<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:56:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:56:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توانائی میں اصلاحات، روایتی طریقے، نئے وعدے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272919/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت پہلے جائزے اور پاکستان کے ”کلائمیٹ ریزیلیئنٹ سسٹینیبلٹی فیسیلیٹی“ (آر ایس ایف) کی منظوری نے ملک کے توانائی کے شعبے کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ پیٹرولیم، بجلی اور گیس جیسے شعبوں میں اصلاحات کا نقشہ نہایت وسیع ہے — لیکن طریقۂ کار پرانا اورآزمایا ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ اصلاحات کا آغاز ساختی اہداف کے ساتھ کیا گیا ہے جبکہ کچھ کو پروگرام کے آخر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ فوری مدت میں توجہ ریونیو (آمدنی) بڑھانے، گردشی قرضے کو قابو میں رکھنے، اور ٹیرف (بلوں) میں مناسب توازن قائم کرنے پر ہے — اور ان سب کا بوجھ براہ راست صارفین پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گردشی قرضے کے انتظام کا منصوبہ دیکھیں۔ یہ منصوبہ گردشی قرضے کا تقریباً 80 فیصد — جو فی الحال سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے واجبات ہیں — کو سکوک کے ذریعے نئے سی پی پی اے قرض میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیے سکوک (اسلامی بانڈ) جاری کیے جائیں گے۔ یہ مالی حکمتِ عملی سکوک کی کم شرحِ منافع کی وجہ سے سود کی لاگت کو نمایاں طور پر کم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ گردشی قرضے کے بہاؤ کا تقریباً  نصف صرف سود کی مد میں ہے — اور یہ تبدیلی مالیاتی گنجائش کو بہتر بنائے گی، سبسڈی کی ضرورت کو کم کرے گی (جن کا ایک تہائی قرض اتارنے پر خرچ ہوتا ہے) اور نظام کو مستحکم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اصل کہانی یہ ہے کہ صارفین کو چھ سال کے دوران 3.23 روپے فی یونٹ کے فکسڈ ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) کے ذریعے بل ادا کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے جس سے تقریباً 2 ٹریلین روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کی کامیابی کے لیے حکومت کو جون 2025 تک موجودہ ڈی ایس ایس کی حد بھی ختم کرنا ہوگی — جو آر ایس ایف کے تحت ایک بنیادی ہدف ہے، اسے اصلاح کہا جا سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ناکامیوں اور نااہلی کی قیمت عام صارفین کو منتقل کرنا ہے، جبکہ چوری، لائن لاسز، اور گورننس جیسے اصل مسائل پرعملی اقدامات کے بجائے صرف زبانی دعوے کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم کے شعبے میں اصلاح کا ہدف زیادہ واضح ہے: پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 5 روپے کاربن لیوی لگائی جائے گی، جسے مالی سال 2026 کے فنانس ایکٹ کے تحت قانون بنایا جائے گا۔ یہ لیوی ستمبر کے آر ایس ایف کی قسط جاری کرنے کیلئے ضروری ہے اور یہ آہستہ آہستہ نافذ کی جائے گی۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے دائرہ کار تیل تک بڑھے گا اور آئندہ فنانس ایکٹ میں اس میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں موسمیاتی مالی ضروریات کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف نے کاربن لیوی پر زیادہ سختی نہیں کی ہے۔ مالی سال 2026 کے لیے پیٹرولیم لیوی کی متوقع آمدنی 1.3 کھرب روپے ہوگی جس کے لیے موجودہ شرحوں میں زیادہ اضافہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافی پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کا 10 روپے فی لیٹر حصہ بجلی کی سبسڈی کے لیے استعمال ہوگا جس سے نان لائف لائن صارفین کو 1.7 روپے فی یونٹ سبسڈی ملے گی جو 2026 تک جاری رہے گی۔ ایک اور 0.90 روپے فی یونٹ ریلیف کیپٹو پاور پلانٹ  ٹرانزیشن لیوی سے ملے گا۔ یہ بجلی کے ٹیرف ریلیف کے بارے میں بہت ضروری وضاحت فراہم کرتا ہے، خاص طور پر حالیہ سوالات کا جواب دیتا ہے کہ آیا 1.7 روپے فی یونٹ کی کمی — جو موجودہ سہ ماہی میں نافذ ہے — ایک عارضی اقدام ہے یا مستقل اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی اصلاحات کی کہانی — سبسڈی کے نظام کی تجدید — مؤخر کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے درست طور پر یہ نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظام بہت زیادہ خراب ہے، جو اکثر امیر صارفین کو فائدہ پہنچاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ کھپت کو فروغ دیتا ہے۔ طویل المدتی منصوبہ یہ ہے کہ کراس سبسڈیز کو ختم کر کے انہیں نقد سبسڈیوں سے تبدیل کیا جائے جو بی آئی ایس پی (BISP) کے ذریعے فراہم کی جائیں، اور یہ تبدیلی مالی سال 2027 سے شروع ہوگی۔ ابتدائی صارفین کی تصدیق جنوری 2026 تک کی جائے گی، اس کے بعد جولائی 2026 تک اہلیت کے معیار طے کیے جائیں گے، اور جنوری 2027 تک سبسڈیز کی واپسی شروع ہو جائے گی۔ یہ نظریہ طور پر بہت اچھا ہے — اور اگر اسے اچھے طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ انقلابی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ موجودہ مالیاتی سال کے لیے نہ تو ترجیح دی گئی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی خاص معیار مرتب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی اصلاحات کی کہانی — سبسڈی کے نظام کی تجدید — مؤخر کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے درست طور پر یہ نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظام بہت زیادہ خراب ہے جو اکثر امیر صارفین کو فائدہ پہنچاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ کھپت کو فروغ دیتا ہے۔ طویل المدتی منصوبہ یہ ہے کہ کراس سبسڈیز کو ختم کر کے انہیں نقد سبسڈیوں سے تبدیل کیا جائے جو بی آئی ایس پی (بی آئی ایس پی) کے ذریعے فراہم کی جائیں اور یہ تبدیلی مالی سال 2027 سے شروع ہوگی۔ ابتدائی صارفین کی تصدیق جنوری 2026 تک کی جائے گی، اس کے بعد جولائی 2026 تک اہلیت کے معیار طے کیے جائیں گے اور جنوری 2027 تک سبسڈیز کی واپسی شروع ہو جائے گی۔ یہ نظریہ طور پر بہت اچھا ہے — اور اگر اسے اچھے طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ انقلابی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ موجودہ مالیاتی سال کے لیے نہ تو ترجیح دی گئی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی خاص معیار مرتب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارکردگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے — خاص طور پر آلات کے لیے توانائی کے کم سے کم معیار کی صورت میں۔ جون 2027 تک پنکھوں، ایل ای ڈیز، فرج، ایئر کنڈیشنرز اور موٹرز کے لیے کچھ اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ اہداف پروگرام کے آخری حصے سے جڑے ہیں اور ان پر فوری طور پر ریونیو بڑھانے والی اصلاحات کا اثر زیادہ ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اہم مسائل جیسے  ڈسکوز اور جنکوز کی نجکاری، ٹرانسمیشن کے مسائل کا حل اور چوری اور نقصانات کا سدباب بھی اہم قرار دیا جارہا ہے— مگر ان کا تعلق کارکردگی کے معیار یا ادائیگی کی شرائط سے نہیں ہے۔ یہ اصلاحات کے منصوبے میں کم ترجیحی مسائل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، سادہ اقدامات — جیسے لیویز بڑھانا اور سرچارج متعارف کرانا — کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ان کو اصلاحات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اداروں، تکنیکی امور اور حکومتی مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں تاہم اس پر پیشرفت سست روی سے ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین سے ایک بار پھر بوجھ اٹھانے کا کہا جا رہا ہے، حالانکہ بنیادی ڈھانچہ جاتی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ آیا اصلاحات کا یہ دور پچھلی کوششوں کے مقابلے میں زیادہ دیرپا نتائج دے گا یا نہیں، اس کا انحصار ہمیشہ کی طرح مستقل سیاسی عزم پر ہو گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایم ایف کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت پہلے جائزے اور پاکستان کے ”کلائمیٹ ریزیلیئنٹ سسٹینیبلٹی فیسیلیٹی“ (آر ایس ایف) کی منظوری نے ملک کے توانائی کے شعبے کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ پیٹرولیم، بجلی اور گیس جیسے شعبوں میں اصلاحات کا نقشہ نہایت وسیع ہے — لیکن طریقۂ کار پرانا اورآزمایا ہوا ہے۔</strong></p>
