<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امید کی بحالی برقرار رکھیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273137/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یقین ختم ہو چکا تھا۔ سب کچھ برباد ہو چکا تھا۔ امید دم توڑ چکی تھی۔ معاملہ انجام تک پہنچ چکا تھا۔ مکمل مایوسی۔ ملک میں 10 مئی 2025 تک یہی کیفیت طاری تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری اعتماد زمین بوس ہو چکا تھا۔ صارفین کا اعتماد چکناچور ہو چکا تھا۔ عوامی بددلّی اپنی انتہا پر تھی۔ پھر آیا ایک انقلابی لمحہ۔ 11 مئی کو، ایک رات میں قوم کے جذبات نے پلٹا کھایا۔ وہ نیوز چینلز جو نظرانداز کیے جا رہے تھے، ایک بار پھر دیکھے جانے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹویٹر دوبارہ کھل گیا۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ پر خوشیاں، قہقہے اور امیدوں کے چرچے ہونے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی بار جنریشن ایکس، ملینیئلز اور جنریشن زی ایک ہی صفحے پر آ گئے — وطن سے محبت، قومی فخر اور امید کے صفحے پر۔ پاکستان کی سلامتی کو اس کے پرانے دشمن سے خطرہ لاحق ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دشمن نے خوفناک دھمکیاں دیں، ان کے میڈیا نے پاکستان پر قبضے کی مہم شروع کر دی۔ لیکن جیسے کسی فلم کا منظر ہو، ایک متحد اور ”استقامت“ کو اپنی سب سے اہم اور عملی قدر سمجھنے والی قوم نے اس بڑے غنڈے کو خاموش کرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزرگ نسل — بیبی بومرز اور جنریشن ایکس — کے لیے یہ وہی پرانا خواب تھا، بھارت کے خلاف جنگ اور فتح کا خواب، جس میں وہ پلے بڑھے تھے۔ لیکن ملینیئلز اور جنریشن زی کے لیے، جنہوں نے جنگ کبھی دیکھی ہی نہیں، یہ ایک لائیو نیٹ فلکس فلم جیسا منظر تھا۔ شروع میں تو یہ صرف دو دشمن ملکوں کے درمیان معمول کی جھڑپ سمجھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑا ہمسایہ دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ پاکستان پر قبضہ کر لے گا، جبکہ چھوٹا ملک مذاق بھی اُڑا رہا تھا اور ردعمل نہ آنے پر فکرمند بھی تھا۔ پھر آیا جواب۔ وہ جواب سوچا سمجھا اور ڈرامائی تھا۔ بھارتی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تو پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا۔ پھر ہماری فضائیہ کی شاندار کارکردگی نے قوم کا حوصلہ بلند کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے پائلٹس کی وائرل ویڈیو، جس میں وہ فلم ”مشن امپاسیبل“ کے ہیرو ماورک کی یاد تازہ کر رہے تھے، نے پوری قوم کا جذبہ بیدار کر دیا۔ اس کے بعد امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان آیا، تو پوری قوم نے ایک غیر متوقع کامیابی پر خوشیاں منائیں۔ یہ احساسِ فتح قوم کو دوبارہ زندہ کر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ جیتنا ایک زبردست کارنامہ ہے۔ مگر اس سے بھی بڑا کارنامہ امید کا دوبارہ جنم لینا ہے۔ یہی بحالی کی اصل روح ہے۔ یہی ترقی کا نچوڑ ہے۔ یہی احیاء کا مرکز ہے۔ یہ ایک سنہری موقع ہے۔ اس موقع کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں کرنا کیا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوجوانوں کو شامل کرنا ہوگا — پاکستان کو نوجوان آبادی کا تحفہ حاصل ہے۔ 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے۔ نوجوانوں کا یہ ہجوم ایک اثاثہ بھی بن سکتا ہے اور بوجھ بھی — یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم انہیں کیسے شامل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدید نسل ”جنریشن زی“ پوری دنیا کے لیے ایک چیلنج ہے۔ یہ نوجوان ہیں، ذہین ہیں، بےچین ہیں، اپنی شناخت کی تلاش میں ہیں۔ یہ مقصد کی جستجو میں ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جس نے  کوویڈ کے دوران بہت کٹھن وقت گزارا۔ اگر ہم انہیں مثبت طریقے سے مشغول کریں تو یہ اپنے ہم عمروں سے بہت آگے نکل سکتے ہیں۔ اگر انہیں نظرانداز کیا گیا تو یہ سماجی و سیاسی خطرہ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنگ جنریشن زی کے لیے کئی حوالوں سے فائدہ مند ثابت ہوئی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جنگ لڑی۔ وہ ایک بڑے مقصد سے جُڑ گئے۔ وہ ڈیجیٹل جنگ میں شامل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور انہوں نے یہ جنگ اپنی صلاحیتوں کے بل پر لڑی۔ اس نسل کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت خودمختار سوچ کے مالک ہیں۔ ان کے والدین ان کی ضد سے پریشان ہیں کہ انہیں خود فیصلے کرنے دیے جائیں۔ یہ اپنی بات کہنے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہ کسی کی سنتے نہیں، مگر جواب دیتے ہیں آزادی، خودمختاری اور شراکت داری پر۔ اسی لیے جب ٹوئٹر سے پابندی ہٹائی گئی اور انہیں اظہار کی آزادی دی گئی تو انہوں نے اپنے سے کئی گنا بڑی قوموں کے ہم عمروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
۔۔
عالمی میڈیا اس بحث میں لگا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی جنگ میں کون جیتا اور کون ہارا، لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ پاکستان نے ”تاثر کی جنگ“ جیت لی ہے، کیونکہ اس کی ڈیجیٹل پروپیگنڈا حکمتِ عملی برتر ثابت ہوئی۔ اس کامیابی کو حکومت اور فوج دونوں نے تسلیم کیا اور نوجوانوں کو ”ڈیجیٹل واریرز“ (ڈیجیٹل مجاہد) قرار دیا۔ اس سے نوجوانوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔ اب ضروری ہے کہ اس جذبے سے فائدہ اٹھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہ ان کی آواز بند کریں۔ نہ انہیں دبائیں۔ نہ ان کو ”مسئلہ“ سمجھیں۔ انہیں بولنے دیں۔ ان کی سنیں۔ ان سے رابطہ رکھیں۔ انہیں تسلیم کریں۔ ان کی عزت کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;2- عوامی فلاح پر توجہ دیں — عوام نے یکجہتی سے ردعمل دیا ہے۔ مرد، عورتیں، بچے، امیر، غریب — سب نے خلوصِ دل سے ملک اور اداروں کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جب ملک کو ضرورت ہو، وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت کئی حلقوں میں ”نیشنل کرَش“ یعنی قومی محبوب کے طور پر ائیر وائس مارشل اورنگزیب کا چرچا ہے۔ یہ ایک دلچسپ نفسیاتی مظہر ہے۔ کچھ ماہرینِ نفسیات اسے ”ہیرو کمپلیکس“ (ہیرو کا جذبہ) قرار دیتے ہیں، لیکن اس میں موجود بصیرتیں قابلِ غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ انہیں ہیرو کیوں سمجھتے ہیں؟ تو جوابات مختلف تھے — ان کی ٹیم یعنی ائیر فورس کی فضا میں کامیابیاں، ان کا پر سکون، منطقی اور پیشہ ورانہ اندازِ گفتگو، جو مؤثر، مدلل اور پر اعتماد تھا۔ بھارتی ہم منصب کے برعکس، وہ مکمل اطمینان اور کنٹرول میں نظر آئے۔ یہ وہ خصلت ہے — فرض شناسی اور عمل کی انتہا — جس نے عوام کے دل جیت لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک اور یاددہانی ہے کہ عوام اپنے جذبۂ حب الوطنی کی تسکین چاہتے ہیں — اُن ہیروز کے ذریعے جو فرنٹ لائن پر ہوں۔ یہی ائیر مارشل اگر کسی اور انتظامی کردار میں ہوتے تو شاید یہی مقام نہ حاصل کرتے۔ یہ ایک نہایت اہم پیغام ہے — کہ عوامی جذبات کو اس نئے جذبۂ احترام اور محبت کے ذریعے سمجھا جائے۔ عوام اصلی ہیروز چاہتے ہیں، اور جو بھی خلوصِ نیت سے قوم کی خدمت کرے، وہ ان کے دلوں پر راج کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام اور پائیداری — عوام حقیقی ترقی چاہتے ہیں۔ وہ وقت گزر گیا جب جھوٹے معاشی اشاریے لوگوں کو دھوکہ دے سکتے تھے۔ جنریشن زی اتنی ذہین ہے کہ وقتی چالاکیوں سے متاثر نہیں ہوتی۔ درحقیقت، انہیں بیوقوف سمجھا جائے تو وہ شدید ردعمل دیتے ہیں اور جھوٹ کو بےنقاب کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ مثال کے طور پر حالیہ بجلی کی قیمت میں 7 روپے کمی — چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی حقیقت کھول دی گئی۔ ترقی جعلی منصوبوں میں چھپ نہیں سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک قرضوں پر چلنے والی ریاست کی حکومت، اگر سب سے زیادہ اخراجات کرے تو وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ ملک میں وزارتیں کاموں سے زیادہ ہیں، وزرا وزارتوں سے زیادہ ہیں، مشیر کاموں سے زیادہ ہیں، کمیٹیاں ذمہ داریوں سے زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں ہر نوٹیفکیشن عوام کی نظروں کے سامنے ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ عوام ان سے دھوکہ کھا لیں گے۔ یہ وہی روش ہے جو جنریشن زی کو مایوس اور غصے میں لاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کی وجہ سے جو بیرونی خطرہ پیدا ہوا، اس نے قوم کو اکٹھا تو کر دیا، مگر بدانتظامی، غیر ذمہ دارانہ اخراجات اور نااہل حکومت جیسے حقیقی مسائل اس اتحاد کو دوبارہ توڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی، ملک میں عدم استحکام کی وجہ سے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنا ضروری ہے تاکہ عوام یہ محسوس کریں کہ یہ صرف ایک وقتی ہنگامہ نہیں بلکہ ایک حقیقی تبدیلی ہے۔ یہ ایک نایاب موقع ہے — اس سے فائدہ اٹھایا جائے اس سے پہلے کہ یہ کھڑکی بند ہو جائے۔ جیسا کہ ایچ جیکسن براؤن نے کہا:
”کوئی چیز ضائع شدہ موقع سے زیادہ مہنگی نہیں ہوتی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یقین ختم ہو چکا تھا۔ سب کچھ برباد ہو چکا تھا۔ امید دم توڑ چکی تھی۔ معاملہ انجام تک پہنچ چکا تھا۔ مکمل مایوسی۔ ملک میں 10 مئی 2025 تک یہی کیفیت طاری تھی۔</strong></p>
<p>کاروباری اعتماد زمین بوس ہو چکا تھا۔ صارفین کا اعتماد چکناچور ہو چکا تھا۔ عوامی بددلّی اپنی انتہا پر تھی۔ پھر آیا ایک انقلابی لمحہ۔ 11 مئی کو، ایک رات میں قوم کے جذبات نے پلٹا کھایا۔ وہ نیوز چینلز جو نظرانداز کیے جا رہے تھے، ایک بار پھر دیکھے جانے لگے۔</p>
<p>ٹویٹر دوبارہ کھل گیا۔ فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ پر خوشیاں، قہقہے اور امیدوں کے چرچے ہونے لگے۔</p>
<p>پہلی بار جنریشن ایکس، ملینیئلز اور جنریشن زی ایک ہی صفحے پر آ گئے — وطن سے محبت، قومی فخر اور امید کے صفحے پر۔ پاکستان کی سلامتی کو اس کے پرانے دشمن سے خطرہ لاحق ہوا تھا۔</p>
<p>دشمن نے خوفناک دھمکیاں دیں، ان کے میڈیا نے پاکستان پر قبضے کی مہم شروع کر دی۔ لیکن جیسے کسی فلم کا منظر ہو، ایک متحد اور ”استقامت“ کو اپنی سب سے اہم اور عملی قدر سمجھنے والی قوم نے اس بڑے غنڈے کو خاموش کرا دیا۔</p>
<p>بزرگ نسل — بیبی بومرز اور جنریشن ایکس — کے لیے یہ وہی پرانا خواب تھا، بھارت کے خلاف جنگ اور فتح کا خواب، جس میں وہ پلے بڑھے تھے۔ لیکن ملینیئلز اور جنریشن زی کے لیے، جنہوں نے جنگ کبھی دیکھی ہی نہیں، یہ ایک لائیو نیٹ فلکس فلم جیسا منظر تھا۔ شروع میں تو یہ صرف دو دشمن ملکوں کے درمیان معمول کی جھڑپ سمجھی گئی۔</p>
