<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:39:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:39:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کے معاشی تخمینے، خوش فہمی یا حقیقت؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272874/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف کی 9 مئی کے پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے معاہدے کا پہلا جائزہ مکمل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت ایک معاہدے کی درخواست کی منظوری بھی دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیان کے آخری حصے میں مالی سال 25-2024 اور 26-2025 کے لیے میکرو اکنامک تخمینے شامل ہیں۔ جیسا کہ نیچے بتایا گیا ہے، یہ تخمینے ستمبر 2024 میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے آغاز پر دیے گئے ابتدائی تخمینوں سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مضمون کا مقصد جی ڈی پی کی شرح نمو، روزگار، قیمتوں، حکومت کے مالیات، مالی اور قرض کی صورتحال اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے ان تخمینوں کا تجزیہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اب توقع کرتا ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو پہلے کے مقابلے میں کم ہوگی۔ یہ 25-2024 کے پہلے تین سہ ماہیوں میں معیشت کی نسبتاً کمزور کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ فروری 2025 تک مینوفیکچرنگ کا کوانٹم انڈیکس 1.9 فیصد کم ہوا ہے۔ کپاس کی فصل 20 فیصد سے زائد کم ہوئی ہے، جبکہ چاول اور گندم کی پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ مجموعی طور پر بجلی کی فروخت 3 فیصد کم ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، آئی ایم ایف نے اب 25-2024 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 2.6 فیصد مقرر کی ہے، جبکہ پہلے توقع تھی کہ یہ 3.2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہاں تک کہ 2.6 فیصد کی نمو کا تخمینہ بھی پرامید معلوم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 26-2025 کے لیے شرح نمو کا ابتدائی تخمینہ 4 فیصد تھا، جو اب 3.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ واضح ہے کہ زیادہ ترقی کے لیے نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے مہنگائی کی شرح کے تخمینوں میں بھی قابلِ ذکر کمی کی ہے۔ یہ واضح طور پر 25-2024 میں مہنگائی کی غیر معمولی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ مہنگائی کی شرح جولائی 2024 میں 11.1 فیصد سے اپریل 2025 میں صرف 0.3 فیصد رہ گئی ہے۔ ماہانہ اوسط 4.8 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف توقع کرتا ہے کہ 25-2024 میں مہنگائی کی اوسط شرح 5.1 فیصد ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ مئی اور جون میں ’کم بنیاد‘ کے اثر کی وجہ سے مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ توقع ہے کہ مہنگائی کی شرح تقریباً 8 فیصد تک بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے دو تخمینے حقیقت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔ 25-2024 میں بے روزگاری کی شرح 8 فیصد اور 26-2025 میں 7.5 فیصد رکھی گئی ہے، باوجود اس کے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھ رہی ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف غالباً یہ نہیں جانتا کہ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے، یعنی 22 فیصد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بڑی کم تخمینہ آئی ایم ایف کی طرف سے غربت کی شرح ہے، جو صرف 21.9 فیصد بتائی گئی ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ حقیقی فی کس آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا اور 23-2022 اور 24-2023 میں خوراک کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ عالمی بینک کا تازہ ترین تخمینہ غربت کی شرح 42 فیصد سے زائد ہے، جو کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ سے تقریباً دوگنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی جانب سے غربت اور بے روزگاری کی شرح کو نمایاں طور پر کم ظاہر کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ اس پروگرام میں ”انسانی پہلو“ کی کمی ہے اور پاکستان میں 10 کروڑ سے زائد افراد جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ان کے لیے کسی قسم کی حساسیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ پروگرام میں غریب دوست اقدامات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم مالی سال 25-2024 اور 26-2025 کے لیے بلینس آف پیمنٹ کے تخمینوں کی طرف آتے ہیں، تو یہاں بھی اصل تخمینوں کے مقابلے میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پہلے 25-2024 میں 3.6 ارب امریکی ڈالر اور 26-2025 میں 3.8 ارب ڈالر کے قریب تخمینہ کیا گیا تھا۔ تاہم اب یہ خسارہ 25-2024 میں صرف 0.4 ارب ڈالر اور 26-2025 میں 1.6 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح طور پر مالی سال 25-2024 کی پہلی نو ماہ میں ترسیلاتِ زر میں 33 فیصد کے حیران کن اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، یہ امکان کم ہے کہ 26-2025 میں ترسیلات میں اسی رفتار سے اضافہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل حیرت مالی کھاتے  کے توازن کے بارے میں آئی ایم ایف کی غیر معمولی خوش فہمی ہے۔ اس کھاتے میں 25-2024 کے لیے 4.4 ارب ڈالر کے سرپلس (فاضل توازن) کی پیش گوئی کی گئی ہے، حالانکہ پہلے نو ماہ میں اس کھاتے میں 1.4 ارب ڈالر کا خسارہ رہا ہے۔ کیا آئی ایم ایف توقع کر رہا ہے کہ 25-2024 کی آخری سہ ماہی میں 5.8 ارب ڈالر کی بڑی آمد ہوگی؟ یہ انتہائی نا ممکن نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مالی کھاتے میں خالص آمدن کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے نتیجے میں 25-2024 کے آخر میں زرمبادلہ کے ذخائر کے تخمینے میں بھی مبالغہ آ گیا ہے، جو کہ اب 13.9 ارب ڈالر بتائے جا رہے ہیں، حالانکہ اصل تخمینہ 12.8 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کے اکاؤنٹ میں قرضوں کی آمد اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد جو خالص منفی بہاؤ ہے، اسے تسلیم کیا جائے۔ یورو یا سکوک بانڈز کے اجرا یا بین الاقوامی کمرشل بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی کوششوں میں خاص کامیابی نہیں ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے بلینس آف پیمنٹ کے حوالے سے 26-2025 کے لیے بھی خوش فہمی کا رویہ برقرار رکھا ہے۔ تازہ ترین تخمینے کے مطابق مالی سال کے اختتام پر زرمبادلہ کے ذخائر 17.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ اس طرح درآمدات کے مقابلے میں ذخائر کا حجم تقریباً تین ماہ کی درآمدی ضرورت کے برابر ہو جائے گا۔ یوں پاکستان ایک مرتبہ پھر مالی طور پر مستحکم ملک کے طور پر ابھرے گا، جب موجودہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کا دوسرا سال اختتام پذیر ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر، 25-2024 اور 26-2025 کے لیے آئی ایم ایف کے تازہ ترین تخمینے معیشت کی شرحِ نمو اور مہنگائی کی شرح کے بارے میں کسی حد تک حقیقت پسندانہ ہیں۔ تاہم، بلینس آف پیمنٹ کے تخمینوں میں خوش فہمی نمایاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے بے روزگاری کی شرح اور غربت کی سطح کو بری طرح کم کر کے ظاہر کر کے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے پروگرام میں انسانی پہلو کی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلا مضمون آئی ایم ایف کے سرکاری مالیات  کے تخمینوں کا تفصیلی تجزیہ پیش کرے گا اور خاص طور پر 25-2024 کے وفاقی اور صوبائی بجٹ پر ان کے اثرات کو اجاگر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایم ایف کی 9 مئی کے پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے معاہدے کا پہلا جائزہ مکمل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت ایک معاہدے کی درخواست کی منظوری بھی دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>اس بیان کے آخری حصے میں مالی سال 25-2024 اور 26-2025 کے لیے میکرو اکنامک تخمینے شامل ہیں۔ جیسا کہ نیچے بتایا گیا ہے، یہ تخمینے ستمبر 2024 میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے آغاز پر دیے گئے ابتدائی تخمینوں سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔</p>
<p>اس مضمون کا مقصد جی ڈی پی کی شرح نمو، روزگار، قیمتوں، حکومت کے مالیات، مالی اور قرض کی صورتحال اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے ان تخمینوں کا تجزیہ کرنا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف اب توقع کرتا ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو پہلے کے مقابلے میں کم ہوگی۔ یہ 25-2024 کے پہلے تین سہ ماہیوں میں معیشت کی نسبتاً کمزور کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ فروری 2025 تک مینوفیکچرنگ کا کوانٹم انڈیکس 1.9 فیصد کم ہوا ہے۔ کپاس کی فصل 20 فیصد سے زائد کم ہوئی ہے، جبکہ چاول اور گندم کی پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ مجموعی طور پر بجلی کی فروخت 3 فیصد کم ہوئی ہے۔</p>
<p>نتیجتاً، آئی ایم ایف نے اب 25-2024 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 2.6 فیصد مقرر کی ہے، جبکہ پہلے توقع تھی کہ یہ 3.2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہاں تک کہ 2.6 فیصد کی نمو کا تخمینہ بھی پرامید معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p>مالی سال 26-2025 کے لیے شرح نمو کا ابتدائی تخمینہ 4 فیصد تھا، جو اب 3.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ واضح ہے کہ زیادہ ترقی کے لیے نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے مہنگائی کی شرح کے تخمینوں میں بھی قابلِ ذکر کمی کی ہے۔ یہ واضح طور پر 25-2024 میں مہنگائی کی غیر معمولی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ مہنگائی کی شرح جولائی 2024 میں 11.1 فیصد سے اپریل 2025 میں صرف 0.3 فیصد رہ گئی ہے۔ ماہانہ اوسط 4.8 فیصد ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف توقع کرتا ہے کہ 25-2024 میں مہنگائی کی اوسط شرح 5.1 فیصد ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ مئی اور جون میں ’کم بنیاد‘ کے اثر کی وجہ سے مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ توقع ہے کہ مہنگائی کی شرح تقریباً 8 فیصد تک بڑھ جائے گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے دو تخمینے حقیقت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔ 25-2024 میں بے روزگاری کی شرح 8 فیصد اور 26-2025 میں 7.5 فیصد رکھی گئی ہے، باوجود اس کے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھ رہی ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف غالباً یہ نہیں جانتا کہ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے، یعنی 22 فیصد۔</p>
