<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Jul 2026 07:55:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Jul 2026 07:55:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>احمد آباد میں ایئر انڈیا کا طیارہ گرکر تباہ، 200 سے زائد افراد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273585/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کے مغربی شہر احمد آباد سے اڑان بھرنے کے چند منٹ بعد ایئر انڈیا کا طیارہ حادثے کا شکار ہوکر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے، طیارے میں 242 افراد سوار تھے جو لندن کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ دنیا بھر میں پیش آنے والے بدترین فضائی حادثات میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارہ رہائشی علاقے میں واقعے ایک ہاسٹل پر دوبہر کے کھانے کے وقت گرا۔  یہ برطانوی دارالحکومت کے جنوب میں واقع گیٹوک ایئرپورٹ جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی دارالحکومت احمد آباد کے پولیس چیف جی۔ ایس۔ ملک نے روئٹرز کو بتایا کہ حادثے کی جگہ سے 204 لاشیں ملی ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں کی کوئی اطلاع نہیں۔ انڈین ایکسپریس اخبار نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ طیارے میں سوار تمام 242 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی-ایس- ملک نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں ممکنہ طور پر ہاسٹل کے رہائشی اور طیارے کے مسافر دونوں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گجرات کے سیکرٹری صحت دھننجے دویدی نے کہا کہ لواحقین سے لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے دینے کی اپیل کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر پولیس افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ جس عمارت پر یہ طیارہ گرا ہے، وہ ڈاکٹروں کا ہاسٹل ہے، ہم نے تقریباً 70 سے 80 فیصد علاقے کو صاف کر لیا ہے اور باقی جلد صاف کر لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ٹی وی چینل سی این این نیوز-18 نے رپورٹ کیا کہ طیارہ سرکاری بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل ڈائننگ ہال پر گر کر تباہ ہوا جس کے نتیجے میں میڈیکل کے کئی طلبہ بھی ہلاک ہوئے۔ چینل نے طیارے کے ایک حصے کی تصویر دکھائی جو عمارت کے اوپر پھنسا ہوا نظر آ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کو ایک ذریعے نے بتایا کہ مسافروں میں 217 بالغ، 11 بچے اور دو شیر خوار بچے شامل تھے۔ ایئر انڈیا کے مطابق طیارے میں 169 بھارتی شہری، 53 برطانوی، سات پرتگالی اور ایک کینیڈین شہری سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوی ایشن ٹریکنگ سائٹ فلائٹ ریڈار24 کے مطابق یہ طیارہ بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر تھا، جو دنیا کے جدید ترین مسافر طیاروں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈریم لائنر ماڈل کا پہلا حادثہ تھا، جو تجارتی پروازوں کے لیے 2011 میں متعارف ہوا تھا، ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک ڈیٹا بیس کے مطابق فلائٹ ریڈار 24 نے بتایا کہ یہ مخصوص طیارہ پہلی بار 2013 میں پرواز کے قابل ہوا اور جنوری 2014 میں ایئر انڈیا کو فراہم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ فی الحال ہم معلومات حاصل کر رہے ہیں، اور جیسے ہی مزید تفصیلات دستیاب ہوں گی، ہم آگاہ کریں گے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/airindia/status/1933086483142902226?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1933086483142902226%7Ctwgr%5Ec40ee7b91054abf8cc20d33757a5514cd8bbb0a3%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40367371"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اڑان بھرنے کے فوراً بعد حادثہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی ویژن چینلز کی رپورٹس کے مطابق حادثہ طیارے کے پرواز بھرنے کے فوراً بعد پیش آیا۔ ایک چینل نے دکھایا کہ طیارہ ایک رہائشی علاقے کے اوپر سے اُڑ رہا تھا اور پھر اسکرین سے غائب ہو گیا، جس کے بعد رہائشی مکانات کے عقب سے آگ کا ایک بڑا شعلہ آسمان کی طرف بلند ہوتا نظر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویژولز میں جلتے ہوئے ملبے کو بھی دکھایا گیا اور ایئرپورٹ کے قریب آسمان کی طرف  سیاہ دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مناظر میں یہ بھی دکھایا گیا کہ لوگوں کو اسٹریچرز پر لے جایا جا رہا ہے اور ایمبولینسوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مسافر کے رشتہ دار پونم پٹیل نے احمد آباد کے سرکاری اسپتال میں خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ میری بھابھی لندن جا رہی تھیں، ایک گھنٹے کے اندر مجھے خبر ملی کہ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رامیلا، جو میڈیکل کالج کے ایک طالبعلم کی والدہ ہیں، نے اے این آئی کو بتایا کہ ان کا بیٹا لنچ بریک کے لیے ہاسٹل گیا تھا جب طیارہ گرا، میرا بیٹا محفوظ ہے، میں نے اس سے بات کی ہے۔ وہ دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر نیچے آیا، اس لیے کچھ چوٹیں آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد آباد ایئرپورٹ کے ایئر ٹریفک کنٹرول کے مطابق طیارہ دوپہر 1:39 بجے (0809 جی ایم ٹی) رن وے 23 سے روانہ ہوا۔ اس نے ”می ڈے“ کال دی، جو کہ ایمرجنسی کی علامت ہے، لیکن اس کے بعد طیارے سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلائٹ ریڈار 24 نے بھی کہا کہ طیارے سے آخری سگنل ٹیک آف کے چند سیکنڈ بعد موصول ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوئنگ نے کہا کہ وہ ابتدائی رپورٹس سے آگاہ ہے اور مزید معلومات اکٹھی کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ مارکیٹ کھلنے سے پہلے ٹریڈنگ میں بوئنگ کے شیئرز 6.8 فیصد کمی کے ساتھ 199.13 ڈالر پر آ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی وزارتِ خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ وہ بھارتی حکام کے ساتھ مل کر اس حادثے کی تفصیلات معلوم کرنے اور متاثرہ افراد کو مدد فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر پوسٹ کی کہ احمد آباد میں پیش آنے والے سانحے نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے، یہ دکھ بیان کرنے کیلئے الفاظ موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/narendramodi/status/1933110947553681853?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1933110947553681853%7Ctwgr%5Edbd5c07f2a2ca25b1056599fe42ce870b9ff60c1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40367371"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ حادثے کی سامنے آنے والی تصاویر ”دل دہلا دینے والی“ ہیں اور یہ کہ انہیں صورتحال کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ بکنگھم پیلس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بادشاہ چارلس کو بھی اس حادثے کے بارے میں مسلسل اپ ڈیٹ دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مودی کی آبائی ریاست&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیر ہوا بازی کے دفتر نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ہدایت دی ہے کہ امدادی کارروائیوں کے لیے فوری طور پر ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد آباد، مودی کی آبائی ریاست گجرات کا صدر مقام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد آباد ایئرپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ تمام پروازوں کی آمد و رفت کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ ایئرپورٹ بھارت کے اڈانی گروپ کے زیرِ انتظام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اڈانی گروپ کے بانی اور چیئرمین، گوتم اڈانی نے ایکس پر لکھا کہ ہم ایئر انڈیا فلائٹ 171 کے اس سانحے پر صدمے اور گہرے دکھ میں مبتلا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/gautam_adani/status/1933099124951494656?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1933099124951494656%7Ctwgr%5Ec5f352a65bbe11166ee59fda12949b7511e01fdd%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40367371"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارے دل اُن خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہیں ناقابلِ تصور نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہم تمام متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور زمینی سطح پر متاثرہ خاندانوں کو مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں اس سے پہلے مہلک فضائی حادثہ 2020 میں پیش آیا تھا جو ایئر انڈیا ایکسپریس – ایئر انڈیا کی کم خرچ سروس تھی– کے طیارے کے ساتھ پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حادثے میں ایئر لائن کا بوئنگ 737 طیارہ جنوبی بھارت کے کوژیکوڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک ”ٹیبل ٹاپ“ رن وے سے آگے نکل گیا۔ طیارہ رن وے سے پھسل کر ایک وادی میں جا گرا اور زمین سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حادثے میں اکیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابقہ سرکاری ملکیت والی ایئر انڈیا کو 2022 میں بھارتی کاروباری ادارے ٹاٹا گروپ نے خرید لیا تھا اور 2024 میں اسے وستارا کے ساتھ ضم کر دیا گیا تھا — جو ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز کا مشترکہ منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاٹا گروپ نے بتایا ہے کہ ایک ایمرجنسی سینٹر فعال کر دیا گیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک مددگار ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کے مغربی شہر احمد آباد سے اڑان بھرنے کے چند منٹ بعد ایئر انڈیا کا طیارہ حادثے کا شکار ہوکر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے، طیارے میں 242 افراد سوار تھے جو لندن کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔ حکام کے مطابق یہ حادثہ دنیا بھر میں پیش آنے والے بدترین فضائی حادثات میں سے ایک ہے۔</p>
