<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 06:32:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 06:32:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدات پر مبنی معیشت کیلئے طویل المدتی صنعتی پالیسی تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273602/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے ایک جامع اور طویل المدتی صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے جس کا مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ یہ پالیسی جلد وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے ”بزنس ریکارڈر“ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ اس پالیسی کی تیاری میں کاروباری برادری سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے، اور ان کی تجاویز کی روشنی میں پالیسی کو حتمی شکل دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور دیگر تجارتی تنظیموں کے مطالبے پر یہ پالیسی پانچ سال کے لیے بنائی گئی ہے۔ پالیسی کی تشکیل کے لیے وزیرِ اعظم نے آٹھ کمیٹیاں تشکیل دی تھیں تاکہ صنعتی شعبے کو دوبارہ فعال کیا جا سکے، خاص طور پر بڑی صنعتوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر بھی توجہ دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جاری پروگرام کی وجہ سے اس بار بجٹ میں کاروباری برادری کو خاطر خواہ ٹیکس ریلیف نہیں دیا جا سکا، تاہم آئندہ برسوں میں ٹیکس ریٹس میں کمی، شرح سود میں کمی اور گیس و بجلی کے نرخوں میں صنعتی شعبے کے لیے بہتری متعارف کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے برآمدات پر مبنی معیشت کا ڈھانچہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کی نئی صنعتی پالیسی صنعتوں کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار کی گئی ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ بجٹ 2025 کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ چھوٹے کاروباروں اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے خاص مدد فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی انقلاب کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کو بحال کرنا اور مراعات میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم خود ایف بی آر کی ریونیو وصولی کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ٹیکس اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے، جبکہ ایف بی آر اور نیب کے کردار کو بھی محدود کیا جائے گا تاکہ کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے جا رہی ہے تاکہ برآمدی صنعتوں کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ مزید برآں، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے قانون میں بھی ترامیم متعارف کرائی جا رہی ہیں جن کا مقصد کاروباری اداروں کو بلاوجہ تفتیشی اداروں کی مداخلت سے تحفظ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان کے مطابق، نیب، ایف آئی اے اور دیگر ادارے اب کسی کاروباری فرد یا ادارے کے خلاف کارروائی سے قبل ایس ای سی پی سے اجازت لینے کے پابند ہوں گے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت یا منی لانڈرنگ کے شکوک کی صورت میں بھی پہلے مکمل تحقیقات ہوں گی، پھر معاملہ متعلقہ ادارے کو بھیجا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اضافی جرمانے اور سرچارجز معاف کرنے پر غور کر رہی ہے، اور بند صنعتی یونٹس کو فعال کرنے کے لیے ایک صنعتی پیکج تیار کیا گیا ہے۔ آخر میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک میں پہلی بار دیوالیہ پن  کا قانون متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت بند صنعتی یونٹس کے مالکان بینکوں سے قرض لے سکیں گے تاکہ وہ اپنی پیداوار دوبارہ شروع کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے ایک جامع اور طویل المدتی صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دے دی ہے جس کا مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ یہ پالیسی جلد وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے ”بزنس ریکارڈر“ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ اس پالیسی کی تیاری میں کاروباری برادری سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے، اور ان کی تجاویز کی روشنی میں پالیسی کو حتمی شکل دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور دیگر تجارتی تنظیموں کے مطالبے پر یہ پالیسی پانچ سال کے لیے بنائی گئی ہے۔ پالیسی کی تشکیل کے لیے وزیرِ اعظم نے آٹھ کمیٹیاں تشکیل دی تھیں تاکہ صنعتی شعبے کو دوبارہ فعال کیا جا سکے، خاص طور پر بڑی صنعتوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر بھی توجہ دی جا سکے۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جاری پروگرام کی وجہ سے اس بار بجٹ میں کاروباری برادری کو خاطر خواہ ٹیکس ریلیف نہیں دیا جا سکا، تاہم آئندہ برسوں میں ٹیکس ریٹس میں کمی، شرح سود میں کمی اور گیس و بجلی کے نرخوں میں صنعتی شعبے کے لیے بہتری متعارف کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے برآمدات پر مبنی معیشت کا ڈھانچہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کی نئی صنعتی پالیسی صنعتوں کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار کی گئی ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ بجٹ 2025 کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ چھوٹے کاروباروں اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے خاص مدد فراہم کرے گا۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی انقلاب کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے اعتماد کو بحال کرنا اور مراعات میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم خود ایف بی آر کی ریونیو وصولی کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ٹیکس اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے، جبکہ ایف بی آر اور نیب کے کردار کو بھی محدود کیا جائے گا تاکہ کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو۔</p>
<p>انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے جا رہی ہے تاکہ برآمدی صنعتوں کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ مزید برآں، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے قانون میں بھی ترامیم متعارف کرائی جا رہی ہیں جن کا مقصد کاروباری اداروں کو بلاوجہ تفتیشی اداروں کی مداخلت سے تحفظ دینا ہے۔</p>
<p>ہارون اختر خان کے مطابق، نیب، ایف آئی اے اور دیگر ادارے اب کسی کاروباری فرد یا ادارے کے خلاف کارروائی سے قبل ایس ای سی پی سے اجازت لینے کے پابند ہوں گے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت یا منی لانڈرنگ کے شکوک کی صورت میں بھی پہلے مکمل تحقیقات ہوں گی، پھر معاملہ متعلقہ ادارے کو بھیجا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت صنعتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اضافی جرمانے اور سرچارجز معاف کرنے پر غور کر رہی ہے، اور بند صنعتی یونٹس کو فعال کرنے کے لیے ایک صنعتی پیکج تیار کیا گیا ہے۔ آخر میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک میں پہلی بار دیوالیہ پن  کا قانون متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت بند صنعتی یونٹس کے مالکان بینکوں سے قرض لے سکیں گے تاکہ وہ اپنی پیداوار دوبارہ شروع کر سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273602</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Jun 2025 09:15:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/13091534846ad0d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="661" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/13091534846ad0d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
