادہ تھی۔ اس اضافے کی ایک وجہ سالانہ بنیاد پر اثرات کا کم ہونا بھی ہے۔ اسٹیٹ بینک رواں مالی سال جو جون میں ختم ہو رہا ہے کے لیے اوسط مہنگائی 5.5 فیصد سے 7.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع کررہا ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک نے مارچ میں شرح سود میں کمی کے سلسلے کو عارضی طور پر روک دیا تھا جبکہ اس سے قبل ریکارڈ 22 فیصد کی بلند سطح سے مجموعی طور پر 1,000 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کی جاچکی تھی۔ مئی میں اس نے دوبارہ نرمی کا آغاز کرتے ہوئے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی تھی۔</p>
<p>پالیسی اجلاس ایک سخت سالانہ بجٹ کے اجراء کے بعد ہو رہا ہے جس میں پاکستان نے دفاعی اخراجات میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ، تاہم مجموعی اخراجات میں 7 فیصد کی کمی کی گئی۔ بجٹ میں شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد رکھا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی 350 ارب ڈالر مالیت کی معیشت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج کے تحت مستحکم ہو چکی ہے جس نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے بچانے میں مدد فراہم کی۔</p>
<p>تاہم بعض تجزیہ کار حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرح نمو کے ہدف پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
<p>الحبیب کیپٹل مارکیٹس کے ریسرچ سربراہ عبدالعظیم، جنہوں نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کی پیش گوئی کی ہے کا کہنا تھا کہ کم شرح سود 4.2 فیصد کی شرح نمو کے ہدف کے حصول میں مدد دے سکتی ہے اور قرضوں کی مالیاتی لاگت کو بھی کم کر سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273626</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Jun 2025 14:56:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/131453459e05ced.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/131453459e05ced.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
