<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان ایک اچھی کہانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272806/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان، جو اس وقت بین الاقوامی تجزیہ کاروں کی جانب سے اپنی معاشی بحالی کو ”اچھی کہانی“ قرار دیے جانے کی خوش فہمی میں مبتلا دکھائی دیتا ہے، کو ان متعدد بنیادی اور اہم عوامل کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جو اس کی معیشت کی پائیداری کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”پاکستان ایک اچھی کہانی ہے،“ سینڈ گلاس کیپیٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر، جینا لوزوفسکی کے حوالے سے بیرونز نے لکھا۔ ”یہ اتنی اچھی کہانی ہے کہ اب ہمارے لیے کافی ’رسک والی‘ نہیں رہی۔“ ایک اور تجزیہ کار، ایلیسن گراہم، جو فرنٹیئر مارکیٹس کی ماہر کمپنی وولٹن کیپیٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر ہیں، نے کہا: ”سبھی کو لگا تھا کہ پاکستان 2023 میں سری لنکا کے ساتھ ڈیفالٹ کر جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امید کی فضا موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک احتیاطی نوٹ بھی ہے۔ ایک مارکیٹ تجزیہ کار نے ایک واضح سوال کے جواب میں خبردار کیا: ”بھارت کے ساتھ کشیدگی شاید پاکستان کی معاشی بحالی کو پٹڑی سے نہ اتارے، لیکن خود پاکستان کی ناپائیدار بنیادیں ایسا کر سکتی ہیں۔“ بیرنگز میں خودمختار قرضوں کے منیجر، خالد سلیمی کے مطابق ”پاکستان اپنی تاریخ میں بارہا معاشی اُتار چڑھاؤ(بوم اینڈ بسٹ سائیکلز) کا شکار رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ”سب اچھا“ کی خوش فہمی کے پیچھے کئی ایسے چیلنجز چھپے ہوئے ہیں جو ملکی معیشت کی پائیداری کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کار کی نشاندہی کے مطابق، پاکستان کی تاریخ میں بار بار آنے والے معاشی اتار چڑھاؤ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جب بھی ملک میں بہتری کی کوئی لہر آتی ہے تو ہم خوش فہمی میں مبتلا ہو کر اپنی معیشت میں موجود بنیادی خرابیاں اور مالی نظم و ضبط کی کمزوریاں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، جب معیشت کچھ حد تک سنبھلنے لگتی ہے تو اصلاحات اور استحکام کے مشکل مگر ضروری اقدامات کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ معاشی بحالی کی خوشی مناتے ہوئے ریاستی اداروں کو ان کمزوریوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے جو ہمیں دوبارہ ایک بحران کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر تناظر میں، ملک کی بڑی آبادی پر معیشت کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اندازہ ہے کہ مالی سال 2024 میں نچلے درمیانے درجے کی آمدنی رکھنے والے افراد میں غربت کی شرح 42.3 فیصد رہی (یومیہ 3.65 امریکی ڈالر، 2017 کی قوتِ خرید کے حساب سے)، اور صرف ایک سال میں مزید 26 لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ یہ شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے برعکس، خطے کے دیگر ممالک مسلسل معاشی ترقی کے ذریعے غربت پر قابو پانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو غربت پر قابو پانے کے لیے آئندہ کئی برسوں تک مسلسل 6 فیصد سے زیادہ معاشی ترقی کی ضرورت ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں اس کا مستقبل قریب میں کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;تخمینوں کے مطابق، پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں بتدریج بہتری کی توقع ہے، تاہم یہ بہتری محدود رہے گی۔ مالی سال 2025 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 2.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جسے نجی کھپت اور سرمایہ کاری میں بہتری سہارا دے گی۔ اس کی وجہ کم افراطِ زر، ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور نجی شعبے کو ملنے والے قرضوں میں بہتری بتائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 میں شرح نمو 3.2 فیصد اور 2027 میں 3.5 فیصد تک بڑھنے کی امید ہے، لیکن سخت معاشی پالیسیوں کی وجہ سے یہ نمو محدود رہے گی۔ ان پالیسیوں کا مقصد مالی خسارے اور بیرونی کھاتوں میں توازن پیدا کرنا اور معاشی عدم توازن کے خطرات کو کم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے معاشی استحکام اور اہم ساختی اصلاحات کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ تاہم، خطرات بدستور برقرار ہیں۔ ان میں بلند قرضوں کی سطح، بھاری سود کی ادائیگیاں، مالی خسارے (جو مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 6.7 فیصد تک رہنے کا تخمینہ ہے)، مالیاتی شعبے کے خطرات، پالیسی میں غیر یقینی صورتحال اور بیرونی دباؤ شامل ہیں، جو معیشت کے لیے نمایاں خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو عوامل تاحال بڑے پیمانے پر نظر انداز کیے جا رہے ہیں اور معیشت کی سست اور غیر یقینی نمو کا سبب بن رہے ہیں، ان میں مالی طور پر غیر مستحکم توانائی کا شعبہ شامل ہے، جو گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے؛ اس کے ساتھ ساتھ گہری ساختی اصلاحات، تجارتی آزادی، معیشت میں ریاستی عمل دخل میں کمی، اور کاروباری ماحول کی رکاوٹوں کا حل بھی شامل ہے۔ یہ تمام عناصر ملکی ترقی کو کمزور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کچھ شعبے سیاسی مصلحتوں کے تحت جان بوجھ کر روک کر رکھے گئے ہیں، جن میں خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری، زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنا اور حکومت کے غیر ضروری اخراجات شامل ہیں۔ اگر پاکستان کو پائیدار ترقی حاصل کرنی ہے تو ان تمام ”مقدس گائے“ جیسے شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت معاشی اتار چڑھاؤ کے ایک نازک راستے پر گامزن  ہے اور فی الحال اس الجھن سے نکلنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ تاہم  ملک ایک بار پھر ترقی کی ابتدائی سطح پر کھڑا ہے اور اگر یہ اپنے گھر کو درست کرلے، یعنی بنیادی اصلاحات کر لے، تو اس نمو کو برقرار رکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان، جو اس وقت بین الاقوامی تجزیہ کاروں کی جانب سے اپنی معاشی بحالی کو ”اچھی کہانی“ قرار دیے جانے کی خوش فہمی میں مبتلا دکھائی دیتا ہے، کو ان متعدد بنیادی اور اہم عوامل کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جو اس کی معیشت کی پائیداری کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>”پاکستان ایک اچھی کہانی ہے،“ سینڈ گلاس کیپیٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر، جینا لوزوفسکی کے حوالے سے بیرونز نے لکھا۔ ”یہ اتنی اچھی کہانی ہے کہ اب ہمارے لیے کافی ’رسک والی‘ نہیں رہی۔“ ایک اور تجزیہ کار، ایلیسن گراہم، جو فرنٹیئر مارکیٹس کی ماہر کمپنی وولٹن کیپیٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر ہیں، نے کہا: ”سبھی کو لگا تھا کہ پاکستان 2023 میں سری لنکا کے ساتھ ڈیفالٹ کر جائے گا۔“</p>
<p>اگرچہ امید کی فضا موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک احتیاطی نوٹ بھی ہے۔ ایک مارکیٹ تجزیہ کار نے ایک واضح سوال کے جواب میں خبردار کیا: ”بھارت کے ساتھ کشیدگی شاید پاکستان کی معاشی بحالی کو پٹڑی سے نہ اتارے، لیکن خود پاکستان کی ناپائیدار بنیادیں ایسا کر سکتی ہیں۔“ بیرنگز میں خودمختار قرضوں کے منیجر، خالد سلیمی کے مطابق ”پاکستان اپنی تاریخ میں بارہا معاشی اُتار چڑھاؤ(بوم اینڈ بسٹ سائیکلز) کا شکار رہا ہے۔“</p>
<p>پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ”سب اچھا“ کی خوش فہمی کے پیچھے کئی ایسے چیلنجز چھپے ہوئے ہیں جو ملکی معیشت کی پائیداری کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کار کی نشاندہی کے مطابق، پاکستان کی تاریخ میں بار بار آنے والے معاشی اتار چڑھاؤ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جب بھی ملک میں بہتری کی کوئی لہر آتی ہے تو ہم خوش فہمی میں مبتلا ہو کر اپنی معیشت میں موجود بنیادی خرابیاں اور مالی نظم و ضبط کی کمزوریاں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، جب معیشت کچھ حد تک سنبھلنے لگتی ہے تو اصلاحات اور استحکام کے مشکل مگر ضروری اقدامات کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ معاشی بحالی کی خوشی مناتے ہوئے ریاستی اداروں کو ان کمزوریوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے جو ہمیں دوبارہ ایک بحران کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔</p>
