<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 16 Aug 2026 19:29:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 16 Aug 2026 19:29:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوری تا مارچ جی ڈی پی کی شرح نمو 2.4 فیصد ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272889/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 2.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بات منگ کو ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تخمینوں میں بتائی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کے 13 ویں اجلاس کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ یہ شرح نمو اس مدت کے دوران صنعتی شعبے میں 1.14 فیصد کمی واقع ہونے کے باوجود حاصل کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، زرعی شعبے میں 1.18 فیصد اور خدمات (سروسز) کے شعبے میں 3.99 فیصد نمو دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق زرعی شعبے میں اگرچہ اہم فصلوں کی پیداوار میں 11.14 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، لیکن دیگر فصلوں کی پیداوار میں 4.84 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پیاز کی فصل میں (11 فیصد) اور آم کی فصل میں (26 فیصد) دو عددی اضافہ ہے۔ مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی کے دوران لائیو اسٹاک (4.42 فیصد)، جنگلات (4.25 فیصد) اور ماہی گیری (0.50 فیصد) کے شعبوں میں بھی مثبت شرح نمو دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی کے دوران صنعتی شعبے میں منفی 1.14 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی جس کی بنیادی وجہ کان کنی اور کھدائی میں 3.96 فیصد کمی، لارج مینوفیکچرنگ اسکیل میں 0.89 فیصد کمی، بجلی، گیس اور واٹر سپلائی میں 7.72 فیصد کمی اور تعمیراتی شعبے میں 9.12 فیصد کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی سہ ماہی کے دوران خدمات (سروسز) کے شعبے میں مجموعی طور پر 3.99 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی جس میں تمام ذیلی شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے، ہول سیل اینڈ ریٹیل ٹریڈ میں 1.57 فیصد، ٹرانسپورٹ و اسٹوریج  میں 0.67 فیصد، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن میں 18.44 فیصد، فنانس اینڈ انشورنس سرگرمیوں میں 10.65 فیصد، پبلک ایڈمنسٹریشن و سماجی تحفظ کے شعے میں 13.73 فیصد، تعلیم میں 4.63 فیصد، صحت و سماجی بہبود  میں 5.06 فیصد اور دیگر نجی خدمات میں 2.93 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی سال 2023-24 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی نظرثانی شدہ شرح نمو 1.37 فیصد اور 1.53 فیصد منظور کر لی جس کا تخمینہ اس سے قبل بالترتیب 1.34 فیصد اور 1.73 فیصد لگایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے جاری مالی سال 2024-25 کے دوران جی ڈی پی کی عبوری شرح نمو کی 2.68 فیصد پر بھی منظوری دی جو حکومتی مقرر کردہ 3.6 کے ہدف سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی عبوری شرح نمو 0.56 فیصد، صنعتی شعبے کی 4.77 فیصد اور خدمات (سروسز) کے شعبے کی عبور شرح نمو 2.91 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مالی سال 2022-23 کے دوران سالانہ جی ڈی پی کی مجموعی حتمی شرح نمو 0.21 فیصد منظور کی جس کا تخمینہ اس سے قبل 111 ویں اجلاس میں 0.22 فیصد لگایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معیشت کا حجم&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی  کے مطابق مالی سال 2024-25 کے لیے قومی معیشت کے تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر پاکستان کی معیشت کا مجموعی حجم 114.7 ٹریلین روپے (یعنی 410.96 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا ہے جو پچھلے سال 105.1 ٹریلین روپے (یعنی 371.66 ارب ڈالر) تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اعداد و شمار میں ظاہر کیا گیا ہے کہ فی کس آمدنی 509,174 روپے (یعنی 1,824 امریکی ڈالر) رہی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 2.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بات منگ کو ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تخمینوں میں بتائی گئی ہے۔</strong></p>
