<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 00:17:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 10 Aug 2026 00:17:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پائیدار کاروبار میں ای ایس جی پالیسی کا کردار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273213/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پائیداری اور ای ایس جی (انوائرمنٹ، سوشل اور انتظامی امور) جو کبھی مقبول اصطلاحات سمجھی جاتی تھیں اب سنجیدگی سے کارپوریٹس اور پالیسی سازوں دونوں  کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ بہت سے لوگ یہ بحث کرتے ہیں کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تکنیکی طور پر دیکھا جائے تو پائیداری کا دائرہ کار بہت وسیع ہے، جبکہ ای ایس جی کو پائیداری کا ایک ذیلی جزو سمجھا جا سکتا ہے۔ ای ایس جی کا مطلب ہے: ماحولیاتی، سماجی، اور حکومتی پہلو یا انتظامی امور، جو مجموعی طور پر ان تمام اہم شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں جس میں کوئی کاروبار چلایا جاتا ہے۔ عموماً یہ دونوں اصطلاحات ساتھ ساتھ استعمال کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے ویلیو چینز میں شامل ادارے اپنے کاروباری شراکت داروں کی ای ایس جی پالیسیوں کے بارے میں جاننے کے خواہش مند ہو گئے ہیں، جس سے ان پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ایک مضبوط کاروباری جواز پیدا ہو رہا ہے۔ اس اہمیت کے پیشِ نظر، ریگولیٹرز نے بروقت اقدامات کیے ہیں اور پائیداری سے متعلق ضوابط اور لازمی ضابطے متعارف کرائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداروں کے لیے ایک بنیادی تقاضا یہ بھی ہے کہ ان کے پاس پائیداری اور ای ایس جی سے متعلق ایک واضح پالیسی موجود ہو۔ پاکستان میں کمپنیوں کا بنیادی نگران ادارہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ہے۔ اس نے پائیداری کے حوالے سے ضوابط کے ڈھانچے میں کئی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، بالخصوص لسٹڈ کمپنیوں کے لیے 2019 کا ضابطہ برائے کارپوریٹ گورننس (دی کوڈ) ہے۔ اس ضابطے کے تحت کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر لازم ہے کہ وہ ایک ای ایس جی پالیسی مرتب کرے اور اس کو مؤثر طریقے سے برقرار رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی سی جی کے 2023 میں کرائے گئے ای ایس جی سروے کے مطابق:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا آپ کے ادارے کے پاس ای ایس جی حکمتِ عملی سے متعلق کوئی واضح عملی منصوبہ موجود ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو نتائج نے اس بات کو مزید تقویت دی کہ کمپنیوں کے لیے ایک بورڈ سطح کی ای ایس جی پالیسی کا ہونا ناگزیر ہے تاکہ ایجنڈے کی سمت متعین کی جا سکے اور اس پر عمل درآمد کی رفتار تیز ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی اور ادارہ جاتی نقطہ نظر سے بھی بورڈ سطح پر ای ایس جی پالیسی کا ہونا انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ اعلیٰ ترین سطح پر ملکیت (اونرشپ) اور وضاحت  کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ادارے کے مختلف حصوں میں ای ایس جی ایجنڈے کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا اور مطلوبہ اہداف حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارپوریٹ گورننس کا ضابطہ (دی کوڈ) کمپنیوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایسی پالیسی مرتب کریں جو ان امور کا احاطہ کرے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضابطہ (دی