<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:11:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 15:11:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئندہ بجٹ اورنگزیب کیلئے فیصلہ کن لمحہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272873/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ جون میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا پہلا بجٹ کسی ایمرجنسی وارڈ کے کلپ بورڈ پر لکھا گیا تھا۔ وہ مارچ کے وسط میں ”کیو بلاک“ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ مالیاتی جدول بیوروکریٹس پہلے ہی پلاسٹک میں لپیٹ چکے تھے، مہنگائی دوہندسی سطح پر بھڑک رہی تھی، پالیسی ریٹ بائیس فیصد پر جما ہوا تھا، اور ہر فائل پر آئی ایم ایف کی شرائط چپکائی ہوئی تھیں۔ ایسے میں اصلاحات نہیں، صرف استحکام ہی عقلمندی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارہ ماہ بعد یہ تمام جواز اپنی مدت پوری کر چکے ہیں۔ مالی سال 2025 کا اختتام ایک نایاب صورتحال پر ہو رہا ہے — کرنٹ اکائونٹ میں سرپلس اور بنیادی بجٹ میں سرپلس، دونوں ایک ہی سال میں۔ مہنگائی پانچ فیصد سے نیچے آ چکی ہے، اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف سے بھی کم، اور پالیسی ریٹ ایسی سطح کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں نجی شعبے کو سانس لینے کا موقع ملے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت ستر ڈالر سے نیچے مستحکم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کا سابقہ ٹیکس دھمکی آمیز لہجہ مسکراہٹ میں بدل چکا ہے، بیجنگ تعاون کر رہا ہے، اور دنیا دوبارہ باوقار انداز میں رابطے کر رہی ہے۔ مریض آئی سی یو سے باہر ہے؛ اب سوال یہ ہے کہ معالج اسے بحالی سینٹر لے جائے گا یا براہ راست مغز نہاری کے دسترخوان پر؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحالی کا آغاز دیانت دارانہ ٹیکس سرجری سے ہوتا ہے۔ گزشتہ سال کا سرپلس اسٹیٹ بینک کے ایک وقتی منافع اور ترقیاتی ادائیگیوں کے ”جماؤ“ پر کھڑا تھا — یہ چالیں دوبارہ کام نہیں آئیں گی۔ زرعی آمدنی پر کافی ٹیکس وصول کرنا چاہیے، نان فائلر کی پناہ گاہ دفن کی جائے، اور ہر بچی کھچی چھوٹ اور ایس آر او کی موت کی تاریخ ثبت کی جائے۔ اگر ریٹیل اور زمینوں کے بادشاہ پھر بھی بچ نکلے، تو لگے گا کہ ملک نے دیوالیہ پن کے مقابلے میں اشرافیہ کا انتخاب کر لیا — مکمل نقطہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کا بھول بھلیاں بھی واضح فیصلہ چاہتا ہے۔ پاور سیکٹر کے واجبات کو سکوک میں بدلنا صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہے جب بجٹ میں سہ ماہی ٹیرف خودکار طور پر ایڈجسٹ کرنے کی شرط شامل ہو اور سال کے اندر تین ڈسکوز کی نجکاری کا ٹائم ٹیبل طے ہو۔ گیس کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوں: چھ ماہ بعد ٹیرف ری سیٹ، ”غیر حساب شدہ گیس“ پر زیرو ٹالرنس، اور کیپٹو پاور کے ایندھن کی قیمت گرڈ بجلی سے زیادہ ہو۔ ان شرائط کے بغیر سکوک صرف گیلی دیوار پر لگایا کاغذ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی تحفظ اب کسی بھی دلیل سے مبرا ہو چکا ہے۔ بجٹ تقریر میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی ختم کی جائے، ٹیرف کے نظام کو ہموار کیا جائے، اور ان تمام خصوصی زونز کو منسوخ کیا جائے جو کارکردگی صفر کے باوجود ٹیکس کی چھوٹ بانٹتے ہیں — یہ سب کچھ قومی اسمبلی میں براہِ راست، لائن بہ لائن، پڑھ کر سنایا جائے۔ اس سے نرم لہجہ اپنایا گیا تو طاقتور حلقے اسے دوبارہ اپنے حق میں لکھ لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کو پاورپوائنٹ سے نکال کر گزٹ میں لایا جائے۔ پی آئی اے کو اگست تک فروخت کے لیے پیش کیا جائے؛ دو بجلی کے تقسیم کار ادارے اور ایک گیس کمپنی اگلے سال جون تک۔ جب تک ان اداروں کے بین الاقوامی معیار کے آڈٹ اور بورڈز بلیک اینڈ وائٹ میں مکمل نہ ہوں، انہیں کسی خودمختار دولت فنڈ میں چھپانے کی اجازت نہ دی جائے۔ سرمایہ کاروں اور شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ ادارے منافع کے لیے چلیں گے یا سیاسی فائدے کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست صرف اسی وقت نئے موٹروے بنانے کے خواب دیکھنے کی اہل ہے جب وہ ثابت کرے کہ وہ ٹیکس اکٹھا کر سکتی ہے اور اپنے وسائل میں رہ سکتی ہے۔ وہ وفاق جس کی خالص آمدنی اس کے سود سے کم ہے، ترقیاتی فنڈز بانٹنے کا اخلاقی جواز کھو چکا ہے۔ دہائیوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ پی ایس ڈی پی کا اصل مقصد ترقی نہیں بلکہ ٹھیکے تقسیم کرنا ہے۔ اسے صرف بنیادی مرمت تک محدود رکھا جائے جب تک کہ قومی خزانہ حقیقی سرپلس حاصل نہ کرے یا نجی سرمایہ کاری کو متحرک نہ کرے — اس سے زیادہ کچھ کرنا مالیاتی تباہی اور آنے والی نسلوں پر قرض کا بوجھ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی تحفظ کو ڈونرز کی پریزنٹیشنز سے نکال کر قومی بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔ پٹرول اور ڈیزل پر جولائی سے نافذ ہونے والا کاربن لیوی سیلاب سے تحفظ اور نہروں کی بحالی کے لیے استعمال ہو، اور آبپاشی کے پانی کی قیمت پانچ سالہ شفاف منصوبے کے تحت بڑھائی جائے۔ ہر جمع شدہ روپے کے بدلے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اہدافی نقد ادائیگی ہو —صرف وعدے نہیں ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب محمد اورنگزیب اگلے ماہ ”بسم اللہ“ کہہ کر بجٹ تقریر شروع کریں گے، تو اگلے الفاظ طے کریں گے کہ ان کا نام پاکستان کی معاشی تاریخ میں سنہری تختیوں پر لکھا جائے گا یا وہ نگران ٹیکنوکریٹس کے گمنام نوٹوں میں کھو جائیں گے۔ من موہن سنگھ نے 1991 میں اقلیتی حکومت، ادائیگیوں کے بحران، اور دہری مہنگائی کے ساتھ ایسا بجٹ دیا جس نے بھارت کی معیشت کو نئی راہ پر ڈال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب کے سامنے موزوں قیمتیں، نرم آئی ایم ایف، اور نایاب معاشی سرپلس ہیں۔ اگر انہوں نے بحالی کا راستہ چنا — سخت ٹیکس اصلاحات، بجٹ کی سختی، حقیقی تجارتی آزادیاں، شفاف نجکاری — تو شاید وہ اس آزاد معیشت کے معمار بن جائیں جسے پاکستان 1988 سے مؤخر کرتا آیا ہے۔ لیکن اگر انہوں نے دستر خوان چن لیا، تو تاریخ انہیں اس معالج کے طور پر یاد رکھے گی جس نے مریض کو بچایا صرف اس لیے کہ وہ بائی پاس کے بعد جلیبیاں کھا سکے۔ آلات درست اور سگنل سبز ہے — اب اگلا قدم ان کا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ جون میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا پہلا بجٹ کسی ایمرجنسی وارڈ کے کلپ بورڈ پر لکھا گیا تھا۔ وہ مارچ کے وسط میں ”کیو بلاک“ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ مالیاتی جدول بیوروکریٹس پہلے ہی پلاسٹک میں لپیٹ چکے تھے، مہنگائی دوہندسی سطح پر بھڑک رہی تھی، پالیسی ریٹ بائیس فیصد پر جما ہوا تھا، اور ہر فائل پر آئی ایم ایف کی شرائط چپکائی ہوئی تھیں۔ ایسے میں اصلاحات نہیں، صرف استحکام ہی عقلمندی تھی۔</strong></p>
<p>بارہ ماہ بعد یہ تمام جواز اپنی مدت پوری کر چکے ہیں۔ مالی سال 2025 کا اختتام ایک نایاب صورتحال پر ہو رہا ہے — کرنٹ اکائونٹ میں سرپلس اور بنیادی بجٹ میں سرپلس، دونوں ایک ہی سال میں۔ مہنگائی پانچ فیصد سے نیچے آ چکی ہے، اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف سے بھی کم، اور پالیسی ریٹ ایسی سطح کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں نجی شعبے کو سانس لینے کا موقع ملے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت ستر ڈالر سے نیچے مستحکم ہے۔</p>
<p>واشنگٹن کا سابقہ ٹیکس دھمکی آمیز لہجہ مسکراہٹ میں بدل چکا ہے، بیجنگ تعاون کر رہا ہے، اور دنیا دوبارہ باوقار انداز میں رابطے کر رہی ہے۔ مریض آئی سی یو سے باہر ہے؛ اب سوال یہ ہے کہ معالج اسے بحالی سینٹر لے جائے گا یا براہ راست مغز نہاری کے دسترخوان پر؟</p>
<p>بحالی کا آغاز دیانت دارانہ ٹیکس سرجری سے ہوتا ہے۔ گزشتہ سال کا سرپلس اسٹیٹ بینک کے ایک وقتی منافع اور ترقیاتی ادائیگیوں کے ”جماؤ“ پر کھڑا تھا — یہ چالیں دوبارہ کام نہیں آئیں گی۔ زرعی آمدنی پر کافی ٹیکس وصول کرنا چاہیے، نان فائلر کی پناہ گاہ دفن کی جائے، اور ہر بچی کھچی چھوٹ اور ایس آر او کی موت کی تاریخ ثبت کی جائے۔ اگر ریٹیل اور زمینوں کے بادشاہ پھر بھی بچ نکلے، تو لگے گا کہ ملک نے دیوالیہ پن کے مقابلے میں اشرافیہ کا انتخاب کر لیا — مکمل نقطہ۔</p>
<p>توانائی کا بھول بھلیاں بھی واضح فیصلہ چاہتا ہے۔ پاور سیکٹر کے واجبات کو سکوک میں بدلنا صرف اسی صورت میں قابلِ قبول ہے جب بجٹ میں سہ ماہی ٹیرف خودکار طور پر ایڈجسٹ کرنے کی شرط شامل ہو اور سال کے اندر تین ڈسکوز کی نجکاری کا ٹائم ٹیبل طے ہو۔ گیس کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوں: چھ ماہ بعد ٹیرف ری سیٹ، ”غیر حساب شدہ گیس“ پر زیرو ٹالرنس، اور کیپٹو پاور کے ایندھن کی قیمت گرڈ بجلی سے زیادہ ہو۔ ان شرائط کے بغیر سکوک صرف گیلی دیوار پر لگایا کاغذ ہے۔</p>
<p>تجارتی تحفظ اب کسی بھی دلیل سے مبرا ہو چکا ہے۔ بجٹ تقریر میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی ختم کی جائے، ٹیرف کے نظام کو ہموار کیا جائے، اور ان تمام خصوصی زونز کو منسوخ کیا جائے جو کارکردگی صفر کے باوجود ٹیکس کی چھوٹ بانٹتے ہیں — یہ سب کچھ قومی اسمبلی میں براہِ راست، لائن بہ لائن، پڑھ کر سنایا جائے۔ اس سے نرم لہجہ اپنایا گیا تو طاقتور حلقے اسے دوبارہ اپنے حق میں لکھ لیں گے۔</p>
