<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک بھارت کشیدگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273239/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے اپنے آبائی صوبے گجرات میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام، خاص طور پر اس کے نوجوان، آگے بڑھیں اور اپنے ملک کو ’دہشت گردی کی بیماری‘ سے نجات دلائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرامن زندگی گزارو، اپنی روٹی کھاؤ، ورنہ میری گولی تو ہمیشہ ایک آپشن ہے۔ ان کے اس بیان پر مجمعے کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس ہفتے کے آغاز میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی حکومت نے بھارتی وزیراعظم کے ان بیانات کا نوٹس لیا ہے جو گجرات میں ایک انتخابی مہم کے جوش میں دیے گئے، حالاں کہ ایک ایٹمی طاقت کے سربراہ سے سنجیدگی کا مظاہرہ کیے جانے کی توقع تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے بیانات اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں جو رکن ممالک کو تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کرنے اور دوسرے ممالک کی خودمختاری یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی دینے سے باز رہنے کا پابند بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کا بیان بلاشبہ بھارتی عوام کو خوش کرنے کے لیے تھا۔ اس بیان کا نقصان یہ ہے کہ اس سے دنیا کو یہ پیغام جاتا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کی راہ بہت دور ہے۔ ایک عوامی رہنما کی قیادت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ عوامی جذبات کو قابو میں رکھے اور قوم کو تنازع کے حل کے لیے ایک بامعنی راستہ دکھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے خلاف منفی جذبات اور مہم جوئی کی فضا میں بہہ کر بھارت دنیا کو یہ باور کرانے میں ناکام رہا کہ پہلگام واقعے کی وجہ، مقصد اور مجرم کون تھے۔ پاکستان پر الزام تراشی کا پرانا اور گھسا پٹا بیانیہ، جو صرف تاریخی واقعات پر مبنی ہے اقوام متحدہ میں پذیرائی حاصل نہ کر سکا۔ بھارت نے پاکستان کی جانب سے اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش بھی رد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف حمایت نہ ملنے پر، بھارت نے گزشتہ ہفتے 33 ممالک میں ایک پارلیمانی وفد بھیجا تاکہ پاکستان کے خلاف اپنے بیانیے کے لیے حمایت حاصل کی جا سکے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ پہلگام حملے کے پیچھے پاکستان میں قائم لشکرِ طیبہ  ملوث ہے اور اس نے تاریخی شواہد کی بنیاد پر ایک مقدمہ تیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پاکستان نے بھی انہی ممالک میں اپنے پارلیمانی وفود کو بھیجا ہے تاکہ بھارت کی مبینہ دہشت گردی میں مداخلت کے خلاف حمایت حاصل کی جا سکے۔ پاکستان نے اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے ایک دستاویز بھی تیار کی ہے۔ امکان ہے کہ دنیا بھر میں دونوں فریقین کی بات سنی جائے گی، مگر اس سے زیادہ کچھ ٹھوس حاصل ہونے کی امید نہیں — جیسا کہ بھارتی وفود کی اب تک کی ملاقاتوں کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت یہ قیاس کر رہا ہے کہ اپنی معاشی اور جغرافیائی بالادستی اور دنیا بھر میں وسیع رسائی کی بنیاد پر اس کا بیانیہ بلا رکاوٹ تسلیم کر لیا جائے گا۔ تاہم یہ قیاس غلط ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا اب ویسی نہیں رہی جیسی ایک سال پہلے تھی۔ جغرافیائی سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے اور تمام ممالک — چاہے بڑے ہوں یا چھوٹے — اس تبدیلی کے تناظر میں اپنے مقام کا ازسرنو تعین کر رہے ہیں۔ ریاستی طرز حکمرانی میں اندرونی اور بیرونی سطح پر نمایاں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور مغرب میں نئے اتحاد بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی ترجیح اب ’سب سے پہلے امریکہ‘ کے اصول پر منتقل ہو چکی ہے۔ چین آج عالمی سیاست میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پُراعتماد انداز میں سامنے آ رہا ہے۔ حالیہ پاک-بھارت تنازعے میں چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت دراصل پاکستان اور چین کے تعلقات میں ایک ’نئے معمول‘ کا آغاز ہے۔ جنوبی ایشیا کا خطہ اب بھارت کے اثر و رسوخ سے باہر نکل رہا ہے اور بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات اور خطے میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ کے درمیان توازن قائم کرنے کی نئی کوششیں کر رہا ہے۔ جاری پاک-بھارت کشیدگی میں امریکہ کا حالیہ غیر جانبدارانہ مؤقف اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن کی بھارت کو خطے میں چین کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دینے میں دلچسپی اب کم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی حالات اس نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کو اپنے مسائل خود حل کرنے ہوں گے اور اپنے تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی پختگی کا مظاہرہ تب ہوتا اگر بھارتی وفد واہگہ بارڈر سے پاکستان آتا، یا پاکستانی وفد بھارت جاتا اور دونوں فریق ایک ساتھ بیٹھ کر باہمی اختلافات کو ممکنہ حد تک حل کرنے کی کوشش کرتے۔ اس طریقے سے حاصل ہونے والے نتائج، دنیا بھر میں اپنے مؤقف کے حامی تلاش کرنے کی لاحاصل کوششوں سے کہیں زیادہ مؤثر اور ٹھوس ہو سکتے تھے۔ یہ ایک بے نتیجہ مشق ہے جس کے حامی کہیں نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں ہے جو حل نہ ہو سکے۔ یہ سب تاریخی نوعیت کے مسائل ہیں، جو دہائیوں سے التوا کا شکار ہیں۔ کئی بار پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچے مگر آخری وقت پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اگر پاکستان اور بھارت 1960 میں مل بیٹھ کر پیچیدہ سندھ طاس معاہدہ طے کر سکتے تھے تو آج بھی دونوں ممالک کیوں نہیں بیٹھ سکتے تاکہ اس معاہدے کا ازسرِنو جائزہ لیں اور دونوں کے مفاد میں اسے بہتر بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسائل کا حل صرف دو طرفہ مکالمے میں ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یہ عمل فوراً شروع ہو سکتا ہے اگر بھارت پاکستان کو برابر کا شریک ماننا شروع کر دے اور دونوں ممالک عوامی جذبات کی تسکین کے لیے پھیلائی جانے والی مصنوعی دشمنی کو پسِ پشت ڈال دیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے اپنے آبائی صوبے گجرات میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام، خاص طور پر اس کے نوجوان، آگے بڑھیں اور اپنے ملک کو ’دہشت گردی کی بیماری‘ سے نجات دلائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرامن زندگی گزارو، اپنی روٹی کھاؤ، ورنہ میری گولی تو ہمیشہ ایک آپشن ہے۔ ان کے اس بیان پر مجمعے کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں۔</strong></p>
<p>پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس ہفتے کے آغاز میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی حکومت نے بھارتی وزیراعظم کے ان بیانات کا نوٹس لیا ہے جو گجرات میں ایک انتخابی مہم کے جوش میں دیے گئے، حالاں کہ ایک ایٹمی طاقت کے سربراہ سے سنجیدگی کا مظاہرہ کیے جانے کی توقع تھی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے بیانات اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں جو رکن ممالک کو تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کرنے اور دوسرے ممالک کی خودمختاری یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی دینے سے باز رہنے کا پابند بناتے ہیں۔</p>
<p>مودی کا بیان بلاشبہ بھارتی عوام کو خوش کرنے کے لیے تھا۔ اس بیان کا نقصان یہ ہے کہ اس سے دنیا کو یہ پیغام جاتا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کی راہ بہت دور ہے۔ ایک عوامی رہنما کی قیادت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ عوامی جذبات کو قابو میں رکھے اور قوم کو تنازع کے حل کے لیے ایک بامعنی راستہ دکھائے۔</p>
<p>پاکستان کے خلاف منفی جذبات اور مہم جوئی کی فضا میں بہہ کر بھارت دنیا کو یہ باور کرانے میں ناکام رہا کہ پہلگام واقعے کی وجہ، مقصد اور مجرم کون تھے۔ پاکستان پر الزام تراشی کا پرانا اور گھسا پٹا بیانیہ، جو صرف تاریخی واقعات پر مبنی ہے اقوام متحدہ میں پذیرائی حاصل نہ کر سکا۔ بھارت نے پاکستان کی جانب سے اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش بھی رد کر دی۔</p>
<p>دنیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف حمایت نہ ملنے پر، بھارت نے گزشتہ ہفتے 33 ممالک میں ایک پارلیمانی وفد بھیجا تاکہ پاکستان کے خلاف اپنے بیانیے کے لیے حمایت حاصل کی جا سکے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ پہلگام حملے کے پیچھے پاکستان میں قائم لشکرِ طیبہ  ملوث ہے اور اس نے تاریخی شواہد کی بنیاد پر ایک مقدمہ تیار کیا ہے۔</p>
