<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین امریکہ محاذ آرائی سے خوفزدہ منڈیاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273386/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیرف میں رعایت کی ڈیڈ لائن گزر چکی ہے، اور طویل عرصے سے وعدہ شدہ ٹرمپ-شی فون کال اب بھی شیڈول پر نہیں ہے — ایسے میں عالمی مالیاتی منڈیاں ایک بار پھر دھند میں آنکھیں ملتی ہوئی کسی بڑی آگ کے خدشے میں مبتلا ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے ایک رات گئے اپنی ”ٹروتھ سوشل“ پوسٹ میں شی جن پنگ کو ”معاہدہ کرنے میں انتہائی مشکل شخصیت“ قرار دیا — جو کسی خود ساختہ، خوش فہمیوں میں جیتے ڈیل میکر کے لیے کسی ممکنہ ہتھیار ڈالنے کی امید جیسا لہجہ ہرگز نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور ہو سکتا ہے اس بار یہ صرف دھونس دھمکی نہ ہو۔ اس رویے کے پس پردہ، سرمایہ کاروں کا اعتماد واضح طور پر متزلزل ہوتا جا رہا ہے۔ ”لبریشن ڈے“ ٹیرف پس منظر میں ایک بار پھر نافذ ہو چکے ہیں، اور کسی کو معلوم نہیں کہ آگے کیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ متوقع ٹرمپ-شی فون کال کبھی نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ  اس ہفتے یہ کال متوقع ہے، لیکن بیجنگ نے اب تک کچھ تصدیق نہیں کی۔ اور یوں مارکیٹ اندازے لگا رہی ہے۔ ادھر جنیوا میں، گزشتہ ماہ کی ٹیرف جنگ بندی پہلے ہی بکھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ چین نے نایاب معدنیات سے متعلق اپنے وعدے پورے نہیں کیے، جبکہ بیجنگ نے امریکہ پر امتیازی پابندیاں عائد کرنے، بشمول اے آئی چِپ ٹولز کی نئی برآمدی پابندیوں اور طالب علموں کے ویزے منسوخ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یوں یہ چکر دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی لحاظ سے، منظرنامہ بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا ہے۔ امریکہ اب چین کو جیٹ انجن پارٹس کی ترسیل روک رہا ہے اور ہواوے پر پابندیاں مزید سخت کر رہا ہے۔ اور ٹرمپ کی جانب سے جاپانی کمپنی ”نِپون اسٹیل“ کو 14 ارب ڈالر میں ”یو ایس اسٹیل“ کی خریداری کی منظوری نے ملک کے اندر بھی شدید مخالفت کو ہوا دی ہے، جہاں امریکی مزدور یونینز انتظامیہ پر نوکریاں بیچنے اور قومی سلامتی کو نظر انداز کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل تشویش یہ ہے کہ ان تمام واقعات کا مالیاتی منڈیوں پر کیا اثر ہوگا۔ ٹرمپ کے تمام ٹیرف دوبارہ مکمل طور پر نافذ ہونے میں محض پانچ ہفتے باقی ہیں، اور اس دوران محفوظ اثاثوں کی طرف سرمائے کا بہاؤ عالمی سرمائے کی تقسیم کو بگاڑ رہا ہے۔ سونے کی قیمت ایک بار پھر بلند ہو چکی ہے۔ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، اور ڈالر — اگرچہ بدستور غالب کرنسی ہے — اب ابھرتی ہوئی منڈیوں کے زرِ مبادلہ ڈیسک پر شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ ڈیڈلاک جاری رہا تو کیا ہم ایک مالیاتی صف بندی (فنانشل ری الائمنٹ) کی ابتدائی جھلک نہیں دیکھ رہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصاً ابھرتی ہوئی منڈیاں اس تناؤ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ وہ معیشتیں جو مستحکم اجناس کی ترسیل اور قابلِ پیش گوئی کرنسی نظام پر انحصار کرتی