کوڈ) کمپنیوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایسی پالیسی مرتب کریں جو ای ایس جی یعنی ماحولیاتی، سماجی اور حکومتی عوامل — جن میں صحت و سلامتی کے پہلو بھی شامل ہیں — کو ایسی کاروباری حکمتِ عملیوں کا حصہ بنایا جائے جو پائیداری کو فروغ دیں، سماجی ذمہ داری کے اقدامات، فلاحی سرگرمیاں، عطیات، خیرات میں تعاون، اور سماجی بہبود سے متعلق دیگر امور کو بھی شامل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پائیداری کے ایجنڈے کو مؤثر طور پر نافذ کرنے کے لیے ایک بورڈ سطح کی پالیسی کو اپنانا ضروری ہے، جو درج ذیل عناصر کا احاطہ کرے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشن، وژن اسٹیٹمنٹ اور ویلیوز کو جوڑنا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی کمپنی کا مشن، وژن اسٹیٹمنٹ اور اقدار کا مجموعہ وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر کمپنی قائم ہوتی ہے اور اپنا کاروبار چلاتی ہے۔ پائیداری کو ان بنیادی اصولوں میں شامل کرنا، پائیدار طریقوں کو کاروبار کے تمام پہلوؤں میں ضم کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لیے، کمپنیوں کو اپنی موجودہ مشن اور وژن اسٹیٹمنٹ کا جائزہ لینا اور ان میں پائیداری کو شامل کرنے کے لیے نظر ثانی کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رسک مینجمنٹ:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنیوں کے پاس رسک مینجمنٹ پروگرام ہوتے ہیں جن کا مقصد کاروباری خطرات کی نشاندہی، تجزیہ اور ان کے سنگینی اور اثرات کا اندازہ لگانا ہوتا ہے جس میں بہتر اندازے کے لیے منظرنامے کا تجزیہ بھی شامل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ضروری ہے کہ کمپنی ای ایس جی سے متعلق ممکنہ خطرات کے اثرات کا جائزہ لے، جو اس کے مستقبل کے کاروبار، منافع، نقد بہاؤ اور مارکیٹ میں مقام پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اسی کے مطابق ایک عملی منصوبہ تیار کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخلاقی ثقافت:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ کا ایک اہم کردار یہ یقینی بنانا ہے کہ اخلاقی اقدار اور ثقافت پورے ادارے میں فروغ پائیں اور عملی طور پر نافذ ہوں۔ اس میں کاروباری معاملات میں شفافیت، ڈیٹا کی رازداری کا تحفظ، بدعنوانی کے خلاف اقدامات، ہراسانی اور جنسی ہراسانی کی روک تھام جیسے امور شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تمام ملازمین اخلاقی اقدار سے آگاہ ہوں اور ان پر عمل کریں۔ یہ اقدار ایک ضابطہ اخلاق میں مرتب کی جائیں جس پر تمام ملازمین دستخط کریں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کا اظہار کر سکیں۔ ای ایس جی کے نقطہ نظر سے یہ طریقہ کار سماجی تقاضوں کی تعمیل کی نمائندگی کرتا ہے۔ ای ایس جی پالیسی میں اس بات کا مناسب احاطہ یقینی بنانے سے سماجی تعمیل کی ضروریات پر عمل درآمد میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بدعنوانی کی نشاندہی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکشافِ حقائق کا پروگرام یا بدعنوانی کی نشاندہی انتظامی امور (گورننس) کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ کمپنی اور اس کی ویلیو چین میں ہونے والی بدعنوانیوں یا غلط کاموں کی نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ملازمین، کاروباری شراکت دار، فروخت کنندگان اور سپلائرز کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ جو بھی غلط کام دیکھیں اسے خفیہ طور پر رپورٹ کریں۔ اس کے ساتھ ہی یہ پروگرام ای ایس جی سے متعلق مسائل کی رپورٹنگ کا بھی ایک ذریعہ فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عملی منصوبہ، کے پی آئی اور اہم مسائل:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کمپنی کے کاروبار یا آپریشنز سے متعلق کسی بھی اہم معاملے کی بورڈ کو اطلاع دے۔ اس کے علاوہ، انتظامیہ کو ای ایس جی سے متعلقہ اہم مسائل کی بھی بورڈ کی توجہ مبذول کروانی چاہیے، جن میں ای ایس جی پالیسی کی موجودہ صورتحال اور درپیش چیلنجز، ایس جی کے پی آئیز اور مقرر کردہ اہداف کی پیشرفت، کسی بھی ریگولیٹری ادارے کی جانب سے ای ایس جی قوانین کی خلاف ورزی اور اس پر عائد کی گئی سزائیں، اور کمپنی کی جانب سے انجام دی جانے والی سی ایس آر سرگرمیوں کی تازہ پیشرفت شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں اس کا مناسب احاطہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں ای ایس جی پالیسی کے فریم ورک کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کمپنی کے بورڈ میں متنوع یعنی مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے اراکین شامل ہوں، جیسے کہ آزاد اور خواتین ڈائریکٹرز، جو ضروری مہارت، تجربہ اور علم رکھتے ہوں تاکہ کمپنی کی ای ایس جی اقدامات کی حمایت اور رہنمائی کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ایس جی پالیسی ایک ایسی دستاویز ہے جو کمپنی کے اندرونی عمل کو ای ایس جی کے اصولوں کے مطابق بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ کمپنی کو اپنے کاروباری شراکت داروں، گاہکوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ کمپنی سے باہر بھی اس بارے میں بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس پالیسی کی مدد سے ای ایس جی کے اشاریوں سے متعلق کسی بھی سوال کا جواب دینا آسان ہو جاتا ہے، اور کمپنی کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو بھی واضح کیا جا سکتا ہے تاکہ متعلقہ ای ایس جی کے پی آئیز پورے کیے جا سکیں۔ علاوہ ازیں، ایک مضبوط ای ایس جی پالیسی کا فریم ورک مستقبل میں خود مختار آڈٹ شدہ بیانات کی ضرورت کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پائیداری اور ای ایس جی (انوائرمنٹ، سوشل اور انتظامی امور) جو کبھی مقبول اصطلاحات سمجھی جاتی تھیں اب سنجیدگی سے کارپوریٹس اور پالیسی سازوں دونوں  کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ بہت سے لوگ یہ بحث کرتے ہیں کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے۔</strong></p>
<p>تکنیکی طور پر دیکھا جائے تو پائیداری کا دائرہ کار بہت وسیع ہے، جبکہ ای ایس جی کو پائیداری کا ایک ذیلی جزو سمجھا جا سکتا ہے۔ ای ایس جی کا مطلب ہے: ماحولیاتی، سماجی، اور حکومتی پہلو یا انتظامی امور، جو مجموعی طور پر ان تمام اہم شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں جس میں کوئی کاروبار چلایا جاتا ہے۔ عموماً یہ دونوں اصطلاحات ساتھ ساتھ استعمال کی جاتی ہیں۔</p>
<p>جیسے جیسے آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے ویلیو چینز میں شامل ادارے اپنے کاروباری شراکت داروں کی ای ایس جی پالیسیوں کے بارے میں جاننے کے خواہش مند ہو گئے ہیں، جس سے ان پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ایک مضبوط کاروباری جواز پیدا ہو رہا ہے۔ اس اہمیت کے پیشِ نظر، ریگولیٹرز نے بروقت اقدامات کیے ہیں اور پائیداری سے متعلق ضوابط اور لازمی ضابطے متعارف کرائے ہیں۔</p>
