<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:31:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:31:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خوراک پر ٹیکس، غذائی پالیسی یا مالیاتی چال؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273165/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا تازہ ترین پالیسی اقدام یہ ہے کہ وہ پروسیسڈ اور پیک شدہ خوراک پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کرے اور اسے عوامی صحت کا اقدام قرار دے۔ یہ صرف سستی حکمرانی نہیں بلکہ خطرناک بھی ہے۔ پروسیسڈ خوراک کی 50 سے زائد اقسام پر مجوزہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کوئی صحت عامہ کی پالیسی نہیں بلکہ مالیاتی مہم جوئی ہے، جو غذائی اصلاحات کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ اور اگر اس پر تنقید نہ کی گئی تو یہ اصلاح کے بجائے مزید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات کھلے الفاظ میں کی جائے تو پاکستان تیزی سے صحت عامہ کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ اب ذیابیطس کی شرح کے لحاظ سے دنیا کے تین سرفہرست ممالک میں شامل ہے، جبکہ دل کی بیماریاں ہر تیسرے فرد کی موت کی وجہ ہیں۔ چینی، نمک اور ٹرانس فیٹس اصل عالمی وبا ہیں۔ لیکن پورے رسمی(دستاویزی) خوراک کے شعبے کو بنا کسی تفریق یا سائنسی بنیاد کے مجرم ٹھہرانا سستی حکمرانی ہے — اصلاح نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اصل ہدف غیر صحت بخش خوراک ہے تو پالیسی کا ڈیزائن بھی اسی مخصوص ہدف کی عکاسی کرے۔ حکومت نے چینی، سوڈیم، چکنائی اور دیگر خطرناک اجزاء کے لیے مجوزہ غذائی حدیں جاری کی ہیں۔ لیکن یہ صرف تکنیکی مسودے ہیں۔ نہ ان کی کوئی قانونی حیثیت ہے، نہ تعمیل کا کوئی متعین وقت، اور نہ ہی نفاذ کا کوئی روڈ میپ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہ ہی کوئی قانونی طور پر لازم ”فرنٹ آف پیک“ لیبلنگ نظام موجود ہے، اور نہ ہی عوامی آگاہی کی کوئی مہم چلائی گئی ہے۔ جب ضوابطی بنیادیں ہی مکمل نہ ہوں تو مالیاتی جرمانے عائد کرنا ایسا ہے جیسے سڑک بنائے بغیر اس پر ٹول پلازہ بنا دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کی لچک حقیقت ہے۔ اگر ضابطے کے تحت فروخت ہونے والی پیک شدہ خوراک مہنگی ہو گئی، تو کم آمدنی والے افراد سستی اور غیر رسمی متبادل اشیاء کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔ نتیجہ؟ چینی یا چکنائی کے استعمال میں کوئی کمی نہیں — صرف ماخذ تبدیل ہوگا: ایسی خوراک سے جو قابلِ نگرانی اور اصلاح پذیر ہے سے اُس خوراک کی طرف جو پوشیدہ اور بے قابل کنٹرول ہے۔ جو پالیسی ساز اس تضاد سے واقف نہیں، اُسے صحت عامہ کی پالیسی سے دور رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی شواہد ”سِن ٹیکس“ (مضر صحت اشیا پر ٹیکس) کی حمایت کرتے ہیں — لیکن صرف اس صورت میں جب وہ دانشمندی سے ڈیزائن کیے گئے ہوں۔ میکسیکو، چلی اور برطانیہ جیسے ممالک کی مثالیں سبق آموز ہیں۔ ان کی کامیابی صرف ایکسائز ڈیوٹی پر نہیں تھی، بلکہ ایک مربوط حکمتِ عملی کا نتیجہ تھی: غذائی حدوں پر مبنی ٹیکس، لازم ”فرنٹ آف پیک“ لیبلنگ، مؤثر آگاہی مہمات، اور صنعتی شعبے کے لیے ایسی مراعات جو انہیں نئی غذائی حدود سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتی ہیں۔ ان ممالک کے پاس قوانین پر عملدرآمد کرانے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت بھی موجود تھی، جو نہ صرف تعمیل کو یقینی بناتی تھی بلکہ صارفین کے طرز عمل میں تبدیلی کا بھی جائزہ لیتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، پاکستان کے موجودہ فوڈ ریگولیشن سسٹم میں تو بنیادی غذائی استعمال کے ڈیٹا کا بھی فقدان ہے — نفاذ کی اہلیت تو دور کی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ آئی ایم ایف نے بھی، مئی 2025 کی اپنی اسٹاف رپورٹ میں، صحت عامہ کی بہتری کے لیے ایکسائز کو بطور آلہ خاص طور پر تجویز نہیں کیا۔ آئی ایم ایف نے صرف بالواسطہ ٹیکسوں کی بنیاد کو وسیع کرنے اور زیادہ استعمال ہونے والی غیر ضروری اشیاء کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی حمایت کی ہے۔ بس اتنی بات درست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ حمایت مالیاتی ہے، غذائی نہیں۔ یہ محصولات کے اہداف سے متعلق ہے، نمک کی مقدار سے نہیں۔ اس ٹیکس کو آئی ایم ایف سے منسوب صحت کی اصلاحات قرار دینا محض موقع پرستی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی سنجیدہ فوڈ پالیسی اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک وہ ایک قومی آگاہی مہم سے آغاز نہ کرے، جس کی بنیاد لازمی ”فرنٹ آف پیک“ لیبلنگ اور واضح و قابلِ نفاذ غذائی رہنما اصولوں پر ہو۔ ایسی کسی بھی تعزیری پالیسی — جیسے سِن ٹیکس — سے کئی سال پہلے یہ بنیادی اقدامات ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبلنگ کو کبھی بھی بعد کی سوچ نہیں ہونا چاہیے — بلکہ اسے پالیسی کا پہلا سنگِ میل ہونا چاہیے۔ دوسرا، ایکسائز ٹیکسیشن کا مقصد کبھی بھی محض محصولات اکٹھا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا اصل ہدف قیمتوں کے مؤثر اشاروں کے ذریعے مارکیٹ کی پیداوار اور صارفین کے رویے کو درست سمت میں لے جانا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور جو بھی محصولات جمع ہوں، انہیں مخصوص مقصد کے لیے مختص کیا جانا چاہیے — انہیں وفاقی خزانے کی اندھی کھائی میں ضم کرنے کے بجائے — انہیں خوراک کے نظام میں دوبارہ سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس میں صنعت کو نئی فارمولیشن کی ترغیب دینے کے لیے فنڈنگ، چھوٹے صنعتکاروں کے لیے عملدرآمد میں مدد دینے والے گرانٹس، اور صارفین کے لیے طویل المدتی آگاہی مہمات شامل ہونی چاہئیں۔ موجودہ ”ایک ہی نسخہ سب کے لیے“ پالیسی کو ترک کر کے ”جزا و سزا“ کے متوازن ماڈل کو اپنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر صحت واقعی ہمارا ہدف ہے، تو پھر ہمیں اسی کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ اس کی شروعات اس وضاحت سے ہونی چاہیے کہ کون سے اجزاء غذائیت کے لحاظ سے نقصان دہ ہیں، اور ان معیارات کو تمام خوراک کی اقسام میں مستقل اور سختی سے نافذ کرنا ہوگا۔ اگر ریاست — اپنی بے پایاں بصیرت اور سائنسی سختی کے ساتھ — عالمی اور مقامی شواہد کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ ریفائنڈ چینی، سوڈیم، اور ٹرانس فیٹس سے بھرپور پام آئل جیسے اجزاء صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ ہیں، تو مسئلے کی جڑ پر قابو پایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف ان اجزاء کے رسمی، اور مخصوص استعمال پر ایکسائز لگا دینا، جبکہ ان کا بے لگام اور کہیں زیادہ وسیع استعمال غیر رسمی تجارتی شعبے میں نظرانداز کرنا، مسئلے کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ اگر مقصد مسئلے کو اس کی بنیاد سے ختم کرنا ہے، تو پھر صرف اس کے سب سے نمایاں — اور پہلے ہی سے زائد ٹیکس والے — مظہر پر ٹیکس لگانا کیوں؟ جبکہ غیر رسمی استعمال کا “ خلا“ یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں اب صرف خواہشات پر مبنی فہرستوں سے بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ کوئی سنجیدہ پالیسی وہ ہوگی جو غذائی اجزاء پر مبنی ایکسائز کو مرحلہ وار نافذ کرے، جو قابل تصدیق حدوں سے منسلک ہو۔ ایسی پالیسی مالیاتی ترغیبات کو صنعت کے رویے کی تبدیلی سے ہم آہنگ کرے گی۔ ایسی پالیسی لیبلنگ کو قانونی طور پر لازم قرار دے گی، نہ کہ اختیاری۔ ایسی پالیسی سماجی مارکیٹنگ کی مہمات کے ذریعے صارفین کے طرز عمل کو تبدیل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ پالیسی خوراک کے حقیقی استعمال پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کرے گی تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ پالیسی کو ازسرنو ترتیب دیا جا سکے۔ بصورت دیگر، پالیسی ساز اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں اور امید لگا رہے ہیں کہ وہ صحت عامہ کو جا لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر اقدام کو اس سے جڑے مضمرات کا ادراک ہونا چاہیے۔ رسمی خوراک کی صنعت پہلے ہی نگرانی کے دائرے میں ہے۔ یہ شعبہ مرئی ہے، قابل آڈٹ ہے، اور غالباً پورے نظام کا وہ واحد حصہ ہے جسے ضابطہ بندی کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔ اس پر جرمانے عائد کرنا، بغیر اس کے کہ غیر رسمی شعبے میں پائی جانے والی ریگولیٹری خلا کو پُر کیا جائے، صارف کے متبادل (یعنی غیر رسمی اور غیر محفوظ خوراک کی طرف جھکاؤ) کا فارمولا ہے — نہ کہ صحت مند خوراک کا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروسیسڈ فوڈ کا دفاع نہیں — بلکہ مربوط پالیسی کا دفاع ہے۔ اگر کچھ مخصوص غذائی اجزاء اب قومی صحت کے لیے خطرہ تصور کیے جا رہے ہیں، تو انہیں ٹیکس کا نشانہ بنایا جائے — ہر جگہ، صرف وہاں نہیں جہاں یہ آسان ہو۔ سائنسی بنیاد اپنائیے۔ ڈیٹا استعمال کیجیے۔ مشاورت کیجیے۔ اور یہ دکھاوا بند کیجیے کہ سزا دینا ہی اصلاح ہے۔ یہ اصلاح نہیں — یہ زیادہ سے زیادہ ایک آلہ ہے۔ لیکن جب تک اس کے ساتھ کوئی حکمت عملی نہ ہو، یہ صرف ایک بے ہنگم ہتھیار ہے جو اندھیرے میں چلایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو مزید ایسے ٹیکس نہیں چاہئیں جو ہمدردی کا لبادہ اوڑھے ہوں۔ اسے ایک حقیقی قومی غذائی پالیسی کی ضرورت ہے — ایسی پالیسی جو متحرک ہو، حالات کے مطابق ڈھلنے والی ہو، اور شواہد پر مبنی ہو — دکھاوے پر نہیں۔ ذائقے پر ٹیکس لگانا، بغیر کسی حکمت عملی کے، صرف اس مسئلے کو مزید گہرا کرے گا جسے یہ حل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا تازہ ترین پالیسی اقدام یہ ہے کہ وہ پروسیسڈ اور پیک شدہ خوراک پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کرے اور اسے عوامی صحت کا اقدام قرار دے۔ یہ صرف سستی حکمرانی نہیں بلکہ خطرناک بھی ہے۔ پروسیسڈ خوراک کی 50 سے زائد اقسام پر مجوزہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کوئی صحت عامہ کی پالیسی نہیں بلکہ مالیاتی مہم جوئی ہے، جو غذائی اصلاحات کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ اور اگر اس پر تنقید نہ کی گئی تو یہ اصلاح کے بجائے مزید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔</strong></p>
<p>بات کھلے الفاظ میں کی جائے تو پاکستان تیزی سے صحت عامہ کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ اب ذیابیطس کی شرح کے لحاظ سے دنیا کے تین سرفہرست ممالک میں شامل ہے، جبکہ دل کی بیماریاں ہر تیسرے فرد کی موت کی وجہ ہیں۔ چینی، نمک اور ٹرانس فیٹس اصل عالمی وبا ہیں۔ لیکن پورے رسمی(دستاویزی) خوراک کے شعبے کو بنا کسی تفریق یا سائنسی بنیاد کے مجرم ٹھہرانا سستی حکمرانی ہے — اصلاح نہیں۔</p>
<p>اگر اصل ہدف غیر صحت بخش خوراک ہے تو پالیسی کا ڈیزائن بھی اسی مخصوص ہدف کی عکاسی کرے۔ حکومت نے چینی، سوڈیم، چکنائی اور دیگر خطرناک اجزاء کے لیے مجوزہ غذائی حدیں جاری کی ہیں۔ لیکن یہ صرف تکنیکی مسودے ہیں۔ نہ ان کی کوئی قانونی حیثیت ہے، نہ تعمیل کا کوئی متعین وقت، اور نہ ہی نفاذ کا کوئی روڈ میپ۔</p>
<p>نہ ہی کوئی قانونی طور پر لازم ”فرنٹ آف پیک“ لیبلنگ نظام موجود ہے، اور نہ ہی عوامی آگاہی کی کوئی مہم چلائی گئی ہے۔ جب ضوابطی بنیادیں ہی مکمل نہ ہوں تو مالیاتی جرمانے عائد کرنا ایسا ہے جیسے سڑک بنائے بغیر اس پر ٹول پلازہ بنا دیا جائے۔</p>
<p>قیمتوں کی لچک حقیقت ہے۔ اگر ضابطے کے تحت فروخت ہونے والی پیک شدہ خوراک مہنگی ہو گئی، تو کم آمدنی والے افراد سستی اور غیر رسمی متبادل اشیاء کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔ نتیجہ؟ چینی یا چکنائی کے استعمال میں کوئی کمی نہیں — صرف ماخذ تبدیل ہوگا: ایسی خوراک سے جو قابلِ نگرانی اور اصلاح پذیر ہے سے اُس خوراک کی طرف جو پوشیدہ اور بے قابل کنٹرول ہے۔ جو پالیسی ساز اس تضاد سے واقف نہیں، اُسے صحت عامہ کی پالیسی سے دور رہنا چاہیے۔</p>
<p>عالمی شواہد ”سِن ٹیکس“ (مضر صحت اشیا پر ٹیکس) کی حمایت کرتے ہیں — لیکن صرف اس صورت میں جب وہ دانشمندی سے ڈیزائن کیے گئے ہوں۔ میکسیکو، چلی اور برطانیہ جیسے ممالک کی مثالیں سبق آموز ہیں۔ ان کی کامیابی صرف ایکسائز ڈیوٹی پر نہیں تھی، بلکہ ایک مربوط حکمتِ عملی کا نتیجہ تھی: غذائی حدوں پر مبنی ٹیکس، لازم ”فرنٹ آف پیک“ لیبلنگ، مؤثر آگاہی مہمات، اور صنعتی شعبے کے لیے ایسی مراعات جو انہیں نئی غذائی حدود سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتی ہیں۔ ان ممالک کے پاس قوانین پر عملدرآمد کرانے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت بھی موجود تھی، جو نہ صرف تعمیل کو یقینی بناتی تھی بلکہ صارفین کے طرز عمل میں تبدیلی کا بھی جائزہ لیتی تھی۔</p>
