<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 04:07:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Jul 2026 04:07:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ تا حال امداد کا منتظر، اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272930/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ میں فلسطینی بدھ کے روز بھی خوراک کے منتظر رہے، باوجود اس کے کہ بین الاقوامی اور اندرونی سطح پر اسرائیلی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ 11 ہفتوں سے جاری محاصرے کے بعد قحط کے دہانے پر پہنچی آبادی تک مزید امداد پہنچنے دے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق  پیر سے اب تک 100 سے بھی کم امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے ہیں، حالانکہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے پیر کے روز محاصرہ نرم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر فضائی حملے اور ٹینکوں کی گولہ باری بدستور جاری رہی، جس کے نتیجے میں بدھ کے روز بھی درجنوں افراد شہید ہو گئے۔
مقامی نانبائیوں اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال آٹا اور دیگر ضروری اشیاء کی کوئی نئی کھیپ موصول نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبد الناصر الاجرمی، جو نانبائیوں کی انجمن کے سربراہ ہیں، نے بتایا کہ کم از کم 25 بیکریوں کو عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی جانب سے آٹا ملنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن تاحال کچھ موصول نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خوراک کے منتظر عوام کی بھوک میں کوئی کمی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیت لاحیہ (شمالی غزہ) سے تعلق رکھنے والی 67 سالہ صبح ورش آغا، جو غزہ شہر کے ساحل کے قریب خیموں کے ایک جھرمٹ میں پناہ لیے ہوئے ہیں، نے بتایا کہ  آٹا ہے نہ ہی کھانا اور پانی۔ ہم پہلے پانی پمپ سے لیتے تھے، اب پمپ بھی بند ہو گیا ہے۔ ڈیزل ہے اور نہ ہی گیس۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ سے دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملے دوبارہ شروع ہونے کے بعد ان کارروائیوں کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے، حتیٰ کہ وہ ممالک بھی آواز اٹھانے لگے ہیں جو طویل عرصے سے اسرائیل پر کھل کر تنقید سے گریزاں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے اہم ترین اتحادی امریکا نے بھی اب نیتن یاہو حکومت سے مایوسی کا اظہارکیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں جبکہ یورپی یونین نے غزہ کی تباہ کن صورتِ حال کے باعث اسرائیل کے ساتھ اپنے سیاسی و اقتصادی تعلقات کے معاہدے پر نظرِ ثانی کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ، فرانس، اور کینیڈا نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملے جاری رکھے تو وہ ٹھوس اقدامات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اچھوت ریاست&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے اندر بائیں بازو کے اپوزیشن رہنما یائیر گولان نے اس ہفتے ایک سخت بیان دیا جس پر حکومت اور اس کے حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عقل مند ملک بچوں کو مارنا اپنا مشغلہ نہیں بناتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولان نے خبردار کیا کہ اس بات کا خطرہ ہے اسرائیل اپنے رویے کے باعث اقوامِ عالم میں ایک “اچھوت ریاست “ بن جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو اور یائیر گولان کے حالیہ بیانات نے اس بے چینی کو نمایاں کر دیا ہے جو اسرائیل میں اس وقت محسوس کی جا رہی ہے جبکہ 58 یرغمالی اب بھی غزہ میں موجود ہیں اور جنگ بدستور جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس تنقید کو مسترد کر دیا۔ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ میں نے اولمرٹ اور یائیر گولان کو سنا، یہ چونکا دینے والا ہے۔ جب آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) حماس سے لڑ رہی ہے، کچھ لوگ اسرائیل کے خلاف جھوٹی پروپیگنڈا مہم کو تقویت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر عوامی رائے شماری سے ظاہر ہوا ہے کہ اکثریت جنگ بندی کے حق میں ہے، بشرطیکہ تمام یرغمالیوں کی رہائی بھی اس کا حصہ ہو۔ مقبوضہ بیت المقدس کی عبرانی یونیورسٹی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق  70 فیصد اسرائیلی ایک معاہدے کے حق میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن حکومت میں شامل سخت گیر وزراء، جو بعض اوقات غزہ سے تمام فلسطینیوں کے انخلا کی وکالت کرتے ہیں، جنگ کو اس وقت تک جاری رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں جب تک ”حتمی فتح“ حاصل نہ ہو، جس میں حماس کو غیر مسلح کرنا اور تمام یرغمالیوں کی واپسی شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو، جو رائے شماری میں پیچھے ہیں اور ملک میں کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں (جن کی وہ تردید کرتے ہیں)، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ کے باوجود، ابھی تک سخت گیر موقف رکھنے والوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق  بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں اور ٹینکوں کی گولہ باری کے نتیجے میں غزہ بھر میں کم از کم 34 افراد شہید ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ 115 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں راکٹ لانچرز، سرنگیں اور دیگر ”فوجی تنصیبات“ شامل ہیں، تاہم ان کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی جنوب مشرقی سرحد پر واقع کیرم شالوم کراسنگ سے کچھ امدادی ٹرک جب روانہ ہوئے تو اسرائیلی مظاہرین کے ایک چھوٹے گروہ نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک یرغمالی آزاد نہیں ہوتے تب تک غزہ کو امداد نہیں دی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے مارچ کے آغاز میں غزہ کی مکمل ناکہ بندی نافذ کی تھی، جس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ حماس شہریوں کے لیے بھیجی گئی امداد ضبط کر رہی ہے، تاہم حماس نے اس الزام کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی حمایت سے ایک نیا امدادی نظام جلد نافذ ہونے والا ہے، جس میں نجی ٹھیکیدار (پرائیویٹ کنٹریکٹرز) کے ذریعے امداد تقسیم کی جائے گی۔ تاہم، امدادی تنظیموں نے اس منصوبے پر تنقید کی ہے اور اس کے کئی اہم نکات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق  7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 53,600 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غزہ کا ساحلی علاقہ مکمل طور پر تباہی کا شکار ہے، جہاں شدید غذائی قلت کے آثار عام ہیں  اور امدادی ادارے صورتحال کو قحط کے قریب قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ میں فلسطینی بدھ کے روز بھی خوراک کے منتظر رہے، باوجود اس کے کہ بین الاقوامی اور اندرونی سطح پر اسرائیلی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ 11 ہفتوں سے جاری محاصرے کے بعد قحط کے دہانے پر پہنچی آبادی تک مزید امداد پہنچنے دے۔</strong></p>
<p>اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق  پیر سے اب تک 100 سے بھی کم امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو سکے ہیں، حالانکہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے پیر کے روز محاصرہ نرم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔</p>
<p>ادھر فضائی حملے اور ٹینکوں کی گولہ باری بدستور جاری رہی، جس کے نتیجے میں بدھ کے روز بھی درجنوں افراد شہید ہو گئے۔
مقامی نانبائیوں اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال آٹا اور دیگر ضروری اشیاء کی کوئی نئی کھیپ موصول نہیں ہوئی۔</p>
<p>عبد الناصر الاجرمی، جو نانبائیوں کی انجمن کے سربراہ ہیں، نے بتایا کہ کم از کم 25 بیکریوں کو عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی جانب سے آٹا ملنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن تاحال کچھ موصول نہیں ہوا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خوراک کے منتظر عوام کی بھوک میں کوئی کمی نہیں آئی۔</p>
<p>بیت لاحیہ (شمالی غزہ) سے تعلق رکھنے والی 67 سالہ صبح ورش آغا، جو غزہ شہر کے ساحل کے قریب خیموں کے ایک جھرمٹ میں پناہ لیے ہوئے ہیں، نے بتایا کہ  آٹا ہے نہ ہی کھانا اور پانی۔ ہم پہلے پانی پمپ سے لیتے تھے، اب پمپ بھی بند ہو گیا ہے۔ ڈیزل ہے اور نہ ہی گیس۔</p>
<p>مارچ سے دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملے دوبارہ شروع ہونے کے بعد ان کارروائیوں کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے، حتیٰ کہ وہ ممالک بھی آواز اٹھانے لگے ہیں جو طویل عرصے سے اسرائیل پر کھل کر تنقید سے گریزاں تھے۔</p>
