<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:21:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:21:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ 26-2025: اخراجات میں 2 کھرب روپے کی نمایاں کمی کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40273017/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مقامی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکومت مالی سال 2025-26 کے لیے 16.9 کھرب روپے کے بجٹ کا اعلان کرنے جارہی ہے جو  رواں مالی سال 2024-25 کے 18.9 کھرب روپے کے بجٹ سے 10.6 فیصد یا 2 کھرب روپے کم ہے جو بجٹ میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی رپورٹ پاکستان بجٹ مالی سال 25-26 پریویو کے مطابق، قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بڑی کمی کی وجہ سے بجٹ کے کل اخراجات میں خاطر خواہ کمی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 میں موجودہ قرضوں پر سود کی ادائیگی 8.5 کھرب روپے تک کم ہونے کا امکان ہے جو مالی سال 2025 کے لیے اصل بجٹ میں شامل 9.8 کھرب روپے سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ ہیڈ ثنا توفیق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ مالی سال 2025 کے مقابلے میں متوازن اور بہتر ہوگا، کیونکہ شرح سود میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ جو گزشتہ جون میں 22 فیصد تھے اب گھٹ کر 11 فیصد پرآگئے ہیں جس سے قرض لینے کی لاگت آدھی رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ حکومت مالی سال 2025-26 کا بجٹ 10 جون کو پیش کرنے جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اخراجات میں متوقع کمی حکومت کو موقع دے گی کہ وہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مالی نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات پر توجہ مرکوز کرے جبکہ ضرورت مند طبقات کو مؤثر اور ہدفی ریلیف بھی فراہم کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ  کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں مجموعی مالی خسارہ 6.2 کھرب روپے رہنے کا امکان ہے جبکہ ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات سمیت مجموعی آمدن 17.8 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں 17.8 کھرب روپے کی متوقع آمدنی کے ساتھ، صوبوں کو 8.04 کھرب روپے کی منتقلی اور 950 ارب روپے کے ممکنہ سرپلس کے بعد وفاقی حکومت کا مالی خسارہ 6.2 کھرب روپے تک محدود رہنے کی توقع ہے—جو مالی استحکام اور نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت اور واضح قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثنا توفیق نے مزید کہا کہ بجٹ کو متوازن بنانے کیلئے دیگر اہم اقدامات میں ٹیکس میں نرمی شامل ہوگی، جیسے کہ سپر ٹیکس کی شرح میں کمی، تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی اور دیگر شعبوں پر ٹیکس کی شرح کا ازسرِ نو تعین شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ کے بجٹ کے متوقع اعداد و شمار حالیہ میڈیا رپورٹس سے کچھ مختلف ہیں جو سرکاری ذرائع سے جاری ہوئے ہیں۔ تحقیقاتی ادارے کا اندازہ ہے کہ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی آمدنی مالی سال 2024-25 میں 11.83 کھرب روپے رہی، جو حکومت کے ہدف شدہ 12.37 کھرب روپے سے کم ہے، جس کی روشنی میں آئندہ بجٹ کے اعداد و شمار میں ردوبدل ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایچ ایل کی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ مالی سال 2026 میں موجودہ قرض پر سود کی ادائیگی 8.5 کھرب روپے تک کم ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے ایف بی آر سے 14.3 کھرب روپے محصول کی وصولی کا ہدف مقرر کیا ہے، جو پٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کے نفاذ، خوردہ و تھوک فروشوں پر ٹیکس عائد کرنے اور دی گئی چھوٹ واپس لینے جیسے سخت اقدامات کی بدولت ممکن بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں ایف بی آر کا ٹیکس سے جی ڈی پی تناسب 11.3 فیصد رہنے کا امکان ہے جو مالی سال 2025 کے 10.3 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے جاری اخراجات کا تخمینہ 16.2 کھرب روپے لگایا ہے جو شرح سود میں نمایاں کمی کے باعث مارک اپ ادائیگیوں میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے مجموعی بجٹ خسارہ 6.5 کھرب روپے (یا جی ڈی پی کا 5.1 فیصد) تخمینہ لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی خسارہ بڑھنے کی وجوہات میں موجودہ اخراجات میں اضافہ اور غیر محصولاتی آمدنی میں کمی (جو 3.9 کھرب روپے تک متوقع ہے) خاص طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں متوقع کمی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی ادارے نے مالی سال 2025-26 کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) کو 1.1 کھرب روپے، پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) سے آمدنی کو 1.4 کھرب روپے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کو 1.5 کھرب روپے تخمینہ لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات کی مالیت 869 ارب روپے متوقع ہے جن میں خوردہ فروشوں اور تھوک فروشوں پر انکم ٹیکس، پٹرولیم مصنوعات پر 3 فیصد جی ایس ٹی کا نفاذ اور وفاقی زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) اور صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقے (پاٹا) میں ٹیکس چھوٹ اور محصولات کی منسوخی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) رولز کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے جس میں کوئی ٹیکس معافی نہیں دی گئی، سرکلر قرضے کا خاتمہ اور ایک قومی مالیاتی معاہدہ شامل ہے جو اخراجات صوبوں کو منتقل کرتا ہے،علاوہ ازیں دیگر اقدامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2025-26 میں معاشی ترقی کی شرح 3.6 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے جو مالی سال 2024-25 میں تخمینی 2.68 فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق اوسط سالانہ مہنگائی کی شرح 4.63 فیصد سے بڑھ کر 6.29 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ موجودہ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی ) مالی سال 2025-26 میں 1.5 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، جو مالی سال 2024-25 کے دوران متوقع 1.6 ارب ڈالر کے سرپلس کے مقابلے میں کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متوقع ہے کہ حکومت نئے نظام کے نفاذ، ٹیکس  شرح میں تبدیلی اور وصولی کے بہتر طریقوں کے ذریعے ٹیکس بنیاد کو وسیع کرے گی، اسی کے ساتھ حکومت معاشرے کے کمزور طبقوں کو ہدف بنا کر خصوصی ریلیف فراہم کرنے کی کوشش بھی کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ بجٹ نہ صرف اسٹاک مارکیٹ بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت کے لیے مثبت اور حوصلہ افزا ثابت ہوگا، جو سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور اقتصادی استحکام کو فروغ دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مقامی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکومت مالی سال 2025-26 کے لیے 16.9 کھرب روپے کے بجٹ کا اعلان کرنے جارہی ہے جو  رواں مالی سال 2024-25 کے 18.9 کھرب روپے کے بجٹ سے 10.6 فیصد یا 2 کھرب روپے کم ہے جو بجٹ میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی رپورٹ پاکستان بجٹ مالی سال 25-26 پریویو کے مطابق، قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بڑی کمی کی وجہ سے بجٹ کے کل اخراجات میں خاطر خواہ کمی متوقع ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026 میں موجودہ قرضوں پر سود کی ادائیگی 8.5 کھرب روپے تک کم ہونے کا امکان ہے جو مالی سال 2025 کے لیے اصل بجٹ میں شامل 9.8 کھرب روپے سے کم ہے۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ کی ریسرچ ہیڈ ثنا توفیق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ مالی سال 2025 کے مقابلے میں متوازن اور بہتر ہوگا، کیونکہ شرح سود میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ جو گزشتہ جون میں 22 فیصد تھے اب گھٹ کر 11 فیصد پرآگئے ہیں جس سے قرض لینے کی لاگت آدھی رہ گئی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ حکومت مالی سال 2025-26 کا بجٹ 10 جون کو پیش کرنے جا رہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اخراجات میں متوقع کمی حکومت کو موقع دے گی کہ وہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مالی نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات پر توجہ مرکوز کرے جبکہ ضرورت مند طبقات کو مؤثر اور ہدفی ریلیف بھی فراہم کیا جا سکے گا۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ  کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں مجموعی مالی خسارہ 6.2 کھرب روپے رہنے کا امکان ہے جبکہ ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات سمیت مجموعی آمدن 17.8 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں 17.8 کھرب روپے کی متوقع آمدنی کے ساتھ، صوبوں کو 8.04 کھرب روپے کی منتقلی اور 950 ارب روپے کے ممکنہ سرپلس کے بعد وفاقی حکومت کا مالی خسارہ 6.2 کھرب روپے تک محدود رہنے کی توقع ہے—جو مالی استحکام اور نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت اور واضح قدم ہے۔</p>