<p>نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کے 13 ویں اجلاس کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ یہ شرح نمو اس مدت کے دوران صنعتی شعبے میں 1.14 فیصد کمی واقع ہونے کے باوجود حاصل کی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، زرعی شعبے میں 1.18 فیصد اور خدمات (سروسز) کے شعبے میں 3.99 فیصد نمو دیکھی گئی۔</p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق زرعی شعبے میں اگرچہ اہم فصلوں کی پیداوار میں 11.14 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، لیکن دیگر فصلوں کی پیداوار میں 4.84 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پیاز کی فصل میں (11 فیصد) اور آم کی فصل میں (26 فیصد) دو عددی اضافہ ہے۔ مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی کے دوران لائیو اسٹاک (4.42 فیصد)، جنگلات (4.25 فیصد) اور ماہی گیری (0.50 فیصد) کے شعبوں میں بھی مثبت شرح نمو دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>ادارہ شماریات نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 کی تیسری سہ ماہی کے دوران صنعتی شعبے میں منفی 1.14 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی جس کی بنیادی وجہ کان کنی اور کھدائی میں 3.96 فیصد کمی، لارج مینوفیکچرنگ اسکیل میں 0.89 فیصد کمی، بجلی، گیس اور واٹر سپلائی میں 7.72 فیصد کمی اور تعمیراتی شعبے میں 9.12 فیصد کمی ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی سہ ماہی کے دوران خدمات (سروسز) کے شعبے میں مجموعی طور پر 3.99 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی جس میں تمام ذیلی شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے، ہول سیل اینڈ ریٹیل ٹریڈ میں 1.57 فیصد، ٹرانسپورٹ و اسٹوریج  میں 0.67 فیصد، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن میں 18.44 فیصد، فنانس اینڈ انشورنس سرگرمیوں میں 10.65 فیصد، پبلک ایڈمنسٹریشن و سماجی تحفظ کے شعے میں 13.73 فیصد، تعلیم میں 4.63 فیصد، صحت و سماجی بہبود  میں 5.06 فیصد اور دیگر نجی خدمات میں 2.93 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اس کے علاوہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی سال 2023-24 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی نظرثانی شدہ شرح نمو 1.37 فیصد اور 1.53 فیصد منظور کر لی جس کا تخمینہ اس سے قبل بالترتیب 1.34 فیصد اور 1.73 فیصد لگایا گیا تھا۔</p>
<p>کمیٹی نے جاری مالی سال 2024-25 کے دوران جی ڈی پی کی عبوری شرح نمو کی 2.68 فیصد پر بھی منظوری دی جو حکومتی مقرر کردہ 3.6 کے ہدف سے کم ہے۔</p>
<p>مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی عبوری شرح نمو 0.56 فیصد، صنعتی شعبے کی 4.77 فیصد اور خدمات (سروسز) کے شعبے کی عبور شرح نمو 2.91 فیصد رہی۔</p>
<p>کمیٹی نے مالی سال 2022-23 کے دوران سالانہ جی ڈی پی کی مجموعی حتمی شرح نمو 0.21 فیصد منظور کی جس کا تخمینہ اس سے قبل 111 ویں اجلاس میں 0.22 فیصد لگایا گیا تھا۔</p>
<p><strong>معیشت کا حجم</strong></p>
<p>نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی  کے مطابق مالی سال 2024-25 کے لیے قومی معیشت کے تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر پاکستان کی معیشت کا مجموعی حجم 114.7 ٹریلین روپے (یعنی 410.96 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا ہے جو پچھلے سال 105.1 ٹریلین روپے (یعنی 371.66 ارب ڈالر) تھا۔</p>
<p>نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اعداد و شمار میں ظاہر کیا گیا ہے کہ فی کس آمدنی 509,174 روپے (یعنی 1,824 امریکی ڈالر) رہی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272889</guid>
      <pubDate>Tue, 20 May 2025 16:12:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/2016070498bf78f.png" type="image/png" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/2016070498bf78f.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
