<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 17:49:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 17:49:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا ترکیہ کا دورہ، مشکل وقت میں ساتھ دینے کا شکریہ ادا کیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273059/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف، جو دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچے، نے اتوار کے روز جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے نہایت گرمجوش اور خوشگوار ماحول میں ملاقات کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے تاریخی، برادرانہ تعلقات کی ازسرنو توثیق کی گئی جو باہمی احترام، مشترکہ اقدار، اور ترقی و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر مبنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف، جو چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ تھے، نے جنوبی ایشیا میں حالیہ پیش رفت کے دوران پاکستان کے ساتھ ترکیہ کی غیر متزلزل حمایت پر ترک حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ترک عوام کے خیرسگالی جذبے کو پاکستان کے لیے حوصلے اور طاقت کا ذریعہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مادرِ وطن کے دفاع میں پاکستان کی مسلح افواج کی قربانی، عزم اور پاکستانی عوام کے بے مثال حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کیا، جو معرکۂ حق اور آپریشن ”بنیان المرصوص“ میں پاکستان کی شاندار فتح کا باعث بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے باہمی اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً مشترکہ منصوبوں اور دوطرفہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے حوالے سے۔ انہوں نے قابل تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور زراعت کو باہمی دلچسپی اور امکانات کے اہم شعبے قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 13 فروری 2025 کو اسلام آباد میں ہونے والے ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل  کے ساتویں اجلاس کے دوران کیے گئے اہم فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو طرفہ معاملات کے علاوہ، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان نے علاقائی اور بین الاقوامی اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات، بشمول مسئلہ جموں و کشمیر پر اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے غزہ میں انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور فوری جنگ بندی اور متاثرہ فلسطینی آبادی تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کثیرالجہتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن، پائیدار ترقی، اور اپنے عوام کی مشترکہ خوشحالی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کا عہد کیا۔ پاکستان کے وفد میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جُنید بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف، جو دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچے، نے اتوار کے روز جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے نہایت گرمجوش اور خوشگوار ماحول میں ملاقات کی۔</strong></p>
<p>اس ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے تاریخی، برادرانہ تعلقات کی ازسرنو توثیق کی گئی جو باہمی احترام، مشترکہ اقدار، اور ترقی و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر مبنی ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف، جو چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ تھے، نے جنوبی ایشیا میں حالیہ پیش رفت کے دوران پاکستان کے ساتھ ترکیہ کی غیر متزلزل حمایت پر ترک حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ترک عوام کے خیرسگالی جذبے کو پاکستان کے لیے حوصلے اور طاقت کا ذریعہ قرار دیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے مادرِ وطن کے دفاع میں پاکستان کی مسلح افواج کی قربانی، عزم اور پاکستانی عوام کے بے مثال حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کیا، جو معرکۂ حق اور آپریشن ”بنیان المرصوص“ میں پاکستان کی شاندار فتح کا باعث بنی۔</p>
<p>وزیراعظم نے باہمی اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً مشترکہ منصوبوں اور دوطرفہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے حوالے سے۔ انہوں نے قابل تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور زراعت کو باہمی دلچسپی اور امکانات کے اہم شعبے قرار دیا۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 13 فروری 2025 کو اسلام آباد میں ہونے والے ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل  کے ساتویں اجلاس کے دوران کیے گئے اہم فیصلوں پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔</p>
<p>دو طرفہ معاملات کے علاوہ، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان نے علاقائی اور بین الاقوامی اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات، بشمول مسئلہ جموں و کشمیر پر اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے غزہ میں انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور فوری جنگ بندی اور متاثرہ فلسطینی آبادی تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کثیرالجہتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن، پائیدار ترقی، اور اپنے عوام کی مشترکہ خوشحالی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کا عہد کیا۔ پاکستان کے وفد میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر اعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جُنید بھی شامل تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273059</guid>
      <pubDate>Mon, 26 May 2025 08:14:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/2608143604b6764.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/2608143604b6764.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