<p>اسرائیل کے اہم ترین اتحادی امریکا نے بھی اب نیتن یاہو حکومت سے مایوسی کا اظہارکیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں جبکہ یورپی یونین نے غزہ کی تباہ کن صورتِ حال کے باعث اسرائیل کے ساتھ اپنے سیاسی و اقتصادی تعلقات کے معاہدے پر نظرِ ثانی کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ، فرانس، اور کینیڈا نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملے جاری رکھے تو وہ ٹھوس اقدامات کریں گے۔</p>
<p><strong>اچھوت ریاست</strong></p>
<p>اسرائیل کے اندر بائیں بازو کے اپوزیشن رہنما یائیر گولان نے اس ہفتے ایک سخت بیان دیا جس پر حکومت اور اس کے حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عقل مند ملک بچوں کو مارنا اپنا مشغلہ نہیں بناتا۔</p>
<p>گولان نے خبردار کیا کہ اس بات کا خطرہ ہے اسرائیل اپنے رویے کے باعث اقوامِ عالم میں ایک “اچھوت ریاست “ بن جائے۔</p>
<p>سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو اور یائیر گولان کے حالیہ بیانات نے اس بے چینی کو نمایاں کر دیا ہے جو اسرائیل میں اس وقت محسوس کی جا رہی ہے جبکہ 58 یرغمالی اب بھی غزہ میں موجود ہیں اور جنگ بدستور جاری ہے۔</p>
<p>تاہم وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس تنقید کو مسترد کر دیا۔ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ میں نے اولمرٹ اور یائیر گولان کو سنا، یہ چونکا دینے والا ہے۔ جب آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) حماس سے لڑ رہی ہے، کچھ لوگ اسرائیل کے خلاف جھوٹی پروپیگنڈا مہم کو تقویت دے رہے ہیں۔</p>
<p>ادھر عوامی رائے شماری سے ظاہر ہوا ہے کہ اکثریت جنگ بندی کے حق میں ہے، بشرطیکہ تمام یرغمالیوں کی رہائی بھی اس کا حصہ ہو۔ مقبوضہ بیت المقدس کی عبرانی یونیورسٹی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق  70 فیصد اسرائیلی ایک معاہدے کے حق میں ہیں۔</p>
<p>لیکن حکومت میں شامل سخت گیر وزراء، جو بعض اوقات غزہ سے تمام فلسطینیوں کے انخلا کی وکالت کرتے ہیں، جنگ کو اس وقت تک جاری رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں جب تک ”حتمی فتح“ حاصل نہ ہو، جس میں حماس کو غیر مسلح کرنا اور تمام یرغمالیوں کی واپسی شامل ہو۔</p>
<p>نیتن یاہو، جو رائے شماری میں پیچھے ہیں اور ملک میں کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں (جن کی وہ تردید کرتے ہیں)، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ کے باوجود، ابھی تک سخت گیر موقف رکھنے والوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔</p>
<p>فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق  بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں اور ٹینکوں کی گولہ باری کے نتیجے میں غزہ بھر میں کم از کم 34 افراد شہید ہو گئے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ 115 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں راکٹ لانچرز، سرنگیں اور دیگر ”فوجی تنصیبات“ شامل ہیں، تاہم ان کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔</p>
<p>غزہ کی جنوب مشرقی سرحد پر واقع کیرم شالوم کراسنگ سے کچھ امدادی ٹرک جب روانہ ہوئے تو اسرائیلی مظاہرین کے ایک چھوٹے گروہ نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک یرغمالی آزاد نہیں ہوتے تب تک غزہ کو امداد نہیں دی جانی چاہیے۔</p>
<p>اسرائیل نے مارچ کے آغاز میں غزہ کی مکمل ناکہ بندی نافذ کی تھی، جس کا جواز یہ پیش کیا گیا کہ حماس شہریوں کے لیے بھیجی گئی امداد ضبط کر رہی ہے، تاہم حماس نے اس الزام کی تردید کی ہے۔</p>
<p>امریکہ کی حمایت سے ایک نیا امدادی نظام جلد نافذ ہونے والا ہے، جس میں نجی ٹھیکیدار (پرائیویٹ کنٹریکٹرز) کے ذریعے امداد تقسیم کی جائے گی۔ تاہم، امدادی تنظیموں نے اس منصوبے پر تنقید کی ہے اور اس کے کئی اہم نکات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔</p>
<p>فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق  7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 53,600 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غزہ کا ساحلی علاقہ مکمل طور پر تباہی کا شکار ہے، جہاں شدید غذائی قلت کے آثار عام ہیں  اور امدادی ادارے صورتحال کو قحط کے قریب قرار دے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272930</guid>
      <pubDate>Wed, 21 May 2025 23:17:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/21225500b69da11.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/21225500b69da11.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