<p>دوسری بڑی کم تخمینہ آئی ایم ایف کی طرف سے غربت کی شرح ہے، جو صرف 21.9 فیصد بتائی گئی ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ حقیقی فی کس آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا اور 23-2022 اور 24-2023 میں خوراک کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ عالمی بینک کا تازہ ترین تخمینہ غربت کی شرح 42 فیصد سے زائد ہے، جو کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ سے تقریباً دوگنا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی جانب سے غربت اور بے روزگاری کی شرح کو نمایاں طور پر کم ظاہر کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ اس پروگرام میں ”انسانی پہلو“ کی کمی ہے اور پاکستان میں 10 کروڑ سے زائد افراد جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ان کے لیے کسی قسم کی حساسیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ پروگرام میں غریب دوست اقدامات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اب ہم مالی سال 25-2024 اور 26-2025 کے لیے بلینس آف پیمنٹ کے تخمینوں کی طرف آتے ہیں، تو یہاں بھی اصل تخمینوں کے مقابلے میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔</p>
<p>کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پہلے 25-2024 میں 3.6 ارب امریکی ڈالر اور 26-2025 میں 3.8 ارب ڈالر کے قریب تخمینہ کیا گیا تھا۔ تاہم اب یہ خسارہ 25-2024 میں صرف 0.4 ارب ڈالر اور 26-2025 میں 1.6 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ واضح طور پر مالی سال 25-2024 کی پہلی نو ماہ میں ترسیلاتِ زر میں 33 فیصد کے حیران کن اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، یہ امکان کم ہے کہ 26-2025 میں ترسیلات میں اسی رفتار سے اضافہ ہو۔</p>
<p>اصل حیرت مالی کھاتے  کے توازن کے بارے میں آئی ایم ایف کی غیر معمولی خوش فہمی ہے۔ اس کھاتے میں 25-2024 کے لیے 4.4 ارب ڈالر کے سرپلس (فاضل توازن) کی پیش گوئی کی گئی ہے، حالانکہ پہلے نو ماہ میں اس کھاتے میں 1.4 ارب ڈالر کا خسارہ رہا ہے۔ کیا آئی ایم ایف توقع کر رہا ہے کہ 25-2024 کی آخری سہ ماہی میں 5.8 ارب ڈالر کی بڑی آمد ہوگی؟ یہ انتہائی نا ممکن نظر آتا ہے۔</p>
<p>اس مالی کھاتے میں خالص آمدن کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے نتیجے میں 25-2024 کے آخر میں زرمبادلہ کے ذخائر کے تخمینے میں بھی مبالغہ آ گیا ہے، جو کہ اب 13.9 ارب ڈالر بتائے جا رہے ہیں، حالانکہ اصل تخمینہ 12.8 ارب ڈالر تھا۔</p>
<p>ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کے اکاؤنٹ میں قرضوں کی آمد اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد جو خالص منفی بہاؤ ہے، اسے تسلیم کیا جائے۔ یورو یا سکوک بانڈز کے اجرا یا بین الاقوامی کمرشل بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی کوششوں میں خاص کامیابی نہیں ملی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے بلینس آف پیمنٹ کے حوالے سے 26-2025 کے لیے بھی خوش فہمی کا رویہ برقرار رکھا ہے۔ تازہ ترین تخمینے کے مطابق مالی سال کے اختتام پر زرمبادلہ کے ذخائر 17.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ اس طرح درآمدات کے مقابلے میں ذخائر کا حجم تقریباً تین ماہ کی درآمدی ضرورت کے برابر ہو جائے گا۔ یوں پاکستان ایک مرتبہ پھر مالی طور پر مستحکم ملک کے طور پر ابھرے گا، جب موجودہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کا دوسرا سال اختتام پذیر ہو گا۔</p>
<p>مجموعی طور پر، 25-2024 اور 26-2025 کے لیے آئی ایم ایف کے تازہ ترین تخمینے معیشت کی شرحِ نمو اور مہنگائی کی شرح کے بارے میں کسی حد تک حقیقت پسندانہ ہیں۔ تاہم، بلینس آف پیمنٹ کے تخمینوں میں خوش فہمی نمایاں ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے بے روزگاری کی شرح اور غربت کی سطح کو بری طرح کم کر کے ظاہر کر کے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے پروگرام میں انسانی پہلو کی کمی ہے۔</p>
<p>اگلا مضمون آئی ایم ایف کے سرکاری مالیات  کے تخمینوں کا تفصیلی تجزیہ پیش کرے گا اور خاص طور پر 25-2024 کے وفاقی اور صوبائی بجٹ پر ان کے اثرات کو اجاگر کرے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272874</guid>
      <pubDate>Tue, 20 May 2025 09:58:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/200957473438005.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/200957473438005.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
