<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:29:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:29:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے الیکٹرک کا رائٹ آف کلیم: نیپرا نے 50 ارب روپے کی ’مکمل اور حتمی‘ منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273409/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جمعرات کو کے-الیکٹرک (کے ای) کی رائٹ آف درخواست پر اپنا فیصلہ جاری کیا ہے جس میں مالی سال 2017 سے مالی سال 2023 تک کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کنٹرول پیریڈ سے متعلق کمپنی کے 76 ارب روپے کے دعووں کے مقابلے میں 50 ارب روپے کو ”مکمل اور حتمی دعوے“ کے طور پر منظور کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے گزشتہ ماہ کے ای کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق اتھارٹی اس بات کی منظوری دیتی ہے کہ کے-الیکٹرک کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف 2017-2023 کی بلنگ سے متعلق رائٹ آف کی مد میں 50,013 ملین روپے کو مکمل اور حتمی دعوے کے طور پر منظور کیا جاتا ہے جو کہ 76,033 ملین روپے کے رائٹ آف دعوے کے مقابلے میں ہے اور یہ منظوری رائٹ آف کے لیے حتمی فیصلے میں دی گئی شرائط کے مطابق دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/06/051946103fd214b.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے اپنے حکم میں کہا کہ اتھارٹی رائٹ آف کی اجازت دیتے ہوئے اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ کے-الیکٹرک کی جانب سے تمام ممکنہ کوششیں کی جا چکی ہیں جیسا کہ آڈیٹرز نے بھی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق صارفین کے مفاد میں کے-الیکٹرک کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقم کی وصولی کے لیے کوششیں جاری رکھے۔ اگر کوئی ایسی رقم جو پہلے رائٹ آف کی جا چکی ہو، بعد میں کے-الیکٹرک کے ذریعے وصول ہو جائے، تو اس کا فائدہ فوری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو منتقل کیا جائے گا اور کے-الیکٹرک اس رقم کو علیحدہ طور پر ظاہر کرنے کا پابند ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے مزید کہا کہ کے-الیکٹرک ہر سال اپنے آڈیٹرز سے ایک سرٹیفکیٹ جمع کروانے کا پابند ہوگا جس میں واضح طور پر ملٹی ایئر ٹیرف  2017-2023 سے متعلق کسی بھی رائٹ آف کی گئی رقم کی وصولی کا ذکر ہونا چاہیے اگر کوئی ایسی وصولی ہوئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے میں کہا گیا کہ 76,033 ملین روپے کے رائٹ آف کے مطالبے میں سے تقریباً 24,337 ملین روپے کا تعلق اُس پرانے ملٹی ایئر ٹیرف دور سے ہے جو یکم جولائی 2016 سے پہلے کا ہے۔ پچھلا ملٹی ایئر ٹیرف پرفارمنس پر مبنی تھا جس میں نقصان کے-الیکٹرک کو خود برداشت کرنا تھا اور اگر کوئی نفع طے شدہ حدود سے زیادہ ہوتا، تو وہ کلا بیک میکانزم کے تحت واپس لیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹ آف میکانزم کسی صورت کے-الیکٹرک کو پچھلے ملٹی ایئر ٹیرف دور کے اخراجات کے رائٹ آف کی اجازت نہیں دیتا۔ پچھلے ملٹی ایئر ٹیرف کی رقم کو رائٹ آف کرنا اخراجات کی دوہری وصولی کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا، پچھلے ملٹی ایئر ٹیرف دور سے متعلق 24,337 ملین روپے کے رائٹ آف کی کوئی توجیح نہیں ہے اس لیے اس رقم کو مسترد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے-الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2017 سے 2023 کے درمیان اضافی دعوے ان صارفین کے ناقابل وصول واجبات سے متعلق ہیں جو مسلسل نادہندہ رہے۔ کے-الیکٹرک کو ان اخراجات کو اُس ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کے تحت دعویٰ کرنے کی اجازت ہے جو کہ صارفین کو ماہانہ بلوں میں دی جانے والی بجلی کی قیمتوں سے آزاد ہوتا ہے اور ایک علیحدہ نظام کے تحت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے سی ای او، مونس علوی نے کہا کہ اس فیصلے کے ساتھ ہی پچھلے کنٹرول پیریڈ سے متعلق بیشتر معاملات نمٹا دیے گئے ہیں۔ کے-الیکٹرک مالی سال 2024 سے 2030 تک کے نئے ایم وائی ٹی کے انتظار میں ہے اور اپنے سروس ایریا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے-الیکٹرک کی درخواست پر ہونے والی سماعتوں کے دوران، زیادہ تر اسٹیک ہولڈرز نے اضافی اور زیر التواء رائٹ آف دعووں پر اعتراضات اٹھائے۔ جماعت اسلامی (جے آئی) کے نمائندے نے ”جعلی بلوں“ کا معاملہ اٹھایا، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں انہی بلوں کو رائٹ آف کے دعوے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کی کاروباری برادریوں کے نمائندوں نے بھی اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک نے 31 مارچ 2016 کو اپنے ملٹی ایئر ٹیرف کی درخواست دائر کی جس میں یکم جولائی 2016 سے 30 جون 2026 تک کے دس سالہ مدت کے لیے ٹیرف کے تعین کی درخواست کی گئی۔ یہ درخواست نیپرا نے 20 مارچ 2017 کو اپنے فیصلے کے ذریعے نمٹائی اور کے-الیکٹرک کو سات سال (جولائی 2016 سے جون 2023 تک) کی مدت کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے-الیکٹرک، جو 2005 میں پرائیوٹ سیکٹر کو منتقل کی گئی تھی پاکستان کی واحد پاور یوٹیلیٹی ہے جو بجلی بنانے کے ساتھ کراچی اور اس سے ملحقہ علاقوں کو بجلی سپلائی بھی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے دعووں کی منظوری کو اپنی مالی پائیداری کے لیے ”انتہائی اہم“ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو جاری ایک اور نوٹیفکیشن میں نیپرا نے مارچ میں استعمال کی گئی بجلی پر فی یونٹ 2.98 روپے کی منفی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں جون کے بلوں میں کے-الیکٹرک صارفین کو ریفنڈ دینے کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ، نیپرا نے کے-الیکٹرک کے لیے مالی سال 2024 سے مالی سال 2030 تک کے لیے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے حصے کا نیا ملٹی ایئر ٹیرف منظور کیا۔ بعد ازاں، اتھارٹی نے اسی مدت کے لیے بجلی کی فراہمی کے حصے کا نیا ملٹی ایئر ٹیرف بھی منظور کر لیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جمعرات کو کے-الیکٹرک (کے ای) کی رائٹ آف درخواست پر اپنا فیصلہ جاری کیا ہے جس میں مالی سال 2017 سے مالی سال 2023 تک کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کنٹرول پیریڈ سے متعلق کمپنی کے 76 ارب روپے کے دعووں کے مقابلے میں 50 ارب روپے کو ”مکمل اور حتمی دعوے“ کے طور پر منظور کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>اتھارٹی نے گزشتہ ماہ کے ای کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق اتھارٹی اس بات کی منظوری دیتی ہے کہ کے-الیکٹرک کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف 2017-2023 کی بلنگ سے متعلق رائٹ آف کی مد میں 50,013 ملین روپے کو مکمل اور حتمی دعوے کے طور پر منظور کیا جاتا ہے جو کہ 76,033 ملین روپے کے رائٹ آف دعوے کے مقابلے میں ہے اور یہ منظوری رائٹ آف کے لیے حتمی فیصلے میں دی گئی شرائط کے مطابق دی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/06/051946103fd214b.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اتھارٹی نے اپنے حکم میں کہا کہ اتھارٹی رائٹ آف کی اجازت دیتے ہوئے اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ کے-الیکٹرک کی جانب سے تمام ممکنہ کوششیں کی جا چکی ہیں جیسا کہ آڈیٹرز نے بھی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق صارفین کے مفاد میں کے-الیکٹرک کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقم کی وصولی کے لیے کوششیں جاری رکھے۔ اگر کوئی ایسی رقم جو پہلے رائٹ آف کی جا چکی ہو، بعد میں کے-الیکٹرک کے ذریعے وصول ہو جائے، تو اس کا فائدہ فوری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو منتقل کیا جائے گا اور کے-الیکٹرک اس رقم کو علیحدہ طور پر ظاہر کرنے کا پابند ہوگا۔</p>
<p>نیپرا نے مزید کہا کہ کے-الیکٹرک ہر سال اپنے آڈیٹرز سے ایک سرٹیفکیٹ جمع کروانے کا پابند ہوگا جس میں واضح طور پر ملٹی ایئر ٹیرف  2017-2023 سے متعلق کسی بھی رائٹ آف کی گئی رقم کی وصولی کا ذکر ہونا چاہیے اگر کوئی ایسی وصولی ہوئی ہو۔</p>
