<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 17:04:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 12 Aug 2026 17:04:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریونیو ٹارگٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272759/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان 2019 سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام پر ہے، جسے دو بار معطل کیا گیا — پہلی بار کووڈ-19 عالمی وبا کے دوران (2020) اور دوسری بار اکتوبر 2022 سے جون 2023 تک، جب اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے متفقہ شرائط کی خلاف ورزی کی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکام نے ایک قیمتی اور مہنگا سبق سیکھا، جس کا بوجھ بدقسمت عوام پر پڑا، کہ آئی ایم ایف نہ تو سخت ابتدائی شرائط میں نرمی کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی سہ ماہی جائزوں میں کوئی استثنیٰ دیتا ہے، کیونکہ ہمارے ملک کی تاریخ میں سیاسی اعتبار سے مشکل شرائط پر عملدرآمد نہ ہونے یا آئی ایم ایف کے اصلاحاتی اقدامات کو پروگرام کے اختتام پر واپس لینے کا ریکارڈ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ بعد کے دو پروگرامز — جولائی 2023 میں 3 ارب ڈالر کا نو ماہ پر محیط اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ جو نگراں حکومت کے دورانیے کے لیے تھا، اور فروری کے انتخابات کے بعد 36 ماہ پر محیط 7 ارب ڈالر کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی پروگرام — نافذ کیے گئے۔ تاہم، ان پروگراموں میں کچھ ڈیزائن کی خامیاں موجود ہیں خاص طور پر زیر التوا ٹیکس اور توانائی شعبے کی اصلاحات کے حوالے سے جنہیں امید کی جاتی ہے کہ بجٹ 2025-26 میں آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام مناسب طریقے سے حل کریں گے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک کی ٹیکس اصلاحات کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ انداز میں اوسطاً 40 فیصد ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 833 ارب روپے کے خسارے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ خسارہ اس کے باوجود سامنے آیا کہ بورڈ نے آسان اہداف کو ترجیح دی، خاص طور پر موجودہ ٹیکس دہندگان پر اضافی ٹیکس لگانا اور سیلز ٹیکس کے انداز میں ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کرنا، جو ایک ان ڈائریکٹ ٹیکس ہے اور اس کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید کی جاتی ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ، شفاف اور متوازن بنانے پر خاص توجہ دی جائے گی۔ اس کے لیے تمام صوبائی اسمبلیوں کی جانب سے منظور شدہ امیر جاگیرداروں کی آمدنی پر ٹیکس کو یکم جولائی سے نافذ کیا جائے، جو یکم جنوری 2025 سے مؤثر ہوگا،  تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ جاگیرداروں کی آمدنی کا اندازہ لگانے کے طریقہ کار کو ابھی تک حل نہیں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال سے تاجروں پر ٹیکس عائد کرنے کا منصوبہ ہے، جو عالمی مالیاتی فنڈ کو دوبارہ کیے گئے وعدے کا حصہ ہے۔ تاہم، ماضی کی متعدد حکومتیں بشمول موجودہ انتظامیہ نے اس شعبے پر ٹیکس نافذ کرنے کی کوشش کی، لیکن تاجروں کی مضبوط سیاسی و سماجی قوت کے باعث یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی شعبے کی اصلاحات ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں، تاہم رپورٹس کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے ایسے قرضے لینے کی منظوری دے دی ہے جو بینکوں سے لیے جائیں گے، جو پہلے ہی انرجی سیکٹر میں بہت زیادہ پھنسے ہوئے ہیں، تاکہ 2.3 کھرب روپے سے زائد کے سرکلر قرضے کو کم کیا جا سکے۔ اس قرض کے سود کی ادائیگی صارفین پر ڈال دی جائے گی۔ اس حوالے سے دو اہم نکات قابل توجہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا 2013 میں اسحاق ڈار کے قیادت والے وزارت خزانہ نے بینکوں پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ اس مقصد کے لیے قرضہ دیں، لیکن آج تک وہ قرضہ ادا نہیں ہوا جبکہ اس قرض کی سود کی ادائیگی صارفین کر رہے ہیں۔ دوسرا، یہ تجویز گزشتہ سال نگراں حکومت کے دوران بھی دی گئی تھی مگر آئی ایم ایف نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم رپورٹس کے مطابق اب بینکوں کو کم شرح سود پر توانائی کے شعبے کو قرض دینے پر قائل کر لیا گیا ہے، اسی لیےآئی ایم ایف نے بالآخر اس تجویز کو قبول کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ بجلی کے نرخوں میں کمی آئی ہے، جو آزاد پاور پروڈیوسرز کے ساتھ معاہدوں کی دوبارہ گفت و شنید کے بعد متوقع بچتوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ تاہم، یہ تخمینے مستقبل کے لیے ہیں اور اب تک چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پاور پروجیکٹس کے شیڈول میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس لیے یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ بچتیں حقیقت میں سامنے آئیں گی یا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ضائع ہو جائیں گی:(i) شعبے میں حکمرانی بہتر بنانے سمیت دیگر اصلاحات کرنے میں نااہلی، جس میں بھاری ترسیلی اور تقسیم کے نقصانات شامل ہیں؛(ii) نیٹ میٹرنگ کے نرخوں کے حوالے سے مناسب اقدامات نہ کرنا؛(iii) سالانہ نصف کھرب روپے کے بجٹ میں شامل ٹیرف کی سبسڈی ختم کرنے میں ناکامی، جو مالی سال 2026-27 کے لیے مقرر ہے اور ایک سیاسی حساس موضوع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ غور ہے کہ اب تک کی اصلاحات، جیسا کہ پچھلے آئی ایم ایف پروگرامز میں ہوتا آیا ہے، بنیادی طور پر بوجھ صارفین پر ڈالنے پر مرکوز رہی ہیں، اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ ٹیکس اور توانائی کے شعبے کی اصلاحات کے اخراجات اب اشرافیہ برداشت کرنا شروع کرے، اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب موجودہ اخراجات میں خاطر خواہ کمی کی جائے نہ کہ محض زیادہ ٹیکس وصولیوں اور قرضوں پر انحصار کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان 2019 سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام پر ہے، جسے دو بار معطل کیا گیا — پہلی بار کووڈ-19 عالمی وبا کے دوران (2020) اور دوسری بار اکتوبر 2022 سے جون 2023 تک، جب اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے متفقہ شرائط کی خلاف ورزی کی تھی۔</strong></p>
<p>پاکستانی حکام نے ایک قیمتی اور مہنگا سبق سیکھا، جس کا بوجھ بدقسمت عوام پر پڑا، کہ آئی ایم ایف نہ تو سخت ابتدائی شرائط میں نرمی کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی سہ ماہی جائزوں میں کوئی استثنیٰ دیتا ہے، کیونکہ ہمارے ملک کی تاریخ میں سیاسی اعتبار سے مشکل شرائط پر عملدرآمد نہ ہونے یا آئی ایم ایف کے اصلاحاتی اقدامات کو پروگرام کے اختتام پر واپس لینے کا ریکارڈ موجود ہے۔</p>
<p>لہٰذا اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ بعد کے دو پروگرامز — جولائی 2023 میں 3 ارب ڈالر کا نو ماہ پر محیط اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ جو نگراں حکومت کے دورانیے کے لیے تھا، اور فروری کے انتخابات کے بعد 36 ماہ پر محیط 7 ارب ڈالر کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی پروگرام — نافذ کیے گئے۔ تاہم، ان پروگراموں میں کچھ ڈیزائن کی خامیاں موجود ہیں خاص طور پر زیر التوا ٹیکس اور توانائی شعبے کی اصلاحات کے حوالے سے جنہیں امید کی جاتی ہے کہ بجٹ 2025-26 میں آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام مناسب طریقے سے حل کریں گے ۔</p>
<p>اب تک کی ٹیکس اصلاحات کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ انداز میں اوسطاً 40 فیصد ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 833 ارب روپے کے خسارے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ خسارہ اس کے باوجود سامنے آیا کہ بورڈ نے آسان اہداف کو ترجیح دی، خاص طور پر موجودہ ٹیکس دہندگان پر اضافی ٹیکس لگانا اور سیلز ٹیکس کے انداز میں ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کرنا، جو ایک ان ڈائریکٹ ٹیکس ہے اور اس کا بوجھ غریب طبقے پر امیر طبقے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پڑتا ہے۔</p>
