<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 14 Aug 2026 02:09:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 14 Aug 2026 02:09:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کی پاکستان کی معاشی بحالی کی حمایت، پروگرام پر عملدرآمد کو بہتری کا باعث قرار دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272809/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے پروگرام پر مؤثر عملدرآمد کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں مالیاتی اور بیرونی شعبوں کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور معاشی بحالی کا سلسلہ برقرار رہا ہے۔ادارے کی اسٹاف رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 1.4 ارب ڈالر کا ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) پاکستان کو شدید موسمی حالات کے خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گا، جس سے میکرو اکنامک استحکام اور مالیاتی پائیداری کو تقویت ملے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف پہلے ہی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کا پہلا جائزہ مکمل کر چکا ہے، جس کے بعد ایک ارب ڈالر کی فوری رقم جاری کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کی بھی منظوری دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق  یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان معیشت کو مستحکم کرنے، مہنگائی میں کمی لانے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بحال کرنے میں پیش رفت دکھا رہا ہے، اگرچہ خطرات اب بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2024 میں منظور کیے گئے پاکستان کے 37 ماہ کے ای ایف ایف پروگرام کا مقصد مالی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور توانائی کے شعبے کی بہتری کے ذریعے میکرو اکنامک استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی کے 2.0 فیصد کے برابر پرائمری سرپلس حاصل کر لیا ہے، جو سال کے اختتام تک مقررہ ہدف کے حصول کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2025 میں مہنگائی کم ہو کر تاریخی سطح یعنی 0.3 فیصد پر آ گئی، جس کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2024 سے اب تک پالیسی ریٹ میں 1,100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائیجل کلارک نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، جیوپولیٹیکل کشیدگیاں اور اندرونی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں، جو خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1.4 ارب ڈالر مالیت کی آر ایس ایف سہولت پاکستان کی معیشت کو بار بار متاثر کرنے والے موسمیاتی جھٹکوں کے مقابلے میں ملک کی مزاحمت کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف کے تحت اصلاحات کا مرکز پانی کے وسائل کے مؤثر انتظام، قدرتی آفات کے ردعمل میں ہم آہنگی کو بہتر بنانے، اور موسمیاتی خطرات سے متعلق مالیاتی انکشافات کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان شدید موسمی حالات کا سب سے زیادہ شکار ممالک میں شمار ہوتا ہے، جیسا کہ 2022 کے تباہ کن سیلابوں میں واضح ہوا۔ آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ موسمیاتی مطابقت (کلائمٹ ایڈیپٹیشن) ملک کے طویل مدتی استحکام کے لیے ”انتہائی اہم معاشی عنصر“ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے پروگرام پر مؤثر عملدرآمد کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں مالیاتی اور بیرونی شعبوں کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور معاشی بحالی کا سلسلہ برقرار رہا ہے۔ادارے کی اسٹاف رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 1.4 ارب ڈالر کا ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) پاکستان کو شدید موسمی حالات کے خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گا، جس سے میکرو اکنامک استحکام اور مالیاتی پائیداری کو تقویت ملے گی۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف پہلے ہی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کا پہلا جائزہ مکمل کر چکا ہے، جس کے بعد ایک ارب ڈالر کی فوری رقم جاری کر دی گئی ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کی بھی منظوری دی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق  یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان معیشت کو مستحکم کرنے، مہنگائی میں کمی لانے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بحال کرنے میں پیش رفت دکھا رہا ہے، اگرچہ خطرات اب بھی موجود ہیں۔</p>
<p>ستمبر 2024 میں منظور کیے گئے پاکستان کے 37 ماہ کے ای ایف ایف پروگرام کا مقصد مالی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور توانائی کے شعبے کی بہتری کے ذریعے میکرو اکنامک استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی کے 2.0 فیصد کے برابر پرائمری سرپلس حاصل کر لیا ہے، جو سال کے اختتام تک مقررہ ہدف کے حصول کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p>اپریل 2025 میں مہنگائی کم ہو کر تاریخی سطح یعنی 0.3 فیصد پر آ گئی، جس کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2024 سے اب تک پالیسی ریٹ میں 1,100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائیجل کلارک نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، جیوپولیٹیکل کشیدگیاں اور اندرونی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں، جو خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p>1.4 ارب ڈالر مالیت کی آر ایس ایف سہولت پاکستان کی معیشت کو بار بار متاثر کرنے والے موسمیاتی جھٹکوں کے مقابلے میں ملک کی مزاحمت کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔</p>
<p>آر ایس ایف کے تحت اصلاحات کا مرکز پانی کے وسائل کے مؤثر انتظام، قدرتی آفات کے ردعمل میں ہم آہنگی کو بہتر بنانے، اور موسمیاتی خطرات سے متعلق مالیاتی انکشافات کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>پاکستان شدید موسمی حالات کا سب سے زیادہ شکار ممالک میں شمار ہوتا ہے، جیسا کہ 2022 کے تباہ کن سیلابوں میں واضح ہوا۔ آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ موسمیاتی مطابقت (کلائمٹ ایڈیپٹیشن) ملک کے طویل مدتی استحکام کے لیے ”انتہائی اہم معاشی عنصر“ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272809</guid>
      <pubDate>Sat, 17 May 2025 21:43:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/172136547d5cc8e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="681" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/172136547d5cc8e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
