<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Jul 2026 23:32:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Jul 2026 23:32:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی، بھارت نے اسٹیلتھ فائٹر پروگرام کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273115/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی وزارتِ دفاع نے ملک کے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کی تیاری کے لیے ایک فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس کا اعلان منگل کے روز کیا گیا۔ یہ اقدام پاکستان کے ساتھ حالیہ عسکری کشیدگی کے بعد جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی اسلحہ کی دوڑ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ دفاع کے مطابق، ریاستی ادارے ایرو ناٹیکل ڈیولپمنٹ ایجنسی (اے ڈی اے) کو اس منصوبے پر عملدرآمد کا ذمہ دار بنایا گیا ہے، جو جلد ہی اس طیارے کے پروٹوٹائپ کی تیاری کے لیے دفاعی کمپنیوں سے ابتدائی دلچسپی کی درخواست جاری کرے گا۔ یہ جیٹ دو انجنوں پر مشتمل پانچویں جنریشن کا اسٹیلتھ فائٹر ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ بھارتی فضائیہ کے لیے انتہائی اہم ہے، جس کے اسکواڈرنز کی تعداد روسی اور سابق سوویت طیاروں پر انحصار کے باعث 42 سے گھٹ کر 31 رہ گئی ہے، جبکہ چین تیزی سے اپنی فضائی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے ہی چین کا جدید ترین جنگی طیارہ J-10 اپنے فضائی بیڑے میں شامل کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوہری طاقت کے حامل ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان اس ماہ کے آغاز میں چار دن تک شدید عسکری جھڑپیں ہوئیں، جن میں دونوں جانب سے لڑاکا طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک نے وسیع پیمانے پر ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے بعد جنوبی ایشیا میں ایک نئی ڈرون وار شروع ہو چکی ہے۔ یہ بات رائٹرز کو دیے گئے سیکیورٹی حکام، صنعت کاروں اور تجزیہ کاروں کے انٹرویوز میں سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اس اسٹیلتھ فائٹر پروگرام میں مقامی کمپنی کے ساتھ شراکت کرے گا، اور نجی یا ریاستی ملکیتی ادارے تنہا یا جوائنٹ وینچر کی شکل میں بولی دے سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال مارچ میں ایک بھارتی دفاعی کمیٹی نے نجی شعبے کو فوجی طیارہ سازی میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی تاکہ بھارتی فضائیہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے اور ریاستی کمپنی ”ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ“ (ہال) پر بوجھ کم کیا جا سکے، جو زیادہ تر بھارتی فوجی طیارے تیار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ پہلے ہی ہال پر ہلکے لڑاکا طیارے ”تیجس“ کی سست فراہمی پر تنقید کر چکے ہیں، جس کا الزام ہال نے امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک کی جانب سے انجن کی سپلائی میں تاخیر پر عائد کیا، جو کہ اس وقت سپلائی چین کے مسائل سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی وزارتِ دفاع نے ملک کے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کی تیاری کے لیے ایک فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس کا اعلان منگل کے روز کیا گیا۔ یہ اقدام پاکستان کے ساتھ حالیہ عسکری کشیدگی کے بعد جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی اسلحہ کی دوڑ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ دفاع کے مطابق، ریاستی ادارے ایرو ناٹیکل ڈیولپمنٹ ایجنسی (اے ڈی اے) کو اس منصوبے پر عملدرآمد کا ذمہ دار بنایا گیا ہے، جو جلد ہی اس طیارے کے پروٹوٹائپ کی تیاری کے لیے دفاعی کمپنیوں سے ابتدائی دلچسپی کی درخواست جاری کرے گا۔ یہ جیٹ دو انجنوں پر مشتمل پانچویں جنریشن کا اسٹیلتھ فائٹر ہو گا۔</p>
<p>یہ منصوبہ بھارتی فضائیہ کے لیے انتہائی اہم ہے، جس کے اسکواڈرنز کی تعداد روسی اور سابق سوویت طیاروں پر انحصار کے باعث 42 سے گھٹ کر 31 رہ گئی ہے، جبکہ چین تیزی سے اپنی فضائی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان پہلے ہی چین کا جدید ترین جنگی طیارہ J-10 اپنے فضائی بیڑے میں شامل کر چکا ہے۔</p>
<p>جوہری طاقت کے حامل ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان اس ماہ کے آغاز میں چار دن تک شدید عسکری جھڑپیں ہوئیں، جن میں دونوں جانب سے لڑاکا طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ دونوں ممالک نے وسیع پیمانے پر ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے بعد جنوبی ایشیا میں ایک نئی ڈرون وار شروع ہو چکی ہے۔ یہ بات رائٹرز کو دیے گئے سیکیورٹی حکام، صنعت کاروں اور تجزیہ کاروں کے انٹرویوز میں سامنے آئی ہے۔</p>
<p>وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اس اسٹیلتھ فائٹر پروگرام میں مقامی کمپنی کے ساتھ شراکت کرے گا، اور نجی یا ریاستی ملکیتی ادارے تنہا یا جوائنٹ وینچر کی شکل میں بولی دے سکیں گے۔</p>
<p>رواں سال مارچ میں ایک بھارتی دفاعی کمیٹی نے نجی شعبے کو فوجی طیارہ سازی میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی تاکہ بھارتی فضائیہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے اور ریاستی کمپنی ”ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ“ (ہال) پر بوجھ کم کیا جا سکے، جو زیادہ تر بھارتی فوجی طیارے تیار کرتی ہے۔</p>
<p>ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ پہلے ہی ہال پر ہلکے لڑاکا طیارے ”تیجس“ کی سست فراہمی پر تنقید کر چکے ہیں، جس کا الزام ہال نے امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک کی جانب سے انجن کی سپلائی میں تاخیر پر عائد کیا، جو کہ اس وقت سپلائی چین کے مسائل سے دوچار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273115</guid>
      <pubDate>Tue, 27 May 2025 12:42:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/27145153a0f0841.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/27145153a0f0841.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
