<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 23:56:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 23:56:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیرف اور علاقائی کشیدگیاں، آئی ایم ایف نے بیرونی خطرات میں اضافے سے خبردار کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272836/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو بڑھتے ہوئے بیرونی اور اندرونی خطرات کا سامنا ہے، جن میں امریکا کی جانب سے 2 اپریل کو لگائے گئے ٹیرف، عالمی مالیاتی بے یقینی، جغرافیائی کشیدگیوں اور داخلی سیاسی دباؤ شامل ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں پاکستان کی حالیہ اقتصادی بہتری کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی ٹیرف اقدامات کے اثرات اور اس کے بعد عالمی منڈیوں کے ردعمل نے مالیاتی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ، مالیاتی سختیاں، ترسیلات زر میں کمی اور تجارتی شراکت داروں کی جانب سے تجارتی پابندیاں پاکستان کی بیرونی مالیاتی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق داخلی سطح پر بھی پالیسی میں نرمی، ٹیکس اور سبسڈی کی مراعات دینے کے سیاسی دباؤ سے پالیسی انحراف کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایسے کسی بھی انحراف سے پاکستان کی حاصل کردہ معاشی بہتری ضائع ہو سکتی ہے اور قرضوں کی پائیداری کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ سیاسی یا سماجی کشیدگی کی شدت میں اضافہ اصلاحات کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ پاکستان کی قدرتی آفات کے حوالے سے حساسیت اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابقت کی ضروریات کے باعث ماحولیاتی خطرات بھی نمایاں ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں یہ ناگزیر ہے کہ پاکستان پالیسی اور ساختی  اصلاحات کو تسلسل کے ساتھ نافذ کرے، تاخیر یا انحراف کی صورت میں قرضوں کی پائیداری اور بیرونی فنانسنگ تک رسائی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور سیاسی وابستگیوں کے باعث پیش رفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2012 کی نیشنل ڈیولپمنٹ اسٹریٹیجی میں ماحولیاتی خطرات کو تسلیم کیا گیا، لیکن اس کے عملی اقدامات یا ادارہ جاتی اصلاحات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی قومی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی (این سی سی پی 2012) میں مختلف شعبوں کے لیے مطابقت اور تدارک کے لیے رہنما اصول فراہم کیے گئے، مگر اس کے اثرات عملی طور پر نہ ہونے کے برابر رہے۔ بعد ازاں 2015 میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں ”انٹینڈڈ نیشنللی ڈیٹرمنڈ کنٹریبیوشن“ (آئی این ڈی سی) کے تحت چند معمولی اہداف طے کیے، تاہم ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت کی سطح پر ماحولیاتی پالیسی کے مالک اداروں میں تسلسل کی کمی، ذمہ داریوں کا مبہم تعین اور جوابدہی کے کمزور نظام نے پیش رفت کو محدود رکھا ہے۔ مزید برآں، ماحولیاتی، آبی، زرعی اور دیگر متعلقہ پالیسیوں کو وفاقی سے صوبائی سطح پر منتقل کرنے میں بھی مشکلات حائل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاق سے اختیارات کی منتقلی کے بعد صوبے اپنے دائرہ اختیار میں شعبہ جاتی پالیسیوں کے ذمہ دار ہیں، جس کے باعث وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کے دائرہ اختیار کو صوبائی سطح پر نافذ کرنے میں رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ ہر صوبے میں ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) قائم ہے اور دو صوبوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے مراکز بھی قائم کیے ہیں، لیکن ایک مربوط اور مؤثر قومی حکمتِ عملی اب تک تشکیل نہیں پا سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے اختتام پر آئی ایم ایف نے زور دیا کہ پاکستان کی اقتصادی بحالی، بیرونی استحکام، اور بین الاقوامی شراکت داروں کے اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے، اصلاحات بلا تاخیر نافذ کی جائیں اور سیاسی مفادات کو پالیسی پر غالب نہ آنے دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو بڑھتے ہوئے بیرونی اور اندرونی خطرات کا سامنا ہے، جن میں امریکا کی جانب سے 2 اپریل کو لگائے گئے ٹیرف، عالمی مالیاتی بے یقینی، جغرافیائی کشیدگیوں اور داخلی سیاسی دباؤ شامل ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں پاکستان کی حالیہ اقتصادی بہتری کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی ٹیرف اقدامات کے اثرات اور اس کے بعد عالمی منڈیوں کے ردعمل نے مالیاتی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ، مالیاتی سختیاں، ترسیلات زر میں کمی اور تجارتی شراکت داروں کی جانب سے تجارتی پابندیاں پاکستان کی بیرونی مالیاتی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق داخلی سطح پر بھی پالیسی میں نرمی، ٹیکس اور سبسڈی کی مراعات دینے کے سیاسی دباؤ سے پالیسی انحراف کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایسے کسی بھی انحراف سے پاکستان کی حاصل کردہ معاشی بہتری ضائع ہو سکتی ہے اور قرضوں کی پائیداری کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ سیاسی یا سماجی کشیدگی کی شدت میں اضافہ اصلاحات کے نفاذ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ پاکستان کی قدرتی آفات کے حوالے سے حساسیت اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابقت کی ضروریات کے باعث ماحولیاتی خطرات بھی نمایاں ہو چکے ہیں۔</p>
<p>ادارے کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں یہ ناگزیر ہے کہ پاکستان پالیسی اور ساختی  اصلاحات کو تسلسل کے ساتھ نافذ کرے، تاخیر یا انحراف کی صورت میں قرضوں کی پائیداری اور بیرونی فنانسنگ تک رسائی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور سیاسی وابستگیوں کے باعث پیش رفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2012 کی نیشنل ڈیولپمنٹ اسٹریٹیجی میں ماحولیاتی خطرات کو تسلیم کیا گیا، لیکن اس کے عملی اقدامات یا ادارہ جاتی اصلاحات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔</p>
<p>پہلی قومی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی (این سی سی پی 2012) میں مختلف شعبوں کے لیے مطابقت اور تدارک کے لیے رہنما اصول فراہم کیے گئے، مگر اس کے اثرات عملی طور پر نہ ہونے کے برابر رہے۔ بعد ازاں 2015 میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں ”انٹینڈڈ نیشنللی ڈیٹرمنڈ کنٹریبیوشن“ (آئی این ڈی سی) کے تحت چند معمولی اہداف طے کیے، تاہم ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر رہا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت کی سطح پر ماحولیاتی پالیسی کے مالک اداروں میں تسلسل کی کمی، ذمہ داریوں کا مبہم تعین اور جوابدہی کے کمزور نظام نے پیش رفت کو محدود رکھا ہے۔ مزید برآں، ماحولیاتی، آبی، زرعی اور دیگر متعلقہ پالیسیوں کو وفاقی سے صوبائی سطح پر منتقل کرنے میں بھی مشکلات حائل ہیں۔</p>
<p>وفاق سے اختیارات کی منتقلی کے بعد صوبے اپنے دائرہ اختیار میں شعبہ جاتی پالیسیوں کے ذمہ دار ہیں، جس کے باعث وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کے دائرہ اختیار کو صوبائی سطح پر نافذ کرنے میں رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ ہر صوبے میں ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) قائم ہے اور دو صوبوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے مراکز بھی قائم کیے ہیں، لیکن ایک مربوط اور مؤثر قومی حکمتِ عملی اب تک تشکیل نہیں پا سکی۔</p>
<p>رپورٹ کے اختتام پر آئی ایم ایف نے زور دیا کہ پاکستان کی اقتصادی بحالی، بیرونی استحکام، اور بین الاقوامی شراکت داروں کے اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے، اصلاحات بلا تاخیر نافذ کی جائیں اور سیاسی مفادات کو پالیسی پر غالب نہ آنے دیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272836</guid>
      <pubDate>Mon, 19 May 2025 08:56:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/190856017094b17.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/190856017094b17.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
