<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 01:08:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Jul 2026 01:08:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی برقرار ہے، اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کا قائمہ کمیٹی میں بیان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273188/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی قانونی حیثیت نہیں رکھتی اور اس کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہے۔ دونوں اداروں نے ملک میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے حکام کے مطابق، 2018 میں بینکوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ کرپٹو کرنسی کے لین دین کی اجازت نہ دیں۔ اب تک کرپٹو کرنسی کو قانونی کرنسی تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ کرپٹو کونسل کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے سفارشات بھی ارسال کی جا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے سیکریٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ابھی صرف ابتدائی نوعیت کا کام کیا گیا ہے، تاہم ایک مکمل اور جامع قانونی فریم ورک تیار کرنا ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی پالیسی فیصلے سے قبل تمام خطرات اور مواقع کا جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے اس تاثر پر تشویش ظاہر کی کہ عوام میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان نے کرپٹو کرنسی کو اپنا لیا ہے اور لوگ اس میں سرمایہ کاری شروع کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم این اے شرمیلا فاروقی نے سوال اٹھایا کہ جب کرپٹو کرنسی سے متعلق ریگولیٹری خامیاں موجود ہیں تو حکومت نے ڈیجیٹل اثاثوں کو ترجیح کیوں دی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری خزانہ نے وضاحت کی کہ پاکستان نے ابھی اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی بلکہ محتاط اور مستقبل بین انداز میں ڈیجیٹل اثاثوں کے ممکنہ ریگولیشن پر غور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی مقصد کے لیے حکومت نے پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) قائم کی ہے، جس میں اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، اور وزارتِ خزانہ کے نمائندے شامل ہیں۔ کرپٹو کونسل کے تحت اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ کرپٹو اور دیگر ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک مؤثر قانونی و ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپٹو کونسل، فیٹف کی سفارش نمبر 15 کے مطابق، ورچوئل اثاثوں کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں  کی ریگولیشن و نگرانی کو بھی مدنظر رکھ رہی ہے۔ اس تناظر میں، کرپٹو سے متعلق سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی قانونی اور ریگولیٹری صلاحیت کو مضبوط کرے تاکہ مستقبل میں فیٹف کی شرائط پر پورا اتر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک اورایس ای سی پی نے اپنے ریگولیٹڈ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ورچوئل کرنسیز، ٹوکنز، یا آئی سی اوز سے متعلق کسی بھی سرگرمی (جیسے خرید و فروخت، ذخیرہ، تشہیر، یا سرمایہ کاری) میں ملوث نہ ہوں، اور اگر کوئی مشکوک لین دین سامنے آئے تو فوری طور پر فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو رپورٹ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سخت ہدایات کرپٹو کرنسی سے وابستہ خطرات کے پیش نظر دی گئی ہیں، جن میں قیمتوں کی شدید اتار چڑھاؤ، ایکسچینجز کی بندش، والٹ ہیکنگ، سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی اور مالیاتی نظام کو لاحق خطرات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی سطح پر کرپٹو سے متعلق پالیسی سازی کے لیے ایک نیشنل ورکنگ گروپ بھی قائم کیا گیا ہے، جس کی قیادت ایف آئی اے کر رہی ہے۔ یہ گروپ بھی قانونی و ریگولیٹری تجاویز پر کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے کرپٹو کونسل کے لیے ٹیکنیکل ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی مکالمہ کیا جا سکے اور کرپٹو اثاثوں، ان کے بزنس ماڈلز، اور ممکنہ خطرات کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال پاکستان کا انسدادِ منی لانڈرنگ  اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کے خلاف قانونی ڈھانچہ بین الاقوامی معیار، خصوصاً فیٹف کی سفارشات، سے ہم آہنگ ہے۔ حکومت عالمی اداروں جیسے فیٹف، ایشیا پیسیفک گروپ  اور آئی ایم ایف سے مشاورت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ انسدادِ منی لانڈرنگ  اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کیخلاف نظام کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی کرپٹو پالیسی کا مستقبل ایک منظم، محتاط، اور قومی مفاد پر مبنی نقطہ نظر کے تحت طے پائے گا، جس میں مالیاتی تحفظ اور ریگولیٹری تیاری کو اولین ترجیح دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی قانونی حیثیت نہیں رکھتی اور اس کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہے۔ دونوں اداروں نے ملک میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے حکام کے مطابق، 2018 میں بینکوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ کرپٹو کرنسی کے لین دین کی اجازت نہ دیں۔ اب تک کرپٹو کرنسی کو قانونی کرنسی تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ کرپٹو کونسل کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے سفارشات بھی ارسال کی جا چکی ہیں۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے سیکریٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ابھی صرف ابتدائی نوعیت کا کام کیا گیا ہے، تاہم ایک مکمل اور جامع قانونی فریم ورک تیار کرنا ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی پالیسی فیصلے سے قبل تمام خطرات اور مواقع کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے اس تاثر پر تشویش ظاہر کی کہ عوام میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان نے کرپٹو کرنسی کو اپنا لیا ہے اور لوگ اس میں سرمایہ کاری شروع کر چکے ہیں۔</p>
<p>ایم این اے شرمیلا فاروقی نے سوال اٹھایا کہ جب کرپٹو کرنسی سے متعلق ریگولیٹری خامیاں موجود ہیں تو حکومت نے ڈیجیٹل اثاثوں کو ترجیح کیوں دی ہے؟</p>
<p>سیکریٹری خزانہ نے وضاحت کی کہ پاکستان نے ابھی اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی بلکہ محتاط اور مستقبل بین انداز میں ڈیجیٹل اثاثوں کے ممکنہ ریگولیشن پر غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اسی مقصد کے لیے حکومت نے پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) قائم کی ہے، جس میں اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، اور وزارتِ خزانہ کے نمائندے شامل ہیں۔ کرپٹو کونسل کے تحت اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ کرپٹو اور دیگر ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک مؤثر قانونی و ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا جا سکے۔</p>
<p>کرپٹو کونسل، فیٹف کی سفارش نمبر 15 کے مطابق، ورچوئل اثاثوں کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں  کی ریگولیشن و نگرانی کو بھی مدنظر رکھ رہی ہے۔ اس تناظر میں، کرپٹو سے متعلق سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی قانونی اور ریگولیٹری صلاحیت کو مضبوط کرے تاکہ مستقبل میں فیٹف کی شرائط پر پورا اتر سکے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک اورایس ای سی پی نے اپنے ریگولیٹڈ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ورچوئل کرنسیز، ٹوکنز، یا آئی سی اوز سے متعلق کسی بھی سرگرمی (جیسے خرید و فروخت، ذخیرہ، تشہیر، یا سرمایہ کاری) میں ملوث نہ ہوں، اور اگر کوئی مشکوک لین دین سامنے آئے تو فوری طور پر فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو رپورٹ کریں۔</p>
<p>یہ سخت ہدایات کرپٹو کرنسی سے وابستہ خطرات کے پیش نظر دی گئی ہیں، جن میں قیمتوں کی شدید اتار چڑھاؤ، ایکسچینجز کی بندش، والٹ ہیکنگ، سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی اور مالیاتی نظام کو لاحق خطرات شامل ہیں۔</p>
<p>قومی سطح پر کرپٹو سے متعلق پالیسی سازی کے لیے ایک نیشنل ورکنگ گروپ بھی قائم کیا گیا ہے، جس کی قیادت ایف آئی اے کر رہی ہے۔ یہ گروپ بھی قانونی و ریگولیٹری تجاویز پر کام کر رہا ہے۔</p>
<p>حکومت نے کرپٹو کونسل کے لیے ٹیکنیکل ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی مکالمہ کیا جا سکے اور کرپٹو اثاثوں، ان کے بزنس ماڈلز، اور ممکنہ خطرات کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے۔</p>
<p>فی الحال پاکستان کا انسدادِ منی لانڈرنگ  اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کے خلاف قانونی ڈھانچہ بین الاقوامی معیار، خصوصاً فیٹف کی سفارشات، سے ہم آہنگ ہے۔ حکومت عالمی اداروں جیسے فیٹف، ایشیا پیسیفک گروپ  اور آئی ایم ایف سے مشاورت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ انسدادِ منی لانڈرنگ  اور دہشتگردوں کی مالی معاونت کیخلاف نظام کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔</p>
<p>پاکستان کی کرپٹو پالیسی کا مستقبل ایک منظم، محتاط، اور قومی مفاد پر مبنی نقطہ نظر کے تحت طے پائے گا، جس میں مالیاتی تحفظ اور ریگولیٹری تیاری کو اولین ترجیح دی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273188</guid>
      <pubDate>Fri, 30 May 2025 08:06:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبید ابرار)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/30080619a4bcb48.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/30080619a4bcb48.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
