<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Jul 2026 23:32:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Jul 2026 23:32:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور بھارت میں ڈرونز کی جنگ، ایشیا میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273111/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں پہلی بار بڑی تعداد میں ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ کے طریقہ کار میں ایک انقلابی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی میں چار روزہ جھڑپوں کے دوران بھارت اور پاکستان نے بڑے پیمانے پر بغیر پائلٹ  طیاروں (یو اے ویز) کا استعمال کیا۔ امریکی ثالثی سے جنگ بندی تو عمل میں آ گئی، مگر دونوں ایٹمی طاقتیں اب ڈرونز کے میدان میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ میں مصروف ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، بھارت آئندہ 12 سے 24 ماہ کے دوران مقامی سطح پر یو اے ویز پر تقریباً 47 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو تنازع سے پہلے کے اخراجات کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔ یہ اخراجات حالیہ دنوں منظور شدہ 4.6 ارب ڈالر کے ہنگامی دفاعی بجٹ کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت تیزی سے مقامی ڈرون ساز کمپنیوں کو تجربات اور مظاہروں کے لیے بلا رہا ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ادھر پاکستان ایئر فورس بھی اپنی قیمتی لڑاکا طیاروں کو خطرے سے بچانے کے لیے مزید یو اے ویز حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس ضمن میں ترکیہ اور چین کے ساتھ اشتراک کو وسعت دینے پر غور ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی فوج کی جانب سے ترک دفاعی کمپنی بایکار کے اشتراک سے تیار کردہ ییہا-III ڈرونز کا مقامی سطح پر اسمبل کیا جانا ایک اہم پیش رفت ہے، جہاں ہر دو سے تین دن میں ایک یونٹ تیار کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی میں پیش آنے والے حالیہ تصادم کی وجہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں 22 اپریل کو ہونے والا حملہ تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے 7 مئی کو جوابی فضائی حملے کیے۔ اگلی رات پاکستان نے تقریباً 300 سے 400 ڈرونز 36 مقامات سے بھارتی دفاعی نظام کو چیلنج کرنے کے لیے بھیجے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اس موقع پر ترک ساختہ ییہا-III، اسیس گارڈ سونگر اور مقامی شاہپر-II ڈرونز استعمال کیے، جبکہ بھارت نے کولڈ وار کے زمانے کے اینٹی ایئرکرافٹ گنز کو جدید ریڈار سسٹمز سے جوڑ کر ان ڈرونز کا مؤثر دفاع کیا۔ یہ دفاعی حکمت عملی بھارتی فوج کے لیے غیر متوقع طور پر کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے اسرائیلی ہارپ، پولش وارمیٹ اور مقامی یو اے ویز بھی پاکستانی فضائی حدود میں استعمال کیے، جن میں سے کچھ نے مبینہ طور پر عسکری اور شدت پسندانہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ ہارپ ڈرونز خودکش نوعیت کے ہوتے ہیں، جو نشانے پر منڈلاتے ہوئے ٹکرانے سے پھٹ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے ان ہارپ ڈرونز کے خلاف  ریڈار اور دیگر تکنیکی تدابیر استعمال کیں تاکہ انہیں کم بلندی پر لا کر مار گرایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرونز کی مدد سے دونوں ممالک اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ جنگ کی شدت بڑے پیمانے پر بڑھ جائے۔ مگر اس کے باوجود، یہ جھڑپ خطرے سے خالی نہیں اور کسی بھی وقت بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ڈرون پروگرام کے لیے ایک چیلنج یہ ہے کہ اس کا انحصار چینی پرزہ جات، جیسے کہ لیتھیم بیٹریز اور میگنیٹس پر ہے۔ چین پاکستان کا دفاعی اتحادی ہونے کے ناطے کسی بھی وقت بھارت کے لیے سپلائی بند کر سکتا ہے، جس سے بھارتی ڈرون انڈسٹری کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سپلائی چین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا خطرہ ہے، جیسا کہ یوکرین کے خلاف چین کی برآمدی پابندیوں میں دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان ڈرونز کی اس دوڑ نے خطے میں دفاعی توازن اور روایتی جنگ کے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب میدان جنگ میں فوجیوں کی موجودگی سے زیادہ ڈرونز اور ٹیکنالوجی کی برتری فیصلہ کن کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں پہلی بار بڑی تعداد میں ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ کے طریقہ کار میں ایک انقلابی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>مئی میں چار روزہ جھڑپوں کے دوران بھارت اور پاکستان نے بڑے پیمانے پر بغیر پائلٹ  طیاروں (یو اے ویز) کا استعمال کیا۔ امریکی ثالثی سے جنگ بندی تو عمل میں آ گئی، مگر دونوں ایٹمی طاقتیں اب ڈرونز کے میدان میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ میں مصروف ہو گئی ہیں۔</p>