<p>نجکاری کو پاورپوائنٹ سے نکال کر گزٹ میں لایا جائے۔ پی آئی اے کو اگست تک فروخت کے لیے پیش کیا جائے؛ دو بجلی کے تقسیم کار ادارے اور ایک گیس کمپنی اگلے سال جون تک۔ جب تک ان اداروں کے بین الاقوامی معیار کے آڈٹ اور بورڈز بلیک اینڈ وائٹ میں مکمل نہ ہوں، انہیں کسی خودمختار دولت فنڈ میں چھپانے کی اجازت نہ دی جائے۔ سرمایہ کاروں اور شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ یہ ادارے منافع کے لیے چلیں گے یا سیاسی فائدے کے لیے۔</p>
<p>ریاست صرف اسی وقت نئے موٹروے بنانے کے خواب دیکھنے کی اہل ہے جب وہ ثابت کرے کہ وہ ٹیکس اکٹھا کر سکتی ہے اور اپنے وسائل میں رہ سکتی ہے۔ وہ وفاق جس کی خالص آمدنی اس کے سود سے کم ہے، ترقیاتی فنڈز بانٹنے کا اخلاقی جواز کھو چکا ہے۔ دہائیوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ پی ایس ڈی پی کا اصل مقصد ترقی نہیں بلکہ ٹھیکے تقسیم کرنا ہے۔ اسے صرف بنیادی مرمت تک محدود رکھا جائے جب تک کہ قومی خزانہ حقیقی سرپلس حاصل نہ کرے یا نجی سرمایہ کاری کو متحرک نہ کرے — اس سے زیادہ کچھ کرنا مالیاتی تباہی اور آنے والی نسلوں پر قرض کا بوجھ ہے۔</p>
<p>ماحولیاتی تحفظ کو ڈونرز کی پریزنٹیشنز سے نکال کر قومی بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔ پٹرول اور ڈیزل پر جولائی سے نافذ ہونے والا کاربن لیوی سیلاب سے تحفظ اور نہروں کی بحالی کے لیے استعمال ہو، اور آبپاشی کے پانی کی قیمت پانچ سالہ شفاف منصوبے کے تحت بڑھائی جائے۔ ہر جمع شدہ روپے کے بدلے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اہدافی نقد ادائیگی ہو —صرف وعدے نہیں ہو۔</p>
<p>جب محمد اورنگزیب اگلے ماہ ”بسم اللہ“ کہہ کر بجٹ تقریر شروع کریں گے، تو اگلے الفاظ طے کریں گے کہ ان کا نام پاکستان کی معاشی تاریخ میں سنہری تختیوں پر لکھا جائے گا یا وہ نگران ٹیکنوکریٹس کے گمنام نوٹوں میں کھو جائیں گے۔ من موہن سنگھ نے 1991 میں اقلیتی حکومت، ادائیگیوں کے بحران، اور دہری مہنگائی کے ساتھ ایسا بجٹ دیا جس نے بھارت کی معیشت کو نئی راہ پر ڈال دیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب کے سامنے موزوں قیمتیں، نرم آئی ایم ایف، اور نایاب معاشی سرپلس ہیں۔ اگر انہوں نے بحالی کا راستہ چنا — سخت ٹیکس اصلاحات، بجٹ کی سختی، حقیقی تجارتی آزادیاں، شفاف نجکاری — تو شاید وہ اس آزاد معیشت کے معمار بن جائیں جسے پاکستان 1988 سے مؤخر کرتا آیا ہے۔ لیکن اگر انہوں نے دستر خوان چن لیا، تو تاریخ انہیں اس معالج کے طور پر یاد رکھے گی جس نے مریض کو بچایا صرف اس لیے کہ وہ بائی پاس کے بعد جلیبیاں کھا سکے۔ آلات درست اور سگنل سبز ہے — اب اگلا قدم ان کا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272873</guid>
      <pubDate>Tue, 20 May 2025 09:42:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/2009415887211f0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/2009415887211f0.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
