<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 02:18:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 02:18:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امن کے خواہاں ہیں، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں، وزیراعظم شہباز شریف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273148/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور اگر بھارت خلوصِ نیت اور تعاون کا مظاہرہ کرے تو پاکستان تمام دوطرفہ مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آذربائیجان کے شہر لاچین میں منعقدہ دوسرے سہ فریقی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بھارت کی حالیہ جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم، پاکستانی عوام اور دوست ممالک کی حمایت اور مسلح افواج کے پُرعزم جواب کی بدولت پاکستان نے سرخروئی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب میں وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ فوری توجہ کے متقاضی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جائے، بالخصوص مسئلہ کشمیر، جسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی، جو پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زرعی، پینے اور دیگر ضروریاتِ زندگی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ نہایت افسوسناک ہے کہ بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی دی۔ یہ نہ پہلے ممکن تھا، نہ اب ممکن ہے اور نہ آئندہ ہوگا، ان شاء اللہ۔ ہم اس کے تدارک کے لیے موثر اقدامات کر رہے ہیں تاکہ بھارت کو ایسا کرنے کا موقع نہ مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ اگر بھارت دہشت گردی کےخاتمے کیلئے خلوصِ نیت کے ساتھ بات کرنا چاہے تو پاکستان اس معاملے پر بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے۔ ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں میں 90 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات برداشت کیے۔ اس سے بڑی ہماری سنجیدگی اور عزم کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ہم اس ناسور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ اگر بھارت سنجیدہ اور دیانت دارانہ تعاون کا مظاہرہ کرے تو پاکستان تمام امور، بشمول بھارت کے ساتھ تجارت کے فروغ  پر مذاکرات کی میز پر بات کرنے کو تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہایت جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور حکمت سے افواج کی قیادت کی جبکہ پوری قوم ان کے پیچھے یکجہتی سے کھڑی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران، انہوں نے فیلڈ مارشل کو خدا کا خوف رکھنے والے، نڈر، عزم و حوصلے سے بھرپور اور آہنی ارادوں کے حامل قائد کے طور پر پایا، جو ہر طرح کے دباؤ کا سامنا صبر و استقامت کے ساتھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حالیہ تنازع کے دوران بھارت پاکستان کے خلاف کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا اور پہلگام کے مبینہ واقعے کی غیرجانبدار اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کی پاکستان کی مخلصانہ پیشکش کو بھی مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ سہ فریقی اجلاس میں تینوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے امور پر نہایت مفید مشاورت کی، اور امید ظاہر کی کہ لاچین شہر میں ہونے والا موجودہ اجلاس ان کے باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا، جو تینوں اقوام کی خواہشات اور امنگوں کے عین مطابق ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان تاریخی، ثقافتی اور روحانی رشتوں میں صدیوں سے بندھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے اور تینوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، چاہے وہ ناگورنو قرہ باغ ہو، شمالی قبرص کا معاملہ ہو یا مسئلہ کشمیر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ ان اقوام کے درمیان محبت، عقیدت اور مشترکہ مقاصد کے لیے وابستگی ایک فطری امر ہے اور عوام نے اپنے بھرپور جذبات اور تعاون سے اس اتحاد کو مزید تقویت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی دنیا مسلح تنازعات، وباؤں، موسمیاتی تبدیلیوں اور معاشی بحرانوں جیسے گہرے چیلنجز سے دوچار ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم تصادم کو مسترد کرتے ہوئے ہمدردی، یکجہتی اور تعاون کو ترجیح دینے کے لیے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جذبہ اور حکمت مل کر بالآخر امن اور خوشحالی کا راستہ ہموار کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی اور تیزی سے بدلتی دنیا میں سیاسی سلامتی، رابطے، اتحاد اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی نئی عالمی حقیقت کی صورت گری کر رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان خود کو خوش نصیب سمجھتا ہے کہ اسے ترکیہ اور آذربائیجان جیسے مخلص اور پُراعتماد بھائی میسر ہیں، جو ہر آندھی طوفان میں ناقابلِ تسخیر چٹانوں کی مانند پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ تینوں ممالک ہمیشہ امن، انصاف اور اخلاقی اصولوں پر متحد رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کا آزمایا ہوا رشتہ نہ صرف ان اقوام کی فلاح کا ذریعہ بنے گا بلکہ خطے اور دنیا میں امن و ترقی کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سہ فریقی تعاون کے اس فارمیٹ کو نہایت اہم اور مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے انہیں سیاسی اعتماد اور اجتماعی پیش رفت کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جہاں وہ باہم مل کر اپنے مفادات کے تمام شعبوں میں یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ترک اور آذربائیجانی صدور کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے موقف کی پرزور حمایت کی اور غیر متزلزل یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر الہام علییف نے اپنی تقریر میں کہا کہ تینوں ممالک مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کی بنیاد پر یکجہتی سے جڑے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کی اخلاقی حمایت پر وہ تہہ دل سے شکر گزار ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ وسائل کو بروئے کار لا کر مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ آذربائیجان پاکستان کی معیشت میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے، جو مخصوص ترقیاتی منصوبوں پر مبنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، تعلیمی تعاون، ثقافتی سرگرمیوں اور سیاحت جیسے شعبوں میں اشتراک پر بھی زور دیا تاکہ عوامی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی انہیں سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے، اور وہ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر رجب طیب اردوان نے اپنی تقریر میں آذربائیجان کو یومِ آزادی پر مبارکباد دی اور کہا کہ تینوں برادر ممالک باہمی اعتماد اور یقین کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ تینوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں، اور وہ اپنی سہ فریقی شراکت کو اسٹریٹجک تعاون میں ڈھالنے کے لیے کوشاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ خطہ امن، استحکام اور خوشحالی کا مرکز بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ استنبول دورے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ اس موقع پر اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک کونسل کے دائرہ کار اور دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات پر مفصل گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے دانشمندانہ اور دوراندیش رویے کو سراہا اور کہا کہ جنگ بندی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر اردوان نے ترکیہ کی جانب سے خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عالمی سطح پر درپیش مختلف چیلنجز کا ذکر کیا، جن میں سلامتی کے خطرات سے لے کر معاشی زوال تک کے مسائل شامل ہیں، اور زور دیا کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مابین تجارت کو آسان بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل ترقی کے لیے مشترکہ منصوبے اور تعاون ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالے اور غزہ میں بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور اگر بھارت خلوصِ نیت اور تعاون کا مظاہرہ کرے تو پاکستان تمام دوطرفہ مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے لیے تیار ہے۔</strong></p>
<p>آذربائیجان کے شہر لاچین میں منعقدہ دوسرے سہ فریقی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بھارت کی حالیہ جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل و کرم، پاکستانی عوام اور دوست ممالک کی حمایت اور مسلح افواج کے پُرعزم جواب کی بدولت پاکستان نے سرخروئی حاصل کی۔</p>
<p>اپنے خطاب میں وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ فوری توجہ کے متقاضی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جائے، بالخصوص مسئلہ کشمیر، جسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔</p>
<p>وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی، جو پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زرعی، پینے اور دیگر ضروریاتِ زندگی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ نہایت افسوسناک ہے کہ بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی دی۔ یہ نہ پہلے ممکن تھا، نہ اب ممکن ہے اور نہ آئندہ ہوگا، ان شاء اللہ۔ ہم اس کے تدارک کے لیے موثر اقدامات کر رہے ہیں تاکہ بھارت کو ایسا کرنے کا موقع نہ مل سکے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ اگر بھارت دہشت گردی کےخاتمے کیلئے خلوصِ نیت کے ساتھ بات کرنا چاہے تو پاکستان اس معاملے پر بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے۔ ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں میں 90 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات برداشت کیے۔ اس سے بڑی ہماری سنجیدگی اور عزم کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ہم اس ناسور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ چاہتے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ اگر بھارت سنجیدہ اور دیانت دارانہ تعاون کا مظاہرہ کرے تو پاکستان تمام امور، بشمول بھارت کے ساتھ تجارت کے فروغ  پر مذاکرات کی میز پر بات کرنے کو تیار ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہایت جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور حکمت سے افواج کی قیادت کی جبکہ پوری قوم ان کے پیچھے یکجہتی سے کھڑی تھی۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران، انہوں نے فیلڈ مارشل کو خدا کا خوف رکھنے والے، نڈر، عزم و حوصلے سے بھرپور اور آہنی ارادوں کے حامل قائد کے طور پر پایا، جو ہر طرح کے دباؤ کا سامنا صبر و استقامت کے ساتھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حالیہ تنازع کے دوران بھارت پاکستان کے خلاف کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا اور پہلگام کے مبینہ واقعے کی غیرجانبدار اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کی پاکستان کی مخلصانہ پیشکش کو بھی مسترد کر دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ سہ فریقی اجلاس میں تینوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے امور پر نہایت مفید مشاورت کی، اور امید ظاہر کی کہ لاچین شہر میں ہونے والا موجودہ اجلاس ان کے باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا، جو تینوں اقوام کی خواہشات اور امنگوں کے عین مطابق ہوگا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان تاریخی، ثقافتی اور روحانی رشتوں میں صدیوں سے بندھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>یہ دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے اور تینوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، چاہے وہ ناگورنو قرہ باغ ہو، شمالی قبرص کا معاملہ ہو یا مسئلہ کشمیر۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ ان اقوام کے درمیان محبت، عقیدت اور مشترکہ مقاصد کے لیے وابستگی ایک فطری امر ہے اور عوام نے اپنے بھرپور جذبات اور تعاون سے اس اتحاد کو مزید تقویت دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی دنیا مسلح تنازعات، وباؤں، موسمیاتی تبدیلیوں اور معاشی بحرانوں جیسے گہرے چیلنجز سے دوچار ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم تصادم کو مسترد کرتے ہوئے ہمدردی، یکجہتی اور تعاون کو ترجیح دینے کے لیے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جذبہ اور حکمت مل کر بالآخر امن اور خوشحالی کا راستہ ہموار کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی اور تیزی سے بدلتی دنیا میں سیاسی سلامتی، رابطے، اتحاد اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی نئی عالمی حقیقت کی صورت گری کر رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان خود کو خوش نصیب سمجھتا ہے کہ اسے ترکیہ اور آذربائیجان جیسے مخلص اور پُراعتماد بھائی میسر ہیں، جو ہر آندھی طوفان میں ناقابلِ تسخیر چٹانوں کی مانند پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ تینوں ممالک ہمیشہ امن، انصاف اور اخلاقی اصولوں پر متحد رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کا آزمایا ہوا رشتہ نہ صرف ان اقوام کی فلاح کا ذریعہ بنے گا بلکہ خطے اور دنیا میں امن و ترقی کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے سہ فریقی تعاون کے اس فارمیٹ کو نہایت اہم اور مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے انہیں سیاسی اعتماد اور اجتماعی پیش رفت کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جہاں وہ باہم مل کر اپنے مفادات کے تمام شعبوں میں یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے ترک اور آذربائیجانی صدور کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے موقف کی پرزور حمایت کی اور غیر متزلزل یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p>صدر الہام علییف نے اپنی تقریر میں کہا کہ تینوں ممالک مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کی بنیاد پر یکجہتی سے جڑے ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کی اخلاقی حمایت پر وہ تہہ دل سے شکر گزار ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ وسائل کو بروئے کار لا کر مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ آذربائیجان پاکستان کی معیشت میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے، جو مخصوص ترقیاتی منصوبوں پر مبنی ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، تعلیمی تعاون، ثقافتی سرگرمیوں اور سیاحت جیسے شعبوں میں اشتراک پر بھی زور دیا تاکہ عوامی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی انہیں سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے، اور وہ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔</p>
<p>صدر رجب طیب اردوان نے اپنی تقریر میں آذربائیجان کو یومِ آزادی پر مبارکباد دی اور کہا کہ تینوں برادر ممالک باہمی اعتماد اور یقین کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ تینوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں، اور وہ اپنی سہ فریقی شراکت کو اسٹریٹجک تعاون میں ڈھالنے کے لیے کوشاں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ خطہ امن، استحکام اور خوشحالی کا مرکز بنے گا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ استنبول دورے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ اس موقع پر اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک کونسل کے دائرہ کار اور دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات پر مفصل گفتگو ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے دانشمندانہ اور دوراندیش رویے کو سراہا اور کہا کہ جنگ بندی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی ہے۔</p>
<p>صدر اردوان نے ترکیہ کی جانب سے خطے میں مستقل امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے عالمی سطح پر درپیش مختلف چیلنجز کا ذکر کیا، جن میں سلامتی کے خطرات سے لے کر معاشی زوال تک کے مسائل شامل ہیں، اور زور دیا کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مابین تجارت کو آسان بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل ترقی کے لیے مشترکہ منصوبے اور تعاون ناگزیر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالے اور غزہ میں بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273148</guid>
      <pubDate>Wed, 28 May 2025 20:28:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/282028154e1e1b0.png" type="image/png" medium="image" height="437" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/282028154e1e1b0.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
