<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کی جاری کردہ حالیہ ملکی رپورٹ کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272997/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حال ہی میں جاری کردہ ملکی رپورٹ نے پاکستان کے ساتھ  توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے پہلے جائزے کی تکمیل کی نشان دہی کی اور فوری طور پر ایک بلین ڈالر جاری کیے گئے، جس سے کل تقسیم کردہ رقم کی مالیت 2.1 بلین ڈالر ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر آئی ایم ایف ملک کی پروگرام کے تحت کارکردگی سے مطمئن نظر آتا ہے جیسا کہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی کوششوں نے معیشت کو مستحکم اور اعتماد بحال کرنے میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے میکرو اکنامک استحکام کے حوالے سے حاصل کی گئی پیش رفت کو درپیش خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مستقبل کی صورتحال میں بہتری کے امکانات موجود ہیں  تاہم خطرات بدستور بلند سطح پر ہیں، خاص طور پر عالمی اقتصادی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال، بڑھتی جغرافیائی و سیاسی  کشیدگی  اور داخلی سطح پر مسلسل موجود کمزوریاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;ان خدشات کے پیش نظر فنڈ نے مشورہ دیا ہے کہ اس پس منظر میں حکام کو چاہیے کہ وہ درست میکرو اکنامک پالیسیاں برقرار رکھیں اور اصلاحات کو تیز کریں تاکہ میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھا جا سکے اور نجی شعبے کی قیادت میں درمیانی مدت کی مضبوط، پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے ان نتائج کو دو زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اول یہ کہ مانیٹری اور مالیاتی کفایت شعاری پر مبنی ای ایف ایف پروگرام کو اپنا کر ملک نے معقول حد تک میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے۔ اب ضروری ہے کہ اس استحکام کو پائیدار بنایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مضبوط ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے  تاکہ پیداوار، مسابقت، اور لچک میں اضافہ کیا جا سکے، جن پر مصنف آئندہ پیراگراف میں بحث کرے گا، خاص طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے دوسرے پروگرام ’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی (آر ایس ایف)‘ کے تناظر میں، نیز محصولات میں اضافے اور توانائی سے متعلق لاگتوں میں کمی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں کفایت شعاری کی پالیسیوں کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے، خواہ وہ مانیٹری پالیسی میں سختی کی صورت میں ہو، کیونکہ بنیادی مہنگائی اب بھی تقریباً 9 فیصد ہے، یا مالیاتی کفایت شعاری کے تحت بنیادی بجٹ خسارے (پرائمری سرپلس) کو برقرار رکھنے کی صورت میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ایف ایف پروگرام کے مجموعی پالیسی فریم ورک اور اس کے حاصل کردہ نتائج کو دیکھنے کا دوسرا زاویہ یہ ہے کہ اسے ایک آزمودہ اور بار بار استعمال ہونے والے نیو لبرل پالیسی فریم ورک کے طور پر دیکھا جائے۔ جیسا کہ ملک میں، اور عمومی طور پر دنیا کے دیگر حصوں میں، آئی ایم ایف کے پروگراموں کے تحت بارہا مشاہدہ کیا گیا ہے، کہ میکرو اکنامک استحکام کی ایک سطح محض اس بنیاد پر حاصل کی جاتی ہے کہ مجموعی طلب کو ضرورت سے زیادہ دبا دیا جاتا ہے۔ تاہم، اس کے برعکس مجموعی رسد میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جاتے، جو کہ مہنگائی کے ایک اہم محرک یعنی لاگت پر مبنی مہنگائی  کو مکمل اور پائیدار انداز میں کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ نتیجتاً، یہ استحکام عارضی ثابت ہوتا ہے، اور وہ بھی بلند معاشی نمو کی بھاری قیمت پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کا ایک مظہر یہ ہے کہ اگرچہ اپریل 2025 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے مطابق عمومی مہنگائی تقریباً صفر، یعنی 0.3 فیصد، کے قریب ہے، لیکن