<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:21:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:21:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا اب تک کا سب سے بڑا سرپرائز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272733/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب ڈونلڈ ٹرمپ 2025 میں دوبارہ صدر بنے، تو دنیا نے پھر سے اُن کے غیر متوقع فیصلوں کے لیے خود کو تیار کر لیا۔ اُن کی مشہور زمانہ پالیسی میں اتار چڑھاؤ اور غیر متوقع ذاتی بیانات کی وجہ سے بہت کم لوگ اُن کے اگلے قدم کی پیش گوئی کر سکے ہیں۔ مگر اس نئی صدارت کی کئی حیرتوں میں سے شاید سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ وہ اسرائیل—خاص طور پر نیتن یاہو—کو نظر انداز کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، اور یہ رویہ دہائیوں پرانی سفارتی روایات کے برعکس ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا حالیہ دورۂ خلیج پہلے ہی تنازع کا باعث بن چکا ہے۔ اُن کے شیڈول میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل تھے، لیکن اسرائیل واضح طور پر نظر انداز کیا گیا۔ اور سب جانتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے اس اہم سفارتی دورے سے یہودی ریاست کو باہر رکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق ترجیحات شاید بدل رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، اسرائیل طویل عرصے سے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک مرکزی کردار رہا ہے، خاص طور پر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں، جہاں وہ نیتن یاہو کی حکومت اور پالیسیوں کی غیر متزلزل حمایت پر سراہا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ پیش رفت—یعنی ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو امریکی خارجہ پالیسی میں نظر انداز کرنا—یہ سوالات اُٹھاتی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کا مستقبل کیا ہوگا اور ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے لیے کیا نیا وژن رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی حکام نہ صرف حیران ہیں بلکہ اس سفارتی نظراندازی پر فکرمند بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے اندر بے چینی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے اور اطلاعات کے مطابق حکام پہلے ہی یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ یہ سب کچھ امریکا-اسرائیل تعلقات کے مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ کئی برسوں تک نیتن یاہو اور ٹرمپ ایک دوسرے سے گہرے ذاتی اور سیاسی روابط میں جڑے رہے جس سے اسرائیل کو خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کے باوجود ایک قسم کا تحفظ حاصل تھا۔ لیکن اب وہاں کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہے—کیا امریکا نے واقعی اسرائیل سے منہ موڑ لیا ہے یا یہ صرف ایک عارضی خاموشی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں یہ تبدیلی اُس وقت اور بھی نمایاں محسوس ہوتی ہے جب اسے ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ اگرچہ اُن کا ”امریکا فرسٹ“ کا بیانیہ بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرا لیکن اس میں مشرق وسطیٰ میں ایسی براہِ راست مداخلتیں بھی شامل تھیں جو واضح طور پر اسرائیل کے حق میں تھیں۔ امریکی سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ، ایران کے جوہری معاہدے سے علیحدگی، اور نیتن یاہو کے متنازعہ دورِ حکومت کے دوران اُن کی غیر متزلزل حمایت—یہ سب ٹرمپ کی اسرائیل سے وابستگی کی واضح علامت سمجھی گئی۔مگر اب، جب ٹرمپ اسرائیل کو اپنی خارجہ پالیسی کے دائرے سے باہر رکھ رہے ہیں، تو اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کو اپنے پرانے اتحادی کے مقابلے میں زیادہ اسٹریٹجک اہمیت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے لیے یہ صرف ایک ضائع ہونے والا سفارتی موقع نہیں ہے بلکہ یہ بڑے جغرافیائی سیاسی بدلاؤ کا بھی اشارہ ہے۔ ماضی میں امریکی صدور نے اسرائیل کی سیکورٹی کو بچانے کے لیے عسکری و سفارتی سطح پر بہت کوششیں کیں، لیکن ٹرمپ کا خلیج کے ممالک کے ساتھ رویہ، جیسے کہ سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر کا اقتصادی اور دفاعی معاہدہ، ایک نئی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے جس میں علاقائی طاقتوں کو اسرائیل کے مفادات کے مقابلے میں ترجیح دی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ٹرمپ کی قربت، جو دنیا کی بڑی دفاعی منڈیوں میں سے ایک ہے، اور علاقے میں مصنوعی ذہانت (اے  آئی) اور سیکورٹی کے معاہدوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ اب خلیج کو مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی صرف اقتصادی یا فوجی حساب کتاب کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں ایک سیاسی پہلو بھی شامل ہے۔ اسرائیل کو نظر انداز کرکے، ٹرمپ شاید یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ اب نیتن یاہو کے داخلی اور بین الاقوامی ایجنڈوں کو مزید برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ کئی سالوں تک نیتن یاہو نے ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو عالمی سطح پر فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا، لیکن اس تازہ قدم کے ساتھ، ٹرمپ نے واضح طور پر ایک حد کھینچ دی ہے۔ ماضی میں یہ تعلق دونوں کے لیے فائدہ مند رہا ہو گا لیکن اب یہ صاف نظر آتا ہے کہ ٹرمپ خلیجی بادشاہتوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا-اسرائیل تعلقات پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ نیتن یاہو کی حکومت جو پہلے ہی داخلی احتجاجات اور بین الاقوامی تنقید کا سامنا کر رہی ہے اب عالمی سطح پر کم اتحادیوں کے ساتھ نظر آتی ہے۔ ٹرمپ کے لیے امریکی ترجیحات کا دوبارہ تعین ایک زیادہ لچکدار مشرق وسطیٰ کی حکمتِ عملی کی نشاندہی کر سکتا ہے—جس میں اتحاد روایتی نظریاتی وابستگیوں کی بجائے عملی سوچ کی بنیاد پر بنایا جائے گا۔ یہ کہ اسرائیل اس بدلتی ہوئی حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتا ہے یا نہیں، ابھی واضح نہیں ہے، لیکن ایک بات واضح ہے: ٹرمپ کی نظراندازی اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اب کوئی یقینی بات نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، وسیع تر مشرق وسطیٰ کا منظر بھی حقیقتاً بدل رہا ہے۔ ٹرمپ کا خلیج کے ممالک کی طرف رخ موڑنا اس بات کی کوشش ہے کہ وہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کریں جو دن بدن زیادہ خود مختار ہوتی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب کے اے آئی اور دفاعی شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کے منصوبے، اور اینویڈیا اور ایمازون جیسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا کردار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک نیا مشرق وسطیٰ ابھر رہا ہے جہاں اقتصادی اور ٹیکنالوجی کی طاقت فوجی طاقت کے برابر اہمیت رکھتی ہے۔ اسرائیل اپنے مضبوط ٹیکنالوجی کے شعبے کے ساتھ، اس نئے نظام میں اپنا کردار ادا کرے گا لیکن یہ اب مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کا مرکز نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، ٹرمپ کا حالیہ سرپرائز شاید ان کا سب سے اہم اقدام ہو: اسرائیل سے جان بوجھ کر دوری اختیار کرنا اور خلیج کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا۔ حالانکہ فوری نتائج ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہیں، یہ بات صاف ہے کہ یہ تبدیلی مشرق وسطیٰ میں امریکا کی ترجیحات کا ایک بڑا دوبارہ تعین ہے۔ نیتن یاہو کے لیے پیغام بہت واضح ہے: امریکی حمایت کا بے لچک دور شاید ختم ہو چکا ہے، اور اسرائیل کی خطے میں پوزیشن کا مستقبل اب مذاکرات کا موضوع بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، ٹرمپ کا یہ نیا قدم شاید سب سے اہم ہو: اسرائیل سے جان بوجھ کر دوری اختیار کرنا اور خلیج کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا۔ فوری نتائج ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ تبدیلی مشرق وسطیٰ میں امریکا کی ترجیحات کو بدل رہی ہے۔ نیتن یاہو کے لیے پیغام بہت واضح ہے: امریکا کی مضبوط حمایت کا دور شاید ختم ہو چکا ہے اور خطے میں اسرائیل کی پوزیشن کے مستقبل پر اب بات چیت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب ڈونلڈ ٹرمپ 2025 میں دوبارہ صدر بنے، تو دنیا نے پھر سے اُن کے غیر متوقع فیصلوں کے لیے خود کو تیار کر لیا۔ اُن کی مشہور زمانہ پالیسی میں اتار چڑھاؤ اور غیر متوقع ذاتی بیانات کی وجہ سے بہت کم لوگ اُن کے اگلے قدم کی پیش گوئی کر سکے ہیں۔ مگر اس نئی صدارت کی کئی حیرتوں میں سے شاید سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ وہ اسرائیل—خاص طور پر نیتن یاہو—کو نظر انداز کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، اور یہ رویہ دہائیوں پرانی سفارتی روایات کے برعکس ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کا حالیہ دورۂ خلیج پہلے ہی تنازع کا باعث بن چکا ہے۔ اُن کے شیڈول میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل تھے، لیکن اسرائیل واضح طور پر نظر انداز کیا گیا۔ اور سب جانتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے اس اہم سفارتی دورے سے یہودی ریاست کو باہر رکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ سے متعلق ترجیحات شاید بدل رہی ہیں۔</p>
<p>آخرکار، اسرائیل طویل عرصے سے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک مرکزی کردار رہا ہے، خاص طور پر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں، جہاں وہ نیتن یاہو کی حکومت اور پالیسیوں کی غیر متزلزل حمایت پر سراہا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ پیش رفت—یعنی ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو امریکی خارجہ پالیسی میں نظر انداز کرنا—یہ سوالات اُٹھاتی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کا مستقبل کیا ہوگا اور ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے لیے کیا نیا وژن رکھتے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی حکام نہ صرف حیران ہیں بلکہ اس سفارتی نظراندازی پر فکرمند بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے اندر بے چینی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے اور اطلاعات کے مطابق حکام پہلے ہی یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ یہ سب کچھ امریکا-اسرائیل تعلقات کے مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ کئی برسوں تک نیتن یاہو اور ٹرمپ ایک دوسرے سے گہرے ذاتی اور سیاسی روابط میں جڑے رہے جس سے اسرائیل کو خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کے باوجود ایک قسم کا تحفظ حاصل تھا۔ لیکن اب وہاں کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہے—کیا امریکا نے واقعی اسرائیل سے منہ موڑ لیا ہے یا یہ صرف ایک عارضی خاموشی ہے؟</p>
<p>پالیسی میں یہ تبدیلی اُس وقت اور بھی نمایاں محسوس ہوتی ہے جب اسے ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ اگرچہ اُن کا ”امریکا فرسٹ“ کا بیانیہ بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرا لیکن اس میں مشرق وسطیٰ میں ایسی براہِ راست مداخلتیں بھی شامل تھیں جو واضح طور پر اسرائیل کے حق میں تھیں۔ امریکی سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ، ایران کے جوہری معاہدے سے علیحدگی، اور نیتن یاہو کے متنازعہ دورِ حکومت کے دوران اُن کی غیر متزلزل حمایت—یہ سب ٹرمپ کی اسرائیل سے وابستگی کی واضح علامت سمجھی گئی۔مگر اب، جب ٹرمپ اسرائیل کو اپنی خارجہ پالیسی کے دائرے سے باہر رکھ رہے ہیں، تو اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کو اپنے پرانے اتحادی کے مقابلے میں زیادہ اسٹریٹجک اہمیت دے رہے ہیں۔</p>
<p>اسرائیل کے لیے یہ صرف ایک ضائع ہونے والا سفارتی موقع نہیں ہے بلکہ یہ بڑے جغرافیائی سیاسی بدلاؤ کا بھی اشارہ ہے۔ ماضی میں امریکی صدور نے اسرائیل کی سیکورٹی کو بچانے کے لیے عسکری و سفارتی سطح پر بہت کوششیں کیں، لیکن ٹرمپ کا خلیج کے ممالک کے ساتھ رویہ، جیسے کہ سعودی عرب کے ساتھ اربوں ڈالر کا اقتصادی اور دفاعی معاہدہ، ایک نئی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے جس میں علاقائی طاقتوں کو اسرائیل کے مفادات کے مقابلے میں ترجیح دی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ٹرمپ کی قربت، جو دنیا کی بڑی دفاعی منڈیوں میں سے ایک ہے، اور علاقے میں مصنوعی ذہانت (اے  آئی) اور سیکورٹی کے معاہدوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ اب خلیج کو مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔</p>
