<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 02:43:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 02:43:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت تجارت نے ٹیکسٹائل و اپیرل پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272839/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت تجارت نے 2025 سے 2030 تک کے لیے تین مختلف ممکنہ منظرناموں پر مبنی پانچ سالہ ٹیکسٹائل اور اپیرل پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد پاکستان کی ٹیکسٹائل اور اپیرل برآمدات کو بڑھا کر مالی سال 30-2029 تک 29.381 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ یہ ہدف نیشنل ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ بورڈ (این ای ڈی بی) کے تحت ’اُڑان پاکستان‘ کے منصوبے کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جس کے ذریعے ملک میں ”میڈ ان پاکستان“ کو فروغ دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسودے کے مطابق، مالی سال 26-2025 کے لیے برآمدات کا ہدف 19.370 ارب ڈالر، مالی سال 27-2026 کے لیے 21.420 ارب ڈالر، مالی سال 28-2027 کے لیے 23.740 ارب ڈالر، مالی سال 29-2028 کے لیے 26.710 ارب ڈالر اور مالی سال 30-2029 کے لیے 29.381 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کے اہم اسٹریٹجک مقاصد میں میڈ اپس، ہوم ٹیکسٹائل، انٹرمیڈیٹس اور خام مال کو شامل کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ پالیسی کاروباری ماحول کو سازگار بنانے اور برآمدات کو فروغ دینے پر مرکوز ہے تاکہ ملکی معیشت میں بہتری آئے۔ اس کے علاوہ، ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانا، مقامی سطح پر تیار شدہ خام مال اور انٹرمیڈیٹس کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ کرنا، اور برآمدات کی نوعیت کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں اعلیٰ قدر والے، جدید اور ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پیداواری صلاحیت اور معاشی پیمانے کو بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پائیدار مینوفیکچرنگ کی ترویج، وسائل کے مؤثر استعمال، صنعتی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی، سرکلر اکانومی اور سماجی ذمہ داری کو بھی اس پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انسانی وسائل کی تربیت اور صلاحیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ ماہر اور تربیت یافتہ عملہ تیار کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کے تحت درج ذیل اہم حکمت عملی اقدامات کیے جائیں گے:&lt;/p&gt;
&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) وزارت تجارت اور وزارت صنعت و پیداوار کے تعاون سے ایکسپورٹ فائنانس اسکیم (ای ایف ایس) کو بہتر بنائیں گے۔ اس اسکیم کے تحت ماسٹر لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کے خلاف بیک ٹو بیک ایل سیز کی اجازت دی جائے گی تاکہ برآمدات میں تنوع پیدا ہو اور ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کو ترجیح دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;کریڈٹ کی حد میں اضافہ کیا جائے گا، خاص طور پر ویلیو ایڈیڈ سیکٹرز اور چھوٹے و درمیانے کاروبار (ایم ایس  ایم ایز) کو ترجیح دی جائے گی، اور مارک اپ شرح کو کم کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاری میں آسانی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;ایگزم بینک اور اسٹیٹ بینک مل کر کم شرح سود پر مخصوص فنانسنگ اسکیمز متعارف کرائیں گے جو ایم ایس ایم ایز کو ویلیو ایڈیڈ مصنوعات، مشینری، کیمیکلز، اسپیر پارٹس، اور ماحولیاتی اور ٹیکنالوجی تبدیلیوں میں سرمایہ کاری کے لیے معاونت فراہم کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;کریڈٹ رسک انشورنس اسکیم کو بڑھایا جائے گا تاکہ برآمد کنندگان کو تجارتی اور سیاسی خطرات سے تحفظ حاصل ہو۔ اس میں خریدار کے دیوالیہ ہونے، ادائیگی میں تاخیر، جنگ یا خانہ جنگی جیسی صورت حال میں نقصان کے خطرات شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;قابل تجدید توانائی کے لیے فنانسنگ اسکیم کو دوبارہ شروع کیا جائے گا تاکہ ایم ایس ایم ایز کو کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور فوسل فیول کی درآمد میں کمی لانے میں مدد ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;ایگزم بینک اور اسٹیٹ بینک مل کر ای-کامرس کے لیے بیرون ملک گودام قائم کرنے کی ترغیب دیں گے تاکہ برآمدات میں اضافہ اور نئی مارکیٹوں تک رسائی ممکن ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک برآمدات کے لیے ادائیگی کی مدت کو موجودہ 120 دن سے بڑھا کر 180 دن کرنے پر غور کرے گا، نیز تاخیر پر جرمانے کے قوانین کا جائزہ لے گا تاکہ برآمد کنندگان کو سہولت ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک ایم ایس ایم ای کی تعریف کو ڈالر-روپے کی شرح کے مطابق تبدیل کرے گا تاکہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو جدید مالیاتی سہولیات دی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے حوالے سے بھی اہم اقدامات کیے جائیں گے تاکہ برآمدات کے شعبے کو مستحکم کیا جا سکے:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;پاور ڈویژن براہ راست اور بالواسطہ برآمد کنندگان کو خطے کے لحاظ سے مسابقتی بجلی کے نرخ فراہم کرے گا، جس میں کراس سبسڈی، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات شامل نہیں ہوں گے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;توانائی کے ذرائع کو متنوع بنایا جائے گا جس میں قابل تجدید توانائی اور روایتی وسائل کا متوازن امتزاج شامل ہوگا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بجلی کے نظام کو جدید بنایا جائے گا تاکہ نقصانات کم ہوں اور بجلی کی فراہمی سستی اور قابل اعتماد ہو۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;برآمدات کے شعبے کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;مسابقتی تجارتی دوطرفہ معاہدات مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ’یوز آف سسٹم‘ چارجز کو منطقی حد تک لایا جائے گا۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بجلی کے اضافی استعمال کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے گا اور سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت واپڈا کو زائد یونٹس کی برآمد کی حد کا جائزہ لیا جائے گا۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;یہ پانچ سالہ ٹیکسٹائل اور اپیرل پالیسی پاکستان کے برآمداتی شعبے کو فروغ دینے، معیشت کو مستحکم کرنے اور عالمی منڈی میں ملک کی مسابقتی حیثیت کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس کے ذریعے نہ صرف ملکی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کو بھی ترجیح دی جائے گی، جس سے ملک کی معیشت کو طویل مدتی فائدہ حاصل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت تجارت نے 2025 سے 2030 تک کے لیے تین مختلف ممکنہ منظرناموں پر مبنی پانچ سالہ ٹیکسٹائل اور اپیرل پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد پاکستان کی ٹیکسٹائل اور اپیرل برآمدات کو بڑھا کر مالی سال 30-2029 تک 29.381 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ یہ ہدف نیشنل ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ بورڈ (این ای ڈی بی) کے تحت ’اُڑان پاکستان‘ کے منصوبے کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جس کے ذریعے ملک میں ”میڈ ان پاکستان“ کو فروغ دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>مسودے کے مطابق، مالی سال 26-2025 کے لیے برآمدات کا ہدف 19.370 ارب ڈالر، مالی سال 27-2026 کے لیے 21.420 ارب ڈالر، مالی سال 28-2027 کے لیے 23.740 ارب ڈالر، مالی سال 29-2028 کے لیے 26.710 ارب ڈالر اور مالی سال 30-2029 کے لیے 29.381 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>پالیسی کے اہم اسٹریٹجک مقاصد میں میڈ اپس، ہوم ٹیکسٹائل، انٹرمیڈیٹس اور خام مال کو شامل کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ پالیسی کاروباری ماحول کو سازگار بنانے اور برآمدات کو فروغ دینے پر مرکوز ہے تاکہ ملکی معیشت میں بہتری آئے۔ اس کے علاوہ، ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانا، مقامی سطح پر تیار شدہ خام مال اور انٹرمیڈیٹس کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ کرنا، اور برآمدات کی نوعیت کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔</p>
<p>پالیسی میں اعلیٰ قدر والے، جدید اور ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پیداواری صلاحیت اور معاشی پیمانے کو بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پائیدار مینوفیکچرنگ کی ترویج، وسائل کے مؤثر استعمال، صنعتی سطح پر کاربن کے اخراج میں کمی، سرکلر اکانومی اور سماجی ذمہ داری کو بھی اس پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انسانی وسائل کی تربیت اور صلاحیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ ماہر اور تربیت یافتہ عملہ تیار کیا جا سکے۔</p>
