<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 01:13:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Jul 2026 01:13:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی ایپل سمیت تمام اسمارٹ فونز پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273023/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل اور دیگر اسمارٹ فون ساز کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنی نے اپنے آئی فونز امریکا میں تیار نہیں کیے تو اسے 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ یہ محصولات صرف ایپل پر لاگو ہوں گے ، تاہم بعد میں انہوں نے اپنی دھمکی کو تمام اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں تک  پھیلا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ پابندی سام سنگ سمیت ہر اس کمپنی پر لاگو ہوگی جو یہ مصنوعات تیار کرتی ہے، کیونکہ اس کے بغیر منصفانہ فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ نئے محصولات جون کے آخر تک نافذ کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کے مصنوعات کا ڈیزائن اگرچہ امریکہ میں ہوتا ہے مگر زیادہ تر آئی فون کی اسمبلنگ چین میں ہوتی ہے جو امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل نے اپنی پیداوار کا کچھ حصہ بھارت سمیت دیگر ممالک منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ قدم ان کی سخت شرائط کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ میں نے کافی پہلے ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک کو آگاہ کیا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکا میں فروخت ہونے والے آئی فونز امریکی سرزمین میں تیار کیے جائیں گے، بھارت یا کسی اور جگہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایپل کو امریکا میں کم از کم 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ میرا ٹِم کُک کے ساتھ تھوڑا اختلافِ رائے ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایپل کے سی ای او کو صاف الفاظ میں کہا کہ ہمیں بھارت میں پیداوار سے دلچسپی نہیں—ہم چاہتے ہیں کہ آپ امریکہ میں ہی تیار کریں، اور اب وہ یہاں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کی سب سے بڑی حریف، جنوبی کوریا کی سام سنگ بھی اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہے، کیونکہ اس کی زیادہ تر پیداوار ویتنام، چین اور بھارت میں ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں اسمارٹ فون فروخت کا تقریباً 80 فیصد حصہ ایپل اور سام سنگ کے پاس ہے، جبکہ گوگل، شیاؤمی اور موٹرولا جیسے دیگر چھوٹے برانڈز بھی اپنی زیادہ تر ڈیوائسز بیرونِ ملک تیار کرواتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آئی فون کی تیاری کو امریکہ منتقل کرنا حقیقت سے بہت دور ہے کیونکہ اس کے لیے ایپل کے مکمل کاروباری ماڈل میں بنیادی تبدیلی درکار ہوگی—ایک ایسا عمل جو اگر ممکن ہوا بھی تو کئی سال لے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈ بش سیکیورٹیز کے تخمینے کے مطابق کچھ پیداوار کی منتقلی کے باوجود ایپل کے تقریباً 90 فیصد آئی فون کی تیاری اور اسمبلنگ اب بھی چین میں ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈ بش سیکیورٹیز کے تجزیہ کار ڈین آئیوز نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا کہ آئی فون کی تیاری کو دوبارہ امریکہ منتقل کرنا ایک ایسا خواب ہے جو حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کے مسلسل دباؤ نے ایپل کے حصص کی قیمت پر منفی اثر ڈالا ہے، جو ٹرمپ کے جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کی پروٹیکشن ازم پالیسی کے تحت 20 فیصد سے زائد گرچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کے حصص جمعہ کو نیویارک میں 3.0 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل اور دیگر اسمارٹ فون ساز کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنی نے اپنے آئی فونز امریکا میں تیار نہیں کیے تو اسے 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ یہ محصولات صرف ایپل پر لاگو ہوں گے ، تاہم بعد میں انہوں نے اپنی دھمکی کو تمام اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں تک  پھیلا دیا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ پابندی سام سنگ سمیت ہر اس کمپنی پر لاگو ہوگی جو یہ مصنوعات تیار کرتی ہے، کیونکہ اس کے بغیر منصفانہ فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ نئے محصولات جون کے آخر تک نافذ کیے جائیں گے۔</p>
<p>ایپل کے مصنوعات کا ڈیزائن اگرچہ امریکہ میں ہوتا ہے مگر زیادہ تر آئی فون کی اسمبلنگ چین میں ہوتی ہے جو امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔</p>
<p>ایپل نے اپنی پیداوار کا کچھ حصہ بھارت سمیت دیگر ممالک منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ قدم ان کی سخت شرائط کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔</p>
<p>سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل میں ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ میں نے کافی پہلے ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک کو آگاہ کیا تھا کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکا میں فروخت ہونے والے آئی فونز امریکی سرزمین میں تیار کیے جائیں گے، بھارت یا کسی اور جگہ نہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ایپل کو امریکا میں کم از کم 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p>اس سے قبل 15 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ میرا ٹِم کُک کے ساتھ تھوڑا اختلافِ رائے ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایپل کے سی ای او کو صاف الفاظ میں کہا کہ ہمیں بھارت میں پیداوار سے دلچسپی نہیں—ہم چاہتے ہیں کہ آپ امریکہ میں ہی تیار کریں، اور اب وہ یہاں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ایپل کی سب سے بڑی حریف، جنوبی کوریا کی سام سنگ بھی اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہے، کیونکہ اس کی زیادہ تر پیداوار ویتنام، چین اور بھارت میں ہوتی ہے۔</p>
<p>امریکہ میں اسمارٹ فون فروخت کا تقریباً 80 فیصد حصہ ایپل اور سام سنگ کے پاس ہے، جبکہ گوگل، شیاؤمی اور موٹرولا جیسے دیگر چھوٹے برانڈز بھی اپنی زیادہ تر ڈیوائسز بیرونِ ملک تیار کرواتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آئی فون کی تیاری کو امریکہ منتقل کرنا حقیقت سے بہت دور ہے کیونکہ اس کے لیے ایپل کے مکمل کاروباری ماڈل میں بنیادی تبدیلی درکار ہوگی—ایک ایسا عمل جو اگر ممکن ہوا بھی تو کئی سال لے سکتا ہے۔</p>
<p>ویڈ بش سیکیورٹیز کے تخمینے کے مطابق کچھ پیداوار کی منتقلی کے باوجود ایپل کے تقریباً 90 فیصد آئی فون کی تیاری اور اسمبلنگ اب بھی چین میں ہوتی ہے۔</p>
<p>ویڈ بش سیکیورٹیز کے تجزیہ کار ڈین آئیوز نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا کہ آئی فون کی تیاری کو دوبارہ امریکہ منتقل کرنا ایک ایسا خواب ہے جو حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۔</p>
<p>واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کے مسلسل دباؤ نے ایپل کے حصص کی قیمت پر منفی اثر ڈالا ہے، جو ٹرمپ کے جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کی پروٹیکشن ازم پالیسی کے تحت 20 فیصد سے زائد گرچکی ہے۔</p>
<p>ایپل کے حصص جمعہ کو نیویارک میں 3.0 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273023</guid>
      <pubDate>Sat, 24 May 2025 15:37:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/24153438383db06.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/24153438383db06.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