بنیادی مہنگائی  اب بھی دوہرے ہندسے کے قریب ہے، کیونکہ مجموعی رسد میں موجود ساختی مسائل کو ابھی تک مؤثر طور پر حل نہیں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس کارکردگی کو دیکھنے کے پہلے زاویے سے، یعنی آئی ایم ایف یا حد سے زیادہ کفایت شعاری پر مبنی نیو لبرل پالیسی کے تناظر میں، پرکھا جائے، تو مسئلے کو صرف ساختی اصلاحات کے نفاذ تک محدود کر دیا جاتا ہے، جیسا کہ اس رپورٹ میں اور آئی ایم ایف کی ماضی کی متعدد رپورٹس میں تجویز کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ساختی اصلاحات کے نفاذ میں دشواری کی بنیادی وجہ کفایت شعاری کی پالیسی کا منفی کردار ہے، جو سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کی شدید کمی کا باعث بنتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشی طور پر کمزور عوام پیدا ہوتے ہیں، جو پالیسی سازوں پر ایسے اقدامات کے لیے کافی دباؤ نہیں ڈال پاتے، جیسے کہ ٹیکس بیس میں توسیع، بجلی کی چوری میں کمی، وغیرہ ، جو سیاسی اور معاشی اشرافیہ کی طویل المدتی خود غرض معاشی نظام کے خلاف جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں چونکہ یہ ساختی اصلاحات نیو لبرل نظریہ پر مبنی ہیں، اس لیے حکومت کا کردار بہت محدود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے منافع کا حصول بالاتر ہوتا ہے، جبکہ عوام کے حقوق اس حد تک محفوظ نہیں ہوتے کہ سیاسی و معاشی اشرافیہ کے فائدے کے لیے مارکیٹ کی کم سے کم ریگولیشن یا مضبوط، اصلاح شدہ اقتصادی اداروں اور وزارتوں کے ذریعے صحیح انتظام و انصرام یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے پہلے جائزے کی تکمیل کے علاوہ، ملکی رپورٹ میں پاکستان کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقتصادی لچک کو بڑھانے کے لیے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کی کامیاب مذاکرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اصولی طور پر یہ ایک اچھا پروگرام ہے جس پر مذاکرات کیے گئے ہیں، مگر 1.4 ارب ڈالر کی رقم، جو کہ ستمبر 2027 تک متعدد قسطوں میں فراہم کی جائے گی، بہت کم ہے۔ یہ رقم اگلے دو سال سے کچھ زیادہ عرصے میں فراہم کی جائے گی، جبکہ ایک ایسے ملک کے لیے یہ بہت کم ہے جو دنیا کے دس سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے اور جسے تیزی سے بڑھتے ہوئے موسمیاتی بحران کے پیش نظر فوری مالی مدد کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور مسئلہ آئی ایم ایف کے اس حیران کن موقف کا ہے جو گیسوں کے اخراج (جی ایچ جی) کی مقدار سے متعلق ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ “پاکستان دنیا کے سب سے بڑے گیسوں کے اخراج کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2021 میں، ملک نے دنیا کی کل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا تقریباً 1 فیصد حصہ ڈالا… جو کہ 488 ملین ٹن گیسوں کے اخراج کے برابر ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان دنیا کے 20 سب سے بڑے گیسوں کے اخراج کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران اور جو کہ پالیسی مباحثوں اور علمی حلقوں میں تسلیم شدہ حقیقت سے میل کھاتا ہے کہ پاکستان کا عالمی سطح پر کاربن فٹ پرنٹ بہت کم ہے، وہ موقف ورلڈ بینک کا ہے جو اسی ملکی رپورٹ میں ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی کے لیے اپنی تشخیصی خط میں بیان کیا گیا ہے۔  2022 کے سیلابوں نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف پاکستان کی شدید کمزوری کو ظاہر کیا، باوجود اس کے کہ پاکستان نے عالمی گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں ایک فیصد سے کم حصہ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی دلیل نہایت غلط ہے کیونکہ صرف دنیا کے ٹاپ 20 ممالک میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں (جی ایچ جی) کا کوئی بڑا اخراج کنندہ ہے۔ سب سے پہلے، یورپی کمیشن کے ایمیشنز ڈیٹابیس فار گلوبل ایٹموسفیرک ریسرچ کے مطابق  چین کا عالمی سطح پر کل اخراجات میں حصہ تقریباً 30 فیصد ہے جبکہ امریکہ کا حصہ تقریباً 11 فیصد ہے، اور وہ بھی کئی دہائیوں بلکہ ایک صدی سے زائد عرصے میں مسلسل بڑے پیمانے پر اخراجات کر رہا ہے۔ اسی طرح ای یو 27 یعنی 27 ملکوں پر مشتمل یورپی اتحاد کا حصہ تقریباً 6 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف کئی ممالک ایسے ہیں جن کا گرین گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد یا اس سے بھی کم ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ایک فیصد حصہ دنیا کے 190 سے زائد ممالک کے مقابلے میں بہت کم شمار ہوتا ہے۔ چنانچہ صرف ایک فیصد حصہ ہونے کے باوجود پاکستان کو دنیا کے بڑے اخراج کنندگان میں شامل کرنا نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ ایک غیر متوازن تجزیاتی بنیاد پر مبنی موقف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نسبتاً کم اہم  مگر پیشہ ورانہ لحاظ سے قابلِ غور بات یہ ہے کہ ملک ( پاکستان) کی رپورٹ کی تیاری میں پیشہ ورانہ معیار کی کچھ کمی دکھائی دیتی ہے، جس کی مثال ایک طباعت کی غلطی ہے جو رپورٹ کے آغاز میں موجود پریس ریلیز میں سامنے آئی۔ مذکورہ جملے میں ”جون 2025“ لکھا گیا ہے حالانکہ درست کر کے ساتھ اسے ”جون 2024“ ہونا چاہیے تھا۔  پریس ریلیز کے مطابق اپریل میں مہنگائی کم ہو کر تاریخی سطح یعنی 0.3 فیصد تک آ گئی اور مہنگائی میں کمی کے عمل کے ساتھ ساتھ ملکی اور بیرونی حالات میں استحکام نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لئے جون 2025 سے اب تک پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 1100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی  راہ ہموار کی ہے۔ اس کے علاوہ  مصنف نے رپورٹ میں دو صفحات کی غلط نمبرنگ بھی نوٹ کی ہے، صفحہ 42 کے بعد براہ راست صفحہ 45 آتا ہے اور صفحہ 118 کے بعد صفحہ 124۔ تاہم دونوں مقامات کے بعد صفحات کا تسلسل دوبارہ درست ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حال ہی میں جاری کردہ ملکی رپورٹ نے پاکستان کے ساتھ  توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے پہلے جائزے کی تکمیل کی نشان دہی کی اور فوری طور پر ایک بلین ڈالر جاری کیے گئے، جس سے کل تقسیم کردہ رقم کی مالیت 2.1 بلین ڈالر ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>مجموعی طور پر آئی ایم ایف ملک کی پروگرام کے تحت کارکردگی سے مطمئن نظر آتا ہے جیسا کہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی کوششوں نے معیشت کو مستحکم اور اعتماد بحال کرنے میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>آئی ایم ایف نے میکرو اکنامک استحکام کے حوالے سے حاصل کی گئی پیش رفت کو درپیش خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مستقبل کی صورتحال میں بہتری کے امکانات موجود ہیں  تاہم خطرات بدستور بلند سطح پر ہیں، خاص طور پر عالمی اقتصادی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال، بڑھتی جغرافیائی و سیاسی  کشیدگی  اور داخلی سطح پر مسلسل موجود کمزوریاں شامل ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>ان خدشات کے پیش نظر فنڈ نے مشورہ دیا ہے کہ اس پس منظر میں حکام کو چاہیے کہ وہ درست میکرو اکنامک پالیسیاں برقرار رکھیں اور اصلاحات کو تیز کریں تاکہ میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھا جا سکے اور نجی شعبے کی قیادت میں درمیانی مدت کی مضبوط، پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھی جا سکے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے ان نتائج کو دو زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اول یہ کہ مانیٹری اور مالیاتی کفایت شعاری پر مبنی ای ایف ایف پروگرام کو اپنا کر ملک نے معقول حد تک میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے۔ اب ضروری ہے کہ اس استحکام کو پائیدار بنایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مضبوط ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے  تاکہ پیداوار، مسابقت، اور لچک میں اضافہ کیا جا سکے، جن پر مصنف آئندہ پیراگراف میں بحث کرے گا، خاص طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے دوسرے پروگرام ’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی (آر ایس ایف)‘ کے تناظر میں، نیز محصولات میں اضافے اور توانائی سے متعلق لاگتوں میں کمی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں کفایت شعاری کی پالیسیوں کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے، خواہ وہ مانیٹری پالیسی میں سختی کی صورت میں ہو، کیونکہ بنیادی مہنگائی اب بھی تقریباً 9 فیصد ہے، یا مالیاتی کفایت شعاری کے تحت بنیادی بجٹ خسارے (پرائمری سرپلس) کو برقرار رکھنے کی صورت میں۔</p>
<p>ای ایف ایف پروگرام کے مجموعی پالیسی فریم ورک اور اس کے حاصل کردہ نتائج کو دیکھنے کا دوسرا زاویہ یہ ہے کہ اسے ایک آزمودہ اور بار بار استعمال ہونے والے نیو لبرل پالیسی فریم ورک کے طور پر دیکھا جائے۔ جیسا کہ ملک میں، اور عمومی طور پر دنیا کے دیگر حصوں میں، آئی ایم ایف کے پروگراموں کے تحت بارہا مشاہدہ کیا گیا ہے، کہ میکرو اکنامک استحکام کی ایک سطح محض اس بنیاد پر حاصل کی جاتی ہے کہ مجموعی طلب کو ضرورت سے زیادہ دبا دیا جاتا ہے۔ تاہم، اس کے برعکس مجموعی رسد میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جاتے، جو کہ مہنگائی کے ایک اہم محرک یعنی لاگت پر مبنی مہنگائی  کو مکمل اور پائیدار انداز میں کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ نتیجتاً، یہ استحکام عارضی ثابت ہوتا ہے، اور وہ بھی بلند معاشی نمو کی بھاری قیمت پر۔</p>
<p>اس بات کا ایک مظہر یہ ہے کہ اگرچہ اپریل 2025 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کے مطابق عمومی مہنگائی تقریباً صفر، یعنی 0.3 فیصد، کے قریب ہے، لیکن بنیادی مہنگائی  اب بھی دوہرے ہندسے کے قریب ہے، کیونکہ مجموعی رسد میں موجود ساختی مسائل کو ابھی تک مؤثر طور پر حل نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p>اگر اس کارکردگی کو دیکھنے کے پہلے زاویے سے، یعنی آئی ایم ایف یا حد سے زیادہ کفایت شعاری پر مبنی نیو لبرل پالیسی کے تناظر میں، پرکھا جائے، تو مسئلے کو صرف ساختی اصلاحات کے نفاذ تک محدود کر دیا جاتا ہے، جیسا کہ اس رپورٹ میں اور آئی ایم ایف کی ماضی کی متعدد رپورٹس میں تجویز کیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم ساختی اصلاحات کے نفاذ میں دشواری کی بنیادی وجہ کفایت شعاری کی پالیسی کا منفی کردار ہے، جو سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کی شدید کمی کا باعث بنتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشی طور پر کمزور عوام پیدا ہوتے ہیں، جو پالیسی سازوں پر ایسے اقدامات کے لیے کافی دباؤ نہیں ڈال پاتے، جیسے کہ ٹیکس بیس میں توسیع، بجلی کی چوری میں کمی، وغیرہ ، جو سیاسی اور معاشی اشرافیہ کی طویل المدتی خود غرض معاشی نظام کے خلاف جاتے ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں چونکہ یہ ساختی اصلاحات نیو لبرل نظریہ پر مبنی ہیں، اس لیے حکومت کا کردار بہت محدود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے منافع کا حصول بالاتر ہوتا ہے، جبکہ عوام کے حقوق اس حد تک محفوظ نہیں ہوتے کہ سیاسی و معاشی اشرافیہ کے فائدے کے لیے مارکیٹ کی کم سے کم ریگولیشن یا مضبوط، اصلاح شدہ اقتصادی اداروں اور وزارتوں کے ذریعے صحیح انتظام و انصرام یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے پہلے جائزے کی تکمیل کے علاوہ، ملکی رپورٹ میں پاکستان کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقتصادی لچک کو بڑھانے کے لیے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کی کامیاب مذاکرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔</p>
