<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پریگمیا نے بجٹ میں ہدف شدہ پالیسی معاونت کا مطالبہ کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273439/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پریگمیا) نے حکومت سے فوری اپیل کی ہے کہ آئندہ بجٹ میں ملک کے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل برآمدی شعبے کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہدف شدہ پالیسی معاونت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ ایسوسی ایشن نے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) اور فائنل ٹیکس ریجیم (ایف ٹی آر) کی مکمل اور مناسب بحالی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4.9 ارب ڈالر کے برآمدی سیکٹر کی نمائندہ تنظیم پریگمیا نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کو ایک تفصیلی مراسلہ پیش کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کی جانب سے سابق چیئرمین اعجاز اے کھوکھر نے 6 اہم شعبے اجاگر کیے ہیں جن میں فوری مداخلت درکار ہے: ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس)  اور فائنل ٹیکس ریجیم  (ایف ٹی ر)  کی بحالی، امریکہ کی بلند شرح محصولات پر مؤثر بات چیت، ریفنڈ کے زیر التوا بقایا جات کی فوری کلیئرنس ، جی ایس پی پلس جائزے کی مکمل تیاری، اور میڈ ان پاکستان گارمنٹس کے فروغ کے لیے ایک مربوط قومی برانڈنگ مہم کا آغاز۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اقدامات سے ملک کی برآمدات کو فروغ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید ایک جامع حکمت عملی بھی پیش کی جس کا مقصد شعبے کی مسابقت کو بحال کرنا، ٹیکس اور ریفنڈ کے نظام کو آسان اور مؤثر بنانا، اور پاکستان کو عالمی تجارتی رجحانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اور ہدفی اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان اپنی مسابقتی برتری کھو بیٹھے گا، خاص طور پر اس نازک موقع پر جب عالمی ملبوسات کے خریدار روایتی سورسنگ مراکز سے متنوع منڈیوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جو مقامی برآمد کنندگان کے لیے ایک بے مثال موقع ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ پالیسی میں استحکام، کاروباری لاگت میں کمی، اور چھوٹے و درمیانے کاروبار (ایس ایم ایز) کی خصوصی سہولت کاری ناگزیر ہے تاکہ اس شعبے کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے اور وزیراعظم کے  100 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کو پورا کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریگمیا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم  کے اصل ڈھانچے کو مکمل طور پر بحال کرے تاکہ یہ برآمد کنندگان کے لیے ایک عملی اور معاون ذریعہ برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم میں حالیہ تبدیلیاں سخت پابندیاں عائد کرتی ہیں اور خاص طور پر اُن چھوٹے اور درمیانے کاروبار  کے لیے نقصان دہ ہیں جو ’جسٹ ان ٹائم‘ (جے آئی ٹی ) اور نیور آؤٹ آف اسٹاک (این او ایس) برآمدی کاروباری ماڈلز پر کام کرتے ہیں جنہیں طویل لیڈ ٹائم اور لچکدار انونٹری مینجمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، انہوں نے تجویز دی کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم  کے دائرہ کار میں کسی بھی قسم کا سیلز ٹیکس شامل کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے دہرے ٹیکس کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اور برآمد کنندگان پر غیر ضروری مالی اور انتظامی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعجاز اے کھوکھر نے کہا کہ ایک ذیلی شعبے کی طرف سے کپڑا اور یارن کو ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم سے خارج کرنے کی درخواست غیر منطقی ہے، خاص طور پر جب بات ایسی تکنیکی اور فنکشنل اشیاء کی ہو جو بین الاقوامی معیار کے مطابق مقامی طور پر تیار نہیں ہوتیں۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر معاملات میں، برآمد کنندگان پر لازم ہوتا ہے کہ وہ مخصوص کپڑے یا یارن خریدار کی طرف سے منتخب کردہ سپلائرز سے حاصل کریں تاکہ بین الاقوامی معیار اور تعمیل کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی درآمدات کو ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت محدود کرنا پاکستان کے ویلیو ایڈیڈ ملبوسات برآمد کنندگان کی مسابقت اور کاروباری صلاحیت پر شدید منفی اثر ڈالے گا۔ پریگمیا کی سفارش ہے کہ ای ایف ایس کو اس کے اصل اور حقیقی مفاد کے مطابق مکمل طور پر بحال کیا جائے تاکہ پاکستان کی ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل صنعت عالمی منڈی میں مسابقتی، قابل اعتماد اور پائیدار انداز میں کام کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریگمیا نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ایف ٹی آر کو بحال کیا جائے تاکہ ٹیکس کی تعمیل کو آسان بنایا جا سکے، غیر ضروری آڈٹس ختم کیے جائیں، اور خاص طور پر ایس ایم ایز کے لیے کاروبار کرنے میں سہولت میں بہتری لائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پریگمیا) نے حکومت سے فوری اپیل کی ہے کہ آئندہ بجٹ میں ملک کے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل برآمدی شعبے کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہدف شدہ پالیسی معاونت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ ایسوسی ایشن نے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) اور فائنل ٹیکس ریجیم (ایف ٹی آر) کی مکمل اور مناسب بحالی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>4.9 ارب ڈالر کے برآمدی سیکٹر کی نمائندہ تنظیم پریگمیا نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کو ایک تفصیلی مراسلہ پیش کیا ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کی جانب سے سابق چیئرمین اعجاز اے کھوکھر نے 6 اہم شعبے اجاگر کیے ہیں جن میں فوری مداخلت درکار ہے: ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس)  اور فائنل ٹیکس ریجیم  (ایف ٹی ر)  کی بحالی، امریکہ کی بلند شرح محصولات پر مؤثر بات چیت، ریفنڈ کے زیر التوا بقایا جات کی فوری کلیئرنس ، جی ایس پی پلس جائزے کی مکمل تیاری، اور میڈ ان پاکستان گارمنٹس کے فروغ کے لیے ایک مربوط قومی برانڈنگ مہم کا آغاز۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اقدامات سے ملک کی برآمدات کو فروغ ملے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید ایک جامع حکمت عملی بھی پیش کی جس کا مقصد شعبے کی مسابقت کو بحال کرنا، ٹیکس اور ریفنڈ کے نظام کو آسان اور مؤثر بنانا، اور پاکستان کو عالمی تجارتی رجحانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار کرنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اور ہدفی اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان اپنی مسابقتی برتری کھو بیٹھے گا، خاص طور پر اس نازک موقع پر جب عالمی ملبوسات کے خریدار روایتی سورسنگ مراکز سے متنوع منڈیوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جو مقامی برآمد کنندگان کے لیے ایک بے مثال موقع ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ پالیسی میں استحکام، کاروباری لاگت میں کمی، اور چھوٹے و درمیانے کاروبار (ایس ایم ایز) کی خصوصی سہولت کاری ناگزیر ہے تاکہ اس شعبے کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے اور وزیراعظم کے  100 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کو پورا کیا جاسکے۔</p>
<p>پریگمیا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم  کے اصل ڈھانچے کو مکمل طور پر بحال کرے تاکہ یہ برآمد کنندگان کے لیے ایک عملی اور معاون ذریعہ برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم میں حالیہ تبدیلیاں سخت پابندیاں عائد کرتی ہیں اور خاص طور پر اُن چھوٹے اور درمیانے کاروبار  کے لیے نقصان دہ ہیں جو ’جسٹ ان ٹائم‘ (جے آئی ٹی ) اور نیور آؤٹ آف اسٹاک (این او ایس) برآمدی کاروباری ماڈلز پر کام کرتے ہیں جنہیں طویل لیڈ ٹائم اور لچکدار انونٹری مینجمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں، انہوں نے تجویز دی کہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم  کے دائرہ کار میں کسی بھی قسم کا سیلز ٹیکس شامل کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے دہرے ٹیکس کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اور برآمد کنندگان پر غیر ضروری مالی اور انتظامی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>اعجاز اے کھوکھر نے کہا کہ ایک ذیلی شعبے کی طرف سے کپڑا اور یارن کو ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم سے خارج کرنے کی درخواست غیر منطقی ہے، خاص طور پر جب بات ایسی تکنیکی اور فنکشنل اشیاء کی ہو جو بین الاقوامی معیار کے مطابق مقامی طور پر تیار نہیں ہوتیں۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر معاملات میں، برآمد کنندگان پر لازم ہوتا ہے کہ وہ مخصوص کپڑے یا یارن خریدار کی طرف سے منتخب کردہ سپلائرز سے حاصل کریں تاکہ بین الاقوامی معیار اور تعمیل کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p>ایسی درآمدات کو ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت محدود کرنا پاکستان کے ویلیو ایڈیڈ ملبوسات برآمد کنندگان کی مسابقت اور کاروباری صلاحیت پر شدید منفی اثر ڈالے گا۔ پریگمیا کی سفارش ہے کہ ای ایف ایس کو اس کے اصل اور حقیقی مفاد کے مطابق مکمل طور پر بحال کیا جائے تاکہ پاکستان کی ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل صنعت عالمی منڈی میں مسابقتی، قابل اعتماد اور پائیدار انداز میں کام کر سکے۔</p>
<p>پریگمیا نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ایف ٹی آر کو بحال کیا جائے تاکہ ٹیکس کی تعمیل کو آسان بنایا جا سکے، غیر ضروری آڈٹس ختم کیے جائیں، اور خاص طور پر ایس ایم ایز کے لیے کاروبار کرنے میں سہولت میں بہتری لائی جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273439</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Jun 2025 08:33:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/070831050209902.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/070831050209902.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