<p>طیارہ رہائشی علاقے میں واقعے ایک ہاسٹل پر دوبہر کے کھانے کے وقت گرا۔  یہ برطانوی دارالحکومت کے جنوب میں واقع گیٹوک ایئرپورٹ جا رہا تھا۔</p>
<p>صوبائی دارالحکومت احمد آباد کے پولیس چیف جی۔ ایس۔ ملک نے روئٹرز کو بتایا کہ حادثے کی جگہ سے 204 لاشیں ملی ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں کی کوئی اطلاع نہیں۔ انڈین ایکسپریس اخبار نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ طیارے میں سوار تمام 242 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>جی-ایس- ملک نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں ممکنہ طور پر ہاسٹل کے رہائشی اور طیارے کے مسافر دونوں شامل ہیں۔</p>
<p>گجرات کے سیکرٹری صحت دھننجے دویدی نے کہا کہ لواحقین سے لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے دینے کی اپیل کی گئی ہے۔</p>
<p>ایک سینئر پولیس افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ جس عمارت پر یہ طیارہ گرا ہے، وہ ڈاکٹروں کا ہاسٹل ہے، ہم نے تقریباً 70 سے 80 فیصد علاقے کو صاف کر لیا ہے اور باقی جلد صاف کر لیں گے۔</p>
<p>بھارتی ٹی وی چینل سی این این نیوز-18 نے رپورٹ کیا کہ طیارہ سرکاری بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل ڈائننگ ہال پر گر کر تباہ ہوا جس کے نتیجے میں میڈیکل کے کئی طلبہ بھی ہلاک ہوئے۔ چینل نے طیارے کے ایک حصے کی تصویر دکھائی جو عمارت کے اوپر پھنسا ہوا نظر آ رہا تھا۔</p>
<p>رائٹرز کو ایک ذریعے نے بتایا کہ مسافروں میں 217 بالغ، 11 بچے اور دو شیر خوار بچے شامل تھے۔ ایئر انڈیا کے مطابق طیارے میں 169 بھارتی شہری، 53 برطانوی، سات پرتگالی اور ایک کینیڈین شہری سوار تھے۔</p>
<p>ایوی ایشن ٹریکنگ سائٹ فلائٹ ریڈار24 کے مطابق یہ طیارہ بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر تھا، جو دنیا کے جدید ترین مسافر طیاروں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>یہ ڈریم لائنر ماڈل کا پہلا حادثہ تھا، جو تجارتی پروازوں کے لیے 2011 میں متعارف ہوا تھا، ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک ڈیٹا بیس کے مطابق فلائٹ ریڈار 24 نے بتایا کہ یہ مخصوص طیارہ پہلی بار 2013 میں پرواز کے قابل ہوا اور جنوری 2014 میں ایئر انڈیا کو فراہم کیا گیا۔</p>
<p>ایئر انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ فی الحال ہم معلومات حاصل کر رہے ہیں، اور جیسے ہی مزید تفصیلات دستیاب ہوں گی، ہم آگاہ کریں گے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/airindia/status/1933086483142902226?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1933086483142902226%7Ctwgr%5Ec40ee7b91054abf8cc20d33757a5514cd8bbb0a3%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40367371"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p><strong>اڑان بھرنے کے فوراً بعد حادثہ</strong></p>
<p>ٹیلی ویژن چینلز کی رپورٹس کے مطابق حادثہ طیارے کے پرواز بھرنے کے فوراً بعد پیش آیا۔ ایک چینل نے دکھایا کہ طیارہ ایک رہائشی علاقے کے اوپر سے اُڑ رہا تھا اور پھر اسکرین سے غائب ہو گیا، جس کے بعد رہائشی مکانات کے عقب سے آگ کا ایک بڑا شعلہ آسمان کی طرف بلند ہوتا نظر آیا۔</p>
<p>ویژولز میں جلتے ہوئے ملبے کو بھی دکھایا گیا اور ایئرپورٹ کے قریب آسمان کی طرف  سیاہ دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔</p>
<p>ان مناظر میں یہ بھی دکھایا گیا کہ لوگوں کو اسٹریچرز پر لے جایا جا رہا ہے اور ایمبولینسوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایک مسافر کے رشتہ دار پونم پٹیل نے احمد آباد کے سرکاری اسپتال میں خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ میری بھابھی لندن جا رہی تھیں، ایک گھنٹے کے اندر مجھے خبر ملی کہ طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>رامیلا، جو میڈیکل کالج کے ایک طالبعلم کی والدہ ہیں، نے اے این آئی کو بتایا کہ ان کا بیٹا لنچ بریک کے لیے ہاسٹل گیا تھا جب طیارہ گرا، میرا بیٹا محفوظ ہے، میں نے اس سے بات کی ہے۔ وہ دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر نیچے آیا، اس لیے کچھ چوٹیں آئی ہیں۔</p>
<p>احمد آباد ایئرپورٹ کے ایئر ٹریفک کنٹرول کے مطابق طیارہ دوپہر 1:39 بجے (0809 جی ایم ٹی) رن وے 23 سے روانہ ہوا۔ اس نے ”می ڈے“ کال دی، جو کہ ایمرجنسی کی علامت ہے، لیکن اس کے بعد طیارے سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔</p>