<p>روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، بھارت آئندہ 12 سے 24 ماہ کے دوران مقامی سطح پر یو اے ویز پر تقریباً 47 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو تنازع سے پہلے کے اخراجات کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔ یہ اخراجات حالیہ دنوں منظور شدہ 4.6 ارب ڈالر کے ہنگامی دفاعی بجٹ کا حصہ ہیں۔</p>
<p>بھارت تیزی سے مقامی ڈرون ساز کمپنیوں کو تجربات اور مظاہروں کے لیے بلا رہا ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ادھر پاکستان ایئر فورس بھی اپنی قیمتی لڑاکا طیاروں کو خطرے سے بچانے کے لیے مزید یو اے ویز حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس ضمن میں ترکیہ اور چین کے ساتھ اشتراک کو وسعت دینے پر غور ہو رہا ہے۔</p>
<p>پاکستانی فوج کی جانب سے ترک دفاعی کمپنی بایکار کے اشتراک سے تیار کردہ ییہا-III ڈرونز کا مقامی سطح پر اسمبل کیا جانا ایک اہم پیش رفت ہے، جہاں ہر دو سے تین دن میں ایک یونٹ تیار کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مئی میں پیش آنے والے حالیہ تصادم کی وجہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں 22 اپریل کو ہونے والا حملہ تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے 7 مئی کو جوابی فضائی حملے کیے۔ اگلی رات پاکستان نے تقریباً 300 سے 400 ڈرونز 36 مقامات سے بھارتی دفاعی نظام کو چیلنج کرنے کے لیے بھیجے۔</p>
<p>پاکستان نے اس موقع پر ترک ساختہ ییہا-III، اسیس گارڈ سونگر اور مقامی شاہپر-II ڈرونز استعمال کیے، جبکہ بھارت نے کولڈ وار کے زمانے کے اینٹی ایئرکرافٹ گنز کو جدید ریڈار سسٹمز سے جوڑ کر ان ڈرونز کا مؤثر دفاع کیا۔ یہ دفاعی حکمت عملی بھارتی فوج کے لیے غیر متوقع طور پر کامیاب رہی۔</p>
<p>بھارت نے اسرائیلی ہارپ، پولش وارمیٹ اور مقامی یو اے ویز بھی پاکستانی فضائی حدود میں استعمال کیے، جن میں سے کچھ نے مبینہ طور پر عسکری اور شدت پسندانہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ ہارپ ڈرونز خودکش نوعیت کے ہوتے ہیں، جو نشانے پر منڈلاتے ہوئے ٹکرانے سے پھٹ جاتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان نے ان ہارپ ڈرونز کے خلاف  ریڈار اور دیگر تکنیکی تدابیر استعمال کیں تاکہ انہیں کم بلندی پر لا کر مار گرایا جا سکے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرونز کی مدد سے دونوں ممالک اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ جنگ کی شدت بڑے پیمانے پر بڑھ جائے۔ مگر اس کے باوجود، یہ جھڑپ خطرے سے خالی نہیں اور کسی بھی وقت بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔</p>
<p>بھارتی ڈرون پروگرام کے لیے ایک چیلنج یہ ہے کہ اس کا انحصار چینی پرزہ جات، جیسے کہ لیتھیم بیٹریز اور میگنیٹس پر ہے۔ چین پاکستان کا دفاعی اتحادی ہونے کے ناطے کسی بھی وقت بھارت کے لیے سپلائی بند کر سکتا ہے، جس سے بھارتی ڈرون انڈسٹری کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سپلائی چین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا خطرہ ہے، جیسا کہ یوکرین کے خلاف چین کی برآمدی پابندیوں میں دیکھا گیا۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان ڈرونز کی اس دوڑ نے خطے میں دفاعی توازن اور روایتی جنگ کے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب میدان جنگ میں فوجیوں کی موجودگی سے زیادہ ڈرونز اور ٹیکنالوجی کی برتری فیصلہ کن کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273111</guid>
      <pubDate>Tue, 27 May 2025 12:07:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/271207284234837.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/271207284234837.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