<p>یہ تبدیلی صرف اقتصادی یا فوجی حساب کتاب کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں ایک سیاسی پہلو بھی شامل ہے۔ اسرائیل کو نظر انداز کرکے، ٹرمپ شاید یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ اب نیتن یاہو کے داخلی اور بین الاقوامی ایجنڈوں کو مزید برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ کئی سالوں تک نیتن یاہو نے ٹرمپ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو عالمی سطح پر فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا، لیکن اس تازہ قدم کے ساتھ، ٹرمپ نے واضح طور پر ایک حد کھینچ دی ہے۔ ماضی میں یہ تعلق دونوں کے لیے فائدہ مند رہا ہو گا لیکن اب یہ صاف نظر آتا ہے کہ ٹرمپ خلیجی بادشاہتوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔</p>
<p>امریکا-اسرائیل تعلقات پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ نیتن یاہو کی حکومت جو پہلے ہی داخلی احتجاجات اور بین الاقوامی تنقید کا سامنا کر رہی ہے اب عالمی سطح پر کم اتحادیوں کے ساتھ نظر آتی ہے۔ ٹرمپ کے لیے امریکی ترجیحات کا دوبارہ تعین ایک زیادہ لچکدار مشرق وسطیٰ کی حکمتِ عملی کی نشاندہی کر سکتا ہے—جس میں اتحاد روایتی نظریاتی وابستگیوں کی بجائے عملی سوچ کی بنیاد پر بنایا جائے گا۔ یہ کہ اسرائیل اس بدلتی ہوئی حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتا ہے یا نہیں، ابھی واضح نہیں ہے، لیکن ایک بات واضح ہے: ٹرمپ کی نظراندازی اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اب کوئی یقینی بات نہیں رہی۔</p>
<p>اس کے علاوہ، وسیع تر مشرق وسطیٰ کا منظر بھی حقیقتاً بدل رہا ہے۔ ٹرمپ کا خلیج کے ممالک کی طرف رخ موڑنا اس بات کی کوشش ہے کہ وہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کریں جو دن بدن زیادہ خود مختار ہوتی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب کے اے آئی اور دفاعی شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کے منصوبے، اور اینویڈیا اور ایمازون جیسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا کردار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک نیا مشرق وسطیٰ ابھر رہا ہے جہاں اقتصادی اور ٹیکنالوجی کی طاقت فوجی طاقت کے برابر اہمیت رکھتی ہے۔ اسرائیل اپنے مضبوط ٹیکنالوجی کے شعبے کے ساتھ، اس نئے نظام میں اپنا کردار ادا کرے گا لیکن یہ اب مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کا مرکز نہیں رہے گا۔</p>
<p>آخرکار، ٹرمپ کا حالیہ سرپرائز شاید ان کا سب سے اہم اقدام ہو: اسرائیل سے جان بوجھ کر دوری اختیار کرنا اور خلیج کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا۔ حالانکہ فوری نتائج ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہیں، یہ بات صاف ہے کہ یہ تبدیلی مشرق وسطیٰ میں امریکا کی ترجیحات کا ایک بڑا دوبارہ تعین ہے۔ نیتن یاہو کے لیے پیغام بہت واضح ہے: امریکی حمایت کا بے لچک دور شاید ختم ہو چکا ہے، اور اسرائیل کی خطے میں پوزیشن کا مستقبل اب مذاکرات کا موضوع بن سکتا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>آخرکار، ٹرمپ کا یہ نیا قدم شاید سب سے اہم ہو: اسرائیل سے جان بوجھ کر دوری اختیار کرنا اور خلیج کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا۔ فوری نتائج ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ تبدیلی مشرق وسطیٰ میں امریکا کی ترجیحات کو بدل رہی ہے۔ نیتن یاہو کے لیے پیغام بہت واضح ہے: امریکا کی مضبوط حمایت کا دور شاید ختم ہو چکا ہے اور خطے میں اسرائیل کی پوزیشن کے مستقبل پر اب بات چیت ہوسکتی ہے۔</p>
</blockquote>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272733</guid>
      <pubDate>Thu, 15 May 2025 15:57:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/15153219d007458.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/15153219d007458.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