ہیں، پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ منڈیاں کسی چیز سے اتنا خوفزدہ نہیں ہوتیں جتنا غیر یقینی صورتحال سے — کیونکہ برے حالات کو بھی بالآخر قیمتوں میں شامل کر لیا جاتا ہے — اور جب ٹرمپ کی تجارتی پالیسی اب تفصیلات سے زیادہ وقت کے دباؤ سے تشکیل پا رہی ہو، تو کون کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا انتشار کہاں جا کر رکے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر سرمایہ کار اپنے قدموں سے جواب دے رہے ہیں۔ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں ایکوئٹی سے مسلسل سرمایہ نکل رہا ہے، اور ڈالر میں قرض کے پھیلاؤ  وسیع ہو رہے ہیں، حالانکہ ایشیا اور لاطینی امریکہ میں بنیادی مالیاتی اشاریے نسبتاً مستحکم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="آخرکار-عالمی-منڈیوں-کی-سمت-کا-تعین-بڑے-سرمایہ-داروں-کے-تحفظ-فروغ-اور-منافع-کے-رجحان-سے-ہوتا-ہے--چنانچہ-وہ-سوال-اٹھاتے-ہیں-مثلاً-اگر-ٹرمپ-شی-کی-فون-کال-نہ-ہوئی-تو-کیا-ہوگا-اگر-چین-جو-اپنے-داخلی-مالیاتی-محرک-سے-حوصلہ-پا-چکا-ہے-اور-واشنگٹن-کے-سخت-رویے-سے-نار" href="#آخرکار-عالمی-منڈیوں-کی-سمت-کا-تعین-بڑے-سرمایہ-داروں-کے-تحفظ-فروغ-اور-منافع-کے-رجحان-سے-ہوتا-ہے--چنانچہ-وہ-سوال-اٹھاتے-ہیں-مثلاً-اگر-ٹرمپ-شی-کی-فون-کال-نہ-ہوئی-تو-کیا-ہوگا-اگر-چین-جو-اپنے-داخلی-مالیاتی-محرک-سے-حوصلہ-پا-چکا-ہے-اور-واشنگٹن-کے-سخت-رویے-سے-نار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;آخرکار، عالمی منڈیوں کی سمت کا تعین بڑے سرمایہ داروں کے تحفظ، فروغ اور منافع کے رجحان سے ہوتا ہے — چنانچہ وہ سوال اٹھاتے ہیں۔ مثلاً: اگر ٹرمپ-شی کی فون کال نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟ اگر چین، جو اپنے داخلی مالیاتی محرک سے حوصلہ پا چکا ہے اور واشنگٹن کے سخت رویے سے ناراض ہے، کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے تو کیا ہوگا؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ، جو خود کو مذاکرات کا ماہر کہتے نہیں تھکتے، اب خود کو ایک طے شدہ ٹائم لائن میں قید کر چکے ہیں۔ بدھ وہ ڈیڈ لائن تھی جب ممالک کو ٹیرف سے بچنے کے لیے متبادل تجاویز جمع کروانا تھیں، لیکن اس وقت تک نہ کوئی بڑا معاہدہ ہوا، نہ کوئی سربراہی اجلاس طے پایا، اور نہ ہی کوئی فون کال شیڈول ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور منڈیوں نے یہ محسوس کیا ہے۔ اصل خوف صرف امریکہ-چین تجارتی علیحدگی کے ایک اور دور کا نہیں ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ ایسی تقسیم اس وقت ہو رہی ہے جب دنیا بھر میں کئی اور سنگین محاذ بھی کھلے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات مبینہ طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ اسرائیل ایک بار پھر ایران پر پیشگی حملے کی بات کر رہا ہے۔ یوکرین روس کے اندر مزید گہرائی میں حملے کر رہا ہے۔ اسرائیل شام پر بمباری کر رہا ہے۔ غزہ میں انسانیت سوز سانحات کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی خطرات کا نقشہ اس وقت دنیا کے اتنے زیادہ علاقوں میں متحرک ہے جتنا سرد جنگ کے بعد کبھی نہیں ہوا۔ مگر مالیاتی منڈیوں کی ٹھنڈی منطق یہ ہے کہ ان کے سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوالات نہ تو بین الاقوامی قوانین کی بے دردی سے پامالی کے بارے میں ہوں گے، اور نہ ہی مقدس سرزمین میں معصوم بچوں کے قتلِ عام کے بارے میں — بلکہ ان محفوظ سرمایہ کاری مراکز کے بارے میں ہوں گے جنہوں نے گزشتہ صدی میں عالمی مالیاتی اشرافیہ کے سرمائے کی حفاظت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں سوال یہ ہے: کیا ڈالر اپنی بالادستی قائم رکھ سکے گا؟ ایک طرف تو جغرافیائی سیاسی عدم استحکام ہمیشہ امریکی کرنسی کے حق میں رہا ہے۔ مگر دوسری طرف، اب خود امریکہ کو عدم استحکام کا ذریعہ بھی سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ صرف ایک پناہ گاہ۔ جاپان نے امریکی قرضے خریدنے کی رفتار سست کر دی ہے۔ جنوبی کوریا اور تائیوان اپنی کرنسیوں کا دفاع کرنے کے لیے ڈالر فروخت کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ہانگ کانگ مانیٹری اتھارٹی بھی وہ کام کر رہی ہے جس کا کبھی تصور نہیں کیا جاتا تھا — یعنی امریکی ٹریژری بانڈز سے ہٹ کر سرمایہ کاری۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ شاید سمجھتی ہو کہ دباؤ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ لیکن وسیع مالیاتی تناظر میں، دباؤ اگر وضاحت کے بغیر ہو تو وہ صرف غیر یقینی اور اتھل پتھل کو جنم دیتا ہے۔ سرمایہ کار صرف ٹیرف سے نہیں ڈرتے، وہ اس خیال سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ ٹیرف کے بعد کیا ہوگا۔ مذاکراتی حکمتِ عملی اور پالیسی کے خلا میں فرق ہوتا ہے — اور اندازہ لگائیں کہ ہم اس وقت ان میں سے کس کے قریب پہنچ چکے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، امریکہ کے اندر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مزدور یونینز غیر ملکی خریداریوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ کانگریس قومی سلامتی کے حوالے سے نگرانی کی دھمکی دے رہی ہے۔ انتظامیہ کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ اس نے صنعتی بحالی کے لیے ٹیرف کو بطور آلہ زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا، لیکن پالیسی کی شفافیت میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لمحے میں معاملہ صرف تجارت کا نہیں بلکہ ساکھ کا ہے۔ اگر ٹرمپ چین کے ساتھ کوئی بامعنی معاہدہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں، اور ٹیرف کا نظام بغیر کسی مربوط عالمی ردعمل کے دوبارہ نافذ ہو جاتا ہے، تو اس کا نقصان صرف اجناس یا صنعتی پیداوار تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے اثرات بانڈ مارکیٹ، زرِ مبادلہ کے ذخائر، کارپوریٹ رسک ماڈلز، اور عالمی تجارتی منصوبہ بندی کے پورے ڈھانچے پر محسوس کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے: کیا دنیا اتنے کھلے ہوئے جغرافیائی سیاسی محاذوں کے درمیان ایک نئی ٹیرف جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا امریکہ بیک وقت ایران کا سامنا کر سکتا ہے، چین کو قابو میں رکھ سکتا ہے، یوکرین کی حمایت جاری رکھ سکتا ہے، اور گھبرائے ہوئے سرمایہ کاروں کو اعتماد دے سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سوال یہ نہیں رہا کہ آیا ٹرمپ کشیدگی میں اضافہ کریں گے یا نہیں — سوال یہ ہے کہ آیا منڈیاں، اتحادی اور مخالفین، ان نتائج کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہفتہ شاید اس کا جواب دے دے — یا سال کے دوسرے نصف میں ایک بہت زیادہ غیر یقینی اور متزلزل دور کا پیش خیمہ ثابت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیرف میں رعایت کی ڈیڈ لائن گزر چکی ہے، اور طویل عرصے سے وعدہ شدہ ٹرمپ-شی فون کال اب بھی شیڈول پر نہیں ہے — ایسے میں عالمی مالیاتی منڈیاں ایک بار پھر دھند میں آنکھیں ملتی ہوئی کسی بڑی آگ کے خدشے میں مبتلا ہیں۔</strong></p>
