<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Jul 2026 18:21:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Jul 2026 18:21:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے سیکیورٹی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273393/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ باقی 14 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ غزہ میں قحط اور انسانی بحران شدید تر ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ناظم الامور ڈوروتھی شیا نے سلامتی کونسل میں کہا کہ یہ قرارداد حماس کی مذمت یا اس کے ہتھیار ڈالنے کی بات نہیں کرتی، اس لیے امریکہ اس کی حمایت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد سے امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسرائیل نے جنگ بندی کی کسی بھی غیر مشروط تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے قرارداد کے حامیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ امن کے بجائے ”مزید دہشتگردی“ کے راستے پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی سفیر نے اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں اضافے اور انسانی امداد کی فراہمی پر سخت پابندیوں کو ”غیر ضروری، غیر متناسب اور نقصان دہ“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق بدھ کو اسرائیلی حملوں میں 45 فلسطینی جاں بحق ہوئے جبکہ ایک اسرائیلی فوجی بھی مارا گیا۔ حماس نے امریکی ویٹو کو اسرائیل کی کھلی حمایت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں جاری جنگ 2023 میں اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے حملے میں اسرائیل میں 1,200 افراد ہلاک اور تقریباً 250 افراد یرغمال بنائے گئے۔ اس کے بعد اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں اب تک 54,000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی دباؤ کے بعد اسرائیل نے 11 ہفتوں کی بندش کے بعد 19 مئی سے اقوام متحدہ کی سربراہی میں محدود امداد کی اجازت دی، تاہم جلد ہی ایک متنازعہ نظام کے تحت ”غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف)“ کے ذریعے امداد تقسیم کی جانے لگی، جسے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی اداروں نے جی ایچ ایف کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ اسے غیر جانبدار نہیں سمجھتے اور امداد کو عسکری انداز میں کنٹرول کرنے اور فلسطینیوں کی نقل مکانی پر مجبور کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایچ ایف نے بدھ کے روز امداد کی تقسیم معطل کر دی اور اسرائیلی فوج سے سیکیورٹی اقدامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ فاؤنڈیشن کے مطابق اب تک 70 لاکھ سے زائد کھانے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکہ اور اسرائیل اقوام متحدہ کے امدادی طریقہ کار پر تنقید کر رہے ہیں، لیکن امریکہ کی جنگ بندی تجویز میں اقوام متحدہ، ریڈ کریسنٹ اور دیگر منظور شدہ اداروں کے ذریعے امداد کی فراہمی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلامتی کونسل میں ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے تمام سرحدی راستے کھولنے، امداد پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور قافلوں کی بلا تاخیر فراہمی کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امکان ہے کہ اسی نوعیت کی ایک قرارداد اب جنرل اسمبلی میں پیش کی جائے گی، جہاں ویٹو پاور نہیں ہوتی اور اسے منظور ہونے کا قوی امکان ہے۔ تاہم اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی قرارداد یا ووٹ اس کی کارروائیوں کو نہیں روک سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ باقی 14 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ غزہ میں قحط اور انسانی بحران شدید تر ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی ناظم الامور ڈوروتھی شیا نے سلامتی کونسل میں کہا کہ یہ قرارداد حماس کی مذمت یا اس کے ہتھیار ڈالنے کی بات نہیں کرتی، اس لیے امریکہ اس کی حمایت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد سے امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔</p>
<p>ادھر اسرائیل نے جنگ بندی کی کسی بھی غیر مشروط تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے قرارداد کے حامیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ امن کے بجائے ”مزید دہشتگردی“ کے راستے پر ہیں۔</p>
<p>برطانوی سفیر نے اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں اضافے اور انسانی امداد کی فراہمی پر سخت پابندیوں کو ”غیر ضروری، غیر متناسب اور نقصان دہ“ قرار دیا۔</p>
<p>غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق بدھ کو اسرائیلی حملوں میں 45 فلسطینی جاں بحق ہوئے جبکہ ایک اسرائیلی فوجی بھی مارا گیا۔ حماس نے امریکی ویٹو کو اسرائیل کی کھلی حمایت قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔</p>
<p>غزہ میں جاری جنگ 2023 میں اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے حملے میں اسرائیل میں 1,200 افراد ہلاک اور تقریباً 250 افراد یرغمال بنائے گئے۔ اس کے بعد اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں اب تک 54,000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔</p>
<p>عالمی دباؤ کے بعد اسرائیل نے 11 ہفتوں کی بندش کے بعد 19 مئی سے اقوام متحدہ کی سربراہی میں محدود امداد کی اجازت دی، تاہم جلد ہی ایک متنازعہ نظام کے تحت ”غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف)“ کے ذریعے امداد تقسیم کی جانے لگی، جسے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی اداروں نے جی ایچ ایف کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ اسے غیر جانبدار نہیں سمجھتے اور امداد کو عسکری انداز میں کنٹرول کرنے اور فلسطینیوں کی نقل مکانی پر مجبور کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>جی ایچ ایف نے بدھ کے روز امداد کی تقسیم معطل کر دی اور اسرائیلی فوج سے سیکیورٹی اقدامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ فاؤنڈیشن کے مطابق اب تک 70 لاکھ سے زائد کھانے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ امریکہ اور اسرائیل اقوام متحدہ کے امدادی طریقہ کار پر تنقید کر رہے ہیں، لیکن امریکہ کی جنگ بندی تجویز میں اقوام متحدہ، ریڈ کریسنٹ اور دیگر منظور شدہ اداروں کے ذریعے امداد کی فراہمی شامل ہے۔</p>
<p>سلامتی کونسل میں ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے تمام سرحدی راستے کھولنے، امداد پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور قافلوں کی بلا تاخیر فراہمی کی اپیل کی۔</p>
<p>امکان ہے کہ اسی نوعیت کی ایک قرارداد اب جنرل اسمبلی میں پیش کی جائے گی، جہاں ویٹو پاور نہیں ہوتی اور اسے منظور ہونے کا قوی امکان ہے۔ تاہم اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی قرارداد یا ووٹ اس کی کارروائیوں کو نہیں روک سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273393</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Jun 2025 12:50:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/0512501268d1464.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/0512501268d1464.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
