<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 09:09:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Jul 2026 09:09:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترک کمپنی سیلیبی کا بھارت کے خلاف سیکیورٹی کلیئرنس کی بلاجواز منسوخی پر مقدمہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272786/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترکی کی کمپنی سیلیبی، جو بھارت میں ہوائی اڈوں کی گراؤنڈ ہینڈلنگ خدمات فراہم کرتی ہے، نے نئی دہلی کے اس فیصلے کے خلاف قانونی مقدمہ دائر کیا ہے جس میں اس کی سیکیورٹی کلیئرنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کوئی وجہ بتائے بغیر بھارت نے قومی سیکیورٹی کے مبہم خدشات کی بنا پر کلیئرنس منسوخ کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بھارت تنازع میں ترکی کی جانب سے پاکستان کی حمایت کرنے پر بھارت میں بڑھتے ہوئے عوامی اشتعال کے درمیان، بھارتی حکومت نے جمعرات کو سیلیبی کی سیکیورٹی کلیئرنس کو ”قومی سلامتی کے مفاد“ میں منسوخ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلیبی ایئرپورٹ سروسز انڈیا نے 16 مئی کو دائر کی گئی ایک درخواست میں دہلی ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ اس کا اثر 3,791 ملازمتوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑے گا اور یہ فیصلہ کمپنی کو کسی بھی انتباہ کے بغیر جاری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ”صرف قومی سلامتی کی بات کرنا اور یہ وضاحت نہ دینا کہ کس طرح کوئی ادارہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، قانون کے تحت برقرار نہیں رہ سکتا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا ہے کہ اس حکم میں ”صرف ایک مبہم اور عام حوالہ ’قومی سلامتی‘ کے علاوہ کوئی خاص یا اہم وجہ بیان نہیں کی گئی… (اس میں) کوئی وجوہات یا وضاحت نہیں دی گئی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکومت نے فوری طور پر اس درخواست پر تبصرہ کرنے کا جواب نہیں دیا۔ امکان ہے کہ یہ کیس پیر کو سنا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی درخواست میں سیلیبی نے کہا ہے کہ اگرچہ اس کے شیئر ہولڈرز ترکی میں رجسٹرڈ ہیں لیکن گروپ کا ”اکثریتی کنٹرول“ ایسی کمپنیوں کے پاس ہے جن کی ترکی کے ساتھ کوئی قانونی یا ملکیتی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو سیلیبی کی سیکیورٹی کلیئرنس کی منسوخی کے دوران، بھارت کے جونیئر وزیر ہوا بازی مرل دھر مہول نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر کہا ہے کہ حکومت کو بھارت بھر سے سیلیبی پر پابندی لگانے کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ انہوں نے کہا، ”اس مسئلے کی سنگینی اور قومی مفادات کے تحفظ کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے ہم نے ان درخواستوں کا نوٹس لیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیو سینا پارٹی، جو مودی کی حکومت کا اہم اتحادی ہے، نے اس ہفتے ممبئی میں سیلیبی کے خلاف احتجاج کیا اور شہر کے ہوائی اڈے سے اس کا تعلق ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلیبی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ نئی دہلی، کیرالہ، بنگلورو، حیدرآباد اور گووا کے ہوائی اڈوں پر گراؤنڈ ہینڈلنگ خدمات فراہم کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ بھارت میں خدمات شروع کرنے سے پہلے اس کی مختلف قومی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے پس منظر کی جانچ اور سیکیورٹی کی تصدیق کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو دیرگئے دہلی ایئرپورٹ نے ایکس ( سابق ٹوئٹر) پر کہا ہے کہ اس نے ”سیلیبی کے ساتھ اپنی رسمی شراکت داری ختم کر دی ہے“ جو گراؤنڈ ہینڈلنگ اور کارگو آپریشنز سے متعلق تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو رائٹرز نے خبر دی کہ ایئر انڈیا بھارتی حکام سے درخواست کر رہا تھا کہ انڈیگو کے ترک ایئرلائنز کے ساتھ لیزنگ تعلقات کو روک دیا جائے، اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہ اس سے کاروباری اثرات کے ساتھ ساتھ استنبول کی پاکستان کی حمایت سے سیکیورٹی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترکی کی کمپنی سیلیبی، جو بھارت میں ہوائی اڈوں کی گراؤنڈ ہینڈلنگ خدمات فراہم کرتی ہے، نے نئی دہلی کے اس فیصلے کے خلاف قانونی مقدمہ دائر کیا ہے جس میں اس کی سیکیورٹی کلیئرنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کوئی وجہ بتائے بغیر بھارت نے قومی سیکیورٹی کے مبہم خدشات کی بنا پر کلیئرنس منسوخ کی ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان بھارت تنازع میں ترکی کی جانب سے پاکستان کی حمایت کرنے پر بھارت میں بڑھتے ہوئے عوامی اشتعال کے درمیان، بھارتی حکومت نے جمعرات کو سیلیبی کی سیکیورٹی کلیئرنس کو ”قومی سلامتی کے مفاد“ میں منسوخ کر دیا۔</p>
<p>سیلیبی ایئرپورٹ سروسز انڈیا نے 16 مئی کو دائر کی گئی ایک درخواست میں دہلی ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ اس کا اثر 3,791 ملازمتوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑے گا اور یہ فیصلہ کمپنی کو کسی بھی انتباہ کے بغیر جاری کیا گیا تھا۔</p>
<p>کمپنی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ”صرف قومی سلامتی کی بات کرنا اور یہ وضاحت نہ دینا کہ کس طرح کوئی ادارہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، قانون کے تحت برقرار نہیں رہ سکتا۔“</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا ہے کہ اس حکم میں ”صرف ایک مبہم اور عام حوالہ ’قومی سلامتی‘ کے علاوہ کوئی خاص یا اہم وجہ بیان نہیں کی گئی… (اس میں) کوئی وجوہات یا وضاحت نہیں دی گئی۔“</p>
<p>بھارتی حکومت نے فوری طور پر اس درخواست پر تبصرہ کرنے کا جواب نہیں دیا۔ امکان ہے کہ یہ کیس پیر کو سنا جائے گا۔</p>
<p>اپنی درخواست میں سیلیبی نے کہا ہے کہ اگرچہ اس کے شیئر ہولڈرز ترکی میں رجسٹرڈ ہیں لیکن گروپ کا ”اکثریتی کنٹرول“ ایسی کمپنیوں کے پاس ہے جن کی ترکی کے ساتھ کوئی قانونی یا ملکیتی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>جمعرات کو سیلیبی کی سیکیورٹی کلیئرنس کی منسوخی کے دوران، بھارت کے جونیئر وزیر ہوا بازی مرل دھر مہول نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر کہا ہے کہ حکومت کو بھارت بھر سے سیلیبی پر پابندی لگانے کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ انہوں نے کہا، ”اس مسئلے کی سنگینی اور قومی مفادات کے تحفظ کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے ہم نے ان درخواستوں کا نوٹس لیا ہے۔“</p>
<p>شیو سینا پارٹی، جو مودی کی حکومت کا اہم اتحادی ہے، نے اس ہفتے ممبئی میں سیلیبی کے خلاف احتجاج کیا اور شہر کے ہوائی اڈے سے اس کا تعلق ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>سیلیبی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ نئی دہلی، کیرالہ، بنگلورو، حیدرآباد اور گووا کے ہوائی اڈوں پر گراؤنڈ ہینڈلنگ خدمات فراہم کر رہا تھا۔</p>
<p>ترک کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ بھارت میں خدمات شروع کرنے سے پہلے اس کی مختلف قومی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے پس منظر کی جانچ اور سیکیورٹی کی تصدیق کی گئی تھی۔</p>
<p>جمعرات کو دیرگئے دہلی ایئرپورٹ نے ایکس ( سابق ٹوئٹر) پر کہا ہے کہ اس نے ”سیلیبی کے ساتھ اپنی رسمی شراکت داری ختم کر دی ہے“ جو گراؤنڈ ہینڈلنگ اور کارگو آپریشنز سے متعلق تھی۔</p>
<p>جمعہ کو رائٹرز نے خبر دی کہ ایئر انڈیا بھارتی حکام سے درخواست کر رہا تھا کہ انڈیگو کے ترک ایئرلائنز کے ساتھ لیزنگ تعلقات کو روک دیا جائے، اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہ اس سے کاروباری اثرات کے ساتھ ساتھ استنبول کی پاکستان کی حمایت سے سیکیورٹی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272786</guid>
      <pubDate>Fri, 16 May 2025 21:56:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/16213400a4d2ebb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/16213400a4d2ebb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
