<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قرضہ 75 ٹریلین روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273376/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ رواں مالی سال (25-2024) کے پہلے دس ماہ کے دوران 6 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا، جو بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے بھاری قرضوں کا نتیجہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی بدھ کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جولائی تا اپریل مالی سال 25-2024 کے دوران وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔ اپریل 2025 کے اختتام پر وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ، جس میں ملکی و غیر ملکی دونوں اقسام کے قرض شامل ہیں، بڑھ کر 74.936 ٹریلین روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جو جون 2024 میں 68.914 ٹریلین روپے تھا۔ یوں محض دس ماہ میں قرض میں 6.022 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرض میں اضافے کی بنیادی وجہ ملکی قرضوں میں تیز رفتار اضافہ تھا، جو 11.37 فیصد یا 5.363 ٹریلین روپے بڑھ کر اپریل 2025 میں 52.523 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جبکہ جون 2024 میں یہ 47.16 ٹریلین روپے تھے۔ ملکی قرضوں میں طویل مدتی قرض 44.132 ٹریلین روپے اور قلیل مدتی قرضے 8.328 ٹریلین روپے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی قرضے بھی رواں مالی سال کے دس ماہ میں روپے کے حساب سے 659 بلین روپے بڑھے۔ اپریل 2025 کے اختتام پر غیر ملکی قرضہ 22.413 ٹریلین روپے رہا، جو جون 2024 میں 21.754 ٹریلین روپے تھا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2024 میں ڈالر کا اوسط ایکسچینج ریٹ 278.3668 روپے تھا، جو اپریل 2025 میں 280.9739 روپے تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2025 کے دوران صرف ایک ماہ میں حکومت کے قرضے میں 1.248 ٹریلین روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر قرض لینا تھا۔ ماہانہ بنیاد پر حکومت کا قرض مارچ 2025 میں 73.688 ٹریلین روپے سے بڑھ کر اپریل 2025 میں 74.936 ٹریلین روپے ہو گیا، یعنی 2 فیصد اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں گزشتہ مالی سال کی نسبت جولائی تا مئی 25-2024 کے دوران 26 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم مجموعی طور پر ایف بی آر اپنا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ آمدنی کے اس شارٹ فال نے حکومت کو داخلی و خارجی ذرائع سے مزید قرض لینے پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایف بی آر جولائی تا مئی کے گیارہ ماہ میں 10.233 کھرب روپے کے محصولات جمع کر سکا، جبکہ اسی مدت کے لیے بجٹ میں 11.241 کھرب روپے کا ہدف مقرر تھا۔ یوں محصولات کی مد میں تقریباً 1 کھرب روپے کا شارٹ فال رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک پہلے ہی اس بات پر زور دے چکا ہے کہ سالانہ مالی اہداف حاصل کرنے کے لیے ٹیکس آمدنی میں تیزی سے اضافہ ضروری ہے۔ حکومت کے لیے بنیادی مالی توازن (پرائمری بیلنس) کا ہدف حاصل کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ رواں مالی سال (25-2024) کے پہلے دس ماہ کے دوران 6 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا، جو بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے بھاری قرضوں کا نتیجہ ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی بدھ کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جولائی تا اپریل مالی سال 25-2024 کے دوران وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔ اپریل 2025 کے اختتام پر وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ، جس میں ملکی و غیر ملکی دونوں اقسام کے قرض شامل ہیں، بڑھ کر 74.936 ٹریلین روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جو جون 2024 میں 68.914 ٹریلین روپے تھا۔ یوں محض دس ماہ میں قرض میں 6.022 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>قرض میں اضافے کی بنیادی وجہ ملکی قرضوں میں تیز رفتار اضافہ تھا، جو 11.37 فیصد یا 5.363 ٹریلین روپے بڑھ کر اپریل 2025 میں 52.523 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جبکہ جون 2024 میں یہ 47.16 ٹریلین روپے تھے۔ ملکی قرضوں میں طویل مدتی قرض 44.132 ٹریلین روپے اور قلیل مدتی قرضے 8.328 ٹریلین روپے شامل ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی قرضے بھی رواں مالی سال کے دس ماہ میں روپے کے حساب سے 659 بلین روپے بڑھے۔ اپریل 2025 کے اختتام پر غیر ملکی قرضہ 22.413 ٹریلین روپے رہا، جو جون 2024 میں 21.754 ٹریلین روپے تھا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2024 میں ڈالر کا اوسط ایکسچینج ریٹ 278.3668 روپے تھا، جو اپریل 2025 میں 280.9739 روپے تک پہنچ گیا۔</p>
<p>اپریل 2025 کے دوران صرف ایک ماہ میں حکومت کے قرضے میں 1.248 ٹریلین روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر قرض لینا تھا۔ ماہانہ بنیاد پر حکومت کا قرض مارچ 2025 میں 73.688 ٹریلین روپے سے بڑھ کر اپریل 2025 میں 74.936 ٹریلین روپے ہو گیا، یعنی 2 فیصد اضافہ۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں گزشتہ مالی سال کی نسبت جولائی تا مئی 25-2024 کے دوران 26 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم مجموعی طور پر ایف بی آر اپنا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ آمدنی کے اس شارٹ فال نے حکومت کو داخلی و خارجی ذرائع سے مزید قرض لینے پر مجبور کیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایف بی آر جولائی تا مئی کے گیارہ ماہ میں 10.233 کھرب روپے کے محصولات جمع کر سکا، جبکہ اسی مدت کے لیے بجٹ میں 11.241 کھرب روپے کا ہدف مقرر تھا۔ یوں محصولات کی مد میں تقریباً 1 کھرب روپے کا شارٹ فال رہا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک پہلے ہی اس بات پر زور دے چکا ہے کہ سالانہ مالی اہداف حاصل کرنے کے لیے ٹیکس آمدنی میں تیزی سے اضافہ ضروری ہے۔ حکومت کے لیے بنیادی مالی توازن (پرائمری بیلنس) کا ہدف حاصل کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273376</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Jun 2025 08:38:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/06/0508380029063d9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/06/0508380029063d9.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
