<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں مالی سال تنخواہ دار طبقے نے برآمدکنندگان اور ریٹیلرز سے پانچ گنا زیادہ ٹیکس ادا کیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273205/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیلریڈ کلاس الائنس آف پاکستان (ایس سی اے پی) کے ایک رکن نے جمعرات کے روز کہا کہ رواں مالی سال پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس نیٹ میں حصہ برآمدکنندگان اور ریٹیلرز سے پانچ گنا زیادہ رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس سی اے پی کے رکن ناصر حسین طیبانی نے کہا کہ  فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 25-2024 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد سے 430 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں اکٹھے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مکمل مالی سال کے اختتام پر یہ رقم 550 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی، جو کہ مالی سال 2019 میں 75 ارب روپے اور مالی سال 2024 میں 368 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناصر طیبانی نے کہا کہ تنخواہ دار افراد پر بھاری ٹیکسز عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ برآمدکنندگان اور ریٹیلرز نے مجموعی طور پر صرف 100 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الائنس نے آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں ریلیف کا مطالبہ کیا، ان کا دعویٰ تھا کہ ٹیکس وصولی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کومل علی، جو ایس سی اے پی کی ایک اور رکن ہیں، نے کہا: اب وہ وقت آ گیا ہے جب زیادہ ٹیکس کی شرحیں نہ صرف آمدنی پر منفی اثر ڈالیں گی بلکہ ٹیکس وصولی، اقتصادی نمو، سرمائے کے انخلا اور باصلاحیت افراد کے بیرون ملک نقل مکانی (برین ڈرین) کو بھی تیز کر دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/SmfrgKGAhI0?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پریس کانفرنس میں لیفر کرو (Laffer Curve) کے نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تنخواہ دار افراد پر موجودہ ٹیکس کی شرحیں حد سے زیادہ بلند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پیش گوئی کی کہ اگر حکومت نے ٹیکس میں کمی اور ٹیکس کریڈٹ نہ دیے تو نہ صرف ٹیکس وصولی کم ہو جائے گی بلکہ اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ ٹیکس کی شرحیں ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کی بیرون ملک منتقلی کو تیز تر کر دیں گی اور ملک سے سرمائے کے انخلا کا سبب بنیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناصر طیبانی نے مزید کہا کہ تنخواہ دار طبقہ 35 فیصد تک انکم ٹیکس ادا کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان میں سے کچھ افراد پر 10 فیصد سرچارج بھی لاگو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دوسری طرف، انہیں اشیائے صرف کی خریداری، صحت اور تعلیم کی فیسوں پر بھی بالواسطہ ٹیکس دینا پڑتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکس میں چلا جاتا ہے، جو ان کی دستیاب آمدنی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ
انکم ٹیکس سلیب کی تعداد کو 23-2022 کی سطح پر واپس لایا جائے
زیادہ شرح والے ٹیکس میں کمی کی جائے
ٹیکس سے مستثنیٰ تنخواہ کی حد کو موجودہ 50,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 100,000 روپے ماہانہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیبانی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ
میوچل فنڈز اور پنشن فنڈز میں سرمایہ کاری پر ٹیکس مراعات کو بحال کیا جائے
انکم ٹیکس پر عائد 10 فیصد سرچارج کو ختم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت کو مزید ٹیکس بڑھانے کے بجائے زراعت اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کر کے ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسنین اشرف، جو الائنس کے ایک اور رکن ہیں، نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت اپنی انتہائی حد کو پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے اب ان کے پاس گھر یا گاڑی خریدنے کے لیے وسائل باقی نہیں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کنٹرول کرنے چاہئیں اور ان سرکاری اداروں کو درست کرنا چاہیے جو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلائے جا رہے ہیں لیکن مسلسل نقصان میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس سی اے پی کے مطابق، انہوں نے پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا تاکہ تنخواہ دار طبقے کے حقوق کی آواز بلند کی جا سکے، مگر کسی جماعت نے ان کی حمایت نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الائنس نے کہا کہ اگر حکومت نے 10 جون کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں ریلیف نہ دیا تو وہ عدالتوں سے رجوع کرے گی تاکہ اپنے ٹیکس سے متعلق مقدمے کو آگے بڑھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس سی اے پی کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متوسط طبقہ بری طرح دب چکا ہے۔ پچھلے تین سال میں افراط زر دوگنا ہو چکا ہے، مگر کم از کم قابل ٹیکس آمدنی کی حد ابھی بھی 50,000 روپے ماہانہ پر رکی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طبقے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد کی بیرون ملک روانگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلے ایک سال میں برین ڈرین 119 فیصد بڑھ چکا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ زیادہ ٹیکسز بتائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس سی اے پی کے مطابق، زرعی شعبہ ملک کے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 20 فیصد حصہ رکھتا ہے، لیکن اس کا ٹیکس ریونیو میں حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ بڑے زمیندار اور بااثر طبقے بڑی ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ تنخواہ دار افراد 35 فیصد ٹیکس اور 10 فیصد سرچارج کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الائنس نے غیر دستاویزی معیشت میں پھیلائو پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں ادارے ملازمین کو تنخواہیں نقد میں دیتے ہیں تاکہ زیادہ ٹیکس سے بچا جا سکے، جو معیشت کی دستاویزی شکل اور طویل مدتی ترقی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس سی اے پی میں بینکوں، تعلیمی اداروں، میڈیا اور کارپوریٹ اداروں کے سرکاری اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ملازمین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیلریڈ کلاس الائنس آف پاکستان (ایس سی اے پی) کے ایک رکن نے جمعرات کے روز کہا کہ رواں مالی سال پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس نیٹ میں حصہ برآمدکنندگان اور ریٹیلرز سے پانچ گنا زیادہ رہا۔</strong></p>