<p>صدر ٹرمپ نے ایک رات گئے اپنی ”ٹروتھ سوشل“ پوسٹ میں شی جن پنگ کو ”معاہدہ کرنے میں انتہائی مشکل شخصیت“ قرار دیا — جو کسی خود ساختہ، خوش فہمیوں میں جیتے ڈیل میکر کے لیے کسی ممکنہ ہتھیار ڈالنے کی امید جیسا لہجہ ہرگز نہیں۔</p>
<p>اور ہو سکتا ہے اس بار یہ صرف دھونس دھمکی نہ ہو۔ اس رویے کے پس پردہ، سرمایہ کاروں کا اعتماد واضح طور پر متزلزل ہوتا جا رہا ہے۔ ”لبریشن ڈے“ ٹیرف پس منظر میں ایک بار پھر نافذ ہو چکے ہیں، اور کسی کو معلوم نہیں کہ آگے کیا ہوگا۔</p>
<p>فی الحال سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ متوقع ٹرمپ-شی فون کال کبھی نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ  اس ہفتے یہ کال متوقع ہے، لیکن بیجنگ نے اب تک کچھ تصدیق نہیں کی۔ اور یوں مارکیٹ اندازے لگا رہی ہے۔ ادھر جنیوا میں، گزشتہ ماہ کی ٹیرف جنگ بندی پہلے ہی بکھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ چین نے نایاب معدنیات سے متعلق اپنے وعدے پورے نہیں کیے، جبکہ بیجنگ نے امریکہ پر امتیازی پابندیاں عائد کرنے، بشمول اے آئی چِپ ٹولز کی نئی برآمدی پابندیوں اور طالب علموں کے ویزے منسوخ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔</p>
<p>اور یوں یہ چکر دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔</p>
<p>تجارتی لحاظ سے، منظرنامہ بارودی سرنگوں سے بھرا ہوا ہے۔ امریکہ اب چین کو جیٹ انجن پارٹس کی ترسیل روک رہا ہے اور ہواوے پر پابندیاں مزید سخت کر رہا ہے۔ اور ٹرمپ کی جانب سے جاپانی کمپنی ”نِپون اسٹیل“ کو 14 ارب ڈالر میں ”یو ایس اسٹیل“ کی خریداری کی منظوری نے ملک کے اندر بھی شدید مخالفت کو ہوا دی ہے، جہاں امریکی مزدور یونینز انتظامیہ پر نوکریاں بیچنے اور قومی سلامتی کو نظر انداز کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔</p>
<p>تاہم اصل تشویش یہ ہے کہ ان تمام واقعات کا مالیاتی منڈیوں پر کیا اثر ہوگا۔ ٹرمپ کے تمام ٹیرف دوبارہ مکمل طور پر نافذ ہونے میں محض پانچ ہفتے باقی ہیں، اور اس دوران محفوظ اثاثوں کی طرف سرمائے کا بہاؤ عالمی سرمائے کی تقسیم کو بگاڑ رہا ہے۔ سونے کی قیمت ایک بار پھر بلند ہو چکی ہے۔ ٹریژری بانڈز کی شرح منافع میں اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، اور ڈالر — اگرچہ بدستور غالب کرنسی ہے — اب ابھرتی ہوئی منڈیوں کے زرِ مبادلہ ڈیسک پر شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>اگر یہ ڈیڈلاک جاری رہا تو کیا ہم ایک مالیاتی صف بندی (فنانشل ری الائمنٹ) کی ابتدائی جھلک نہیں دیکھ رہے؟</p>
<p>خصوصاً ابھرتی ہوئی منڈیاں اس تناؤ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ وہ معیشتیں جو مستحکم اجناس کی ترسیل اور قابلِ پیش گوئی کرنسی نظام پر انحصار کرتی ہیں، پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ منڈیاں کسی چیز سے اتنا خوفزدہ نہیں ہوتیں جتنا غیر یقینی صورتحال سے — کیونکہ برے حالات کو بھی بالآخر قیمتوں میں شامل کر لیا جاتا ہے — اور جب ٹرمپ کی تجارتی پالیسی اب تفصیلات سے زیادہ وقت کے دباؤ سے تشکیل پا رہی ہو، تو کون کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا انتشار کہاں جا کر رکے گا؟</p>
