<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 18:26:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 18:26:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>18 فیصد ٹیکس کی حکومتی تجویز کے باوجود پاکستان میں شمسی توانائی کی مقبولیت برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273588/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چراٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ (سی ایچ سی سی) نے خیبر پختونخوا میں واقع اپنی فیکٹری میں 2.935 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کی کمیشننگ کے ذریعے اپنے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے کو مزید وسعت دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیمنٹ بنانے والی اس لسٹڈ کمپنی نے جمعرات کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو دیے گئے ایک نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا کہ
ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ کمپنی نے تقریباً 9 میگاواٹ کے منصوبے میں سے 2.935 میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ 11 جون 2025 کو نوشہرہ، خیبر پختونخوا میں واقع اپنی فیکٹری میں کمیشن کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق
اس منصوبے کے کمیشن ہونے کے بعد کمپنی کی کل سولر کیپٹو پاور جنریشن کی گنجائش تقریباً 23 میگاواٹ ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل اپریل میں بھی چراٹ سیمنٹ نے اپنی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں 6.065 میگاواٹ کا اضافہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان ایک کم آمدنی والا ملک ہے اور مختلف معاشی و سماجی مسائل کا شکار ہے، مگر یہاں ایک ’سبز انقلاب‘ خاموشی سے جاری ہے، اور یہ  ملک دنیا کی ابھرتی ہوئی شمسی منڈیوں میں شامل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے انرجی تھنک ٹینک ایمبر کی جانب سے جاری کردہ ”گلوبل الیکٹریسٹی ریویو 2025“ کے مطابق، پاکستان نے 2024 میں 17 گیگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے، جس سے وہ دنیا کے بڑے شمسی توانائی استعمال کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بجلی کی کھپت میں جمود کے باعث اس رجحان کے توانائی کے شعبے اور قومی گرڈ پر اثرات پر پالیسی ساز غور و فکر میں مبتلا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں، وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں درآمد شدہ سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں اپنے بجٹ خطاب میں کہا کہ یہ ٹیکس مقامی صنعت کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں سولر ٹیکنالوجی کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے، اور پاکستان اکنامک سروے 25-2024 کے مطابق، 31 مارچ 2025 تک ملک میں نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت 2,813 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چراٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ (سی ایچ سی سی) نے خیبر پختونخوا میں واقع اپنی فیکٹری میں 2.935 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کی کمیشننگ کے ذریعے اپنے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے کو مزید وسعت دے دی ہے۔</strong></p>
<p>سیمنٹ بنانے والی اس لسٹڈ کمپنی نے جمعرات کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو دیے گئے ایک نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا کہ
ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ کمپنی نے تقریباً 9 میگاواٹ کے منصوبے میں سے 2.935 میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ 11 جون 2025 کو نوشہرہ، خیبر پختونخوا میں واقع اپنی فیکٹری میں کمیشن کر دیا ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق
اس منصوبے کے کمیشن ہونے کے بعد کمپنی کی کل سولر کیپٹو پاور جنریشن کی گنجائش تقریباً 23 میگاواٹ ہو گئی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل اپریل میں بھی چراٹ سیمنٹ نے اپنی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں 6.065 میگاواٹ کا اضافہ کیا تھا۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان ایک کم آمدنی والا ملک ہے اور مختلف معاشی و سماجی مسائل کا شکار ہے، مگر یہاں ایک ’سبز انقلاب‘ خاموشی سے جاری ہے، اور یہ  ملک دنیا کی ابھرتی ہوئی شمسی منڈیوں میں شامل ہو چکا ہے۔</p>
<p>برطانیہ کے انرجی تھنک ٹینک ایمبر کی جانب سے جاری کردہ ”گلوبل الیکٹریسٹی ریویو 2025“ کے مطابق، پاکستان نے 2024 میں 17 گیگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے، جس سے وہ دنیا کے بڑے شمسی توانائی استعمال کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔</p>
<p>تاہم بجلی کی کھپت میں جمود کے باعث اس رجحان کے توانائی کے شعبے اور قومی گرڈ پر اثرات پر پالیسی ساز غور و فکر میں مبتلا ہیں۔</p>
<p>اسی تناظر میں، وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں درآمد شدہ سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں اپنے بجٹ خطاب میں کہا کہ یہ ٹیکس مقامی صنعت کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں سولر ٹیکنالوجی کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے، اور پاکستان اکنامک سروے 25-2024 کے مطابق، 31 مارچ 2025 تک ملک میں نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت 2,813 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273588</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Jun 2025 15:24:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/12152410c8b56a6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="678" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/12152410c8b56a6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