<p>اس کے برعکس، پاکستان کے موجودہ فوڈ ریگولیشن سسٹم میں تو بنیادی غذائی استعمال کے ڈیٹا کا بھی فقدان ہے — نفاذ کی اہلیت تو دور کی بات ہے۔</p>
<p>حتیٰ کہ آئی ایم ایف نے بھی، مئی 2025 کی اپنی اسٹاف رپورٹ میں، صحت عامہ کی بہتری کے لیے ایکسائز کو بطور آلہ خاص طور پر تجویز نہیں کیا۔ آئی ایم ایف نے صرف بالواسطہ ٹیکسوں کی بنیاد کو وسیع کرنے اور زیادہ استعمال ہونے والی غیر ضروری اشیاء کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی حمایت کی ہے۔ بس اتنی بات درست ہے۔</p>
<p>لیکن یہ حمایت مالیاتی ہے، غذائی نہیں۔ یہ محصولات کے اہداف سے متعلق ہے، نمک کی مقدار سے نہیں۔ اس ٹیکس کو آئی ایم ایف سے منسوب صحت کی اصلاحات قرار دینا محض موقع پرستی ہوگی۔</p>
<p>کوئی بھی سنجیدہ فوڈ پالیسی اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک وہ ایک قومی آگاہی مہم سے آغاز نہ کرے، جس کی بنیاد لازمی ”فرنٹ آف پیک“ لیبلنگ اور واضح و قابلِ نفاذ غذائی رہنما اصولوں پر ہو۔ ایسی کسی بھی تعزیری پالیسی — جیسے سِن ٹیکس — سے کئی سال پہلے یہ بنیادی اقدامات ضروری ہیں۔</p>
<p>لیبلنگ کو کبھی بھی بعد کی سوچ نہیں ہونا چاہیے — بلکہ اسے پالیسی کا پہلا سنگِ میل ہونا چاہیے۔ دوسرا، ایکسائز ٹیکسیشن کا مقصد کبھی بھی محض محصولات اکٹھا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا اصل ہدف قیمتوں کے مؤثر اشاروں کے ذریعے مارکیٹ کی پیداوار اور صارفین کے رویے کو درست سمت میں لے جانا ہونا چاہیے۔</p>
<p>اور جو بھی محصولات جمع ہوں، انہیں مخصوص مقصد کے لیے مختص کیا جانا چاہیے — انہیں وفاقی خزانے کی اندھی کھائی میں ضم کرنے کے بجائے — انہیں خوراک کے نظام میں دوبارہ سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس میں صنعت کو نئی فارمولیشن کی ترغیب دینے کے لیے فنڈنگ، چھوٹے صنعتکاروں کے لیے عملدرآمد میں مدد دینے والے گرانٹس، اور صارفین کے لیے طویل المدتی آگاہی مہمات شامل ہونی چاہئیں۔ موجودہ ”ایک ہی نسخہ سب کے لیے“ پالیسی کو ترک کر کے ”جزا و سزا“ کے متوازن ماڈل کو اپنانا ہوگا۔</p>
<p>اگر صحت واقعی ہمارا ہدف ہے، تو پھر ہمیں اسی کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ اس کی شروعات اس وضاحت سے ہونی چاہیے کہ کون سے اجزاء غذائیت کے لحاظ سے نقصان دہ ہیں، اور ان معیارات کو تمام خوراک کی اقسام میں مستقل اور سختی سے نافذ کرنا ہوگا۔ اگر ریاست — اپنی بے پایاں بصیرت اور سائنسی سختی کے ساتھ — عالمی اور مقامی شواہد کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ ریفائنڈ چینی، سوڈیم، اور ٹرانس فیٹس سے بھرپور پام آئل جیسے اجزاء صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ ہیں، تو مسئلے کی جڑ پر قابو پایا جائے۔</p>
