<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 05:06:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 05:06:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای سی سی نے ناقص مالی تخمینوں کی بنیاد پر وائٹ آئل پائپ لائن منصوبہ مسترد کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273605/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ماچھیکے۔ٹھلیاں۔تاروجبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبہ. (ایم ٹی ٹی - ڈبلیو او پی) منصوبے کو اس کی موجودہ شکل میں منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے، اور منصوبے میں شامل ڈالر بیسڈ ٹیرف پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ای سی سی کو خدشہ ہے کہ متنازع مالی تخمینوں پر مبنی ٹیرف بالآخر صارفین پر مہنگے نرخوں کی صورت میں بوجھ ڈال سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم ڈویژن نے ای سی سی کو بتایا کہ جولائی 2024 میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان نے آذربائیجان کو متعدد منصوبے سرمایہ کاری کے لیے پیش کیے تھے جن میں وائٹ آئل پائپ لائن بھی شامل تھی۔ بعدازاں، مختلف سطحوں پر آذربائیجانی کمپنی ایس او سی اے آر کے ساتھ مشاورت اور مذاکرات کے کئی دور ہوئے، اورفرنٹیئرز ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور پاکستان اسٹیٹ آئل ( پی ایس او) کی مشترکہ کمپنی فرنٹیئرز آئل کمپنی-I (ایف او سی-I) نے یس او سی اے آر کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے “ شپ او پے“ کا متبادل ماڈل تیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے تحت، اوگرا کو پائپ لائن کو ”ڈیفالٹ ٹرانسپورٹ موڈ“ قرار دے کر اس کے مکمل استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ایف او سی-I نے ماچھیکے سے ٹھلیاں تک کے سیکشن کے لیے ٹیرف کی درخواست اوگرا کو دی، جسے عبوری طور پر منظور کیا گیا۔ تاہم، ٹھلیاں سے تاروجبہ تک کے سیکشن کے لیے ٹیرف پر کام جاری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوگرا کی جانب سے تجویز کردہ پالیسی گائیڈ لائنز میں ڈالر بیسڈ ٹیرف، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے کم از کم سالانہ مقدار کی پابندی، اور ان مقداروں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں انٹر فریٹ ایکویلائزیشن مارجن (آئی ایم ای ایم) کے ذریعے ایڈجسٹمنٹ شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ای سی سی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈالر بیسڈ ٹیرف ملک کے مالیاتی حالات کے تناظر میں ناقابل قبول ہے، خاص طور پر جب کہ حکومت غیر ملکی کرنسی میں ادائیگیوں سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ ٹیرف کا تعین اوگرا کے موجودہ ضوابط کی بجائے غیر واضح مالی تخمینوں کی بنیاد پر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ منصوبے میں صرف 25 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری ہے جب کہ باقی 75 فیصد مقامی سرمایہ کاروں کی شراکت ہے، مگر ڈالر بیسڈ ٹیرف کا اطلاق مقامی شراکت داروں پر بھی تجویز کیا گیا، جو کہ قابل قبول نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن اور منصوبہ بندی ڈویژن کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے ای سی سی نے ہدایت کی کہ پٹرولیم اور منصوبہ بندی کے وزرا کی موجودگی میں مجوزہ مالیاتی ماڈل پر دوبارہ غور کیا جائے اور قابل بھروسا مالیاتی تخمینوں کی بنیاد پر نیا ٹیرف تجویز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری پٹرولیم کی مشترکہ سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں اوگرا اور وزارت منصوبہ بندی کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی منصوبے کی مالیاتی شرائط کا ازسرنو جائزہ لے گی اور صارفین پر منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے حقیقت پر مبنی ٹیرف تجویز کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ماچھیکے۔ٹھلیاں۔تاروجبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبہ. (ایم ٹی ٹی - ڈبلیو او پی) منصوبے کو اس کی موجودہ شکل میں منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے، اور منصوبے میں شامل ڈالر بیسڈ ٹیرف پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ای سی سی کو خدشہ ہے کہ متنازع مالی تخمینوں پر مبنی ٹیرف بالآخر صارفین پر مہنگے نرخوں کی صورت میں بوجھ ڈال سکتا ہے۔</strong></p>
<p>پٹرولیم ڈویژن نے ای سی سی کو بتایا کہ جولائی 2024 میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان نے آذربائیجان کو متعدد منصوبے سرمایہ کاری کے لیے پیش کیے تھے جن میں وائٹ آئل پائپ لائن بھی شامل تھی۔ بعدازاں، مختلف سطحوں پر آذربائیجانی کمپنی ایس او سی اے آر کے ساتھ مشاورت اور مذاکرات کے کئی دور ہوئے، اورفرنٹیئرز ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور پاکستان اسٹیٹ آئل ( پی ایس او) کی مشترکہ کمپنی فرنٹیئرز آئل کمپنی-I (ایف او سی-I) نے یس او سی اے آر کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے “ شپ او پے“ کا متبادل ماڈل تیار کیا۔</p>
<p>منصوبے کے تحت، اوگرا کو پائپ لائن کو ”ڈیفالٹ ٹرانسپورٹ موڈ“ قرار دے کر اس کے مکمل استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ایف او سی-I نے ماچھیکے سے ٹھلیاں تک کے سیکشن کے لیے ٹیرف کی درخواست اوگرا کو دی، جسے عبوری طور پر منظور کیا گیا۔ تاہم، ٹھلیاں سے تاروجبہ تک کے سیکشن کے لیے ٹیرف پر کام جاری تھا۔</p>
<p>اوگرا کی جانب سے تجویز کردہ پالیسی گائیڈ لائنز میں ڈالر بیسڈ ٹیرف، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے کم از کم سالانہ مقدار کی پابندی، اور ان مقداروں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں انٹر فریٹ ایکویلائزیشن مارجن (آئی ایم ای ایم) کے ذریعے ایڈجسٹمنٹ شامل تھیں۔</p>
<p>تاہم ای سی سی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈالر بیسڈ ٹیرف ملک کے مالیاتی حالات کے تناظر میں ناقابل قبول ہے، خاص طور پر جب کہ حکومت غیر ملکی کرنسی میں ادائیگیوں سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ ٹیرف کا تعین اوگرا کے موجودہ ضوابط کی بجائے غیر واضح مالی تخمینوں کی بنیاد پر کیا گیا۔</p>
<p>ای سی سی نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ منصوبے میں صرف 25 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری ہے جب کہ باقی 75 فیصد مقامی سرمایہ کاروں کی شراکت ہے، مگر ڈالر بیسڈ ٹیرف کا اطلاق مقامی شراکت داروں پر بھی تجویز کیا گیا، جو کہ قابل قبول نہیں۔</p>
<p>فنانس ڈویژن اور منصوبہ بندی ڈویژن کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے ای سی سی نے ہدایت کی کہ پٹرولیم اور منصوبہ بندی کے وزرا کی موجودگی میں مجوزہ مالیاتی ماڈل پر دوبارہ غور کیا جائے اور قابل بھروسا مالیاتی تخمینوں کی بنیاد پر نیا ٹیرف تجویز کیا جائے۔</p>
<p>ای سی سی نے فیصلہ کیا کہ سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری پٹرولیم کی مشترکہ سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں اوگرا اور وزارت منصوبہ بندی کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی منصوبے کی مالیاتی شرائط کا ازسرنو جائزہ لے گی اور صارفین پر منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے حقیقت پر مبنی ٹیرف تجویز کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273605</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Jun 2025 09:54:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/13095320aa51a2e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/13095320aa51a2e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