<p>ادھر سرمایہ کار اپنے قدموں سے جواب دے رہے ہیں۔ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں ایکوئٹی سے مسلسل سرمایہ نکل رہا ہے، اور ڈالر میں قرض کے پھیلاؤ  وسیع ہو رہے ہیں، حالانکہ ایشیا اور لاطینی امریکہ میں بنیادی مالیاتی اشاریے نسبتاً مستحکم ہیں۔</p>
<h2><a id="آخرکار-عالمی-منڈیوں-کی-سمت-کا-تعین-بڑے-سرمایہ-داروں-کے-تحفظ-فروغ-اور-منافع-کے-رجحان-سے-ہوتا-ہے--چنانچہ-وہ-سوال-اٹھاتے-ہیں-مثلاً-اگر-ٹرمپ-شی-کی-فون-کال-نہ-ہوئی-تو-کیا-ہوگا-اگر-چین-جو-اپنے-داخلی-مالیاتی-محرک-سے-حوصلہ-پا-چکا-ہے-اور-واشنگٹن-کے-سخت-رویے-سے-نار" href="#آخرکار-عالمی-منڈیوں-کی-سمت-کا-تعین-بڑے-سرمایہ-داروں-کے-تحفظ-فروغ-اور-منافع-کے-رجحان-سے-ہوتا-ہے--چنانچہ-وہ-سوال-اٹھاتے-ہیں-مثلاً-اگر-ٹرمپ-شی-کی-فون-کال-نہ-ہوئی-تو-کیا-ہوگا-اگر-چین-جو-اپنے-داخلی-مالیاتی-محرک-سے-حوصلہ-پا-چکا-ہے-اور-واشنگٹن-کے-سخت-رویے-سے-نار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>آخرکار، عالمی منڈیوں کی سمت کا تعین بڑے سرمایہ داروں کے تحفظ، فروغ اور منافع کے رجحان سے ہوتا ہے — چنانچہ وہ سوال اٹھاتے ہیں۔ مثلاً: اگر ٹرمپ-شی کی فون کال نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟ اگر چین، جو اپنے داخلی مالیاتی محرک سے حوصلہ پا چکا ہے اور واشنگٹن کے سخت رویے سے ناراض ہے، کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے تو کیا ہوگا؟</h2>
<p>ٹرمپ، جو خود کو مذاکرات کا ماہر کہتے نہیں تھکتے، اب خود کو ایک طے شدہ ٹائم لائن میں قید کر چکے ہیں۔ بدھ وہ ڈیڈ لائن تھی جب ممالک کو ٹیرف سے بچنے کے لیے متبادل تجاویز جمع کروانا تھیں، لیکن اس وقت تک نہ کوئی بڑا معاہدہ ہوا، نہ کوئی سربراہی اجلاس طے پایا، اور نہ ہی کوئی فون کال شیڈول ہوئی۔</p>
<p>اور منڈیوں نے یہ محسوس کیا ہے۔ اصل خوف صرف امریکہ-چین تجارتی علیحدگی کے ایک اور دور کا نہیں ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ ایسی تقسیم اس وقت ہو رہی ہے جب دنیا بھر میں کئی اور سنگین محاذ بھی کھلے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات مبینہ طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ اسرائیل ایک بار پھر ایران پر پیشگی حملے کی بات کر رہا ہے۔ یوکرین روس کے اندر مزید گہرائی میں حملے کر رہا ہے۔ اسرائیل شام پر بمباری کر رہا ہے۔ غزہ میں انسانیت سوز سانحات کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p>عالمی خطرات کا نقشہ اس وقت دنیا کے اتنے زیادہ علاقوں میں متحرک ہے جتنا سرد جنگ کے بعد کبھی نہیں ہوا۔ مگر مالیاتی منڈیوں کی ٹھنڈی منطق یہ ہے کہ ان کے سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوالات نہ تو بین الاقوامی قوانین کی بے دردی سے پامالی کے بارے میں ہوں گے، اور نہ ہی مقدس سرزمین میں معصوم بچوں کے قتلِ عام کے بارے میں — بلکہ ان محفوظ سرمایہ کاری مراکز کے بارے میں ہوں گے جنہوں نے گزشتہ صدی میں عالمی مالیاتی اشرافیہ کے سرمائے کی حفاظت کی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اس صورتحال میں سوال یہ ہے: کیا ڈالر اپنی بالادستی قائم رکھ سکے گا؟ ایک طرف تو جغرافیائی سیاسی عدم استحکام ہمیشہ امریکی کرنسی کے حق میں رہا ہے۔ مگر دوسری طرف، اب خود امریکہ کو عدم استحکام کا ذریعہ بھی سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ صرف ایک پناہ گاہ۔ جاپان نے امریکی قرضے خریدنے کی رفتار سست کر دی ہے۔ جنوبی کوریا اور تائیوان اپنی کرنسیوں کا دفاع کرنے کے لیے ڈالر فروخت کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ہانگ کانگ مانیٹری اتھارٹی بھی وہ کام کر رہی ہے جس کا کبھی تصور نہیں کیا جاتا تھا — یعنی امریکی ٹریژری بانڈز سے ہٹ کر سرمایہ کاری۔</p>
</blockquote>
<p>ٹرمپ انتظامیہ شاید سمجھتی ہو کہ دباؤ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ لیکن وسیع مالیاتی تناظر میں، دباؤ اگر وضاحت کے بغیر ہو تو وہ صرف غیر یقینی اور اتھل پتھل کو جنم دیتا ہے۔ سرمایہ کار صرف ٹیرف سے نہیں ڈرتے، وہ اس خیال سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ ٹیرف کے بعد کیا ہوگا۔ مذاکراتی حکمتِ عملی اور پالیسی کے خلا میں فرق ہوتا ہے — اور اندازہ لگائیں کہ ہم اس وقت ان میں سے کس کے قریب پہنچ چکے ہیں؟</p>
<p>دوسری طرف، امریکہ کے اندر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مزدور یونینز غیر ملکی خریداریوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ کانگریس قومی سلامتی کے حوالے سے نگرانی کی دھمکی دے رہی ہے۔ انتظامیہ کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ اس نے صنعتی بحالی کے لیے ٹیرف کو بطور آلہ زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا، لیکن پالیسی کی شفافیت میں ناکام رہی۔</p>
<p>اس لمحے میں معاملہ صرف تجارت کا نہیں بلکہ ساکھ کا ہے۔ اگر ٹرمپ چین کے ساتھ کوئی بامعنی معاہدہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں، اور ٹیرف کا نظام بغیر کسی مربوط عالمی ردعمل کے دوبارہ نافذ ہو جاتا ہے، تو اس کا نقصان صرف اجناس یا صنعتی پیداوار تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے اثرات بانڈ مارکیٹ، زرِ مبادلہ کے ذخائر، کارپوریٹ رسک ماڈلز، اور عالمی تجارتی منصوبہ بندی کے پورے ڈھانچے پر محسوس کیے جائیں گے۔</p>
<p>سوال یہ ہے: کیا دنیا اتنے کھلے ہوئے جغرافیائی سیاسی محاذوں کے درمیان ایک نئی ٹیرف جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا امریکہ بیک وقت ایران کا سامنا کر سکتا ہے، چین کو قابو میں رکھ سکتا ہے، یوکرین کی حمایت جاری رکھ سکتا ہے، اور گھبرائے ہوئے سرمایہ کاروں کو اعتماد دے سکتا ہے؟</p>
<p>اب سوال یہ نہیں رہا کہ آیا ٹرمپ کشیدگی میں اضافہ کریں گے یا نہیں — سوال یہ ہے کہ آیا منڈیاں، اتحادی اور مخالفین، ان نتائج کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔</p>
<p>یہ ہفتہ شاید اس کا جواب دے دے — یا سال کے دوسرے نصف میں ایک بہت زیادہ غیر یقینی اور متزلزل دور کا پیش خیمہ ثابت ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273386</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Jun 2025 11:42:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/05102557d007458.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/05102557d007458.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