<p>ثنا توفیق نے مزید کہا کہ بجٹ کو متوازن بنانے کیلئے دیگر اہم اقدامات میں ٹیکس میں نرمی شامل ہوگی، جیسے کہ سپر ٹیکس کی شرح میں کمی، تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی اور دیگر شعبوں پر ٹیکس کی شرح کا ازسرِ نو تعین شامل ہے۔</p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ کے بجٹ کے متوقع اعداد و شمار حالیہ میڈیا رپورٹس سے کچھ مختلف ہیں جو سرکاری ذرائع سے جاری ہوئے ہیں۔ تحقیقاتی ادارے کا اندازہ ہے کہ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی آمدنی مالی سال 2024-25 میں 11.83 کھرب روپے رہی، جو حکومت کے ہدف شدہ 12.37 کھرب روپے سے کم ہے، جس کی روشنی میں آئندہ بجٹ کے اعداد و شمار میں ردوبدل ممکن ہے۔</p>
<p>اے ایچ ایل کی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ مالی سال 2026 میں موجودہ قرض پر سود کی ادائیگی 8.5 کھرب روپے تک کم ہوجائے گی۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے ایف بی آر سے 14.3 کھرب روپے محصول کی وصولی کا ہدف مقرر کیا ہے، جو پٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کے نفاذ، خوردہ و تھوک فروشوں پر ٹیکس عائد کرنے اور دی گئی چھوٹ واپس لینے جیسے سخت اقدامات کی بدولت ممکن بنایا جائے گا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں ایف بی آر کا ٹیکس سے جی ڈی پی تناسب 11.3 فیصد رہنے کا امکان ہے جو مالی سال 2025 کے 10.3 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے جاری اخراجات کا تخمینہ 16.2 کھرب روپے لگایا ہے جو شرح سود میں نمایاں کمی کے باعث مارک اپ ادائیگیوں میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس نے مجموعی بجٹ خسارہ 6.5 کھرب روپے (یا جی ڈی پی کا 5.1 فیصد) تخمینہ لگایا ہے۔</p>
<p>مالی خسارہ بڑھنے کی وجوہات میں موجودہ اخراجات میں اضافہ اور غیر محصولاتی آمدنی میں کمی (جو 3.9 کھرب روپے تک متوقع ہے) خاص طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں متوقع کمی شامل ہے۔</p>
<p>تحقیقی ادارے نے مالی سال 2025-26 کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) کو 1.1 کھرب روپے، پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) سے آمدنی کو 1.4 کھرب روپے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کو 1.5 کھرب روپے تخمینہ لگایا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات کی مالیت 869 ارب روپے متوقع ہے جن میں خوردہ فروشوں اور تھوک فروشوں پر انکم ٹیکس، پٹرولیم مصنوعات پر 3 فیصد جی ایس ٹی کا نفاذ اور وفاقی زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) اور صوبائی زیر انتظام قبائلی علاقے (پاٹا) میں ٹیکس چھوٹ اور محصولات کی منسوخی شامل ہیں۔</p>
<p>بجٹ آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) رولز کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے جس میں کوئی ٹیکس معافی نہیں دی گئی، سرکلر قرضے کا خاتمہ اور ایک قومی مالیاتی معاہدہ شامل ہے جو اخراجات صوبوں کو منتقل کرتا ہے،علاوہ ازیں دیگر اقدامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2025-26 میں معاشی ترقی کی شرح 3.6 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے جو مالی سال 2024-25 میں تخمینی 2.68 فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق اوسط سالانہ مہنگائی کی شرح 4.63 فیصد سے بڑھ کر 6.29 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ موجودہ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی ) مالی سال 2025-26 میں 1.5 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، جو مالی سال 2024-25 کے دوران متوقع 1.6 ارب ڈالر کے سرپلس کے مقابلے میں کم ہے۔</p>
<p>متوقع ہے کہ حکومت نئے نظام کے نفاذ، ٹیکس  شرح میں تبدیلی اور وصولی کے بہتر طریقوں کے ذریعے ٹیکس بنیاد کو وسیع کرے گی، اسی کے ساتھ حکومت معاشرے کے کمزور طبقوں کو ہدف بنا کر خصوصی ریلیف فراہم کرنے کی کوشش بھی کرے گی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ بجٹ نہ صرف اسٹاک مارکیٹ بلکہ مجموعی طور پر ملکی معیشت کے لیے مثبت اور حوصلہ افزا ثابت ہوگا، جو سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور اقتصادی استحکام کو فروغ دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40273017</guid>
      <pubDate>Sat, 24 May 2025 13:54:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/24134529fa71a6d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/24134529fa71a6d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
