<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 16 Aug 2026 11:55:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 16 Aug 2026 11:55:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہیٹ ویو کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں طوفان اور باد و باراں ،14افراد جاں بحق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273048/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید گرمی کی لہر کے بعد ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں میں آنے والی تباہ کن آندھی اور طوفانی بارشوں کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔  حکام نے اتوار کو اس کی تصدیق کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ کی دوپہر اور شام کے وقت مشرقی پنجاب، شمال مغربی خیبر پختونخوا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شدید آندھی، گرج چمک اور طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، جس سے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور بجلی کے کھمبے زمین بوس ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر اموات دیواروں اور چھتوں کے گرنے سے ہوئیں جبکہ کم از کم دو افراد تیز ہوا کے جھکڑوں سے اکھڑ کر گرنے والے سولر پینلز کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک شخص آسمانی بجلی گرنے سے جاں بحق ہوا جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان مظہر حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس قسم کے آندھی طوفان شدید گرمی کے باعث بنتے ہیں، جو حالیہ دنوں میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ (113 ڈگری فارن ہائیٹ) سے تجاوز کر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہیٹ ویو کے دوران تین سے چار دن ایسے گزرے جب درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پنجاب میں 14 اموات اور 100 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ آندھی خاص طور پر تباہ کن تھی۔ ہوا کی رفتار بہت زیادہ تھی اور اس میں اتنی گرد تھی کہ حدِ نظر نہایت محدود ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے محکمہ موسمیات نے اتوار کے روز مزید طوفانوں کی پیش گوئی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ کی شام سوشل میڈیا پر آندھی سے ہونے والی تباہی کی متعدد ویڈیوز گردش کرتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کے شہر لاہور میں لینڈنگ کے لیے تیار ایک طیارے کے اندر فلمائی گئی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ مسافر شدید گھبراہٹ کے عالم میں چیخ و پکار کر رہے تھے، جب طیارہ شدید جھٹکوں کا شکار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں پرواز کا رخ تبدیل کر کے کراچی کی جانب موڑ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر ویڈیوز میں درختوں کے گرنے سے تباہ شدہ گاڑیاں اور سڑکوں پر بکھرا ملبہ دکھایا گیا ہے، جس سے راستے بند ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثرہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، تیزی سے بڑھتے ہوئے شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں اپریل اور مئی کے دوران کئی بار غیر معمولی ژالہ باری ہوئی، جس نے گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، کھڑکیوں کے شیشے چکنا چور کر دیے اور سولر پینلز کو تباہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل اور مئی میں درجہ حرارت کا بے قابو ہونا پاکستان میں ایک معمول بنتا جا رہا ہے حالانکہ یہاں گرمیوں کا آغاز عمومی طور پر جون کے اوائل میں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں درجہ حرارت بعض علاقوں، خاص طور پر پنجاب میں، 46.5 ڈگری سینٹی گریڈ (115.7 فارن ہائیٹ) تک پہنچا، جو تقریباً ریکارڈ سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید گرمی کے باعث پنجاب اور بلوچستان میں اسکولوں نے موسمِ گرما کی تعطیلات قبل از وقت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شدید گرمی کی لہر کے بعد ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں میں آنے والی تباہ کن آندھی اور طوفانی بارشوں کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔  حکام نے اتوار کو اس کی تصدیق کی۔</strong></p>
<p>ہفتہ کی دوپہر اور شام کے وقت مشرقی پنجاب، شمال مغربی خیبر پختونخوا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شدید آندھی، گرج چمک اور طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، جس سے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور بجلی کے کھمبے زمین بوس ہو گئے۔</p>
<p>زیادہ تر اموات دیواروں اور چھتوں کے گرنے سے ہوئیں جبکہ کم از کم دو افراد تیز ہوا کے جھکڑوں سے اکھڑ کر گرنے والے سولر پینلز کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گئے۔</p>
<p>ایک شخص آسمانی بجلی گرنے سے جاں بحق ہوا جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔</p>
<p>پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان مظہر حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس قسم کے آندھی طوفان شدید گرمی کے باعث بنتے ہیں، جو حالیہ دنوں میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ (113 ڈگری فارن ہائیٹ) سے تجاوز کر گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہیٹ ویو کے دوران تین سے چار دن ایسے گزرے جب درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ گیا۔</p>
<p>انہوں نے پنجاب میں 14 اموات اور 100 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ آندھی خاص طور پر تباہ کن تھی۔ ہوا کی رفتار بہت زیادہ تھی اور اس میں اتنی گرد تھی کہ حدِ نظر نہایت محدود ہو گئی تھی۔</p>
<p>پاکستان کے محکمہ موسمیات نے اتوار کے روز مزید طوفانوں کی پیش گوئی کی ہے۔</p>
<p>ہفتہ کی شام سوشل میڈیا پر آندھی سے ہونے والی تباہی کی متعدد ویڈیوز گردش کرتی رہیں۔</p>
<p>پنجاب کے شہر لاہور میں لینڈنگ کے لیے تیار ایک طیارے کے اندر فلمائی گئی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ مسافر شدید گھبراہٹ کے عالم میں چیخ و پکار کر رہے تھے، جب طیارہ شدید جھٹکوں کا شکار ہوا۔</p>
<p>بعد ازاں پرواز کا رخ تبدیل کر کے کراچی کی جانب موڑ دیا گیا۔</p>
<p>دیگر ویڈیوز میں درختوں کے گرنے سے تباہ شدہ گاڑیاں اور سڑکوں پر بکھرا ملبہ دکھایا گیا ہے، جس سے راستے بند ہو گئے۔</p>
<p>پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثرہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، تیزی سے بڑھتے ہوئے شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں اپریل اور مئی کے دوران کئی بار غیر معمولی ژالہ باری ہوئی، جس نے گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، کھڑکیوں کے شیشے چکنا چور کر دیے اور سولر پینلز کو تباہ کر دیا۔</p>
<p>اپریل اور مئی میں درجہ حرارت کا بے قابو ہونا پاکستان میں ایک معمول بنتا جا رہا ہے حالانکہ یہاں گرمیوں کا آغاز عمومی طور پر جون کے اوائل میں ہوتا ہے۔</p>
<p>اپریل میں درجہ حرارت بعض علاقوں، خاص طور پر پنجاب میں، 46.5 ڈگری سینٹی گریڈ (115.7 فارن ہائیٹ) تک پہنچا، جو تقریباً ریکارڈ سطح ہے۔</p>
<p>شدید گرمی کے باعث پنجاب اور بلوچستان میں اسکولوں نے موسمِ گرما کی تعطیلات قبل از وقت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273048</guid>
      <pubDate>Sun, 25 May 2025 18:33:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/2518203256b05fc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/2518203256b05fc.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