<p>بڑا ہمسایہ دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ پاکستان پر قبضہ کر لے گا، جبکہ چھوٹا ملک مذاق بھی اُڑا رہا تھا اور ردعمل نہ آنے پر فکرمند بھی تھا۔ پھر آیا جواب۔ وہ جواب سوچا سمجھا اور ڈرامائی تھا۔ بھارتی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تو پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا۔ پھر ہماری فضائیہ کی شاندار کارکردگی نے قوم کا حوصلہ بلند کر دیا۔</p>
<p>ہمارے پائلٹس کی وائرل ویڈیو، جس میں وہ فلم ”مشن امپاسیبل“ کے ہیرو ماورک کی یاد تازہ کر رہے تھے، نے پوری قوم کا جذبہ بیدار کر دیا۔ اس کے بعد امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان آیا، تو پوری قوم نے ایک غیر متوقع کامیابی پر خوشیاں منائیں۔ یہ احساسِ فتح قوم کو دوبارہ زندہ کر گیا۔</p>
<p>جنگ جیتنا ایک زبردست کارنامہ ہے۔ مگر اس سے بھی بڑا کارنامہ امید کا دوبارہ جنم لینا ہے۔ یہی بحالی کی اصل روح ہے۔ یہی ترقی کا نچوڑ ہے۔ یہی احیاء کا مرکز ہے۔ یہ ایک سنہری موقع ہے۔ اس موقع کو ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں کرنا کیا ہے:</p>
<p>نوجوانوں کو شامل کرنا ہوگا — پاکستان کو نوجوان آبادی کا تحفہ حاصل ہے۔ 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے۔ نوجوانوں کا یہ ہجوم ایک اثاثہ بھی بن سکتا ہے اور بوجھ بھی — یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم انہیں کیسے شامل کرتے ہیں۔</p>
<p>جدید نسل ”جنریشن زی“ پوری دنیا کے لیے ایک چیلنج ہے۔ یہ نوجوان ہیں، ذہین ہیں، بےچین ہیں، اپنی شناخت کی تلاش میں ہیں۔ یہ مقصد کی جستجو میں ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جس نے  کوویڈ کے دوران بہت کٹھن وقت گزارا۔ اگر ہم انہیں مثبت طریقے سے مشغول کریں تو یہ اپنے ہم عمروں سے بہت آگے نکل سکتے ہیں۔ اگر انہیں نظرانداز کیا گیا تو یہ سماجی و سیاسی خطرہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ جنگ جنریشن زی کے لیے کئی حوالوں سے فائدہ مند ثابت ہوئی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جنگ لڑی۔ وہ ایک بڑے مقصد سے جُڑ گئے۔ وہ ڈیجیٹل جنگ میں شامل ہو گئے۔</p>
<p>اور انہوں نے یہ جنگ اپنی صلاحیتوں کے بل پر لڑی۔ اس نسل کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت خودمختار سوچ کے مالک ہیں۔ ان کے والدین ان کی ضد سے پریشان ہیں کہ انہیں خود فیصلے کرنے دیے جائیں۔ یہ اپنی بات کہنے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہ کسی کی سنتے نہیں، مگر جواب دیتے ہیں آزادی، خودمختاری اور شراکت داری پر۔ اسی لیے جب ٹوئٹر سے پابندی ہٹائی گئی اور انہیں اظہار کی آزادی دی گئی تو انہوں نے اپنے سے کئی گنا بڑی قوموں کے ہم عمروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
۔۔
عالمی میڈیا اس بحث میں لگا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی جنگ میں کون جیتا اور کون ہارا، لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ پاکستان نے ”تاثر کی جنگ“ جیت لی ہے، کیونکہ اس کی ڈیجیٹل پروپیگنڈا حکمتِ عملی برتر ثابت ہوئی۔ اس کامیابی کو حکومت اور فوج دونوں نے تسلیم کیا اور نوجوانوں کو ”ڈیجیٹل واریرز“ (ڈیجیٹل مجاہد) قرار دیا۔ اس سے نوجوانوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔ اب ضروری ہے کہ اس جذبے سے فائدہ اٹھایا جائے۔</p>