<p>امید کی جاتی ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ، شفاف اور متوازن بنانے پر خاص توجہ دی جائے گی۔ اس کے لیے تمام صوبائی اسمبلیوں کی جانب سے منظور شدہ امیر جاگیرداروں کی آمدنی پر ٹیکس کو یکم جولائی سے نافذ کیا جائے، جو یکم جنوری 2025 سے مؤثر ہوگا،  تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ جاگیرداروں کی آمدنی کا اندازہ لگانے کے طریقہ کار کو ابھی تک حل نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال سے تاجروں پر ٹیکس عائد کرنے کا منصوبہ ہے، جو عالمی مالیاتی فنڈ کو دوبارہ کیے گئے وعدے کا حصہ ہے۔ تاہم، ماضی کی متعدد حکومتیں بشمول موجودہ انتظامیہ نے اس شعبے پر ٹیکس نافذ کرنے کی کوشش کی، لیکن تاجروں کی مضبوط سیاسی و سماجی قوت کے باعث یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔</p>
<p>توانائی شعبے کی اصلاحات ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں، تاہم رپورٹس کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے ایسے قرضے لینے کی منظوری دے دی ہے جو بینکوں سے لیے جائیں گے، جو پہلے ہی انرجی سیکٹر میں بہت زیادہ پھنسے ہوئے ہیں، تاکہ 2.3 کھرب روپے سے زائد کے سرکلر قرضے کو کم کیا جا سکے۔ اس قرض کے سود کی ادائیگی صارفین پر ڈال دی جائے گی۔ اس حوالے سے دو اہم نکات قابل توجہ ہیں۔</p>
<p>پہلا 2013 میں اسحاق ڈار کے قیادت والے وزارت خزانہ نے بینکوں پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ اس مقصد کے لیے قرضہ دیں، لیکن آج تک وہ قرضہ ادا نہیں ہوا جبکہ اس قرض کی سود کی ادائیگی صارفین کر رہے ہیں۔ دوسرا، یہ تجویز گزشتہ سال نگراں حکومت کے دوران بھی دی گئی تھی مگر آئی ایم ایف نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم رپورٹس کے مطابق اب بینکوں کو کم شرح سود پر توانائی کے شعبے کو قرض دینے پر قائل کر لیا گیا ہے، اسی لیےآئی ایم ایف نے بالآخر اس تجویز کو قبول کر لیا ہے۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ بجلی کے نرخوں میں کمی آئی ہے، جو آزاد پاور پروڈیوسرز کے ساتھ معاہدوں کی دوبارہ گفت و شنید کے بعد متوقع بچتوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ تاہم، یہ تخمینے مستقبل کے لیے ہیں اور اب تک چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے پاور پروجیکٹس کے شیڈول میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس لیے یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ بچتیں حقیقت میں سامنے آئیں گی یا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ضائع ہو جائیں گی:(i) شعبے میں حکمرانی بہتر بنانے سمیت دیگر اصلاحات کرنے میں نااہلی، جس میں بھاری ترسیلی اور تقسیم کے نقصانات شامل ہیں؛(ii) نیٹ میٹرنگ کے نرخوں کے حوالے سے مناسب اقدامات نہ کرنا؛(iii) سالانہ نصف کھرب روپے کے بجٹ میں شامل ٹیرف کی سبسڈی ختم کرنے میں ناکامی، جو مالی سال 2026-27 کے لیے مقرر ہے اور ایک سیاسی حساس موضوع ہے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ غور ہے کہ اب تک کی اصلاحات، جیسا کہ پچھلے آئی ایم ایف پروگرامز میں ہوتا آیا ہے، بنیادی طور پر بوجھ صارفین پر ڈالنے پر مرکوز رہی ہیں، اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ ٹیکس اور توانائی کے شعبے کی اصلاحات کے اخراجات اب اشرافیہ برداشت کرنا شروع کرے، اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب موجودہ اخراجات میں خاطر خواہ کمی کی جائے نہ کہ محض زیادہ ٹیکس وصولیوں اور قرضوں پر انحصار کیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272759</guid>
      <pubDate>Fri, 16 May 2025 11:04:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/161055599d70491.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/161055599d70491.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