<p>اداروں کے لیے ایک بنیادی تقاضا یہ بھی ہے کہ ان کے پاس پائیداری اور ای ایس جی سے متعلق ایک واضح پالیسی موجود ہو۔ پاکستان میں کمپنیوں کا بنیادی نگران ادارہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ہے۔ اس نے پائیداری کے حوالے سے ضوابط کے ڈھانچے میں کئی اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، بالخصوص لسٹڈ کمپنیوں کے لیے 2019 کا ضابطہ برائے کارپوریٹ گورننس (دی کوڈ) ہے۔ اس ضابطے کے تحت کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر لازم ہے کہ وہ ایک ای ایس جی پالیسی مرتب کرے اور اس کو مؤثر طریقے سے برقرار رکھے۔</p>
<p>پی آئی سی جی کے 2023 میں کرائے گئے ای ایس جی سروے کے مطابق:</p>
<p>جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا آپ کے ادارے کے پاس ای ایس جی حکمتِ عملی سے متعلق کوئی واضح عملی منصوبہ موجود ہے؟</p>
<p>تو نتائج نے اس بات کو مزید تقویت دی کہ کمپنیوں کے لیے ایک بورڈ سطح کی ای ایس جی پالیسی کا ہونا ناگزیر ہے تاکہ ایجنڈے کی سمت متعین کی جا سکے اور اس پر عمل درآمد کی رفتار تیز ہو۔</p>
<p>حکومتی اور ادارہ جاتی نقطہ نظر سے بھی بورڈ سطح پر ای ایس جی پالیسی کا ہونا انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ اعلیٰ ترین سطح پر ملکیت (اونرشپ) اور وضاحت  کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ادارے کے مختلف حصوں میں ای ایس جی ایجنڈے کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا اور مطلوبہ اہداف حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔</p>
<p>کارپوریٹ گورننس کا ضابطہ (دی کوڈ) کمپنیوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایسی پالیسی مرتب کریں جو ان امور کا احاطہ کرے:</p>
<p>ضابطہ (دی کوڈ) کمپنیوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایسی پالیسی مرتب کریں جو ای ایس جی یعنی ماحولیاتی، سماجی اور حکومتی عوامل — جن میں صحت و سلامتی کے پہلو بھی شامل ہیں — کو ایسی کاروباری حکمتِ عملیوں کا حصہ بنایا جائے جو پائیداری کو فروغ دیں، سماجی ذمہ داری کے اقدامات، فلاحی سرگرمیاں، عطیات، خیرات میں تعاون، اور سماجی بہبود سے متعلق دیگر امور کو بھی شامل کرے۔</p>
<p>پائیداری کے ایجنڈے کو مؤثر طور پر نافذ کرنے کے لیے ایک بورڈ سطح کی پالیسی کو اپنانا ضروری ہے، جو درج ذیل عناصر کا احاطہ کرے:</p>
<p><strong>مشن، وژن اسٹیٹمنٹ اور ویلیوز کو جوڑنا</strong></p>
<p>کسی بھی کمپنی کا مشن، وژن اسٹیٹمنٹ اور اقدار کا مجموعہ وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر کمپنی قائم ہوتی ہے اور اپنا کاروبار چلاتی ہے۔ پائیداری کو ان بنیادی اصولوں میں شامل کرنا، پائیدار طریقوں کو کاروبار کے تمام پہلوؤں میں ضم کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لیے، کمپنیوں کو اپنی موجودہ مشن اور وژن اسٹیٹمنٹ کا جائزہ لینا اور ان میں پائیداری کو شامل کرنے کے لیے نظر ثانی کرنی چاہیے۔</p>
<p><strong>رسک مینجمنٹ:</strong></p>
<p>کمپنیوں کے پاس رسک مینجمنٹ پروگرام ہوتے ہیں جن کا مقصد کاروباری خطرات کی نشاندہی، تجزیہ اور ان کے سنگینی اور اثرات کا اندازہ لگانا ہوتا ہے جس میں بہتر اندازے کے لیے منظرنامے کا تجزیہ بھی شامل ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ ضروری ہے کہ کمپنی ای ایس جی سے متعلق ممکنہ خطرات کے اثرات کا جائزہ لے، جو اس کے مستقبل کے کاروبار، منافع، نقد بہاؤ اور مارکیٹ میں مقام پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اسی کے مطابق ایک عملی منصوبہ تیار کرے۔</p>
<p>اخلاقی ثقافت:</p>
<p>بورڈ کا ایک اہم کردار یہ یقینی بنانا ہے کہ اخلاقی اقدار اور ثقافت پورے ادارے میں فروغ پائیں اور عملی طور پر نافذ ہوں۔ اس میں کاروباری معاملات میں شفافیت، ڈیٹا کی رازداری کا تحفظ، بدعنوانی کے خلاف اقدامات، ہراسانی اور جنسی ہراسانی کی روک تھام جیسے امور شامل ہیں۔</p>