<p>نہ ان کی آواز بند کریں۔ نہ انہیں دبائیں۔ نہ ان کو ”مسئلہ“ سمجھیں۔ انہیں بولنے دیں۔ ان کی سنیں۔ ان سے رابطہ رکھیں۔ انہیں تسلیم کریں۔ ان کی عزت کریں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>2- عوامی فلاح پر توجہ دیں — عوام نے یکجہتی سے ردعمل دیا ہے۔ مرد، عورتیں، بچے، امیر، غریب — سب نے خلوصِ دل سے ملک اور اداروں کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جب ملک کو ضرورت ہو، وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت کئی حلقوں میں ”نیشنل کرَش“ یعنی قومی محبوب کے طور پر ائیر وائس مارشل اورنگزیب کا چرچا ہے۔ یہ ایک دلچسپ نفسیاتی مظہر ہے۔ کچھ ماہرینِ نفسیات اسے ”ہیرو کمپلیکس“ (ہیرو کا جذبہ) قرار دیتے ہیں، لیکن اس میں موجود بصیرتیں قابلِ غور ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ انہیں ہیرو کیوں سمجھتے ہیں؟ تو جوابات مختلف تھے — ان کی ٹیم یعنی ائیر فورس کی فضا میں کامیابیاں، ان کا پر سکون، منطقی اور پیشہ ورانہ اندازِ گفتگو، جو مؤثر، مدلل اور پر اعتماد تھا۔ بھارتی ہم منصب کے برعکس، وہ مکمل اطمینان اور کنٹرول میں نظر آئے۔ یہ وہ خصلت ہے — فرض شناسی اور عمل کی انتہا — جس نے عوام کے دل جیت لیے۔</p>
<p>یہ ایک اور یاددہانی ہے کہ عوام اپنے جذبۂ حب الوطنی کی تسکین چاہتے ہیں — اُن ہیروز کے ذریعے جو فرنٹ لائن پر ہوں۔ یہی ائیر مارشل اگر کسی اور انتظامی کردار میں ہوتے تو شاید یہی مقام نہ حاصل کرتے۔ یہ ایک نہایت اہم پیغام ہے — کہ عوامی جذبات کو اس نئے جذبۂ احترام اور محبت کے ذریعے سمجھا جائے۔ عوام اصلی ہیروز چاہتے ہیں، اور جو بھی خلوصِ نیت سے قوم کی خدمت کرے، وہ ان کے دلوں پر راج کرے گا۔</p>
<p>استحکام اور پائیداری — عوام حقیقی ترقی چاہتے ہیں۔ وہ وقت گزر گیا جب جھوٹے معاشی اشاریے لوگوں کو دھوکہ دے سکتے تھے۔ جنریشن زی اتنی ذہین ہے کہ وقتی چالاکیوں سے متاثر نہیں ہوتی۔ درحقیقت، انہیں بیوقوف سمجھا جائے تو وہ شدید ردعمل دیتے ہیں اور جھوٹ کو بےنقاب کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ مثال کے طور پر حالیہ بجلی کی قیمت میں 7 روپے کمی — چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی حقیقت کھول دی گئی۔ ترقی جعلی منصوبوں میں چھپ نہیں سکتی۔</p>
<p>ایک قرضوں پر چلنے والی ریاست کی حکومت، اگر سب سے زیادہ اخراجات کرے تو وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ ملک میں وزارتیں کاموں سے زیادہ ہیں، وزرا وزارتوں سے زیادہ ہیں، مشیر کاموں سے زیادہ ہیں، کمیٹیاں ذمہ داریوں سے زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں ہر نوٹیفکیشن عوام کی نظروں کے سامنے ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ عوام ان سے دھوکہ کھا لیں گے۔ یہ وہی روش ہے جو جنریشن زی کو مایوس اور غصے میں لاتی ہے۔</p>
<p>جنگ کی وجہ سے جو بیرونی خطرہ پیدا ہوا، اس نے قوم کو اکٹھا تو کر دیا، مگر بدانتظامی، غیر ذمہ دارانہ اخراجات اور نااہل حکومت جیسے حقیقی مسائل اس اتحاد کو دوبارہ توڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی، ملک میں عدم استحکام کی وجہ سے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنا ضروری ہے تاکہ عوام یہ محسوس کریں کہ یہ صرف ایک وقتی ہنگامہ نہیں بلکہ ایک حقیقی تبدیلی ہے۔ یہ ایک نایاب موقع ہے — اس سے فائدہ اٹھایا جائے اس سے پہلے کہ یہ کھڑکی بند ہو جائے۔ جیسا کہ ایچ جیکسن براؤن نے کہا:
”کوئی چیز ضائع شدہ موقع سے زیادہ مہنگی نہیں ہوتی۔“</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273137</guid>
      <pubDate>Wed, 28 May 2025 10:18:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/281018223ee1bd0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/281018223ee1bd0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