<p>حکم نامے میں کہا گیا کہ 76,033 ملین روپے کے رائٹ آف کے مطالبے میں سے تقریباً 24,337 ملین روپے کا تعلق اُس پرانے ملٹی ایئر ٹیرف دور سے ہے جو یکم جولائی 2016 سے پہلے کا ہے۔ پچھلا ملٹی ایئر ٹیرف پرفارمنس پر مبنی تھا جس میں نقصان کے-الیکٹرک کو خود برداشت کرنا تھا اور اگر کوئی نفع طے شدہ حدود سے زیادہ ہوتا، تو وہ کلا بیک میکانزم کے تحت واپس لیا جانا تھا۔</p>
<p>رائٹ آف میکانزم کسی صورت کے-الیکٹرک کو پچھلے ملٹی ایئر ٹیرف دور کے اخراجات کے رائٹ آف کی اجازت نہیں دیتا۔ پچھلے ملٹی ایئر ٹیرف کی رقم کو رائٹ آف کرنا اخراجات کی دوہری وصولی کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا، پچھلے ملٹی ایئر ٹیرف دور سے متعلق 24,337 ملین روپے کے رائٹ آف کی کوئی توجیح نہیں ہے اس لیے اس رقم کو مسترد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کے-الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2017 سے 2023 کے درمیان اضافی دعوے ان صارفین کے ناقابل وصول واجبات سے متعلق ہیں جو مسلسل نادہندہ رہے۔ کے-الیکٹرک کو ان اخراجات کو اُس ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کے تحت دعویٰ کرنے کی اجازت ہے جو کہ صارفین کو ماہانہ بلوں میں دی جانے والی بجلی کی قیمتوں سے آزاد ہوتا ہے اور ایک علیحدہ نظام کے تحت ہوتا ہے۔</p>
<p>کے الیکٹرک کے سی ای او، مونس علوی نے کہا کہ اس فیصلے کے ساتھ ہی پچھلے کنٹرول پیریڈ سے متعلق بیشتر معاملات نمٹا دیے گئے ہیں۔ کے-الیکٹرک مالی سال 2024 سے 2030 تک کے نئے ایم وائی ٹی کے انتظار میں ہے اور اپنے سروس ایریا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>کے-الیکٹرک کی درخواست پر ہونے والی سماعتوں کے دوران، زیادہ تر اسٹیک ہولڈرز نے اضافی اور زیر التواء رائٹ آف دعووں پر اعتراضات اٹھائے۔ جماعت اسلامی (جے آئی) کے نمائندے نے ”جعلی بلوں“ کا معاملہ اٹھایا، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں انہی بلوں کو رائٹ آف کے دعوے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>شہر کی کاروباری برادریوں کے نمائندوں نے بھی اسی نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا۔</p>
<p>کے الیکٹرک نے 31 مارچ 2016 کو اپنے ملٹی ایئر ٹیرف کی درخواست دائر کی جس میں یکم جولائی 2016 سے 30 جون 2026 تک کے دس سالہ مدت کے لیے ٹیرف کے تعین کی درخواست کی گئی۔ یہ درخواست نیپرا نے 20 مارچ 2017 کو اپنے فیصلے کے ذریعے نمٹائی اور کے-الیکٹرک کو سات سال (جولائی 2016 سے جون 2023 تک) کی مدت کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>کے-الیکٹرک، جو 2005 میں پرائیوٹ سیکٹر کو منتقل کی گئی تھی پاکستان کی واحد پاور یوٹیلیٹی ہے جو بجلی بنانے کے ساتھ کراچی اور اس سے ملحقہ علاقوں کو بجلی سپلائی بھی کرتی ہے۔</p>
<p>ادارے نے دعووں کی منظوری کو اپنی مالی پائیداری کے لیے ”انتہائی اہم“ قرار دیا تھا۔</p>
<p>جمعرات کو جاری ایک اور نوٹیفکیشن میں نیپرا نے مارچ میں استعمال کی گئی بجلی پر فی یونٹ 2.98 روپے کی منفی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں جون کے بلوں میں کے-الیکٹرک صارفین کو ریفنڈ دینے کا اعلان کیا۔</p>
<p>گزشتہ ماہ، نیپرا نے کے-الیکٹرک کے لیے مالی سال 2024 سے مالی سال 2030 تک کے لیے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے حصے کا نیا ملٹی ایئر ٹیرف منظور کیا۔ بعد ازاں، اتھارٹی نے اسی مدت کے لیے بجلی کی فراہمی کے حصے کا نیا ملٹی ایئر ٹیرف بھی منظور کر لیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273409</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Jun 2025 20:34:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/052031126c19760.gif" type="image/gif" medium="image" height="288" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/052031126c19760.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
