<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 10:45:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 10:45:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قازان فورم: پاکستان نے چھ ممکنہ تجارتی راہداریوں کی نشاندہی کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272811/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے وسطی ایشیا، یورپ اور روس کو چین، افغانستان اور ایران کے ذریعے جوڑنے والے چھ ممکنہ تجارتی راستوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں کراچی سے چین اور قازقستان کے راستے ماسکو تک سڑک نیٹ ورک، گوادر سے افغانستان کے ذریعے ماسکو تک، اور ترکمانستان و ایران کے راستے آذربائیجان اور روس تک رسائی شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قازان فورم کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان صرف جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ٹرانزٹ پوائنٹ کا کردار ادا کرنے کا خواہاں نہیں بلکہ ایک اقتصادی پل بننے کا عزم رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ پاکستان حالیہ برسوں میں مختلف معاہدوں کے ذریعے علاقائی تعاون میں بھرپور انداز میں شریک رہا ہے، جن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں فعال شمولیت بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزار شریف تا کوہاٹ ریلوے منصوبے پر تقریباً 633 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالعلیم خان نے کہا کہ گوادر بندرگاہ سے شپمنٹ اور کارگو سروسز کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان وسطی ایشیا کو گرم پانیوں تک رسائی فراہم کرنے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے شمال-جنوب رابطوں کو مواصلاتی شعبے میں وسعت دینے کے لیے پاکستان کی گہری دلچسپی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکھر-حیدرآباد موٹروے (ایم-6) پاکستان میں ایک اہم سرمایہ کاری منصوبہ ہے۔ مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ 2023 سے نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) ازبکستان اور قازقستان کو کارگو سروسز فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ اگست 2023 میں پاکستان نے 126 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت متعارف کرائی تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے اپنی تقریر میں پاکستان کے ان اسٹرٹیجک منصوبوں پر روشنی ڈالی جن کے تحت کراچی، کوئٹہ اور گوادر کو وسطی ایشیا اور یورپ سے سڑکوں کے ذریعے جوڑا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے راستے روس تک ریلوے لائن کے ایک پائلٹ منصوبے پر کام جاری ہے۔ عبدالعلیم خان نے قازان فورم کے انعقاد کا خیرمقدم کیا اور خطے کی ترقی میں پاکستان کے فعال کردار کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا فورم کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور روسی نائب وزیر اعظم مارٹ خوسنلین اور وزیر ٹرانسپورٹ رومن ستاروویت کا پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورم کے موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے روسی نائب وزیر اعظم مارٹ خوسنلین کے ساتھ دو طرفہ ملاقات اور مشترکہ اجلاس میں شرکت کی، جس میں دونوں جانب سے اعلیٰ سطح وفود شریک تھے۔ ملاقات میں مواصلاتی شعبے میں سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے روس کے ساتھ وسیع شراکت داری قائم کرنے میں پاکستان کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ نائب وزیر اعظم خوسنلین نے خطے کی مشترکہ ترقی اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے روس کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قازان فورم میں پاکستان کی شرکت کا خیرمقدم کیا اور اقتصادی، ثقافتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے وسطی ایشیا، یورپ اور روس کو چین، افغانستان اور ایران کے ذریعے جوڑنے والے چھ ممکنہ تجارتی راستوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں کراچی سے چین اور قازقستان کے راستے ماسکو تک سڑک نیٹ ورک، گوادر سے افغانستان کے ذریعے ماسکو تک، اور ترکمانستان و ایران کے راستے آذربائیجان اور روس تک رسائی شامل ہے۔</strong></p>
<p>قازان فورم کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان صرف جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ٹرانزٹ پوائنٹ کا کردار ادا کرنے کا خواہاں نہیں بلکہ ایک اقتصادی پل بننے کا عزم رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ پاکستان حالیہ برسوں میں مختلف معاہدوں کے ذریعے علاقائی تعاون میں بھرپور انداز میں شریک رہا ہے، جن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں فعال شمولیت بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزار شریف تا کوہاٹ ریلوے منصوبے پر تقریباً 633 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔</p>
<p>عبدالعلیم خان نے کہا کہ گوادر بندرگاہ سے شپمنٹ اور کارگو سروسز کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان وسطی ایشیا کو گرم پانیوں تک رسائی فراہم کرنے کا خواہاں ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے شمال-جنوب رابطوں کو مواصلاتی شعبے میں وسعت دینے کے لیے پاکستان کی گہری دلچسپی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکھر-حیدرآباد موٹروے (ایم-6) پاکستان میں ایک اہم سرمایہ کاری منصوبہ ہے۔ مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ 2023 سے نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) ازبکستان اور قازقستان کو کارگو سروسز فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ اگست 2023 میں پاکستان نے 126 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا آن ارائیول کی سہولت متعارف کرائی تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے اپنی تقریر میں پاکستان کے ان اسٹرٹیجک منصوبوں پر روشنی ڈالی جن کے تحت کراچی، کوئٹہ اور گوادر کو وسطی ایشیا اور یورپ سے سڑکوں کے ذریعے جوڑا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے راستے روس تک ریلوے لائن کے ایک پائلٹ منصوبے پر کام جاری ہے۔ عبدالعلیم خان نے قازان فورم کے انعقاد کا خیرمقدم کیا اور خطے کی ترقی میں پاکستان کے فعال کردار کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا فورم کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور روسی نائب وزیر اعظم مارٹ خوسنلین اور وزیر ٹرانسپورٹ رومن ستاروویت کا پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>فورم کے موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے روسی نائب وزیر اعظم مارٹ خوسنلین کے ساتھ دو طرفہ ملاقات اور مشترکہ اجلاس میں شرکت کی، جس میں دونوں جانب سے اعلیٰ سطح وفود شریک تھے۔ ملاقات میں مواصلاتی شعبے میں سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے روس کے ساتھ وسیع شراکت داری قائم کرنے میں پاکستان کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ نائب وزیر اعظم خوسنلین نے خطے کی مشترکہ ترقی اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے روس کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے قازان فورم میں پاکستان کی شرکت کا خیرمقدم کیا اور اقتصادی، ثقافتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272811</guid>
      <pubDate>Sun, 18 May 2025 09:24:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/18092403eacc62e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/18092403eacc62e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