<p>کچھ اصلاحات کا آغاز ساختی اہداف کے ساتھ کیا گیا ہے جبکہ کچھ کو پروگرام کے آخر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ فوری مدت میں توجہ ریونیو (آمدنی) بڑھانے، گردشی قرضے کو قابو میں رکھنے، اور ٹیرف (بلوں) میں مناسب توازن قائم کرنے پر ہے — اور ان سب کا بوجھ براہ راست صارفین پر پڑتا ہے۔</p>
<p>گردشی قرضے کے انتظام کا منصوبہ دیکھیں۔ یہ منصوبہ گردشی قرضے کا تقریباً 80 فیصد — جو فی الحال سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے واجبات ہیں — کو سکوک کے ذریعے نئے سی پی پی اے قرض میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیے سکوک (اسلامی بانڈ) جاری کیے جائیں گے۔ یہ مالی حکمتِ عملی سکوک کی کم شرحِ منافع کی وجہ سے سود کی لاگت کو نمایاں طور پر کم کرے گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ گردشی قرضے کے بہاؤ کا تقریباً  نصف صرف سود کی مد میں ہے — اور یہ تبدیلی مالیاتی گنجائش کو بہتر بنائے گی، سبسڈی کی ضرورت کو کم کرے گی (جن کا ایک تہائی قرض اتارنے پر خرچ ہوتا ہے) اور نظام کو مستحکم کرے گی۔</p>
<p>لیکن اصل کہانی یہ ہے کہ صارفین کو چھ سال کے دوران 3.23 روپے فی یونٹ کے فکسڈ ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) کے ذریعے بل ادا کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے جس سے تقریباً 2 ٹریلین روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>اس منصوبے کی کامیابی کے لیے حکومت کو جون 2025 تک موجودہ ڈی ایس ایس کی حد بھی ختم کرنا ہوگی — جو آر ایس ایف کے تحت ایک بنیادی ہدف ہے، اسے اصلاح کہا جا سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ناکامیوں اور نااہلی کی قیمت عام صارفین کو منتقل کرنا ہے، جبکہ چوری، لائن لاسز، اور گورننس جیسے اصل مسائل پرعملی اقدامات کے بجائے صرف زبانی دعوے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>پیٹرولیم کے شعبے میں اصلاح کا ہدف زیادہ واضح ہے: پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 5 روپے کاربن لیوی لگائی جائے گی، جسے مالی سال 2026 کے فنانس ایکٹ کے تحت قانون بنایا جائے گا۔ یہ لیوی ستمبر کے آر ایس ایف کی قسط جاری کرنے کیلئے ضروری ہے اور یہ آہستہ آہستہ نافذ کی جائے گی۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے دائرہ کار تیل تک بڑھے گا اور آئندہ فنانس ایکٹ میں اس میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں موسمیاتی مالی ضروریات کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف نے کاربن لیوی پر زیادہ سختی نہیں کی ہے۔ مالی سال 2026 کے لیے پیٹرولیم لیوی کی متوقع آمدنی 1.3 کھرب روپے ہوگی جس کے لیے موجودہ شرحوں میں زیادہ اضافہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔</p>
<p>اضافی پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کا 10 روپے فی لیٹر حصہ بجلی کی سبسڈی کے لیے استعمال ہوگا جس سے نان لائف لائن صارفین کو 1.7 روپے فی یونٹ سبسڈی ملے گی جو 2026 تک جاری رہے گی۔ ایک اور 0.90 روپے فی یونٹ ریلیف کیپٹو پاور پلانٹ  ٹرانزیشن لیوی سے ملے گا۔ یہ بجلی کے ٹیرف ریلیف کے بارے میں بہت ضروری وضاحت فراہم کرتا ہے، خاص طور پر حالیہ سوالات کا جواب دیتا ہے کہ آیا 1.7 روپے فی یونٹ کی کمی — جو موجودہ سہ ماہی میں نافذ ہے — ایک عارضی اقدام ہے یا مستقل اقدام ہے۔</p>