<p>کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس سی اے پی کے رکن ناصر حسین طیبانی نے کہا کہ  فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 25-2024 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد سے 430 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں اکٹھے کیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مکمل مالی سال کے اختتام پر یہ رقم 550 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی، جو کہ مالی سال 2019 میں 75 ارب روپے اور مالی سال 2024 میں 368 ارب روپے تھی۔</p>
<p>ناصر طیبانی نے کہا کہ تنخواہ دار افراد پر بھاری ٹیکسز عائد کیے جا رہے ہیں، جبکہ برآمدکنندگان اور ریٹیلرز نے مجموعی طور پر صرف 100 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔</p>
<p>الائنس نے آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں ریلیف کا مطالبہ کیا، ان کا دعویٰ تھا کہ ٹیکس وصولی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>کومل علی، جو ایس سی اے پی کی ایک اور رکن ہیں، نے کہا: اب وہ وقت آ گیا ہے جب زیادہ ٹیکس کی شرحیں نہ صرف آمدنی پر منفی اثر ڈالیں گی بلکہ ٹیکس وصولی، اقتصادی نمو، سرمائے کے انخلا اور باصلاحیت افراد کے بیرون ملک نقل مکانی (برین ڈرین) کو بھی تیز کر دیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/SmfrgKGAhI0?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے پریس کانفرنس میں لیفر کرو (Laffer Curve) کے نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تنخواہ دار افراد پر موجودہ ٹیکس کی شرحیں حد سے زیادہ بلند ہیں۔</p>
<p>انہوں نے پیش گوئی کی کہ اگر حکومت نے ٹیکس میں کمی اور ٹیکس کریڈٹ نہ دیے تو نہ صرف ٹیکس وصولی کم ہو جائے گی بلکہ اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ ٹیکس کی شرحیں ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کی بیرون ملک منتقلی کو تیز تر کر دیں گی اور ملک سے سرمائے کے انخلا کا سبب بنیں گی۔</p>
<p>ناصر طیبانی نے مزید کہا کہ تنخواہ دار طبقہ 35 فیصد تک انکم ٹیکس ادا کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان میں سے کچھ افراد پر 10 فیصد سرچارج بھی لاگو ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دوسری طرف، انہیں اشیائے صرف کی خریداری، صحت اور تعلیم کی فیسوں پر بھی بالواسطہ ٹیکس دینا پڑتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکس میں چلا جاتا ہے، جو ان کی دستیاب آمدنی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ
انکم ٹیکس سلیب کی تعداد کو 23-2022 کی سطح پر واپس لایا جائے
زیادہ شرح والے ٹیکس میں کمی کی جائے
ٹیکس سے مستثنیٰ تنخواہ کی حد کو موجودہ 50,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 100,000 روپے ماہانہ کیا جائے۔</p>
<p>طیبانی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ
میوچل فنڈز اور پنشن فنڈز میں سرمایہ کاری پر ٹیکس مراعات کو بحال کیا جائے
انکم ٹیکس پر عائد 10 فیصد سرچارج کو ختم کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت کو مزید ٹیکس بڑھانے کے بجائے زراعت اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کر کے ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانی چاہیے۔</p>
<p>حسنین اشرف، جو الائنس کے ایک اور رکن ہیں، نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت اپنی انتہائی حد کو پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے اب ان کے پاس گھر یا گاڑی خریدنے کے لیے وسائل باقی نہیں رہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات کنٹرول کرنے چاہئیں اور ان سرکاری اداروں کو درست کرنا چاہیے جو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلائے جا رہے ہیں لیکن مسلسل نقصان میں ہیں۔</p>
<p>ایس سی اے پی کے مطابق، انہوں نے پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا تاکہ تنخواہ دار طبقے کے حقوق کی آواز بلند کی جا سکے، مگر کسی جماعت نے ان کی حمایت نہیں کی۔</p>
<p>الائنس نے کہا کہ اگر حکومت نے 10 جون کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں ریلیف نہ دیا تو وہ عدالتوں سے رجوع کرے گی تاکہ اپنے ٹیکس سے متعلق مقدمے کو آگے بڑھا سکے۔</p>
<p>ایس سی اے پی کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا:</p>
<p>متوسط طبقہ بری طرح دب چکا ہے۔ پچھلے تین سال میں افراط زر دوگنا ہو چکا ہے، مگر کم از کم قابل ٹیکس آمدنی کی حد ابھی بھی 50,000 روپے ماہانہ پر رکی ہوئی ہے۔</p>
<p>اس طبقے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک سے ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد کی بیرون ملک روانگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلے ایک سال میں برین ڈرین 119 فیصد بڑھ چکا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ زیادہ ٹیکسز بتائی جا رہی ہے۔</p>
<p>ایس سی اے پی کے مطابق، زرعی شعبہ ملک کے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 20 فیصد حصہ رکھتا ہے، لیکن اس کا ٹیکس ریونیو میں حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے۔</p>
<p>کچھ بڑے زمیندار اور بااثر طبقے بڑی ٹیکس چھوٹ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ تنخواہ دار افراد 35 فیصد ٹیکس اور 10 فیصد سرچارج کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔</p>
<p>الائنس نے غیر دستاویزی معیشت میں پھیلائو پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں ادارے ملازمین کو تنخواہیں نقد میں دیتے ہیں تاکہ زیادہ ٹیکس سے بچا جا سکے، جو معیشت کی دستاویزی شکل اور طویل مدتی ترقی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>ایس سی اے پی میں بینکوں، تعلیمی اداروں، میڈیا اور کارپوریٹ اداروں کے سرکاری اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ملازمین شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273205</guid>
      <pubDate>Fri, 30 May 2025 12:48:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/301247076c3c609.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/301247076c3c609.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
