<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:41:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:41:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدات پر مبنی ترقی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40272723/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پرانا ترقیاتی ماڈل پیش کیا جو خاص طور پر اس وقت شدید خطرے میں ہے جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر پاکستان پر محصولات عائد کرنا شروع کیے، جن میں 29 فیصد تک محصولات شامل ہیں: انہوں نے کہا کہ برآمدات کی قیادت میں ترقی ہی واحد راستہ ہے۔ یہ بیان اس لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ پاکستان کی ترسیلات زر، جو غیر ملکی زر مبادلہ کی دوسری اہم اور مطلوبہ شکل ہیں، نہ صرف برآمدات کے برابر ہیں بلکہ اس سال کئی مہینوں میں برآمدات سے بھی تجاوز کرچکی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا لگتا ہے کہ وزیر خزانہ اس بات سے بھی لاعلم ہیں کہ پاکستانی برآمدات میں کئی ایسی چیزیں شامل ہوتی ہیں جو پہلے درآمد کی جاتی ہیں، جب کہ ترسیلات زر میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ برآمدات بڑھانے کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں، وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کیے جاتے ہیں اور ان کا نتیجہ اکثر درآمدات میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے اور پھر حکومت کو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ پاکستان اب تک 24 بار آئی ایم ایف کے پروگرام میں جا چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہی غلطی بار بار دہرائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب سے یہ گزارش ہے کہ وہ موجودہ تجارتی خسارے کے اعدادوشمار پر ایک بار پھر نظر ڈالیں کیونکہ ابتدائی طور پر حاصل ہونے والا تجارتی سرپلس اب بتدریج خسارے میں تبدیل ہورہا ہے، یہ سرپلس زیادہ تر انتظامی اقدامات یا ہماری برآمدی اشیاء کی عالمی قیمتوں میں وقتی اضافے کی وجہ سے حاصل ہوا تھا —  اور یہی وہ اقدامات تھے جو آئی ایم ایف کو ناپسند بھی آئے، یہ اقدامات اس لیے ضروری سمجھے گئے کیونکہ پاکستان کے زرمبادلہ  ذخائر خطرناک حد تک کم ہوچکے تھے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر کے مطابق، رواں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ  ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن یہ خبر اس لیے مکمل طور پر تسلی بخش نہیں کہ ان میں سے 16 ارب ڈالر تین دوست ممالک — چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات — کی جانب سے ”رول اوور“ شدہ قرض کی شکل میں ہیں، جو کسی بھی وقت واپس مانگے  جاسکتے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال جولائی تا اپریل  تجارتی خسارہ 19.6 ارب ڈالر تھا جب کہ رواں مالی سال کی اسی مدت میں یہ خسارہ بڑھ کر 21.351 ارب ڈالر ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی اکتوبر 2024 کی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت نے مختلف اشیاء کی قیمتوں کے تعین میں غیر ضروری مداخلت کی — جن میں زرعی اجناس، پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس شامل ہیں۔ یہ مداخلتیں اکثر چھ ماہ کے وقفے سے کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے مختلف صنعتوں اور شعبوں کو بچانے کے لیے زیادہ ٹیرف  اور غیر ٹیرف  رکاوٹیں کھڑی کیں تاکہ مخصوص گروپ یا شعبے فائدے میں رہیں۔ لیکن ان سب اقدامات کے باوجود پاکستان کا کاروباری یا صنعتی شعبہ معیشت کو ترقی دینے والا مرکزی انجن نہ بن سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان اور دیگر پیداواری شعبے، جیسا کہ ہر سال بجٹ کی حتمی منظوری سے قبل معمول کا طریقہ ہے، فیصلہ سازوں — یعنی وزیر خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین — سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ان کے تجویز کردہ اقدامات کی حمایت حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ٹیم کے دو سربراہان — محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان — نے آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کو جمع کروائے گئے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے ہیں، جس میں انہوں نے عہد کیا ہے کہ “منسلک میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (ایم ای ایف پی) میں بیان کی گئی پالیسیاں ہمارے پروگرام کی کامیاب نفاذ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں حکومت کا واضح عزم درج ہے کہ اسپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل نہ تو کسی قسم کی ریگولیٹری، اخراجات یا ٹیکس کی بنیاد پر مراعات تجویز کرے گی اور نہ ہی حکومت ایسی کوئی مالی یا قانونی مراعات، ضمانت شدہ منافع، یا کوئی ایسا اقدام کرے گی جو سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر یا بگاڑ سکے۔… ہماری کوشش ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں اور کارکردگی میں بہتری لائی جائے،اس لیے حکومت کمپنیوں کو مالی مراعات جیسے ٹیکس چھوٹ یا دیگر سبسڈیز (جن میں کریڈٹ کی سہولیات بھی شامل ہیں) فراہم کرنے سے مکمل گریز کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات نہایت اہم ہے کہ پاکستان اپنی پیداوار کا زائد حصہ برآمد کرتا ہے، جبکہ وہ ایسی پیداواری یونٹس قائم کرنے میں ناکام رہا ہے جو خصوصی طور پر برآمدات کے لیے وقف ہوں۔ لہٰذا، موجودہ پیداواری ڈھانچے سے فوری اور مؤثر تبدیلی کی اشد ضرورت ہے، جیسا کہ آئی ایم ایف نے بھی درست طور پر نشاندہی کی ہے کہ موجودہ نظام نمو کا محرک ثابت نہیں ہوا۔ مراعات نے مقابلہ بازی کو کمزور کر دیا ہے اور ملک کے محدود وسائل کو غیر موثر صنعتوں میں پھنسایا ہوا ہے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پرانا ترقیاتی ماڈل پیش کیا جو خاص طور پر اس وقت شدید خطرے میں ہے جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر پاکستان پر محصولات عائد کرنا شروع کیے، جن میں 29 فیصد تک محصولات شامل ہیں: انہوں نے کہا کہ برآمدات کی قیادت میں ترقی ہی واحد راستہ ہے۔ یہ بیان اس لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ پاکستان کی ترسیلات زر، جو غیر ملکی زر مبادلہ کی دوسری اہم اور مطلوبہ شکل ہیں، نہ صرف برآمدات کے برابر ہیں بلکہ اس سال کئی مہینوں میں برآمدات سے بھی تجاوز کرچکی ہیں۔</strong></p>
<p>ایسا لگتا ہے کہ وزیر خزانہ اس بات سے بھی لاعلم ہیں کہ پاکستانی برآمدات میں کئی ایسی چیزیں شامل ہوتی ہیں جو پہلے درآمد کی جاتی ہیں، جب کہ ترسیلات زر میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ برآمدات بڑھانے کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں، وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے کیے جاتے ہیں اور ان کا نتیجہ اکثر درآمدات میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے اور پھر حکومت کو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ پاکستان اب تک 24 بار آئی ایم ایف کے پروگرام میں جا چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہی غلطی بار بار دہرائی گئی ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب سے یہ گزارش ہے کہ وہ موجودہ تجارتی خسارے کے اعدادوشمار پر ایک بار پھر نظر ڈالیں کیونکہ ابتدائی طور پر حاصل ہونے والا تجارتی سرپلس اب بتدریج خسارے میں تبدیل ہورہا ہے، یہ سرپلس زیادہ تر انتظامی اقدامات یا ہماری برآمدی اشیاء کی عالمی قیمتوں میں وقتی اضافے کی وجہ سے حاصل ہوا تھا —  اور یہی وہ اقدامات تھے جو آئی ایم ایف کو ناپسند بھی آئے، یہ اقدامات اس لیے ضروری سمجھے گئے کیونکہ پاکستان کے زرمبادلہ  ذخائر خطرناک حد تک کم ہوچکے تھے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر کے مطابق، رواں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ  ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن یہ خبر اس لیے مکمل طور پر تسلی بخش نہیں کہ ان میں سے 16 ارب ڈالر تین دوست ممالک — چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات — کی جانب سے ”رول اوور“ شدہ قرض کی شکل میں ہیں، جو کسی بھی وقت واپس مانگے  جاسکتے ہیں ۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال جولائی تا اپریل  تجارتی خسارہ 19.6 ارب ڈالر تھا جب کہ رواں مالی سال کی اسی مدت میں یہ خسارہ بڑھ کر 21.351 ارب ڈالر ہوچکا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی اکتوبر 2024 کی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت نے مختلف اشیاء کی قیمتوں کے تعین میں غیر ضروری مداخلت کی — جن میں زرعی اجناس، پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس شامل ہیں۔ یہ مداخلتیں اکثر چھ ماہ کے وقفے سے کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے مختلف صنعتوں اور شعبوں کو بچانے کے لیے زیادہ ٹیرف  اور غیر ٹیرف  رکاوٹیں کھڑی کیں تاکہ مخصوص گروپ یا شعبے فائدے میں رہیں۔ لیکن ان سب اقدامات کے باوجود پاکستان کا کاروباری یا صنعتی شعبہ معیشت کو ترقی دینے والا مرکزی انجن نہ بن سکا۔</p>
<p>برآمد کنندگان اور دیگر پیداواری شعبے، جیسا کہ ہر سال بجٹ کی حتمی منظوری سے قبل معمول کا طریقہ ہے، فیصلہ سازوں — یعنی وزیر خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین — سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ان کے تجویز کردہ اقدامات کی حمایت حاصل کی جا سکے۔</p>
<p>تاہم، یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ٹیم کے دو سربراہان — محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان — نے آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کو جمع کروائے گئے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے ہیں، جس میں انہوں نے عہد کیا ہے کہ “منسلک میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (ایم ای ایف پی) میں بیان کی گئی پالیسیاں ہمارے پروگرام کی کامیاب نفاذ کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہوں گی۔</p>
<p>میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں حکومت کا واضح عزم درج ہے کہ اسپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل نہ تو کسی قسم کی ریگولیٹری، اخراجات یا ٹیکس کی بنیاد پر مراعات تجویز کرے گی اور نہ ہی حکومت ایسی کوئی مالی یا قانونی مراعات، ضمانت شدہ منافع، یا کوئی ایسا اقدام کرے گی جو سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر یا بگاڑ سکے۔… ہماری کوشش ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں اور کارکردگی میں بہتری لائی جائے،اس لیے حکومت کمپنیوں کو مالی مراعات جیسے ٹیکس چھوٹ یا دیگر سبسڈیز (جن میں کریڈٹ کی سہولیات بھی شامل ہیں) فراہم کرنے سے مکمل گریز کرے گی۔</p>
<p>یہ بات نہایت اہم ہے کہ پاکستان اپنی پیداوار کا زائد حصہ برآمد کرتا ہے، جبکہ وہ ایسی پیداواری یونٹس قائم کرنے میں ناکام رہا ہے جو خصوصی طور پر برآمدات کے لیے وقف ہوں۔ لہٰذا، موجودہ پیداواری ڈھانچے سے فوری اور مؤثر تبدیلی کی اشد ضرورت ہے، جیسا کہ آئی ایم ایف نے بھی درست طور پر نشاندہی کی ہے کہ موجودہ نظام نمو کا محرک ثابت نہیں ہوا۔ مراعات نے مقابلہ بازی کو کمزور کر دیا ہے اور ملک کے محدود وسائل کو غیر موثر صنعتوں میں پھنسایا ہوا ہے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40272723</guid>
      <pubDate>Thu, 15 May 2025 11:33:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/05/151131070064c21.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/05/151131070064c21.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