<p>بڑی اصلاحات کی کہانی — سبسڈی کے نظام کی تجدید — مؤخر کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے درست طور پر یہ نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظام بہت زیادہ خراب ہے، جو اکثر امیر صارفین کو فائدہ پہنچاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ کھپت کو فروغ دیتا ہے۔ طویل المدتی منصوبہ یہ ہے کہ کراس سبسڈیز کو ختم کر کے انہیں نقد سبسڈیوں سے تبدیل کیا جائے جو بی آئی ایس پی (BISP) کے ذریعے فراہم کی جائیں، اور یہ تبدیلی مالی سال 2027 سے شروع ہوگی۔ ابتدائی صارفین کی تصدیق جنوری 2026 تک کی جائے گی، اس کے بعد جولائی 2026 تک اہلیت کے معیار طے کیے جائیں گے، اور جنوری 2027 تک سبسڈیز کی واپسی شروع ہو جائے گی۔ یہ نظریہ طور پر بہت اچھا ہے — اور اگر اسے اچھے طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ انقلابی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ موجودہ مالیاتی سال کے لیے نہ تو ترجیح دی گئی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی خاص معیار مرتب کیا گیا ہے۔</p>
<p>بڑی اصلاحات کی کہانی — سبسڈی کے نظام کی تجدید — مؤخر کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے درست طور پر یہ نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظام بہت زیادہ خراب ہے جو اکثر امیر صارفین کو فائدہ پہنچاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ کھپت کو فروغ دیتا ہے۔ طویل المدتی منصوبہ یہ ہے کہ کراس سبسڈیز کو ختم کر کے انہیں نقد سبسڈیوں سے تبدیل کیا جائے جو بی آئی ایس پی (بی آئی ایس پی) کے ذریعے فراہم کی جائیں اور یہ تبدیلی مالی سال 2027 سے شروع ہوگی۔ ابتدائی صارفین کی تصدیق جنوری 2026 تک کی جائے گی، اس کے بعد جولائی 2026 تک اہلیت کے معیار طے کیے جائیں گے اور جنوری 2027 تک سبسڈیز کی واپسی شروع ہو جائے گی۔ یہ نظریہ طور پر بہت اچھا ہے — اور اگر اسے اچھے طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ انقلابی ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ موجودہ مالیاتی سال کے لیے نہ تو ترجیح دی گئی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی خاص معیار مرتب کیا گیا ہے۔</p>
<p>کارکردگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے — خاص طور پر آلات کے لیے توانائی کے کم سے کم معیار کی صورت میں۔ جون 2027 تک پنکھوں، ایل ای ڈیز، فرج، ایئر کنڈیشنرز اور موٹرز کے لیے کچھ اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ اہداف پروگرام کے آخری حصے سے جڑے ہیں اور ان پر فوری طور پر ریونیو بڑھانے والی اصلاحات کا اثر زیادہ ہو گا۔</p>
<p>دوسری جانب اہم مسائل جیسے  ڈسکوز اور جنکوز کی نجکاری، ٹرانسمیشن کے مسائل کا حل اور چوری اور نقصانات کا سدباب بھی اہم قرار دیا جارہا ہے— مگر ان کا تعلق کارکردگی کے معیار یا ادائیگی کی شرائط سے نہیں ہے۔ یہ اصلاحات کے منصوبے میں کم ترجیحی مسائل ہیں۔</p>
<p>جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، سادہ اقدامات — جیسے لیویز بڑھانا اور سرچارج متعارف کرانا — کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ان کو اصلاحات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اداروں، تکنیکی امور اور حکومتی مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں تاہم اس پر پیشرفت سست روی سے ہورہی ہے۔</p>
<p>صارفین سے ایک بار پھر بوجھ اٹھانے کا کہا جا رہا ہے، حالانکہ بنیادی ڈھانچہ جاتی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ آیا اصلاحات کا یہ دور پچھلی کوششوں کے مقابلے میں زیادہ دیرپا نتائج دے گا یا نہیں، اس کا انحصار ہمیشہ کی طرح مستقل سیاسی عزم پر ہو گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272919</guid>
      <pubDate>Wed, 21 May 2025 15:44:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/21154127cb51dad.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/21154127cb51dad.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