<p>پالیسی کے تحت درج ذیل اہم حکمت عملی اقدامات کیے جائیں گے:</p>
<ol>
<li>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) وزارت تجارت اور وزارت صنعت و پیداوار کے تعاون سے ایکسپورٹ فائنانس اسکیم (ای ایف ایس) کو بہتر بنائیں گے۔ اس اسکیم کے تحت ماسٹر لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کے خلاف بیک ٹو بیک ایل سیز کی اجازت دی جائے گی تاکہ برآمدات میں تنوع پیدا ہو اور ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کو ترجیح دی جائے۔</p>
</li>
<li>
<p>کریڈٹ کی حد میں اضافہ کیا جائے گا، خاص طور پر ویلیو ایڈیڈ سیکٹرز اور چھوٹے و درمیانے کاروبار (ایم ایس  ایم ایز) کو ترجیح دی جائے گی، اور مارک اپ شرح کو کم کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاری میں آسانی ہو۔</p>
</li>
<li>
<p>ایگزم بینک اور اسٹیٹ بینک مل کر کم شرح سود پر مخصوص فنانسنگ اسکیمز متعارف کرائیں گے جو ایم ایس ایم ایز کو ویلیو ایڈیڈ مصنوعات، مشینری، کیمیکلز، اسپیر پارٹس، اور ماحولیاتی اور ٹیکنالوجی تبدیلیوں میں سرمایہ کاری کے لیے معاونت فراہم کریں گی۔</p>
</li>
<li>
<p>کریڈٹ رسک انشورنس اسکیم کو بڑھایا جائے گا تاکہ برآمد کنندگان کو تجارتی اور سیاسی خطرات سے تحفظ حاصل ہو۔ اس میں خریدار کے دیوالیہ ہونے، ادائیگی میں تاخیر، جنگ یا خانہ جنگی جیسی صورت حال میں نقصان کے خطرات شامل ہوں گے۔</p>
</li>
<li>
<p>قابل تجدید توانائی کے لیے فنانسنگ اسکیم کو دوبارہ شروع کیا جائے گا تاکہ ایم ایس ایم ایز کو کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور فوسل فیول کی درآمد میں کمی لانے میں مدد ملے۔</p>
</li>
<li>
<p>ایگزم بینک اور اسٹیٹ بینک مل کر ای-کامرس کے لیے بیرون ملک گودام قائم کرنے کی ترغیب دیں گے تاکہ برآمدات میں اضافہ اور نئی مارکیٹوں تک رسائی ممکن ہو۔</p>
</li>
<li>
<p>اسٹیٹ بینک برآمدات کے لیے ادائیگی کی مدت کو موجودہ 120 دن سے بڑھا کر 180 دن کرنے پر غور کرے گا، نیز تاخیر پر جرمانے کے قوانین کا جائزہ لے گا تاکہ برآمد کنندگان کو سہولت ملے۔</p>
</li>
<li>
<p>اسٹیٹ بینک ایم ایس ایم ای کی تعریف کو ڈالر-روپے کی شرح کے مطابق تبدیل کرے گا تاکہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو جدید مالیاتی سہولیات دی جا سکیں۔</p>
</li>
</ol>
<p>توانائی کے حوالے سے بھی اہم اقدامات کیے جائیں گے تاکہ برآمدات کے شعبے کو مستحکم کیا جا سکے:</p>
<ul>
<li>پاور ڈویژن براہ راست اور بالواسطہ برآمد کنندگان کو خطے کے لحاظ سے مسابقتی بجلی کے نرخ فراہم کرے گا، جس میں کراس سبسڈی، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات شامل نہیں ہوں گے۔</li>
<li>توانائی کے ذرائع کو متنوع بنایا جائے گا جس میں قابل تجدید توانائی اور روایتی وسائل کا متوازن امتزاج شامل ہوگا۔</li>
<li>بجلی کے نظام کو جدید بنایا جائے گا تاکہ نقصانات کم ہوں اور بجلی کی فراہمی سستی اور قابل اعتماد ہو۔</li>
<li>برآمدات کے شعبے کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔</li>
<li>مسابقتی تجارتی دوطرفہ معاہدات مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ’یوز آف سسٹم‘ چارجز کو منطقی حد تک لایا جائے گا۔</li>
<li>بجلی کے اضافی استعمال کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے گا اور سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت واپڈا کو زائد یونٹس کی برآمد کی حد کا جائزہ لیا جائے گا۔</li>
</ul>
<p>یہ پانچ سالہ ٹیکسٹائل اور اپیرل پالیسی پاکستان کے برآمداتی شعبے کو فروغ دینے، معیشت کو مستحکم کرنے اور عالمی منڈی میں ملک کی مسابقتی حیثیت کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس کے ذریعے نہ صرف ملکی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کو بھی ترجیح دی جائے گی، جس سے ملک کی معیشت کو طویل مدتی فائدہ حاصل ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272839</guid>
      <pubDate>Mon, 19 May 2025 09:28:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/19092750fb7646c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/19092750fb7646c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