<p>اگرچہ اصولی طور پر یہ ایک اچھا پروگرام ہے جس پر مذاکرات کیے گئے ہیں، مگر 1.4 ارب ڈالر کی رقم، جو کہ ستمبر 2027 تک متعدد قسطوں میں فراہم کی جائے گی، بہت کم ہے۔ یہ رقم اگلے دو سال سے کچھ زیادہ عرصے میں فراہم کی جائے گی، جبکہ ایک ایسے ملک کے لیے یہ بہت کم ہے جو دنیا کے دس سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے اور جسے تیزی سے بڑھتے ہوئے موسمیاتی بحران کے پیش نظر فوری مالی مدد کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ایک اور مسئلہ آئی ایم ایف کے اس حیران کن موقف کا ہے جو گیسوں کے اخراج (جی ایچ جی) کی مقدار سے متعلق ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ “پاکستان دنیا کے سب سے بڑے گیسوں کے اخراج کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ 2021 میں، ملک نے دنیا کی کل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا تقریباً 1 فیصد حصہ ڈالا… جو کہ 488 ملین ٹن گیسوں کے اخراج کے برابر ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان دنیا کے 20 سب سے بڑے گیسوں کے اخراج کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔</p>
<p>اسی دوران اور جو کہ پالیسی مباحثوں اور علمی حلقوں میں تسلیم شدہ حقیقت سے میل کھاتا ہے کہ پاکستان کا عالمی سطح پر کاربن فٹ پرنٹ بہت کم ہے، وہ موقف ورلڈ بینک کا ہے جو اسی ملکی رپورٹ میں ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی کے لیے اپنی تشخیصی خط میں بیان کیا گیا ہے۔  2022 کے سیلابوں نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف پاکستان کی شدید کمزوری کو ظاہر کیا، باوجود اس کے کہ پاکستان نے عالمی گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں ایک فیصد سے کم حصہ ڈالا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی دلیل نہایت غلط ہے کیونکہ صرف دنیا کے ٹاپ 20 ممالک میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں (جی ایچ جی) کا کوئی بڑا اخراج کنندہ ہے۔ سب سے پہلے، یورپی کمیشن کے ایمیشنز ڈیٹابیس فار گلوبل ایٹموسفیرک ریسرچ کے مطابق  چین کا عالمی سطح پر کل اخراجات میں حصہ تقریباً 30 فیصد ہے جبکہ امریکہ کا حصہ تقریباً 11 فیصد ہے، اور وہ بھی کئی دہائیوں بلکہ ایک صدی سے زائد عرصے میں مسلسل بڑے پیمانے پر اخراجات کر رہا ہے۔ اسی طرح ای یو 27 یعنی 27 ملکوں پر مشتمل یورپی اتحاد کا حصہ تقریباً 6 فیصد ہے۔</p>
<p>دوسری طرف کئی ممالک ایسے ہیں جن کا گرین گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد یا اس سے بھی کم ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ایک فیصد حصہ دنیا کے 190 سے زائد ممالک کے مقابلے میں بہت کم شمار ہوتا ہے۔ چنانچہ صرف ایک فیصد حصہ ہونے کے باوجود پاکستان کو دنیا کے بڑے اخراج کنندگان میں شامل کرنا نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ ایک غیر متوازن تجزیاتی بنیاد پر مبنی موقف ہے۔</p>
<p>ایک نسبتاً کم اہم  مگر پیشہ ورانہ لحاظ سے قابلِ غور بات یہ ہے کہ ملک ( پاکستان) کی رپورٹ کی تیاری میں پیشہ ورانہ معیار کی کچھ کمی دکھائی دیتی ہے، جس کی مثال ایک طباعت کی غلطی ہے جو رپورٹ کے آغاز میں موجود پریس ریلیز میں سامنے آئی۔ مذکورہ جملے میں ”جون 2025“ لکھا گیا ہے حالانکہ درست کر کے ساتھ اسے ”جون 2024“ ہونا چاہیے تھا۔  پریس ریلیز کے مطابق اپریل میں مہنگائی کم ہو کر تاریخی سطح یعنی 0.3 فیصد تک آ گئی اور مہنگائی میں کمی کے عمل کے ساتھ ساتھ ملکی اور بیرونی حالات میں استحکام نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لئے جون 2025 سے اب تک پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 1100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی  راہ ہموار کی ہے۔ اس کے علاوہ  مصنف نے رپورٹ میں دو صفحات کی غلط نمبرنگ بھی نوٹ کی ہے، صفحہ 42 کے بعد براہ راست صفحہ 45 آتا ہے اور صفحہ 118 کے بعد صفحہ 124۔ تاہم دونوں مقامات کے بعد صفحات کا تسلسل دوبارہ درست ہو جاتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272997</guid>
      <pubDate>Fri, 23 May 2025 16:16:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمر جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/2316150013bc7ed.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/2316150013bc7ed.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
