<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 22:55:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 22:55:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیرف میں اضافہ صنعتی ترقی اور برآمدات کیلئے رکاوٹ بن گیا، عالمی بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273095/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی بینک نے اپنی حالیہ معاشی پالیسی نوٹ ”From Inward to Outward: Pakistan’s Shift Towards Export-led Growth“ میں کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری و سرمایہ کاری ماحول پہلے ہی زرِ مبادلہ کی غیر حقیقی شرح، توانائی کی بلند قیمتوں، ضوابط کی پیچیدگی، مالی وسائل کی محدود دستیابی، اور ریاستی اداروں کے غلبے جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں خام مال اور درمیانی اشیاء پر عائد درآمدی ٹیرف (ٹیکس) صنعتی پیداوار، فروخت اور اجرتوں کو مزید متاثر کر رہے ہیں، خاص طور پر جب ڈیوٹی میں چھوٹ دینے کے اسکیمیں ناقص یا غیر مؤثر ہوں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی میں پاکستان میں درآمدی ٹیرف میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو پہلے 2000 کی دہائی کے اوائل میں کم ترین سطح پر تھے۔ یہ اضافہ زیادہ تر ریگولیٹری اور اضافی کسٹمز ڈیوٹیز (پیرا ٹیرف) کے ذریعے کیا گیا۔ ان ٹیرف کا استعمال آمدنی کے خسارے کو پورا کرنے اور مقامی صنعت کو غیر ملکی مقابلے سے بچانے کے لیے کیا گیا، جس سے مارکیٹ میں بگاڑ اور غیر مؤثر صنعتی پالیسیوں کو فروغ ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کے ٹیرف نظام میں پیچیدگی پائی جاتی ہے، جس میں بلند شرحِ تحفظ، درآمدی ڈیوٹیوں کی تہہ در تہہ ساخت، اور مخصوص حالات (جیسے قومی سلامتی یا معاشی مفاد) میں دی جانے والی مشروط چھوٹ شامل ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ان اسکیموں سے زیادہ تر فائدہ بڑی اور بااثر کمپنیاں اٹھاتی ہیں، جبکہ چھوٹے کاروبار پیچھے رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک کے مطابق، اس صورت حال کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور وسائل کی تقسیم زیادہ تر پیداواری شعبوں کے بجائے بااثر طبقات کی جانب منتقل ہو جاتی ہے۔ اس دوران پاکستان کی برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں، جو 1990 کی دہائی میں جی ڈی پی کے 15 فیصد سے گھٹ کر 2024 میں صرف 10 فیصد رہ گئی ہیں—جو کہ خطے اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ٹیرف پالیسی بہتر بنانے کے لیے چند اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے ٹیرف پالیسی کا اختیار لے کر نیشنل ٹیرف بورڈ کو دینا۔ مزید یہ کہ حکومت نے توانائی اصلاحات، کاروباری ضوابط کی بہتری، اور ریاستی اداروں کی نجکاری جیسے اقدامات کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2024 میں حکومت نے ”اُڑان پاکستان“ نامی پانچ سالہ معاشی منصوبہ متعارف کرایا، جو وزیراعظم کی معاشی تبدیلی ایجنڈا کے تحت ہے اور برآمدات پر مبنی ترقی کو مرکز بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک نے زور دیا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے صرف ٹیرف میں اصلاحات کافی نہیں، بلکہ ایک جامع اصلاحاتی پیکج کی ضرورت ہے، جس میں درج ذیل شامل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1 . مکمل طور پر مارکیٹ کی بنیاد پر زرِ مبادلہ کی شرح کے ساتھ بینکوں کے مابین زرمبادلہ کی روانی کو یقینی بنانا۔
2. توانائی کی لاگت کم کرنے اور فراہمی بہتر بنانے کے لیے توانائی کے شعبے کی اصلاحات۔
3. برآمد کنندگان کو سستا اور قابل رسائی فنانس فراہم کرنے کے لیے تجارتی مالیاتی نظام کو بہتر بنانا۔