<p>اسی دوران پاکستان نے بھی انہی ممالک میں اپنے پارلیمانی وفود کو بھیجا ہے تاکہ بھارت کی مبینہ دہشت گردی میں مداخلت کے خلاف حمایت حاصل کی جا سکے۔ پاکستان نے اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے ایک دستاویز بھی تیار کی ہے۔ امکان ہے کہ دنیا بھر میں دونوں فریقین کی بات سنی جائے گی، مگر اس سے زیادہ کچھ ٹھوس حاصل ہونے کی امید نہیں — جیسا کہ بھارتی وفود کی اب تک کی ملاقاتوں کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>بھارت یہ قیاس کر رہا ہے کہ اپنی معاشی اور جغرافیائی بالادستی اور دنیا بھر میں وسیع رسائی کی بنیاد پر اس کا بیانیہ بلا رکاوٹ تسلیم کر لیا جائے گا۔ تاہم یہ قیاس غلط ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>دنیا اب ویسی نہیں رہی جیسی ایک سال پہلے تھی۔ جغرافیائی سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے اور تمام ممالک — چاہے بڑے ہوں یا چھوٹے — اس تبدیلی کے تناظر میں اپنے مقام کا ازسرنو تعین کر رہے ہیں۔ ریاستی طرز حکمرانی میں اندرونی اور بیرونی سطح پر نمایاں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور مغرب میں نئے اتحاد بن رہے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>امریکہ کی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی ترجیح اب ’سب سے پہلے امریکہ‘ کے اصول پر منتقل ہو چکی ہے۔ چین آج عالمی سیاست میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پُراعتماد انداز میں سامنے آ رہا ہے۔ حالیہ پاک-بھارت تنازعے میں چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت دراصل پاکستان اور چین کے تعلقات میں ایک ’نئے معمول‘ کا آغاز ہے۔ جنوبی ایشیا کا خطہ اب بھارت کے اثر و رسوخ سے باہر نکل رہا ہے اور بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات اور خطے میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ کے درمیان توازن قائم کرنے کی نئی کوششیں کر رہا ہے۔ جاری پاک-بھارت کشیدگی میں امریکہ کا حالیہ غیر جانبدارانہ مؤقف اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن کی بھارت کو خطے میں چین کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دینے میں دلچسپی اب کم ہو رہی ہے۔</p>
</blockquote>
<p>بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی حالات اس نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کو اپنے مسائل خود حل کرنے ہوں گے اور اپنے تعلقات کو ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔</p>
<p>سیاسی پختگی کا مظاہرہ تب ہوتا اگر بھارتی وفد واہگہ بارڈر سے پاکستان آتا، یا پاکستانی وفد بھارت جاتا اور دونوں فریق ایک ساتھ بیٹھ کر باہمی اختلافات کو ممکنہ حد تک حل کرنے کی کوشش کرتے۔ اس طریقے سے حاصل ہونے والے نتائج، دنیا بھر میں اپنے مؤقف کے حامی تلاش کرنے کی لاحاصل کوششوں سے کہیں زیادہ مؤثر اور ٹھوس ہو سکتے تھے۔ یہ ایک بے نتیجہ مشق ہے جس کے حامی کہیں نہیں۔</p>
<p>بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں ہے جو حل نہ ہو سکے۔ یہ سب تاریخی نوعیت کے مسائل ہیں، جو دہائیوں سے التوا کا شکار ہیں۔ کئی بار پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچے مگر آخری وقت پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اگر پاکستان اور بھارت 1960 میں مل بیٹھ کر پیچیدہ سندھ طاس معاہدہ طے کر سکتے تھے تو آج بھی دونوں ممالک کیوں نہیں بیٹھ سکتے تاکہ اس معاہدے کا ازسرِنو جائزہ لیں اور دونوں کے مفاد میں اسے بہتر بنائیں۔</p>
<p>مسائل کا حل صرف دو طرفہ مکالمے میں ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یہ عمل فوراً شروع ہو سکتا ہے اگر بھارت پاکستان کو برابر کا شریک ماننا شروع کر دے اور دونوں ممالک عوامی جذبات کی تسکین کے لیے پھیلائی جانے والی مصنوعی دشمنی کو پسِ پشت ڈال دیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273239</guid>
      <pubDate>Sat, 31 May 2025 15:44:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/31154203f83b918.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/31154203f83b918.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