<p>وسیع تر تناظر میں، ملک کی بڑی آبادی پر معیشت کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اندازہ ہے کہ مالی سال 2024 میں نچلے درمیانے درجے کی آمدنی رکھنے والے افراد میں غربت کی شرح 42.3 فیصد رہی (یومیہ 3.65 امریکی ڈالر، 2017 کی قوتِ خرید کے حساب سے)، اور صرف ایک سال میں مزید 26 لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ یہ شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے برعکس، خطے کے دیگر ممالک مسلسل معاشی ترقی کے ذریعے غربت پر قابو پانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو غربت پر قابو پانے کے لیے آئندہ کئی برسوں تک مسلسل 6 فیصد سے زیادہ معاشی ترقی کی ضرورت ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں اس کا مستقبل قریب میں کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔</p>
</blockquote>
<p>تخمینوں کے مطابق، پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں بتدریج بہتری کی توقع ہے، تاہم یہ بہتری محدود رہے گی۔ مالی سال 2025 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 2.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جسے نجی کھپت اور سرمایہ کاری میں بہتری سہارا دے گی۔ اس کی وجہ کم افراطِ زر، ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور نجی شعبے کو ملنے والے قرضوں میں بہتری بتائی جا رہی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026 میں شرح نمو 3.2 فیصد اور 2027 میں 3.5 فیصد تک بڑھنے کی امید ہے، لیکن سخت معاشی پالیسیوں کی وجہ سے یہ نمو محدود رہے گی۔ ان پالیسیوں کا مقصد مالی خسارے اور بیرونی کھاتوں میں توازن پیدا کرنا اور معاشی عدم توازن کے خطرات کو کم کرنا ہے۔</p>
<p>حکومت نے معاشی استحکام اور اہم ساختی اصلاحات کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ تاہم، خطرات بدستور برقرار ہیں۔ ان میں بلند قرضوں کی سطح، بھاری سود کی ادائیگیاں، مالی خسارے (جو مالی سال 2025 میں جی ڈی پی کے 6.7 فیصد تک رہنے کا تخمینہ ہے)، مالیاتی شعبے کے خطرات، پالیسی میں غیر یقینی صورتحال اور بیرونی دباؤ شامل ہیں، جو معیشت کے لیے نمایاں خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔</p>
<p>جو عوامل تاحال بڑے پیمانے پر نظر انداز کیے جا رہے ہیں اور معیشت کی سست اور غیر یقینی نمو کا سبب بن رہے ہیں، ان میں مالی طور پر غیر مستحکم توانائی کا شعبہ شامل ہے، جو گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے؛ اس کے ساتھ ساتھ گہری ساختی اصلاحات، تجارتی آزادی، معیشت میں ریاستی عمل دخل میں کمی، اور کاروباری ماحول کی رکاوٹوں کا حل بھی شامل ہے۔ یہ تمام عناصر ملکی ترقی کو کمزور کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ کچھ شعبے سیاسی مصلحتوں کے تحت جان بوجھ کر روک کر رکھے گئے ہیں، جن میں خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری، زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنا اور حکومت کے غیر ضروری اخراجات شامل ہیں۔ اگر پاکستان کو پائیدار ترقی حاصل کرنی ہے تو ان تمام ”مقدس گائے“ جیسے شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔</p>
<p>پاکستان اس وقت معاشی اتار چڑھاؤ کے ایک نازک راستے پر گامزن  ہے اور فی الحال اس الجھن سے نکلنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ تاہم  ملک ایک بار پھر ترقی کی ابتدائی سطح پر کھڑا ہے اور اگر یہ اپنے گھر کو درست کرلے، یعنی بنیادی اصلاحات کر لے، تو اس نمو کو برقرار رکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272806</guid>
      <pubDate>Sat, 17 May 2025 18:25:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/171736582c7a907.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/171736582c7a907.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