<p>فلائٹ ریڈار 24 نے بھی کہا کہ طیارے سے آخری سگنل ٹیک آف کے چند سیکنڈ بعد موصول ہوا۔</p>
<p>بوئنگ نے کہا کہ وہ ابتدائی رپورٹس سے آگاہ ہے اور مزید معلومات اکٹھی کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ مارکیٹ کھلنے سے پہلے ٹریڈنگ میں بوئنگ کے شیئرز 6.8 فیصد کمی کے ساتھ 199.13 ڈالر پر آ گئے۔</p>
<p>برطانیہ کی وزارتِ خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ وہ بھارتی حکام کے ساتھ مل کر اس حادثے کی تفصیلات معلوم کرنے اور متاثرہ افراد کو مدد فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔</p>
<p>بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر پوسٹ کی کہ احمد آباد میں پیش آنے والے سانحے نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے، یہ دکھ بیان کرنے کیلئے الفاظ موجود نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/narendramodi/status/1933110947553681853?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1933110947553681853%7Ctwgr%5Edbd5c07f2a2ca25b1056599fe42ce870b9ff60c1%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40367371"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ حادثے کی سامنے آنے والی تصاویر ”دل دہلا دینے والی“ ہیں اور یہ کہ انہیں صورتحال کی پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ بکنگھم پیلس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بادشاہ چارلس کو بھی اس حادثے کے بارے میں مسلسل اپ ڈیٹ دیا جا رہا ہے۔</p>
<p><strong>مودی کی آبائی ریاست</strong></p>
<p>بھارتی وزیر ہوا بازی کے دفتر نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ہدایت دی ہے کہ امدادی کارروائیوں کے لیے فوری طور پر ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔</p>
<p>احمد آباد، مودی کی آبائی ریاست گجرات کا صدر مقام ہے۔</p>
<p>احمد آباد ایئرپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ تمام پروازوں کی آمد و رفت کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ ایئرپورٹ بھارت کے اڈانی گروپ کے زیرِ انتظام ہے۔</p>
<p>اڈانی گروپ کے بانی اور چیئرمین، گوتم اڈانی نے ایکس پر لکھا کہ ہم ایئر انڈیا فلائٹ 171 کے اس سانحے پر صدمے اور گہرے دکھ میں مبتلا ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/gautam_adani/status/1933099124951494656?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1933099124951494656%7Ctwgr%5Ec5f352a65bbe11166ee59fda12949b7511e01fdd%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40367371"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارے دل اُن خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہیں ناقابلِ تصور نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہم تمام متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور زمینی سطح پر متاثرہ خاندانوں کو مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p>بھارت میں اس سے پہلے مہلک فضائی حادثہ 2020 میں پیش آیا تھا جو ایئر انڈیا ایکسپریس – ایئر انڈیا کی کم خرچ سروس تھی– کے طیارے کے ساتھ پیش آیا۔</p>
<p>اس حادثے میں ایئر لائن کا بوئنگ 737 طیارہ جنوبی بھارت کے کوژیکوڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک ”ٹیبل ٹاپ“ رن وے سے آگے نکل گیا۔ طیارہ رن وے سے پھسل کر ایک وادی میں جا گرا اور زمین سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔</p>
<p>اس حادثے میں اکیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>سابقہ سرکاری ملکیت والی ایئر انڈیا کو 2022 میں بھارتی کاروباری ادارے ٹاٹا گروپ نے خرید لیا تھا اور 2024 میں اسے وستارا کے ساتھ ضم کر دیا گیا تھا — جو ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز کا مشترکہ منصوبہ ہے۔</p>
<p>ٹاٹا گروپ نے بتایا ہے کہ ایک ایمرجنسی سینٹر فعال کر دیا گیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک مددگار ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273585</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Jun 2025 19:32:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/1218311300e3288.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/1218311300e3288.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/46xsvkrGepQ/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/46xsvkrGepQ/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=46xsvkrGepQ"/>
        <media:title>Moment London bound plane with 242 people onboard crashed in Ahmedabad, India
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