<p>صرف ان اجزاء کے رسمی، اور مخصوص استعمال پر ایکسائز لگا دینا، جبکہ ان کا بے لگام اور کہیں زیادہ وسیع استعمال غیر رسمی تجارتی شعبے میں نظرانداز کرنا، مسئلے کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ اگر مقصد مسئلے کو اس کی بنیاد سے ختم کرنا ہے، تو پھر صرف اس کے سب سے نمایاں — اور پہلے ہی سے زائد ٹیکس والے — مظہر پر ٹیکس لگانا کیوں؟ جبکہ غیر رسمی استعمال کا “ خلا“ یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p>ہمیں اب صرف خواہشات پر مبنی فہرستوں سے بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ کوئی سنجیدہ پالیسی وہ ہوگی جو غذائی اجزاء پر مبنی ایکسائز کو مرحلہ وار نافذ کرے، جو قابل تصدیق حدوں سے منسلک ہو۔ ایسی پالیسی مالیاتی ترغیبات کو صنعت کے رویے کی تبدیلی سے ہم آہنگ کرے گی۔ ایسی پالیسی لیبلنگ کو قانونی طور پر لازم قرار دے گی، نہ کہ اختیاری۔ ایسی پالیسی سماجی مارکیٹنگ کی مہمات کے ذریعے صارفین کے طرز عمل کو تبدیل کرے گی۔</p>
<p>اور یہ پالیسی خوراک کے حقیقی استعمال پر مبنی ڈیٹا اکٹھا کرے گی تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ پالیسی کو ازسرنو ترتیب دیا جا سکے۔ بصورت دیگر، پالیسی ساز اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں اور امید لگا رہے ہیں کہ وہ صحت عامہ کو جا لگے۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر اقدام کو اس سے جڑے مضمرات کا ادراک ہونا چاہیے۔ رسمی خوراک کی صنعت پہلے ہی نگرانی کے دائرے میں ہے۔ یہ شعبہ مرئی ہے، قابل آڈٹ ہے، اور غالباً پورے نظام کا وہ واحد حصہ ہے جسے ضابطہ بندی کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔ اس پر جرمانے عائد کرنا، بغیر اس کے کہ غیر رسمی شعبے میں پائی جانے والی ریگولیٹری خلا کو پُر کیا جائے، صارف کے متبادل (یعنی غیر رسمی اور غیر محفوظ خوراک کی طرف جھکاؤ) کا فارمولا ہے — نہ کہ صحت مند خوراک کا۔</p>
<p>یہ پروسیسڈ فوڈ کا دفاع نہیں — بلکہ مربوط پالیسی کا دفاع ہے۔ اگر کچھ مخصوص غذائی اجزاء اب قومی صحت کے لیے خطرہ تصور کیے جا رہے ہیں، تو انہیں ٹیکس کا نشانہ بنایا جائے — ہر جگہ، صرف وہاں نہیں جہاں یہ آسان ہو۔ سائنسی بنیاد اپنائیے۔ ڈیٹا استعمال کیجیے۔ مشاورت کیجیے۔ اور یہ دکھاوا بند کیجیے کہ سزا دینا ہی اصلاح ہے۔ یہ اصلاح نہیں — یہ زیادہ سے زیادہ ایک آلہ ہے۔ لیکن جب تک اس کے ساتھ کوئی حکمت عملی نہ ہو، یہ صرف ایک بے ہنگم ہتھیار ہے جو اندھیرے میں چلایا جا رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو مزید ایسے ٹیکس نہیں چاہئیں جو ہمدردی کا لبادہ اوڑھے ہوں۔ اسے ایک حقیقی قومی غذائی پالیسی کی ضرورت ہے — ایسی پالیسی جو متحرک ہو، حالات کے مطابق ڈھلنے والی ہو، اور شواہد پر مبنی ہو — دکھاوے پر نہیں۔ ذائقے پر ٹیکس لگانا، بغیر کسی حکمت عملی کے، صرف اس مسئلے کو مزید گہرا کرے گا جسے یہ حل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273165</guid>
      <pubDate>Thu, 29 May 2025 11:19:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/29111928c3c61da.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/29111928c3c61da.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