<p>مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تمام ملازمین اخلاقی اقدار سے آگاہ ہوں اور ان پر عمل کریں۔ یہ اقدار ایک ضابطہ اخلاق میں مرتب کی جائیں جس پر تمام ملازمین دستخط کریں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کا اظہار کر سکیں۔ ای ایس جی کے نقطہ نظر سے یہ طریقہ کار سماجی تقاضوں کی تعمیل کی نمائندگی کرتا ہے۔ ای ایس جی پالیسی میں اس بات کا مناسب احاطہ یقینی بنانے سے سماجی تعمیل کی ضروریات پر عمل درآمد میں مدد ملے گی۔</p>
<p><strong>بدعنوانی کی نشاندہی</strong></p>
<p>انکشافِ حقائق کا پروگرام یا بدعنوانی کی نشاندہی انتظامی امور (گورننس) کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ کمپنی اور اس کی ویلیو چین میں ہونے والی بدعنوانیوں یا غلط کاموں کی نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ملازمین، کاروباری شراکت دار، فروخت کنندگان اور سپلائرز کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ جو بھی غلط کام دیکھیں اسے خفیہ طور پر رپورٹ کریں۔ اس کے ساتھ ہی یہ پروگرام ای ایس جی سے متعلق مسائل کی رپورٹنگ کا بھی ایک ذریعہ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p><strong>عملی منصوبہ، کے پی آئی اور اہم مسائل:</strong></p>
<p>انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کمپنی کے کاروبار یا آپریشنز سے متعلق کسی بھی اہم معاملے کی بورڈ کو اطلاع دے۔ اس کے علاوہ، انتظامیہ کو ای ایس جی سے متعلقہ اہم مسائل کی بھی بورڈ کی توجہ مبذول کروانی چاہیے، جن میں ای ایس جی پالیسی کی موجودہ صورتحال اور درپیش چیلنجز، ایس جی کے پی آئیز اور مقرر کردہ اہداف کی پیشرفت، کسی بھی ریگولیٹری ادارے کی جانب سے ای ایس جی قوانین کی خلاف ورزی اور اس پر عائد کی گئی سزائیں، اور کمپنی کی جانب سے انجام دی جانے والی سی ایس آر سرگرمیوں کی تازہ پیشرفت شامل ہو۔</p>
<p>پالیسی میں اس کا مناسب احاطہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>آخر میں ای ایس جی پالیسی کے فریم ورک کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کمپنی کے بورڈ میں متنوع یعنی مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے اراکین شامل ہوں، جیسے کہ آزاد اور خواتین ڈائریکٹرز، جو ضروری مہارت، تجربہ اور علم رکھتے ہوں تاکہ کمپنی کی ای ایس جی اقدامات کی حمایت اور رہنمائی کر سکیں۔</p>
<p>ای ایس جی پالیسی ایک ایسی دستاویز ہے جو کمپنی کے اندرونی عمل کو ای ایس جی کے اصولوں کے مطابق بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ کمپنی کو اپنے کاروباری شراکت داروں، گاہکوں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ کمپنی سے باہر بھی اس بارے میں بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس پالیسی کی مدد سے ای ایس جی کے اشاریوں سے متعلق کسی بھی سوال کا جواب دینا آسان ہو جاتا ہے، اور کمپنی کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو بھی واضح کیا جا سکتا ہے تاکہ متعلقہ ای ایس جی کے پی آئیز پورے کیے جا سکیں۔ علاوہ ازیں، ایک مضبوط ای ایس جی پالیسی کا فریم ورک مستقبل میں خود مختار آڈٹ شدہ بیانات کی ضرورت کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273213</guid>
      <pubDate>Fri, 30 May 2025 15:51:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جنید شیخا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/301549528b7f0d3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/301549528b7f0d3.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