4. نیشنل ریگولیٹری ڈلیوری آفس کا قیام، نئی سرمایہ کاری قانون سازی، اور کاروباری رجسٹری کا یکجا نظام متعارف کرانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسابقتی اداروں میں قیادت کے عہدے پر تعیناتیاں اور دیوالیہ پن سے متعلق اصلاحات بھی سرمایہ کاری کے اعتماد اور مؤثر ضابطہ سازی کے لیے ضروری ہیں تاکہ پاکستان کی برآمدات کی بحالی اور توسیع ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی بینک نے اپنی حالیہ معاشی پالیسی نوٹ ”From Inward to Outward: Pakistan’s Shift Towards Export-led Growth“ میں کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری و سرمایہ کاری ماحول پہلے ہی زرِ مبادلہ کی غیر حقیقی شرح، توانائی کی بلند قیمتوں، ضوابط کی پیچیدگی، مالی وسائل کی محدود دستیابی، اور ریاستی اداروں کے غلبے جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں خام مال اور درمیانی اشیاء پر عائد درآمدی ٹیرف (ٹیکس) صنعتی پیداوار، فروخت اور اجرتوں کو مزید متاثر کر رہے ہیں، خاص طور پر جب ڈیوٹی میں چھوٹ دینے کے اسکیمیں ناقص یا غیر مؤثر ہوں۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی میں پاکستان میں درآمدی ٹیرف میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو پہلے 2000 کی دہائی کے اوائل میں کم ترین سطح پر تھے۔ یہ اضافہ زیادہ تر ریگولیٹری اور اضافی کسٹمز ڈیوٹیز (پیرا ٹیرف) کے ذریعے کیا گیا۔ ان ٹیرف کا استعمال آمدنی کے خسارے کو پورا کرنے اور مقامی صنعت کو غیر ملکی مقابلے سے بچانے کے لیے کیا گیا، جس سے مارکیٹ میں بگاڑ اور غیر مؤثر صنعتی پالیسیوں کو فروغ ملا۔</p>
<p>عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کے ٹیرف نظام میں پیچیدگی پائی جاتی ہے، جس میں بلند شرحِ تحفظ، درآمدی ڈیوٹیوں کی تہہ در تہہ ساخت، اور مخصوص حالات (جیسے قومی سلامتی یا معاشی مفاد) میں دی جانے والی مشروط چھوٹ شامل ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ان اسکیموں سے زیادہ تر فائدہ بڑی اور بااثر کمپنیاں اٹھاتی ہیں، جبکہ چھوٹے کاروبار پیچھے رہ جاتے ہیں۔</p>
<p>بینک کے مطابق، اس صورت حال کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور وسائل کی تقسیم زیادہ تر پیداواری شعبوں کے بجائے بااثر طبقات کی جانب منتقل ہو جاتی ہے۔ اس دوران پاکستان کی برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں، جو 1990 کی دہائی میں جی ڈی پی کے 15 فیصد سے گھٹ کر 2024 میں صرف 10 فیصد رہ گئی ہیں—جو کہ خطے اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ٹیرف پالیسی بہتر بنانے کے لیے چند اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے ٹیرف پالیسی کا اختیار لے کر نیشنل ٹیرف بورڈ کو دینا۔ مزید یہ کہ حکومت نے توانائی اصلاحات، کاروباری ضوابط کی بہتری، اور ریاستی اداروں کی نجکاری جیسے اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p>دسمبر 2024 میں حکومت نے ”اُڑان پاکستان“ نامی پانچ سالہ معاشی منصوبہ متعارف کرایا، جو وزیراعظم کی معاشی تبدیلی ایجنڈا کے تحت ہے اور برآمدات پر مبنی ترقی کو مرکز بناتا ہے۔</p>
<p>عالمی بینک نے زور دیا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے صرف ٹیرف میں اصلاحات کافی نہیں، بلکہ ایک جامع اصلاحاتی پیکج کی ضرورت ہے، جس میں درج ذیل شامل ہیں:</p>
<p>1 . مکمل طور پر مارکیٹ کی بنیاد پر زرِ مبادلہ کی شرح کے ساتھ بینکوں کے مابین زرمبادلہ کی روانی کو یقینی بنانا۔
2. توانائی کی لاگت کم کرنے اور فراہمی بہتر بنانے کے لیے توانائی کے شعبے کی اصلاحات۔
3. برآمد کنندگان کو سستا اور قابل رسائی فنانس فراہم کرنے کے لیے تجارتی مالیاتی نظام کو بہتر بنانا۔
4. نیشنل ریگولیٹری ڈلیوری آفس کا قیام، نئی سرمایہ کاری قانون سازی، اور کاروباری رجسٹری کا یکجا نظام متعارف کرانا۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسابقتی اداروں میں قیادت کے عہدے پر تعیناتیاں اور دیوالیہ پن سے متعلق اصلاحات بھی سرمایہ کاری کے اعتماد اور مؤثر ضابطہ سازی کے لیے ضروری ہیں تاکہ پاکستان کی برآمدات کی بحالی اور توسیع ممکن ہو سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273095</guid>
      <pubDate>Tue, 27 May 2025 08:32:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/27083156173f4cd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="800" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/27083156173f4cd.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
